اچھے آدابواطوار—خدا کے لوگوں کا خاصہ ہیں
۱ آجکل اچھے آدابواطوار کا فقدان ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ لوگ اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ وہ شاذونادر ہی ”مہربانی سے،“ ”آپ کا شکریہ“ یا ”معاف کیجئے“ جیسی بنیادی اخلاقی باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ خدا کے کلام نے پہلے ہی سے آخری ایّام میں آدابواطوار کے شدید بحران کی بابت بتا دیا تھا کہ لوگ ”خودغرض۔ شیخیباز۔ مغرور۔ ناشکر۔ طبعی محبت سے خالی۔ بےضبط۔ نیکی کے دشمن۔ ڈھیٹھ ہونگے۔“ (۲-تیم ۳:۱-۴) ایسے تمام خصائل خراب آدابواطوار کو جنم دیتے ہیں۔ مسیحیوں کو خدا کے لوگوں کے طور پر دُنیا میں دوسروں کے لئے احترام کی کمی کے رُجحان سے بچنا چاہئے۔
۲ آدابواطوار کی تعریف؟ اچھے آدابواطوار سے مُراد دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا اور دوسروں کے ساتھ پُرامن طریقے سے گزربسر کرنے کی صلاحیت ہے۔ اچھے آدابواطوار میں پاسولحاظ، شایستگی، ہمدردی، نرمی، موقعشناسی اور مروّت، جیسے پہلو شامل ہیں۔ یہ خصوصیات خدا اور پڑوسی سے محبت کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ (لو ۱۰:۲۷) ایسی خصوصیات ظاہر کرنا مشکل نہیں لیکن دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے بڑی مفید ہیں۔
۳ یسوع مسیح نے کامل نمونہ قائم کِیا۔ اُس نے ہمیشہ سنہری اصول کی پابندی کی: ”جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اُن کے ساتھ ویسا ہی کرو۔“ (لو ۶:۳۱) کیا ہم شاگردوں کے ساتھ یسوع کے پُرمحبت رویے سے حیران نہیں ہوتے؟ (متی ۱۱:۲۸-۳۰) اُس کے اچھے آدابواطوار ادبی کتابوں میں بیانکردہ اصولوں پر مبنی نہیں تھے۔ اچھے آدابواطوار کا ماخذ سنجیدہ اور مہربان دل ہے۔ ہمیں بھی اُس کے عمدہ نمونے کی نقل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
۴ مسیحیوں کو کب اچھے آدابواطوار کی ضرورت پڑتی ہے؟ کیا محض خاص مواقع پر دوسروں کو اچھا تاثر دینے کی غرض سے اِن کی ضرورت ہوتی ہے؟ یا دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے اِن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جینہیں! ہمیں ہر وقت اچھے آدابواطوار کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ کلیسیا میں دوسروں کے ساتھ اپنی رفاقت کے دوران ہم بالخصوص کن طریقوں سے آدابواطوار پر دھیان دینگے؟
۵ کنگڈم ہال میں:کنگڈم ہال ہماری پرستش کی جگہ ہے۔ ہم یہوواہ کی دعوت پر وہاں جاتے ہیں۔ اس طرح سے ہم مہمان ہوتے ہیں۔ (زبور ۱۵:۱) کیا ہم کنگڈم ہال میں قابلِنمونہ مہمان ثابت ہوتے ہیں؟ کیا ہم اپنے لباسوزیبائش پر مناسب توجہ دیتے ہیں؟ یقیناً ہم کسی بھی عام بےڈھنگے یا انتہاپسند لباس سے گریز کرینگے۔ خواہ ہم کنونشنوں پر حاضر ہوتے ہیں یا ہفتہوار کلیسیائی اجلاسوں پر، یہوواہ کے گواہ خدا کی تعظیم کرنے والے لوگوں کے طور پر خوشاخلاق وضعقطع کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (۱-تیم ۲:۹، ۱۰) یوں ہم اپنے آسمانی میزبان اور دوسرے بلائے گئے مہمانوں کے لئے پاسولحاظ دکھاتے ہیں۔
۶ اجلاسوں پر وقت پر پہنچنا بھی اچھے آدابواطوار دکھانے کا ایک طریقہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض شاید بہت دُور رہنے یا شاید بڑے خاندان کی وجہ سے وقت پر تیار ہونا مشکل پاتے ہوں۔ تاہم کچھ کلیسیاؤں میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ تقریباً ۲۵ فیصد پبلشر عادتاً گیت اور دُعا کے بعد پہنچتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان آدابواطوار کا تعلق دوسروں کے احساسات کا پاسولحاظ رکھنے سے ہے۔ ہمارے شفیق میزبان یہوواہ نے ہمارے فائدہ کے لئے ان روحانی کھانوں کا اہتمام کِیا ہے۔ ان پر باقاعدہ حاضر ہونے سے ہم اُس کے احساسات کیلئے بھی قدردانی ظاہر کر سکتے ہیں۔ مزیدبرآں، اجلاسوں پر دیر سے آنا خلل کا باعث بنتا ہے اور وہاں پہلے سے موجود حاضرین کیلئے بےادبی ظاہر ہوتی ہے۔
۷ کیا ہم اپنے اجتماع کے دوران حاضر ہونے والے نئے اشخاص پر توجہ دیتے ہیں؟ اُن کا خیرمقدم کرنا اچھے آدابواطوار کو ظاہر کرتا ہے۔ (متی ۵:۴۷؛ روم ۱۵:۷) کسی کے ساتھ تپاک سے ملنا، گرمجوشی سے ہاتھ ملانا، ایک مسکراہٹ—یہ تمام معمولی چیزیں ہیں لیکن یہ مسیحیوں کے طور پر ہمارے منفرد ہونے میں اضافہ کرتی ہیں۔ (یوح ۱۳:۳۵) پہلی دفعہ کنگڈم ہال میں آنے والے ایک آدمی نے بیان کیا: ”چرچ کے جن اشخاص کے درمیان مَیں نے پرورش پائی تھی اُن کی نسبت مَیں کہیں زیادہ مہربانی اور محبت دکھانے والے لوگوں سے ملا جو میرے لئے بالکل اجنبی تھے۔ یہ بالکل واضح تھا کہ مجھے سچائی مل گئی ہے۔“ نتیجتاً، اُس نے اپنا طرزِزندگی بدل لیا اور سات ماہ بعد بپتسمہ لے لیا۔ جیہاں، اچھے آدابواطوار کے دُوررس اثرات ہو سکتے ہیں!
۸ اگر ہم اجنبیوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں تو کیا ”خاصکر اہل ایمان کے ساتھ“ ایسے ہی پیش نہیں آنا چاہئے؟ (گل ۶:۱۰) یہاں اس اصول کا اطلاق ہوتا ہے: ”بڑے بوڑھے کا ادب کرنا۔“ (احبا ۱۹:۳۲) ایسے اشخاص کو ہمارے اجتماعات میں کبھی بھی نظرانداز نہیں کِیا جانا چاہئے۔
۹ پوری توجہ دینا: کلیسیائی اجلاسوں کے دوران خدا کے مسیحی خادم ہمیں روحانی طور پر مضبوط کرنے کے لئے تعلیم دیتے ہیں۔ (روم ۱:۱۱) اگر ہم اجلاس کے دوران اُونگھنے لگتے ہیں، آواز کے ساتھ چیوگم چباتے ہیں، قریب بیٹھے ہوئے شخص سے بار بار سرگوشیاں کرتے ہیں، بیتالخلا کے غیرضروری چکر لگاتے ہیں، غیرمتعلقہ مواد پڑھتے یا اجلاسوں کے دوران دوسرے کاموں پر توجہ دیتے ہیں تو یہ واقعی آدابواطوار کی انتہائی کمی کو ظاہر کریگا۔ بزرگوں کو خاص طور پر اِس معاملہ میں نمونہ ہونا چاہئے۔ اچھے آدابواطوار ہمیں مقرر اور اس کے بائبل پر مبنی پیغام کو غیرمنقسم توجہ دینے سے اُس کے لئے مناسب احترام ظاہر کرنے کی تحریک دینگے۔
۱۰ مزیدبرآں، مقرر اور سامعین کیلئے پاسولحاظ کا دھیان رکھتے ہوئے، ہمیں اجلاسوں میں پیجر اور موبائلفون کو خلل کا باعث بننے کی وجہ سے بند رکھنا چاہئے۔
۱۱ آدابواطوار اور بچے: والدین کو اپنے بچوں کے اخلاق کے بارے میں ہمیشہ محتاط رہنا چاہئے۔ اجلاسوں کے دوران اگر بچے رونا شروع کر دیتے ہیں یا بےچین ہوتے ہیں تو یہ دوسروں کے لئے خلل کا باعث بنتا ہے لہٰذا والدین کے لئے اُنہیں چپ کرانے کی غرض سے فوری طور پر ہال سے باہر لے جانا اچھا ہوگا۔ بعضاوقات شاید ایسا کرنا مشکل ہو لیکن یاد رکھیں کہ یہ دوسروں کے احساسات کے لئے آپ کے محتاط رویے کو ظاہر کریگا۔ جن والدین کے بچے چھوٹے ہیں جن کے بےچین ہونے کا امکان ہے وہ اکثر اجلاسوں کے دوران دروازے کے پاس والی نشستوں پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں تاکہ کم سے کم اشخاص کے لئے خلل کا باعث بنتے ہوئے اجلاس کے دوران اپنی جگہ سے باہر جا سکیں۔ یقیناً، باقی حاضرین بھی ایسے خاندانوں کے لئے اُن کی حسبِمنشا پیچھے والی نشستوں کو خالی چھوڑنے سے پاسولحاظ دکھا سکتے ہیں۔
۱۲ والدین کو بھی اجلاسوں سے پہلے اور بعد میں اپنے بچوں کی حرکات سے آگاہ رہنا چاہئے۔ بچوں کو عمارت کے اندر بھاگنا نہیں چاہئے اِس سے کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ کنگڈم ہال کے باہر بھی بالخصوص تاریکی میں ادھراُدھر بھاگنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ باہر اُونچی آواز میں گفتگو کرنا پڑوسیوں کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری پرستش پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ جو والدین کنگڈم ہال کے اندر اور باہر اپنے بچوں پر فرضشناسی کے ساتھ نگاہ رکھتے ہیں وہ تعریف کے مستحق ہیں کیونکہ یہ ہمارے اتحاد میں اضافہ کرتا ہے۔—زبور ۱۳۳:۱۔
۱۳ کتابی مطالعہ پر: ہم کتابی مطالعوں کے لئے اپنے گھروں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے والے بھائیوں کی مہماننوازی کی قدر کرتے ہیں۔ جب ہم وہاں حاضر ہوتے ہیں تو ہمیں احترام اور اُن کے گھر کے لئے پاسولحاظ دکھانا چاہئے۔ ہمیں گھر میں داخل ہونے سے پہلے فرش یا قالین کو داغدھبوں سے بچانے کے لئے اپنے جوتے اچھی طرح صاف کرنے چاہئیں۔ والدین کو اپنے بچوں کی نگرانی کرنی چاہئے تاکہ اُن کے بچے گھر کے اُسی حصے تک رہیں جسے کتابی مطالعہ کے لئے مختص کِیا گیا ہے۔ ہمیں گروپ چھوٹا ہونے کی وجہ سے دوسروں کے گھروں میں حد سے زیادہ بےتکلف یا آزادی محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ والدین کو بیتالخلا استعمال کرنے کے لئے اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ جانا چاہئے۔ علاوہازیں، کتابی مطالعہ بھی ایک کلیسیائی اجلاس ہے اِس لئے ہمیں اِس پر بھی ویسا ہی لباس پہننا چاہئے جیسا ہم کنگڈم ہال جاتے وقت پہنتے ہیں۔
۱۴ اچھے آدابواطوار لازمی ہیں: مسیحی آدابواطوار ہماری خدمتگزاری پر اچھا اثر ڈالنے کے علاوہ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ (۲-کر ۶:۳، ۴، ۶) خدایِمبارک کے پرستاروں کے طور پر ہمیں خوشدل اور صلحجُو ہونے کے علاوہ دوسروں کو خوشی بخشنے والے چھوٹے مگر پُرمحبت کام کرنے چاہئیں۔ ایسے آدابواطوار خدا کے لوگوں کے طور پر ہماری زندگیوں کو رونق بخشیں گے۔