مقصد کیا ہے؟
۱ ہم گھریلو بائبل مطالعے کیوں کراتے ہیں؟ کیا ہم علم فراہم کرنے، لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے یا پھر اُنہیں مستقبل کی بابت مثبت نقطۂنظر قائم کرنے میں مدد دینے کیلئے مطالعہ کراتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہمارا اصل مقصد یسوع مسیح کے شاگرد بنانا ہے! (متی ۲۸:۱۹؛ اعما ۱۴:۲۱) اسلئے ہمارے بائبل طالبعلموں کو کلیسیا کیساتھ ضرور رفاقت رکھنی چاہئے۔ اُنکی روحانی ترقی کا دارومدار مسیحی تنظیم کیلئے اُنکی قدردانی پر ہے۔
۲ اِس مقصد کا حصول کیسے ممکن ہے: شروع ہی سے طالبعلم کو کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہونے کی تاکید کریں۔ (عبر ۱۰:۲۴، ۲۵) اس بات کی وضاحت کریں کہ اجلاس اُسکا ایمان مضبوط کرینگے، خدا کی مرضی بجا لانے میں اُسکی مدد کرینگے اور یہوواہ کی تمجید کرنے کے خواہاں دیگر لوگوں کی حوصلہافزا رفاقت بھی فراہم کرینگے۔ (زبور ۲۷:۱۳؛ ۳۲:۸؛ ۳۵:۱۸) آپ کے کلیسیا اور اجلاسوں کیلئے محبت اور قدردانی کے اظہارات بھی اُسے حاضر ہونے کی ترغیب دینگے۔
۳ نئے لوگوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ کی تنظیم ایک عالمگیر برادری ہے۔ اُنہیں جیہوواز وِٹنسز—دی آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم اور آور ہول ایسوسیایشن آف برادرز ویڈیوز دکھائیں۔ اس بات کو سمجھنے میں اُنکی مدد کریں کہ یہوواہ لاکھوں مخصوصشُدہ اشخاص کو اپنی مرضی کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ اِن نئے اشخاص کو یہ باور کرائیں کہ اُنہیں بھی خدا کی خدمت کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔—یسع ۲:۲، ۳۔
۴ ایک بائبل طالبعلم کو یسوع کا شاگرد بنتے دیکھنا واقعی بڑی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے!—۳-یوح ۴۔