سب طرح کے انسان نجات پا سکتے ہیں
۱. خدا کے سامنے ہماری حیثیت کا انحصار کس بات پر ہے؟
۱ خدا کے غیرمستحق فضل نے نجات کی راہ کھول دی ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ”سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیم ۲:۳، ۴) خدا کے سامنے ہماری حیثیت کا انحصار ہماری نسل، مالی حالت، لیاقتوں یا ظاہری وضعقطع کی بجائے یسوع مسیح کے فدیے کی قربانی پر ایمان ظاہر کرنے پر ہے۔ (یوح ۳:۱۶، ۳۶) خدا کیساتھ کام کرنے والوں کے طور پر ہمیں ہر طرح کے تعصّب سے گریز کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ اُن لوگوں کو رد کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے جنہیں یہوواہ قبول کرنے کو تیار ہے۔
۲، ۳. ہمیں لوگوں کی ظاہری وضعقطع کو دیکھ کر کیوں اُنکے خلاف کچھ کہنے سے گریز کرنا چاہئے؟
۲ کسی کے خلاف کچھ کہنے سے گریز کریں: یہوواہ خدا غیرجانبداری سے یا بغیر طرفداری کے لوگوں کی باطنی شخصیت کو دیکھتا ہے۔ (۱-سمو ۱۶:۷) وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔ جو اسے خوش کرنا چاہتے ہیں وہ اُنہیں پسند کرتا ہے۔ (حج ۲:۷) کیا ہم بھی دوسروں کو اُسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے خدا دیکھتا ہے؟
۳ خدمتگزاری میں ملنے والے بعض لوگوں کی وضعقطع کو دیکھ کر شاید ہم پریشان ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ انکا لباس میلاکچیلا یا نازیبا ہو، ڈارھیاں بڑھی ہوئی ہوں۔ بعض شاید بےگھر ہوں۔ دیگر شاید ہمارے ساتھ سختی سے پیش آئیں۔ اس سب کے باوجود، ہمیں کبھی بھی یہ نہیں کہنا چاہئے کہ وہ یہوواہ کے پرستار نہیں بن سکتے۔ ہمیں مثبت رُجحان رکھنے کی ضرورت ہے، ”کیونکہ ہم بھی پہلے نادان۔ نافرمان۔ فریب کھانے والے اور رنگبرنگ کی خواہشوں اور عیشوعشرت کے بندے تھے۔“ (طط ۳:۳) جب ہم ایسی سوچ رکھینگے تو پھر ہم ہر قسم کے لوگوں کو منادی کرنے کے مشتاق ہونگے خواہ وہ اپنی ظاہری وضعقطع سے اس لائق نہ بھی نظر آتے ہوں۔
۴، ۵. ہم یسوع مسیح اور پولس رسول کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟
۴ پہلی صدی کی مثالیں: یسوع مسیح نے اُن لوگوں کی مدد کرنے کیلئے وقت نکالا جنہیں شاید دوسروں نے ناقابلِاصلاح سمجھتے ہوئے رد کر دیا ہو۔ (لو ۸:۲۶-۳۹) اگرچہ یسوع اُنکی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کر رہا تھا توبھی وہ جانتا تھا کہ لوگ غلط راہ پر چل سکتے ہیں۔ (لو ۷:۳۷، ۳۸، ۴۴-۴۸) پس اس نے لوگوں کیلئے ہمدردی دکھائی۔ ”اُسے اُن پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند تھے جنکا چرواہا نہ ہو۔“ (مر ۶:۳۴) کیا ہم مکمل طور پر یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی کر سکتے ہیں؟
۵ پولس رسول کو سنگسار کِیا گیا، بُری طرح سے ماراپیٹا گیا اور قید میں ڈال دیا گیا۔ (اعما ۱۴:۱۹؛ ۱۶:۲۲، ۲۳) لیکن کیا ان منفی تجربات نے اسے تلخ بنا دیا؟ کیا اُس نے یہ کہا کہ مَیں ان لوگوں میں منادی کرکے اپنا وقت ضائع کر رہا ہو؟ ہرگز نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ خلوصدل لوگ ہر ایک قوم میں مل سکتے ہیں۔ اسلئے وہ انہیں تلاش کرنے کیلئے پُرعزم تھا۔ کیا ہم اپنے علاقے میں مختلف پسمنظر اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بابت ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟
۶. کلیسیائی اجلاسوں پر ہمارا رویہ نئے اشخاص کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
۶ دوسروں کا خیرمقدم کرنا: خدا کے لوگوں میں سے بہتیرے اسلئے خوش ہیں کہ بہنبھائیوں نے اُنکی ظاہری وضعقطع کی پرواہ کئے بغیر کلیسیا میں اُنکا پُرتپاک خیرمقدم کِیا تھا۔ جرمنی میں ایک شخص بڑھی ہوئی داڑھی، لمبے بالوں اور گندے کپڑوں کیساتھ کنگڈم ہال آیا۔ وہ ایک بدنام شخص تھا۔ اسکے باوجود بہنبھائیوں نے اُسکا پُرتپاک خیرمقدم کِیا۔ وہ اسقدر متاثر ہوا کہ ایک ہفتے بعد دوبارہ کنگڈم ہال پہنچ گیا۔ جلد ہی اُس نے اپنی وضعقطع درست کر لی، سگریٹنوشی چھوڑ دی اور اپنی شادی کو بھی قانونی شکل دے دی۔ اسکے کچھ ہی عرصہ بعد وہ اپنی بیوی اور دو جڑواں بیٹیوں سمیت ایک متحد خاندان کے طور پر یہوواہ کی خدمت کرنے لگے۔
۷. ہم اپنے خدا کی جو کسی کا طرفدار نہیں کیسے نقل کر سکتے ہیں؟
۷ دُعا ہے کہ ہم اپنے خدا کی جو کسی کا طرفدار نہیں نقل کرتے ہوئے ہر ایک کو اُسکے فضل سے مستفید ہونے کی دعوت دیں۔
[صفحہ 3 پر عبارت]
”خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“—اعما ۱۰:۳۴، ۳۵۔