”آدمیوں کی صورت میں انعام“ خوشی کیساتھ خدا کے گلّہ کی گلّہبانی کرتے ہیں
۱ اپنے بیٹے کے وسیلے ’آدمیوں کی صورت میں انعام‘ یہوواہ کی کتنی پُرشفقت بخشش ہے! (افس ۴:۸، ۱۱، ۱۲) اُن کی متعدد ذمہداریاں ہیں جن میں خوشی اور سرگرمی سے خدا کے گلّہ کی گلّہبانی کرنا بھی شامل ہے۔ (۱-پطر ۵:۲، ۳) ہم سب اس نہایت ضروری فراہمی سے مستفید ہوتے ہیں۔ خواہ بعض مشکلات سے دوچار ہیں، نئے رفاقت رکھنے والے ہیں، کسی کمزوری میں مبتلا ہیں، یا گمراہ ہو چکے ہیں، یہ آدمی سب کی روحانی فلاحوبہبود میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں۔—فل ۲:۴؛ ۱-تھس ۵:۱۲-۱۴۔
۲ جب پریشانکُن عالمی واقعات ہمیں خوفزدہ کر دیتے ہیں تو یہ ماتحت چرواہے ”آندھی سے پناہگاہ کی مانند . . . اور طوفان سے چھپنے کی جگہ“ ثابت ہوتے ہیں۔ جب ہم تھکےماندے یا پریشانی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ہمیں ”خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند“ یا ”ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند“ تازگی بخشتے ہیں۔—یسع ۳۲:۲۔
۳ سُست پڑ جانے والے اشخاص کی حوصلہافزائی کرنا: بزرگ، بےقاعدہ یا سُست پڑ جانے والے اشخاص کی حوصلہافزائی کرنے کی خاص کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ تمام کلیسیائی کارگزاریوں میں پھر سے باقاعدہ شرکت کرنے کے لئے اُن کی مدد کر سکیں۔ گلّہبانی کی پُرشفقت ملاقاتوں سے بہتیروں کی کلیسیائی اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہونے اور اس حد تک روحانی ترقی کرنے میں مدد ہوئی ہے کہ وہ پھر سے میدانی خدمت میں شرکت کر رہے ہیں۔ بزرگوں کی ایسی کاوشیں یہوواہ کی پُرمحبت فکرمندی اور یسوع مسیح کی سرگرم پیشوائی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اُس نے بھٹک جانے یا کھو جانے والی بھیڑوں کیلئے ایسی فکرمندی کی مثال قائم کی ہے۔—متی ۱۸:۱۲-۱۴؛ یوح ۱۰:۱۶، ۲۷-۲۹۔
۴ ماتحت چرواہے ایسی علامات دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی شخص میں روحانی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو لوگ حوصلہشکنی کی علامات ظاہر کرتے ہیں، اجلاسوں پر حاضر ہونے میں بےقاعدہ ہو جاتے ہیں یا جو میدانی خدمت میں سُست پڑ جاتے ہیں اُنہیں یقیناً روحانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بزرگ دُنیاوی طرزِزندگی اپنانے یا کلیسیا پر تنقید کرنے کا میلان رکھنے والے اشخاص کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقی دلچسپی اور شفقت کیساتھ پاسولحاظ دکھانے والے نگہبان ایسے لوگوں کے اندر یہوواہ کیلئے محبت کو دوبارہ بیدار کرنے کی کوشش میں ”اپنی جان تک بھی دے دینے کو راضی“ ہیں۔—۱-تھس ۲:۸۔
۵ ماضی میں، بعض مخصوصشُدہ مسیحی بیماری، معاشی بدحالی یا خاندانی دباؤ کی وجہ سے روحانی سستی کا شکار ہوکر مسیحی کلیسیا کیساتھ رابطہ کھو چکے ہیں۔ تنقیدی رُجحان اختیار کئے بغیر بزرگ محبت کیساتھ یقیندہانی کراتے ہیں کہ یہوواہ اپنی تمام بھیڑوں کی پروا کرتا ہے اور مشکل اوقات میں اُنہیں ضرور بچائیگا۔ (زبور ۵۵:۲۲؛ ۱-پطر ۵:۷) گلّے کے محتاط چرواہے اُنکی یہ سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ اگر وہ ’خدا کے نزدیک جائیں گے تو وہ اُنکے نزدیک آئیگا‘ جس سے اُنہیں تسلی اور تازگی حاصل ہوگی۔—یعقو ۴:۸؛ زبور ۲۳:۳، ۴۔
۶ کمزوروں کی قدر کرنا: یہ پُرشفقت ماتحت چرواہے غفلت کا شکار لوگوں کیلئے بھی فکر دکھاتے ہیں۔ ہر کلیسیا میں ایسے ناتواں لوگ ضرور ہوتے ہیں جو نرسنگ ہومز میں رہتے ہیں یا کسی اَور وجہ سے معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ اُنکے حالات چونکہ فرق ہوتے ہیں اسلئے بادشاہتی پیغام کی منادی میں اُنکی شرکت بھی محدود ہوتی ہے۔ شاید اُنہیں صرف ملاقاتیوں، دیگر مریضوں یا محافظوں سے ہی بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم، جوکچھ بھی وہ کر سکتے ہیں اُسے منادی کے مجموعی کام کا اہم حصہ خیال کِیا جاتا ہے۔ (متی ۲۵:۱۵) اگر وہ صرف ۱۵ منٹ کیلئے ہی منادی کرتے ہیں تو اسکی رپورٹ ڈالی جانی چاہئے اور اُنہیں کلیسیا کے باقاعدہ پبلشروں میں شمار کِیا جائیگا۔
۷ ’آدمیوں کی صورت میں انعام‘ سال کے اس موقع یعنی میموریل پر اپنے بھائیوں کی روحانی ضرورت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ یہ بزرگوں کیلئے نہایت ہی موزوں وقت ہے جس میں وہ بھٹک جانے والے تمام لوگوں کی مدد کرنے کی خاص کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ پھر سے کلیسیا کی پُرتپاک رفاقت سے حاصل ہونے والی خوشی اور ذہنی سکون کا تجربہ کر سکیں! جب ہم ایسے ”اہلِایمان“ کو کلیسیائی اجلاسوں پر آتے اور فدیے کی قربانی پر ایمان کے اظہار میں خدمتگزاری میں شرکت کرتے دیکھتے ہیں تو اس سے ہمیں خوشی حاصل ہوتی ہے۔—گل ۶:۱۰؛ لو ۱۵:۴-۷؛ یوح ۱۰:۱۱، ۱۴۔