”جاگتے رہو!“ بروشر کا مطالعہ کرنا
تمام کلیسیائیں مئی ۲۳ سے جون ۲۰، ۲۰۰۵ کے ہفتوں کے دوران کلیسیائی کتابی مطالعے میں جاگتے رہو! بروشر کا مطالعہ کرینگی۔ براہِمہربانی اس اجلاس کی تیاری اور پیشوائی کرتے وقت مندرجہذیل سوالات استعمال کریں۔ اگر وقت اجازت دے تو مطالعے کے دوران مواد اور حوالہشُدہ صحائف کو پڑھیں۔
ہفتہ شروع از مئی ۲۳
▪ صفحہ ۳، ۴: یہاں جن حالتوں کا ذکر کِیا گیا ہے اُن میں سے کونسی حالتوں نے خاص طور پر آپکی زندگی کو متاثر کِیا ہے؟ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہ حالتیں محض غیراہم مقامی واقعات نہیں ہیں؟
▪ صفحہ ۵: کس چیز نے آپکو یقین دلایا ہے کہ خدا واقعی پرواہ کرتا ہے؟ کیا چیز ظاہر کر سکتی ہے کہ ہم خدا اور جوکچھ وہ کر رہا ہے اُسکی کتنی پرواہ کرتے ہیں؟
▪ صفحہ ۶-۸: متی ۲۴:۱-۸، ۱۴ دُنیا کی موجودہ حالتوں کی بابت کیا بیان کرتی ہے؟ دوسرا تیمتھیس ۳:۱-۵ کے مطابق آجکل ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں؟ یہ کس چیز کے آخری دن ہیں؟ کیا چیز آپکو قائل کرتی ہے کہ بائبل واقعی خدا کا کلام ہے؟ ہم کس بادشاہت کی منادی کرتے ہیں؟
▪ صفحہ ۹، ۱۰: ہمیں اپنی روزمرّہ زندگی میں اپنے فیصلوں اور ترجیحات کا کیوں بغور جائزہ لینا چاہئے؟ (روم ۲:۶؛ گل ۶:۷) صفحہ ۱۰ کے سوالات پر نظرثانی کرتے وقت کونسے صحائف آپکے ذہن میں آتے ہیں جنکے مطابق آپکو عمل کرنا چاہئے؟
ہفتہ شروع از مئی ۳۰
▪ صفحہ ۱۱: ہمیں اس صفحہ پر پوچھے گئے سوالات پر کیوں ذاتی طور پر غوروخوض کرنا چاہئے؟ (۱-کر ۱۰:۱۲؛ افس ۶:۱۰-۱۸) ان سوالات کیلئے ہمارے جواب یہ کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم متی ۲۴:۴۴ میں درج یسوع کی مشورت پر کتنی سنجیدگی سے غور کرتے ہیں؟
▪ صفحہ ۱۲-۱۴: مکاشفہ ۱۴:۶، ۷ میں بیانکردہ ”عدالت کا وقت“ کیا ہے؟ خدا سے ڈرنے اور اُسکی تمجید کرنے کا کیا مطلب ہے؟ بڑا بابل کیا ہے اور اسکا انجام کیا ہوگا؟ اس وقت ہمیں بڑے بابل کے سلسلے میں کیا قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے؟ اس عدالت کے وقت میں اَور کیا کچھ شامل ہے؟ خدا کی عدالت کے دن اور گھڑی کی بابت پہلے سے نہ جاننا ہمیں کیسے متاثر کر سکتا ہے؟ (متی ۲۵:۱۳)
▪ صفحہ ۱۵: حاکمیت کا مسئلہ کیا ہے، اور یہ انفرادی طور پر ہم سب کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
▪ صفحہ ۱۶-۱۹: ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کیا ہیں؟ (۲-پطر ۳:۱۳) انکا وعدہ کون کرتا ہے؟ نیا آسمان اور نئی زمین کونسی تبدیلیاں لائینگے؟ کیا ہم ذاتی طور پر ان سے مستفید ہونگے؟
ہفتہ شروع از جون ۶
▪ صفحہ ۲۰، ۲۱: یسوع مسیح نے پہلی صدی کے اپنے پیروکاروں کو بھاگ جانے کے متعلق کیا آگاہی دی تھی؟ (لو ۲۱:۲۰، ۲۱) انہیں کب بھاگنا پڑ سکتا تھا؟ بِلاتاخیر بھاگنا کیوں ضروری تھا؟ (متی ۲۴:۱۶-۱۸، ۲۱) بہتیرے لوگ آگاہی کو کیوں نظرانداز کر دیتے ہیں؟ چین اور فلپائین میں ہزاروں لوگوں نے آگاہی پر دھیان دینے سے کیسے فائدہ اُٹھایا تھا؟ موجودہ دُنیا کے خاتمے کے متعلق بائبل کی آگاہی پر دھیان دینا کیوں اَور بھی زیادہ ضروری ہے؟ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہماری کیا ذمہداری ہے؟ (امثا ۲۴:۱۱، ۱۲)
▪ صفحہ ۲۲، ۲۳: آسٹریلیا میں ۱۹۷۴ میں اور کولمبیا میں ۱۹۸۵ میں لوگوں نے آفات کی بابت آگاہیوں کو کیوں نظرانداز کر دیا اور اسکا کیا نتیجہ نکلا؟ آپکے خیال میں ان آگاہیوں کیلئے آپ نے کیسا ردِعمل دکھایا ہوتا اور کیوں؟ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ آیا ہم نے نوح کے زمانے میں آگاہی پر دھیان دیا ہوتا یا نہیں؟ لوگ سدوم اور اسکے گردونواح میں کیوں رہنا چاہتے تھے؟ سدوم میں جوکچھ واقع ہوا اس پر سنجیدگی کیساتھ غور کرنے سے ہم کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟
ہفتہ شروع از جون ۱۳
▪ صفحہ ۲۴-۲۷: صفحہ ۲۷ پر دئے گئے ”مطالعے کے سوالات“ استعمال کریں۔
ہفتہ شروع از جون ۲۰
▪ صفحہ ۲۸-۳۱: صفحہ ۳۱ پر دئے گئے ”مطالعے کے سوالات“ استعمال کریں۔
اس بروشر پر غوروفکر کرنا ”جاگتے“ رہنے اور خود کو تیار ثابت کرنے میں ہماری مدد کریگا۔ دُعا ہے کہ ہماری عوامی خدمتگزاری ہمیشہ فرشتے کے اس اہم اعلان کی عکاسی کرتی رہے: ”خدا سے ڈرو اور اُسکی تمجید کرو کیونکہ اُسکی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے۔“—متی ۲۴:۴۲، ۴۴؛ مکا ۱۴:۷۔