حیادار لباس یہوواہ کو تعظیم دیتا ہے
۱ بہت جلد ہمیں ۲۰۰۳ میں ”خدا کو جلال دیں“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر یہوواہ کے مہمان بننے کا شرف حاصل ہوگا۔ ہم کس قدر شکرگزار ہیں کہ یہوواہ نے ہمیں ایسی شاندار روحانی ضیافت پر مدعو کِیا ہے! ہم اپنے لباسوآرائش سے اُس کی ستائش اور روحانی فراہمیوں کے لئے اپنی قدردانی کا اظہار کر سکتے ہیں۔—زبور ۱۱۶:۱۲، ۱۷۔
۲ صافستھری اور شائستہ وضعقطع: ہماری وضعقطع سے خدا کے معیاروں کو منعکس ہونا چاہئے جو پاک اور منظم خدا ہے۔ (۱-کر ۱۴:۳۳؛ ۲-کر ۷:۱) ہماری شخصیت، بال اور ناخن صافستھرے ہونے چاہئیں اور ہمیں اپنی آرائشوزیبائش کا خیال رکھنا چاہئے۔ آجکل بےڈھنگے طورطریقے عام ہیں۔ تاہم، اگر کوئی مشہور فنکار یا کھلاڑی اپنی وضعقطع کی بابت لاپروائی ظاہر کرتا ہے تو ایک مسیحی کے پاس ایسا کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ اگر ہم جدید فیشن اپنائیں تو لوگ خدا کے سچے خادموں اور دُنیاوی لوگوں میں امتیاز کرنا مشکل پائیں گے۔—ملا ۳:۱۸۔
۳ مسیحیوں کیلئے مناسب لباس: پولس رسول نے مسیحی نگہبان تیمتھیس کو لکھتے وقت نصیحت کی کہ ”عورتیں حیادار لباس سے شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں . . . نیک کاموں سے جیسا خدا پرستی کا اقرار کرنے والی عورتوں کو مناسب ہے۔“ (۱-تیم ۲:۹، ۱۰) اپنے لباس کے حیادار ہونے کا یقین کر لینے کے لئے محتاط غوروخوض کی ضرورت ہے۔ کپڑوں کو بھڑکیلا، ناشائستہ یا شہوتانگیز ہونے کی بجائے صافستھرا اور باوقار ہونا چاہئے۔—۱-پطر ۳:۳۔
۴ پولس نے ”بال گوندھنے اور سونے اور موتیوں اور قیمتی پوشاک“ کی بابت انتہاپسند بننے کی بابت بھی خبردار کِیا۔ (۱-تیم ۲:۹) زیورات، بناؤسنگار اور آرائشوزیبائش کے سلسلے میں توازن رکھنا مسیحی عورتوں کیلئے دانشمندانہ روش ہے۔—امثا ۱۱:۲۔
۵ مسیحی عورتوں کیلئے پولس کی نصیحت کا اطلاق مسیحی مردوں پر بھی ہوتا ہے۔ بھائیوں کو دُنیاوی سوچ کی عکاسی کرنے والے سٹائل سے اجتناب کرنا چاہئے۔ (۱-یوح ۲:۱۶) مثال کے طور پر، بعض ممالک میں ڈھیلےڈھالے، بڑے سائز کے کپڑے پہننا بڑا عام ہے لیکن یہ انداز خدا کے خادم کیلئے موزوں نہیں۔
۶ تفریحی کارگزاریوں کے دوران: پروگرام پر حاضر ہوتے وقت بہتیرے بہنبھائی لباس اور آرائشوزیبائش کے سلسلے میں ایک شاندار نمونہ قائم کرتے ہیں۔ تاہم، رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ بعض اشخاص کنونشن پر آتے اور واپس لوٹتے وقت یا سیشن کے بعد تفریحی کارگزاریوں کے دوران لاپروائی برتتے ہیں۔ واقعی، پروگرام کے دوران یا دیگر اوقات پر بھی ہماری وضعقطع خدا کے لوگوں کی بابت دوسروں کے نقطۂنظر پر اثر ڈالتی ہے۔ چونکہ ہم کنونشن بیج لگاتے ہیں لہٰذا ہمیں ہمیشہ مسیحی خادموں کے لائق لباس پہننا چاہئے۔ اس سے اکثر دوسرے ہماری تعریف کرنے کی تحریک پاتے ہیں اور گواہی دینے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔—۱-کر ۱۰:۳۱-۳۳۔
۷ جسطرح ایک مہربانہ مسکراہٹ ہمارے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے اسی طرح حیادار آرائشوزیبائش ہمارے پیغام کی تاثیر اور اس تنظیم کی عزت کو بڑھاتی ہے جسکی ہم نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سال ”خدا کو جلال دیں“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں کے دوران ہمیں دیکھنے والے بعض لوگ ہمارے دوسروں سے فرق ہونے کی وجہ دریافت کرنے اور آخرکار یہ کہنے کی تحریک پا سکتے ہیں: ”ہم تمہارے ساتھ جائینگے کیونکہ ہم نے سنا [اور دیکھا] ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔“ (زک ۸:۲۳) دُعا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی آرائشوزیبائش سے یہوواہ کی تعظیم کرنے کے قابل ہو۔
]سوالات[
۱. ہم آنے والے ڈسٹرکٹ کنونشن کیلئے اپنی قدردانی کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟
۲. ہمارے لئے صافستھرا رہنا اور اپنی آرائشوزیبائش کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟
۳. ہم اس بات کا یقین کیسے کر سکتے ہیں کہ ہماری وضعقطع ۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰ میں درج نصیحت سے مطابقت رکھتی ہے؟
۴، ۵. مسیحی مردوں اور عورتوں کو کن چیزوں کی بابت محتاط رہنا چاہئے؟
۶. کنونشن پر جاتے اور واپس لوٹتے وقت، پروگرام کے دوران اور ہر دن کے سیشن کے بعد ہمیں آرائشوزیبائش کے سلسلے میں اعلیٰ معیار کیوں برقرار رکھنا چاہئے؟
۷. ہماری حیادار آرائشوزیبائش دوسروں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟
]صفحہ ۵ کی تصویری عبارت[
باوقار وضعقطع ظاہر کریں
▪ سفر کے دوران
▪ کنونشن پر
▪ تفریحی کارگزاریوں کے دوران