کتاب پاک صحائف کی تعلیم کو استعمال کرتے وقت عظیم اُستاد کی نقل کریں
۱. یسوع مسیح کیسے تعلیم دیتا تھا؟
۱ عظیم اُستاد یسوع مسیح نے ہمیشہ سادہ اور واضح انداز میں تعلیم دی۔ وہ اکثر اپنے سامعین کی سوچ کو اُبھارنے اور اُن کے نظریات کو جاننے کے لئے اُن سے سوال پوچھتا تھا۔ (متی ۱۷:۲۴-۲۷) وہ اُن کی توجہ خدا کے کلام پر دلاتا تھا۔ (متی ۲۶:۳۱؛ مر ۷:۶) یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو ایک وقت میں بہت زیادہ باتیں نہیں بتاتا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُس کے شاگرد وقت کے ساتھ ساتھ اِن باتوں کو سیکھ جائیں گے۔ (یوح ۱۶:۱۲) یسوع یہ جاننے میں بھی دلچسپی رکھتا تھا کہ آیا اُس کے شاگرد اُس کی تعلیم پر ایمان رکھتے اور اِسے سمجھتے ہیں۔ (متی ۱۳:۵۱) کتاب پاک صحائف کی تعلیم کو شائع کرنے کا مقصد ہمیں یسوع کی طرح سادہ اور واضح انداز میں تعلیم دینے میں مدد دینا ہے۔
۲. ہم ہر باب کے شروع میں دئے گئے سوالات کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں؟
۲ باب کے شروع میں دئے گئے سوالات: جب آپ کسی باب کا مطالعہ کرانا شروع کرتے ہیں تو عنوان کے نیچے دئے گئے سوالات پر توجہ دلائیں۔ آپ طالبعلم کے ساتھ سوالات کو پڑھ سکتے ہیں تاکہ اُس کی سیکھنے کی خواہش بڑھے۔ یاپھر آپ اُسے سوالات کے مختصر جواب دینے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ اُسکے تبصروں پر باتچیت کرنے یا اِنہیں درست کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ خیالات کا اظہار کرنے کے لئے اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالعہ شروع کرا سکتے ہیں۔ جب وہ باب کے شروع میں دئے گئے سوالات کے جواب دیتا ہے تو آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ کو مضمون کے کس حصے کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔
۳. ہم مطالعے کو سادہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟
۳ صحائف: مطالعے کراتے وقت صحائف پر خاص توجہ دی جانی چاہئے۔ (عبر ۴:۱۲) تاہم، ہر حوالہشُدہ صحیفے کو پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ ایسے حوالہجات کو اُجاگر کریں جو ہمارے عقائد کی صحیفائی بنیاد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر پیراگراف میں بائبل کے کسی واقعے کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے توپھر اِس صحیفے کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کتاب پاک صحائف کی تعلیم سچائی کو بڑے واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔ لہٰذا مطالعے کو سادہ رکھیں، اہم نکات پر توجہ دلائیں، حد سے زیادہ بولنے سے گریز کریں اور غیرضروری طور پر اضافی معلومات پر بحث نہ کریں۔
۴. ہم مطالعے کے دوران مزید معلومات والے حصے پر باتچیت کرنے کا تعیّن کیسے کر سکتے ہیں؟
۴ مزید معلومات: اِس کتاب میں ۱۴ موضوعات پر مزید معلومات کے تحت تفصیلی بات کی گئی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو مطالعے کے دوران اِن پر باتچیت کر سکتے ہیں۔ جب طالبعلم کسی باب میں دی گئی باتوں کو سمجھ جاتا ہے تو آپ مزید معلومات کے حصے کو ذاتی طور پر پڑھنے کے لئے اُس کی حوصلہافزائی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر طالبعلم پہلے ہی یسوع کو مسیحا تسلیم کرتا ہے توپھر چوتھے باب ”یسوع مسیح کون ہے؟“ پر باتچیت کرتے وقت ”یسوع مسیح—موعودہ مسیحا“ پر گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دیگر مواقع پر، مطالعے کے دوران مزید معلومات کے حصے پر باتچیت کرنا مفید ہو سکتا ہے۔
۵. ہم مزید معلومات کے حصے پر کیسے باتچیت کر سکتے ہیں؟
۵ اگر آپ مزید معلومات والے حصے پر بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ پہلے سے سوالات تیار کر سکتے ہیں اور طالبعلم کے ساتھ بالکل اُسی طرح باتچیت کر سکتے ہیں جس طرح باب کے پیراگرافوں پر کرتے ہیں۔ یاپھر آپ مطالعے کے دوران چند منٹ کے لئے طالبعلم کی ضرورت کے مطابق مزید معلومات پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ یوں آپ کو اِس بات کا یقین ہو جائے گا کہ طالبعلم نے جو مواد ذاتی طور پر پڑھا ہے وہ اِسے اچھی طرح سمجھ گیا ہے۔
۶. ہر باب کے آخر پر دئے گئے بکس کو کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے؟
۶ اعادے کا بکس: ہر باب کے آخر پر بکس میں کچھ جملے دئے گئے ہیں جو عام طور پر باب کے شروع میں درج سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ آپ اِن جملوں کو باب کے خاص نکات کی دُہرائی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ بعض مبشروں نے طالبعلم کے ساتھ بکس کے جملوں اور حوالوں کو پڑھنا مفید پایا ہے۔ اِس کے بعد وہ طالبعلم سے پوچھتے ہیں کہ بکس میں دئے گئے صحیفے کا جملے کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ یوں اُستاد یہ جاننے کے قابل ہوگا کہ آیا طالبعلم باب کے خاص نکات اور اِس بات کو سمجھ گیا ہے کہ بائبل کیسے اِن کی حمایت کرتی ہے۔ نیز، یہ کہ طالبعلم اِن باتوں سے متفق ہے یا نہیں۔ اِس طرح طالبعلم دوسروں کو سچائی بتانے کے لئے بائبل کو استعمال کرنا بھی سیکھ جائے گا۔
۷. ہم یسوع کے حکم کو پورا کرنے کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۷ لوگوں کو تعلیم دینے اور شاگرد بنانے کے حکم کو پورا کرنے کے لئے تعلیم دینے کے یسوع کے طریقوں کی نقل کرنا سب سے مؤثر ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) کتاب پاک صحائف کی تعلیم اِس سلسلے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ پس، دوسروں کو سادہ، واضح اور دلچسپ انداز میں سچائی سکھانے کے لئے اِس کتاب کا بھرپور استعمال کریں۔