آرائشوزیبائش میں حیاداری
۱ ”تمام آدمی، یہانتک کے نوجوان لڑکے بھی ٹائی پہنتے ہیں۔ تمام خواتین سمیت کمعمر لڑکیاں بھی ڈریس یا سکرٹ پہنتی ہیں۔ کوئی بھی شخص جینز یا بےڈھنگے کپڑوں میں نظر نہیں آتا۔ یہاں سب خوش ہیں۔“ یہ بیان ایک خبرنامے سے لیا گیا تھا۔ یہ بیان کس قسم کے ہجوم کی بابت تھا؟ کیا یہ کوئی سیاسی مجمع تھا؟ کھیلوں کا موقع تھا؟ کوئی راک موسیقی کا کنسرٹ تھا؟ ہرگز نہیں! یہ پچھلے موسمِگرما میں ایک بڑے کنونشن پر حاضر ہونے والے بہنبھائیوں کے ایک گروہ کی بات ہو رہی تھی۔
۲ ایک اَور شہر میں جہاں کنونشن منعقد کِیا گیا تھا ایک اخباری رپورٹر نے گواہوں کے ہجوم کی بابت کچھ اسطرح بیان کِیا: ”تمام آدمی صافستھرے اور سوٹ اور ٹائی میں نظر آتے ہیں۔ عورتوں کا لباس حیادار مگر خوبصورت ہوتا ہے۔“ مشاہدین میں شامل ایک سیکورٹی گارڈ نے بیان کِیا: ”آپ تمیزدار، بااحترام اور صافستھرے لوگ ہیں۔ مجھے اپنے اردگرد کا ماحول پُرکشش دکھائی دیتا ہے۔ آپ اس غلیظ دُنیا کی ناپاکی سے دُور رہنے کے قابل ہوئے ہیں!“ ہمارے حق میں کتنی عمدہ شہادتیں! کیا ہم اپنی برادری کی تعریف سنکر شکرگزار نہیں؟ واقعی، اس قابلِتقلید وضعقطع کی بابت عمدہ بیانات تمام حاضرین کی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔
۳ ہم اپنی منفرد وضعقطع کے لئے پوری دُنیا میں مشہور ہیں۔ (ملا ۳:۱۸) کیوں؟ اسلئےکہ ہم صحیفائی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے خود کو ’حیادار لباس سے شرم اور پرہیزگاری کیساتھ خداپرستی کا اقرار کرنے والوں کی طرح سنوارتے ہیں۔‘—۱-تیم ۲:۹، ۱۰۔
۴ آپ کی آرائشوزیبائش سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ ہمارا لباس اور کپڑے پہننے کا ڈھنگ ہمارے اعتقادات، رُجحان اور مقاصد کی تصدیق کرتا ہے۔ ہمارا سٹائل ہماری اور ہماری شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمیں کبھی بھی اس دُنیا کی مقبول مگر گھٹیا سوچ اور چالچلن کو فروغ نہیں دینا چاہئے۔ ہماری فکر کسی خاص سٹائل کے جدید ہونے کی بجائے اس بات میں ہونی چاہئے کہ آیا یہ خدا کے خادم کو زیب دیتا ہے۔ (روم ۱۲:۲) اپنی وضعقطع سے خودمختاری کی روح یا ایک بداخلاق طرزِزندگی کا اشارہ دینے کی بجائے ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم واقعی ”خدا کی تمجید“ کرنا چاہتے ہیں۔—۱-پطر ۲:۱۲۔
۵ بعضاوقات ایک نیا، ناتجربہکار یا روحانی طور پر کمزور شخص اس بات پر غور کئے بغیر کہ یہ یہوواہ اور اس کی تنظیم کی بابت کس قسم کا تاثر دیتی ہے ایسی آرائشوزیبائش کا انتخاب کر سکتا ہے جس کی دُنیا تشہیر کرتی ہے۔ ہم سب کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا ہم دُنیاوی سوچ سے متاثر ہیں۔ ہمیں اپنی آرائشوزیبائش کے سٹائل کی بابت ایک معزز، روحانی طور پر پُختہ بھائی یا بہن سے دیانتدارانہ رائے لیکر اس پر سنجیدہ غوروفکر کرنا چاہئے۔
۶ بعض لوگ اس بات سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ انہیں کنونشن پر حاضر ہوتے وقت اپنے لباس کی بابت محتاط رہنا چاہئے۔ تاہم، وہ پروگرام کے وقفوں کے دوران یہ بلند معیار قائم نہیں رکھتے۔ خدا کے خادموں کے لائق بلند معیار برقرار رکھیں۔ (۲-کر ۶:۳، ۴) کسی بھی عوامی جگہ پر جاتے وقت ہمارا کنونشن بیج اور مناسب آرائشوزیبائش یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہماری شناخت کراتے ہیں۔ لہٰذا، ہمارے لباس کو ہمیشہ شائستہ اور حیادار ہونا چاہئے تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ ہم ’دُنیا کا حصہ نہیں‘ ہیں۔—یوح ۱۵:۱۹۔
۷ آئیے اس سال کے ”سرگرم بادشاہتی مُناد“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر اپنے آپ کو ”[یہوواہ] اپنے خدا کی مُقدس قوم“ ثابت کرنے کی حتیٰالمقدور کوشش کریں۔ اس سے حاصل ہونے والے عمدہ نتائج یہوواہ کیلئے ”تعریف اور نام اور عزت“ کا باعث بنیں گے۔—است ۲۶:۱۹۔
[Box on page 10]
یہوواہ کی تمجید کیسے کریں:
■ خدا کے خادموں کے شایانِشان لباس پہنیں۔
■ دُنیا کی روح ظاہر کرنے والے سٹائل سے گریز کریں۔
■ پرہیزگاری کی عکاسی کرنے والی حیاداری ظاہر کریں۔