آدابواطوار کی تنزلی
لاکھوں لوگ ابھی تک اچھے آدابواطوار کو عمل میں لاتے ہیں۔ دیگر لاکھوں لوگ انہیں پامال کر تے ہیں۔
اس صدی کے شروع میں، آدابِمحفل کا غلط آغاز ہوا، دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق: ”۱۹ویں صدی کے آخر اور ۲۰ویں صدی کے شروع میں معاشرے میں اونچے طبقے کے لوگ آدابِمحفل کے عام تقاضوں کی پابندی کو ایک تفریح اور عورتوں کیلئے ایک پیشہ خیال کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ مفصل آدابِمجلس کو ترتیب دیا گیا تاکہ ممتاز افراد کیلئے خاصالخاص ہونے کا احساس پیدا کِیا جائے اور عام لوگوں کو جو ان جیسے بننے کے لائق نہیں، ان سے بےبہرہ اور دُور رکھا جائے۔“
اچھے آدابواطوار کو جیسا ہونا چاہئے یہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ایمیؔ وانڈربلٹ آدابواطوار کے سلسلے میں ایک معزز شخصیت ہیں اور وہ اپنی آدابواطوار کی نئی جامع کتاب (انگریزی) میں لکھتی ہیں: ”طرزِعمل کیلئے بہترین اصول پہلا کرنتھیوں کے ۱۳ باب میں پائے جاتے ہیں، محبت پر سینٹ پالؔ کا ایک خوبصورت حاصل مطالعہ۔ ان اصولوں کا نہ تو لباس اور نہ ہی سطحی آدابواطوار کی بابت پیچیدہ تفصیلات کیساتھ کوئی تعلق ہے۔ انکا تعلق احساسات اور رویوں، مہربانی اور دوسروں کیلئے پاسولحاظ سے ہے۔“
جس چیز کا حوالہ ایمیؔ وانڈربلٹ نے دیا وہ بائبل میں ۱-کرنتھیوں ۱۳:۴-۸ کی عبارت کا ایک اقتباس ہے، جو کہتا ہے: ”محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی۔ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے۔ سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب باتوں کا یقین کرتی ہے۔ سب باتوں کی امید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔ محبت کو زوال نہیں۔“
آجکل اس طرح کی محبت کو عمل میں لاتے دیکھنا انوکھی بات ہوگی! ہر جگہ تمام آدابواطوار بےنقص ہونگے! ایسے آدابواطوار کو سیکھنے اور سکھانے کا نقطۂآغاز مسیحی گھرانہ ہے۔ خاندان ایک نفیس مشین کی مانند ہے جس کے حصے ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ صرف ماہرانہ تدہین ہی اسے ٹھیک رواں حالت میں رکھ سکتی ہے۔ یہ جاننا کہ کیسے مددگار، مہذب، خوشطبع اور شائستہ بنا جا سکتا ہے ایک گھر کو خوشحال بنانے میں بہت اہم ثابت ہوگا۔ یہ سیکھنا کہ کیسے خوشاخلاقی اور پاسولحاظ کا اظہار کرنے والی روزمرہ کی مقبولِعام اصطلاحات کو استعمال کرنا—جیسے ”شکریہ،“ ”مہربانی سے،“ ”مجھے معاف کریں،“ ”مجھے افسوس ہے“—ہماری رفاقتوں میں سے تباہکن کھچاؤ کو ختم کرنے کیلئے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ یہ وسیع معنی رکھنے والے چھوٹے الفاظ ہیں۔ ہر ایک انہیں مناسب طور پر ادا کر سکتا ہے۔ ان پر کوئی لاگت نہیں آتی، لیکن انکے ذریعے ہم دوست بناتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ اپنے گھروں میں اچھے آدابواطوار کو عمل میں لاتے ہیں تو وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہونگے جب ہم خاندانی دائرے سے باہر نکلتے اور عام لوگوں سے ملتےجلتے ہیں۔
اچھے آدابواطوار میں دوسروں کے احساسات کیلئے پاسولحاظ ظاہر کرنا، انہیں عزت دینا، انکے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرنا شامل ہے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔ تاہم، بہتیروں نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ آدابواطوار بھی تنزلی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایک مصنفہ نے کہا: ”ہم میں خوشاخلاقی کی کمی ہو گئی ہے کیونکہ خودبینی اس پر حاوی ہو گئی ہے۔“ فلاسفر آرتھرؔ شوپنہاور نے لکھا: ”خودغرضی اتنی بُری چیز ہے کہ اسے چھپانے کیلئے ہم نے شائستگی کو ایجاد کیا۔“ آجکل بہتیرے یہ یقین رکھتے ہیں کہ ”شائستہ“ کا مطلب ہے ”کمزور“ اور یہ کہ دوسروں کو فوقیت دینا سودمند نہیں ہے۔ کیا یہ ۷۰ کی دہائی پہلے میں کا عشرہ نہیں تھی جس نے ہمیں آجکل کی پہلے میں والی طرزِ زندگی میں دھکیل دیا ہے؟ ایک بڑے شہر کے اخبار نے بیان کیا: ”مسئلہ اس نقطے پر پہنچ گیا ہے جہاں عام شائستگی کو مروّجہ نہیں کہا جا سکتا۔“
لندن کا ڈیلی میل بیان کرتا ہے کہ پانچ سال کی عمر کے بچے بھی بڑی حد تک لڑتے جھگڑتے، دوسرے بچوں کی چیزوں کیلئے بےادبی دکھاتے، بڑوں کیلئے احترام کی کمی دکھاتے اور فحش زبان استعمال کرتے ہیں۔ سروے کئے گئے زیادہتر اساتذہ محسوس کرتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو بگاڑ رہے ہیں اور یہی چیز غیرمعاشرتی طرزِعمل میں اضافے کا باعث ہے۔ ایک سروے میں جن اساتذہ سے انٹرویو لیا گیا تھا ان میں سے، ۸۶ فیصد ”گھر میں واضح معیاروں اور توقعات کی کمی“ کو مورَدِالزام ٹھہراتے ہیں۔ بیاسی فیصد نے ماں باپ کی طرف سے اچھے نمونے کی کمی کو مجرم ٹھہرایا۔ شکستہ گھرانے، طلاق، غیرشادیشُدہ اشخاص کا اکٹھے رہنا، بہت زیادہ ٹیلیوژن دیکھنا، تربیت کی کمی، چالچلن سے متعلق اصولوں کے نفاذ کی کمی—یہ سب خاندان کی بربادی پر منتج ہوتا ہے۔
ایک ابتدائی سکول کی پرنسپل نے کہا: ”میں آجکل بچوں کے اندر احترام کی کمی کی بابت پریشان ہوں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ ہمسروں کو ذلیل کرنے یا بڑوں کو ناراض کرنے کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ . . . وہ بہتیرے طریقوں سے اپنی طرف سے احترام کی کمی کا اظہار کرتے ہیں—جارحانہ حرکات، ناشائستگی، آسان احکامات کی فرمانبرداری سے انکار . . . کھیل میں ہر وقت گیند اپنے پاس رکھنے پر اصرار . . . [اسکے کے برعکس،] بعض گھروں کے بچے دوسروں کا احترام کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کوئی ضروری نہیں کہ وہ اُستاد کے چہیتے ہی ہوں . . . ، لیکن وہ دوسروں کیساتھ عزت سے پیش آتے ہیں۔ وہ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جبکہ دیگر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں . . . خواہ یہ [بچوں کے] ذہننشین کیا گیا ہے یا نہیں۔“
پرائمری سکول کا ایک اور پرنسپل، جو کئی سال کا تجربہ رکھتا ہے، مزید کہتا ہے: ”ہم واضح طور پر بہت زیادہ کمظرفی دیکھ رہے ہیں۔ کھیل کے میدان میں بچے اسی طرح سے کھیلتے دکھائی نہیں دیتے جیسے وہ کبھی ہوا کرتے تھے؛ وہ ٹولیوں میں اِدھر اُدھر مُنہ اٹھائے پھرتے ہیں۔ وہ کمزور بچوں کو فوراً پہچان لیتے ہیں، بچے جو باہر کے خیال کئے جاتے ہیں، بچے جو پسندیدہ سنیکرز یا جینز نہیں پہنتے۔ وہ انکے پیچھے پڑ جاتے ہیں، انکا مذاق اڑاتے ہیں؛ اس میں نفرتانگیز چڑچڑاپن ہوتا ہے۔ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہم زیادہ کامیاب نہیں رہے ہیں۔“
”بہتیرے لوگ ناقابلِیقین حد تک بدتمیزی سے گاڑی چلاتے ہیں،“ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھنؔ فریڈمین کہتے ہیں، ”بڑی شاہرائیں تقریباً میدانِ جنگ بنی ہوتی ہیں۔“ رائل بنک آف کینیڈا کا منتھلی لیٹر ”سڑکوں پر بےقابو قتلِعام“ کا ذکر کرتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ”مسئلے کا بنیادی نکتہ غیرمہذب طرزِعمل ہے۔ خوشاخلاقی، پاسولحاظ، صبر، برداشت اور انسانی حقوق کے لئے احترام جو کہ ایک تہذیب کو تشکیل دیتے ہیں انکی شرمناک حد تک کمی پائی جاتی ہے۔“
دی نیو یارک ٹائمز، نیویارک شہر کی سڑکوں کو کچھ یوں بیان کرتا ہے: ”اس کے موٹرسوار بمقابلہ ایمبولینسز۔“ اس شہر کے زیادہتر موٹرسوار ایمرجنسی گاڑیوں جیسے کہ ایمبولینس اور آگ بجھانے والی گاڑیوں کو راستہ دینے کیلئے رضامند نہ ہوتے ہوئے، ایک سخت بیمار یا زخمی شخص کے مر جانے کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہونگے کیونکہ اسے فوراً کسی ہسپتال تک لیجایا یا پہنچایا نہیں جا سکتا۔ ایمرجنسی میڈیکل سروسز کی کیپٹن ایلنؔ شبلی نے برؔونکس میں پلہپھیلن پارکوے پر گاڑی چلانے والے ایک شخص کی بابت بتایا جس نے دل کا دورہ پڑنے والے ایک شخص کیلئے جانے والی ایمبولینس کے لئے راستہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ”اس نے ایک سختگیر شخص بننے اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے کی کوشش کی، مگر جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اسے احساس ہوا کہ وہ کسقدر احمق تھا۔ اسکی ماں کو دل کا دورہ پڑا تھا اور ایمبولینس اس کی ماں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔“
دی نیو یارک ٹائمز انٹرنیشنل نے مہذب سوسائٹی کے نام سے پہچانی جانے والی ایک انگلش آرگنائزیشن کی بابت بتایا جو کہ اسلئے تشکیل دی گئی تھی کیونکہ ”لوگ ایک دوسرے کیلئے جارحیتپسندانہ طور پر وحشی ہو گئے ہیں اور یہ کہ اسکی بابت کچھ نہ کچھ کِیا جانا چاہئے۔“ دی ایوننگ اسٹینڈرڈ کے ایک کالم میں، ایک براڈکاسٹ جرنلسٹ یہ شکایت کرنے پر مجبور ہو گیا: ”ایک قوم جو کبھی اپنی تہذیب کی وجہ سے مشہور تھی غیرمہذب لوگوں کی سرزمین بنتی جا رہی ہے۔“ سکاٹ لینڈ کی ایک انشورنس کمپنی نے ”نتیجہ اخذ کیا کہ روڈ پر تمام حادثات کے ۴۷ فیصد کی بنیاد ناشائستگی کا کوئی عمل ہی ہو سکتا ہے۔“
ٹیلیوژن بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کے سلسلے میں بڑی حد تک آدابواطوار کے فقدان کا باعث بنا ہے۔ لوگ کیسا لباس پہنتے ہیں، لوگ کیسے گفتگو کرتے ہیں، لوگ کیسے انسانی رشتوں کو نبھاتے ہیں، لوگ کیسے تشدد کیساتھ مسائل حل کرتے ہیں—ٹیلیوژن ہی ایک استاد ہے۔ اگر ہم اور ہمارے بچے باقاعدہ طور پر غیرحقیقی اور سطحی پروگرام دیکھتے ہیں تو انجامکار ہمارے آدابواطوار، جو کردار ہم دیکھتے ہیں انکے گستاخ، بےادب اور طنزآمیز رویوں کو منعکس کرینگے۔ والدین کو اکثر بطور احمق اور بچوں کو بطور ہونہار لوگوں کے پیش کِیا جاتا ہے۔
دنیا زوردار، تحکمانہ زباندرازی—قطعکلامی کرنے، آمریتپسند ہونے پر فخر کرنے، اکھڑ پن، خودپسندانہ، اشتعالانگیز، مبارزتطلبی—سے گفتگو کرنے سے تسکین پاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب عام طور پر گستاخانہ طرزِعمل کو لوگوں میں ناپسند کِیا جاتا تھا اور جرم کے مرتکب کو برادری سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ آج کے معاشرے میں، گستاخانہ کام قانونشکن کے سر الزام عائد کئے بغیر کِیا جا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ زبانی یا جسمانی حملے کا نشانہ بن سکتا ہے! شوروغل مچانے والے گروپوں میں سفر کرنے والے بعض نوجوان اپنے ناشائستہ چالچلن سے مشاہدین کے دل کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے اردگرد کے ماحول کو فحش کلامی، بیہودہ حرکات سے بھر دیتے ہیں، یہ سب کچھ جانبوجھ کر اپنی گستاخانہ سرکشی کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے اور بالغوں کو اپنی بیہودہ بدتمیزی کے مظاہرے سے صدمہ پہنچانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ بتایا جا چُکا ہے، ”بدتمیزی کسی کمزور شخص کی طاقت کا بہروپ ہوتی ہے۔“
نوعِانسان کے چالچلن کو قابو میں رکھنے کیلئے آدمیوں نے جو قوانین مرتب کئے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں، تاہم وہ انسانی فطرت کیلئے درکار راہنمائی پر منتج نہیں ہوئے۔ کیا ہمیں ابھی اور زیادہ کی ضرورت ہے؟ یا شاید اس سے کچھ کم کی؟ یہ بتایا جا چُکا ہے کہ جتنا اچھا معاشرہ ہے، اسے اُتنے ہی کم قانون کی ضرورت ہے۔ صرف ایک قانون کی بابت کیا ہے؟ مثال کے طور پر جیسے یہ: ”پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی انکے ساتھ کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی تعلیم یہی ہے۔“—متی ۷:۱۲۔
اس حکم کی فرمانبرداری موجودہ مسائل میں سے بیشتر کو ختم کر دیگی، لیکن پھر بھی، معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے، ایک اور زیادہ اہم حکم کو بھی شامل کِیا جانا چاہئے: ”تُو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔“—مرقس ۱۲:۳۰۔
آجکل کا معاشرہ بائبل کے ان دونوں تقاضوں کو، بشمول بائبل میں پائے جانے والے دیگر راہنما اصولوں کے، غیرضروری خیال کرتے ہوئے ان پر غوروخوض کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ایسوں کی بابت بائبل یرمیاہ ۸:۹ میں کہتی ہے: ”دانشمند شرمندہ ہوئے۔ . . . انہوں نے خداوند کے کلام کو رد کِیا۔ اُن میں کیسی دانائی ہے؟“ وہ ان حقیقی اقدار کیساتھ ہمآہنگی کی ضرورت کو بھی محسوس نہیں کرتے جو کہ روایتاً ہماری راہنمائی کیلئے نہایت اہم تسلیم کی گئی ہیں۔ انکی نئی اخلاقیات ایک کشادہ راستہ ہے جو کہ ہر اس متبادل طرزِ زندگی کی اجازت دیتا ہے جس کا کوئی بھی شخص انتخاب کر سکتا ہے—وہ کشادہ راستہ جس کی شناخت یسوؔع نے بطور چوڑے راستے کے کرائی جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے—اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔—متی ۷:۱۳، ۱۴۔
کامل نمونہ
یسوؔع مسیح جو ”باپ کی گود میں ہے،“ وہی ایک ممتاز قابلِتقلید نمونہ ہے۔ (یوحنا ۱:۱۸) لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں، وہ ایک طرف تو پُرمحبت اور رحمدل تھا جبکہ دوسری طرف، قوی اور مستقلمزاج تھا؛ تاہم وہ کبھی بھی کسی کیساتھ گستاخ یا سختگیر نہ تھا۔ ”ہر طرح کے لوگوں کیساتھ اسکے غیرمعمولی اطمینان کی بخشش،“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کتاب دی مین فرام نیضرت (انگریزی) یسوؔع کی بابت کہتی ہے: ”اس نے عوامی اور نجی دونوں جگہوں پر آدمیوں اور عورتوں کیساتھ برابری کی بنیاد پر رفاقت رکھی۔ وہ معصوم بچوں کیساتھ بھی پُرسکون حالت میں ملتا تھا اور زکائیؔ جیسے ناجائز نفع کمانے والے ضمیر کے ستائے ہوئے لوگوں سے بھی اطمینان سے ملتا تھا۔ عزتدار خاتونِخانہ جیسے کہ مریمؔ اور مرتھاؔ بھی اسکے ساتھ قدرتی طور پر صافگوئی کیساتھ باتچیت کر سکتی تھیں، لیکن کسبیاں بھی اس یقین کیساتھ اسکی تلاش میں تھیں گویا کہ وہ انکو سمجھے گا اور انکی مدد کریگا۔ . . . اسکی منفرد والہانہ وابستگی اسکی امتیازی خوبیوں میں سے ایک ہے جس نے عام لوگوں کو اسکا گرویدہ بنا دیا۔“
اکثر اپنی التجاؤں میں نرمی کا اضافہ کرتے ہوئے، یہوؔواہ خدا اپنے سے ادنیٰ کیساتھ اپنے برتاؤ میں ہمیشہ شائستہ رہا ہے۔ اپنے دوست ابرہام کو برکت دیتے ہوئے، اس نے کہا: ”مہربانی سے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور جس جگہ آپ ہیں وہاں سے . . . نظر دوڑائیں۔“ اور ایک بار پھر: ”مہربانی سے آسمان کی طرف نگاہ دوڑائیں اور . . . ستاروں کو گنیں۔“ (پیدایش ۱۳:۱۴؛ ۱۵:۵، اینڈبلیو) موسیٰؔ کو اپنی طاقت کا نشان دیتے ہوئے، خدا نے کہا: ”مہربانی سے آپ اپنا ہاتھ اپنے سِینہ پر رکھ کر ڈھانک لیں۔“ (خروج ۴:۶، اینڈبلیو) بہت سال بعد، یہوواہ نے، اپنے نبی میکاؔہ کی معرفت، اپنی سرکش قوم سے بھی کہا: ”اے یعقوؔب کے سرداروں اور بنیاسرائیل کے حاکمو مہربانی سے سنو۔ . . . اے سردارو مہربانی سے سنو۔“ (میکاہ ۳:۱، ۹ اینڈبلیو) اس سلسلے میں، کیا ہم دوسروں کیساتھ اپنے برتاؤ میں مہربانی سے کہتے ہوئے ”خدا کی مانند [بنے]“ ہیں؟—افسیوں ۵:۱۔
پس، دنیاوی لحاظ سے دانشور کونسے رہبر خطوط یا اصولِاخلاق پیش کرتے ہیں جو کہ بائبل کے اصولوں کی جگہ لے سکتے ہیں جسے وہ ناقابلِقبول خیال کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں؟ اگلا مضمون اسی پر رائےزنی کرتا ہے۔ (۳ ۷/۲۲ g۹۴)
[عبارت]
مروّجہ طرزِعمل کو اب مروّجہ نہیں کہا جا سکتا
[عبارت]
ایمبولینس اسکی ماں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی
[عبارت]
”بدتمیزی کسی کمزور شخص کی طاقت کا بہروپ ہوتی ہے“