”اچھے کاموں میں دولتمند بنیں“
۱ اپنی سرگرم خدمتگزاری کے آخری سالوں کے دوران، پولس رسول نے تیمتھیس اور ططس کی قریبی رفاقت میں کام کِیا۔ اُس نے اُن دونوں کو اسی طرح کے حوصلہافزا خط لکھے۔ اُس نے ططس سے کہا کہ ”جنہوں نے خدا کا یقین کِیا ہے وہ اچھے کاموں میں لگے رہنے کا خیال رکھیں۔“ (طط ۳:۸) اُس نے تیمتھیس سے کہا کہ خدا پر آس رکھنے والوں کو ”اچھے کاموں میں دولتمند“ بننا چاہئے۔ (۱-تیم ۶:۱۷، ۱۸) یہ ہم سب کیلئے بہت عمدہ نصیحت ہے! لیکن کونسی چیز ہمیں اپنی زندگیوں میں اچھے کام کرنے کی تحریک دیگی؟ نیز آنے والے دنوں میں ہم کونسے خاص کام کر سکتے ہیں؟
۲ ہمیں یہوواہ پر ایمان اور اُس کی محبت اور اُس کی طرف سے فراہمکردہ شاندار اُمید سے اچھے کاموں میں دولتمند بننے کی تحریک ملتی ہے۔ (۱-تیم ۶:۱۹؛ طط ۲:۱۱) خاص طور پر سال کے اس وقت کے دوران، ہمیں یاددہانی کرائی جاتی ہے کہ یہوواہ نے اپنے بیٹے یسوع کو اس لئے زمین پر بھیجا تاکہ وہ اپنے باپ کو جلال دینے کے علاوہ تمام مستحق انسانوں کیلئے زندگی کی راہ کھول دے۔ (متی ۲۰:۲۸؛ یوح ۳:۱۶) اسکی مزید وضاحت مارچ ۲۸ کو مسیح کی موت کی یادگار پر کی جائیگی۔ کیا ابدی زندگی حاصل کرنے کی اُمید ہمیں ”اچھے کاموں میں دولتمند“ بننے کی حتیالوسع کوشش کرنے کی تحریک نہیں دیتی؟ یقیناً ہم تحریک پاتے ہیں! پس اب ہمیں کونسے کام کرنے چاہئیں؟
۳ مارچ اور آئندہ مہینوں میں کئے جانے والے اچھے کام: ہم میموریل پر تو یقیناً حاضر ہونگے جو پوری دُنیا کے یہوواہ کے گواہوں کیلئے سال کا اہمترین موقع ہوتا ہے۔ (لو ۲۲:۱۹) لیکن ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس موقع کی خوشی میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ۲۰۰۲ ائیربُک میں درج خدمتی رپورٹ کو دیکھ کر سمجھ جائینگے کہ گزشتہ سال پوری دُنیا کے بیشتر ممالک میں میموریل کی حاضری پبلشروں کی تعداد کے مقابلے میں تین، چار، پانچ گُنا یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ اپنے علاقے میں میموریل کے دعوتنامے بانٹنے کیلئے یقیناً پوری کلیسیا نے بڑی جدوجہد کی ہوگی۔ اسلئے، ہم اب سے لیکر مارچ ۲۸ تک اپنی بھرپور کوشش کرینگے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو میموریل پر آنے کی دعوت دیں اور نجات کی اُمید کو سمجھنے میں اُنکی مدد کریں۔
۴ اپریل کے آنے تک، دن بھی کافی طویل ہو جائینگے اور موسم بھی خوشگوار ہو جائیگا۔ ہم ”اچھے کاموں میں دولتمند“ بننے کیلئے ان سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ خوشخبری کی منادی کے کام میں پورے جوش کیساتھ شرکت کرتے ہوئے ”نیک کاموں میں سرگرم“ رہنے سے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ (طط ۲:۱۴؛ متی ۲۴:۱۴) اگر آپ مارچ میں امدادی پائنیر خدمت نہیں کر سکتے تو کیا آپ اپریل یا مئی میں ایسا کر سکتے ہیں؟ اگر آپ مارچ میں پائینر خدمت کر رہے ہیں تو کیا آپ اسے جاری رکھ سکتے ہیں؟
۵ ملازمت کرنے والے لوگ غالباً کام پر جاتے وقت سڑکوں پر یا صبحسویرے کھل جانے والی دکانوں پر گواہی دینے سے تقریباً ایک گھنٹہ خدمت میں صرف کر سکتے ہیں۔ بعض اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے میں گواہی دینے کیلئے وقت نکالتے ہیں۔ بعض نے اس وقت کے دوران کسی ساتھی کارکُن کے ساتھ بائبل مطالعہ کرنا ممکن پایا ہے۔ بہت سی خانہداری کرنے والی بہنیں اپنے بچوں کے سکول چلے جانے کے بعد کچھ وقت میدانی خدمت میں صرف کر سکتی ہیں۔ بعض دنوں پر صبح جلدی اُٹھ کر گھر کا کام کر لینے سے اُنہیں دن کے باقی حصے میں منادی اور تعلیم دینے کے کام کیلئے زیادہ وقت مِل سکتا ہے۔—افس ۵:۱۵، ۱۶۔
۶ اگر آپ امدادی پائنیر خدمت نہیں کر سکتے توبھی آپ میدانی خدمت میں زیادہ شرکت کیلئے اپنا ایک ذاتی شیڈول تیار کر سکتے ہیں تاکہ آپ ”نیکی کریں اور اچھے کاموں میں دولتمند بنیں اور سخاوت پر تیار اور امداد پر مستعد“ رہتے ہوئے دوسروں کو سچائی سے روشناس کرا سکیں۔—۱-تیم ۶:۱۸۔
۷ شاگرد بنانے کے اچھے کام کو یاد رکھیں: ہر سال دلچسپی رکھنے والے لوگ میموریل پر حاضر ہوتے ہیں۔ کیا بعض کلیسیائی ارکان کیلئے اُن لوگوں کو توجہ دینا ممکن ہوگا جو حاضر تو ہوتے ہیں مگر ابھی تک مطالعہ نہیں کر رہے؟ کیا اُنہیں روحانی ترقی کرنے میں مدد دینے کیلئے اُن کیساتھ واپسی ملاقاتیں کی جا سکتی ہیں؟ ممکن ہے کہ میموریل پر حاضر ہونے والے اِن لوگوں میں گواہوں کے رشتہدار بھی ہوں۔ بعض ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو ماضی میں مطالعہ کرتے تھے اور جنہیں دوبارہ مطالعہ شروع کرنے اور باقاعدگی سے اجلاسوں پر حاضر ہونے کیلئے کسی حد تک حوصلہافزائی کی ضرورت ہے۔ اُنہیں اپنے ساتھ سرگرمی سے یہوواہ کی خدمت کرتے دیکھنا خوشی کا باعث ہوگا!
۸ مارچ اور اس سے اگلے مہینوں میں خدمتگزاری میں اضافی شرکت سے یہ ممکن ہے کہ ہمیں واپسی ملاقاتیں کرنے کیلئے مزید دلچسپی رکھنے والے اشخاص ملیں گے۔ اُن کے پاس کوئی سوال چھوڑنے کی کوشش کریں۔ واپسی ملاقات پر جواب دینے کا وعدہ کریں۔ ایسا کرنے سے واپسی ملاقات کے لئے راہ ہموار ہو جائیگی۔ جتنی جلدی ہم واپسی ملاقات کرتے ہیں اُتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ اگر ہم پہلی ملاقات پر مطالعہ شروع نہیں کر پاتے تو ہمیں اگلی ہی ملاقات پر مطالعہ شروع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
۹ جب ہم گلیکوچوں میں گواہی دیتے ہیں تو ہمیں لوگوں کیساتھ گفتگو شروع کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہئے۔ بہت سے پبلشروں کو گلیکوچوں میں خدمتی کام انجام دینے کے دوران دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے اپنے نام، پتے اور ٹیلیفون نمبر دئے ہیں۔ اگر ملنے والا شخص آپکے علاقے میں نہیں رہتا تو کنگڈم ہال سے براہِمہربانی رابطہ کریں (ایس-۴۳) فارم لیکر پُر کریں اور کلیسیا کے سیکرٹری کو دیں جو اُسے اُس شخص کے علاقے کی کلیسیا کو بھیجے گا۔ اگر سیکرٹری کیلئے ایسا کرنا مشکل ہو تو وہ اُسے برانچ دفتر بھیج دیگا۔ اس طرح دلچسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔
۱۰ اگر ایڈریس کی بجائے ٹیلیفون نمبر مل جاتا ہے تو ٹیلیفون کے ذریعے ہی اُس شخص سے واپسی ملاقات کریں۔ اپنی گفتگو کی پہلے سے تیاری کریں۔ فوری مدد حاصل کرنے کے لئے اپنے پاس ریزننگ بُک رکھیں۔ بعض ٹیلیفون پر ایسے لوگوں کیساتھ کامیابی سے مطالعہ کر رہے ہیں جنہیں گھر پر ملنا بہت مشکل تھا۔ ایک بہن نے گھرباگھر کی خدمتگزاری میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کے فون نمبر حاصل کئے جس کے نتیجے میں وہ دو بائبل مطالعے شروع کرنے کے قابل ہوئی۔
۱۱ سُست پڑ گئے اشخاص کی مدد کے لئے بزرگوں سے تعاون کریں: بزرگ انہیں مشفقانہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کافی تو خود ہی دوبارہ اجلاسوں پر آنے لگے ہیں۔ وہ زبور ۹۱ میں بیانکردہ روحانی تحفظ حاصل کرنے کیلئے یہوواہ کی تنظیم سے قریبی رفاقت رکھنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ ان میں سے بعض دوبارہ میدانی خدمت میں حصہ لینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ اگر اس ماہ مزید سُست پڑ جانے والے اشخاص بھی میموریل پر حاضر ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ذاتی بائبل مطالعے کی پیشکش قبول کر لیں۔ اگر ایسا ہو تو بزرگوں کو مدد کے خواہشمند اشخاص کو مطالعہ کرانے کیلئے انتظامات کرنے ہونگے۔ اگر آپکو ایسا کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو آپکے تعاون کی بہت زیادہ قدر کی جائیگی۔—روم ۱۵:۱، ۲۔
۱۲ ”اچھے کاموں میں لگے“ رہیں: ایک یا زیادہ ماہ کیلئے امدادی پائنیر خدمت کرنے والے بہتیرے لوگوں نے یہ دیکھا ہے کہ اگلے مہینوں میں اُنکی میدانی خدمت میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ ایسے دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے ملے جن کیساتھ واپسی ملاقات کرنے کی ضرورت تھی۔ اس سے اُنہیں دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے دوبارہ رابطہ کرنے کی خاطر میدانی خدمت میں جانے کیلئے زیادہ کوشش کرنے کی تحریک ملی۔ بعض نے بائبل مطالعے شروع کئے جس سے اُنکی میدانی خدمت میں زیادہ حصہ لینے کیلئے بہت مدد ہوئی ہے۔
۱۳ دیگر ایسے بھی ہیں جنہیں منادی اور شاگرد بنانے کے کام سے اتنی زیادہ خوشی حاصل ہوئی کہ اُنہیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لینے کی تحریک ملی۔ نتیجتاً، بعض نے اپنے دُنیاوی کام میں کمی کر دی اور مستقل امدادی پائنیر بن گئے۔ بعض باقاعدہ پائنیر بننے کے قابل ہوئے ہیں۔ وہ دُنیا کی چیزوں پر آس لگانے کی بجائے خدا پر توکل کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ”سخاوت پر تیار اور امداد پر مستعد“ رہنا اُن کیلئے یہوواہ کی طرف سے کثیر برکات پر منتج ہونے کے علاوہ، ”حقیقی زندگی“ سے لطفاندوز ہونے کی اُمید کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ (۱-تیم ۶:۱۸، ۱۹) بِلاشُبہ، جب زیادہ لوگ پائنیر خدمت کرتے ہیں تو پوری کلیسیا اس سے مستفید ہوتی ہے۔ پائنیر دوسروں کو خوشی سے اپنے تجربات سناتے ہیں اور دوسروں کو اپنے ساتھ خدمت میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہیں جس سے کلیسیا میں خوشگوار روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔
۱۴ دُعا ہے کہ ہم سب اس میموریل کے وقت کے دوران ”اچھے کاموں میں دولتمند بنیں“ اور آئندہ بھی مسیحی خدمتگزاری میں اپنی شرکت کو بڑھائیں۔ پس آئیے یہوواہ نے راست نئی دُنیا میں ابدی زندگی کی اُمید عطا کرنے کیلئے جوکچھ کِیا ہے ہم اُس کیلئے بھرپور قدردانی کا مظاہرہ کریں۔—۲-پطر ۳:۱۳۔