کیا آپ خود کو دستیاب رکھ سکتے ہیں؟
۱ ایک غیرمعمولی واقعہ ۷۷۸ ق.س.ع. میں رونما ہوا۔ یسعیاہ بنی نے رویا میں ”[یہوواہ] کو ایک بڑی بلندی پر اُونچے تخت پر بیٹھے دیکھا۔“ جب یسعیاہ سرافیم کو یہوواہ کے جلال پر توجہ دلاتے ہوئے یہ کہتے سنتا ہے کہ ”قدوس قدوس قدوس ربالاافواج ہے۔“ تو یہ کتنا پُرجلال رہا ہوگا! اس منظر میں یہوواہ ایک چیلنجخیز سوال پوچھتا ہے: ”مَیں کس کو بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائیگا؟“ تفویض کی نوعیت یا آیا رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کرنے والا شخص اس سے کوئی نفع حاصل کریگا اِسکی وضاحت نہیں کی جاتی۔ اس کے باوجود، یسعیاہ بِلاہچکچاہٹ ردِعمل دکھاتا ہے: ”مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“—یسع ۶:۱، ۳، ۸۔
۲ یہوواہ جو بھی کرنے کیلئے کہتا ہے اُسے رضامندی سے کرنے کا یہ جذبہ اُس کے لوگوں کا خاصہ رہا ہے۔ (زبور ۱۱۰:۳) اسی طرح سے اب اُن اشخاص سے ایک خاص استدعا کی جا رہی ہے جو اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔ کیا آپ یسعیاہ کی طرح رضامندی کے جذبے کیساتھ جوابیعمل دکھانے کیلئے تیار ہیں؟
۳ بعضاوقات بیتایل میں خدمت کرنے کیلئے بھائیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ استدعا بادشاہتی مفادات کو مقدم رکھنے کی شدید خواہش رکھنے والوں اور عالمگیر منادی کے کام کی حمایت کیلئے درکار کچھ بھی کرنے کیلئے تیار رہنے والوں سے ہے۔ (متی ۶:۳۳) درحقیقت، بیتایل خاندان کے رُکن کے طور پر خدمت کرنا کسی شخص کو پورے دلوجان کیساتھ یہوواہ کی خدمت کرنے کا منفرد موقع عطا کرتا ہے۔ کیسے؟
۴ بیتایل میں کِیا جانے والا کام: مثال کے طور پر، بروکلن، پیٹرسن اور والکل، نیو یارک، ریاستہائےمتحدہ میں واقع تین بیتایل عمارتوں میں انجام پانے والے کام کی بابت ذرا سوچیں۔ ان تین مقامات پر بیتایل خاندان کو تشکیل دینے والے ۵،۷۳۰ بہن بھائیوں کو عالمگیر میدان اور ذاتی مطالعے میں استعمال کیلئے بائبلیں اور بائبل لٹریچر کی اشاعت کے سلسلے میں دیانتدار اور عقلمندنوکر اور اُس کی گورننگ باڈی کیساتھ شانہبشانہ کام کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) مثال کے طور پر، گزشتہ خدمتی سال میں، ریاستہائےمتحدہ کے بیتایل خاندان کی مشترکہ کوشش سے ۲،۴۳،۶۴،۶۷۰ کتابیں، ۳،۹۸،۱۳،۴۶۴ کتابچے اور بروشر، ۲۷،۰۵،۲۸،۰۰۰ رسالے اور ۱۲،۷۱،۰۴۱ آڈیو کیسٹس تیار اور ترسیل کئے گئے تھے۔ ان مطبوعات کیلئے ”دلآویز باتوں [اور] . . . سچی باتوں“ کی تحقیق اور چناؤ کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ (واعظ ۱۲:۹، ۱۰) پوری دُنیا میں ۳۰۰ سے زائد زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کرنے میں مدد دینے والے ۱،۹۰۰ سے زائد مترجمین کی راہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ پوری دُنیا میں ۱۱۱ برانچ دفاتر سمیت ریاستہائےمتحدہ کی ۱۱،۵۰۰ سے زائد کلیسیاؤں میں تکمیل پانے والے کام کو منظم کرنے کیلئے بہت جانفشانی کی جاتی ہے۔ محدود وسائل والے ممالک میں برانچ دفاتر کو حالیہ ضرورت کے پیشِنظر اضافی بیتایل ہومز اور اسمبلی ہالز اور ۱۵،۲۴۸ کنگڈم ہالز کی تعمیر اور کام سے متعلق مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ بیتایل میں لٹریچر کی چھپائی اور اس کی ترسیل کیلئے صفائیستھرائی، تعمیرومرمت، کھانے کی تیاری، خریداری، صحت کی نگہداشت اور دوسرے بہت سے کاموں کیلئے سینکڑوں رضاکار درکار ہیں۔
۵ اس تمام کام کو انجام دینا بڑی بھاری مگر روحانی طور پر اطمینانبخش ذمہداری ہے۔ اس بات کا علم بڑی خوشی کا باعث ہوتا ہے کہ ہماری تمامتر قوت اور توانائی منادی اور تعلیمی کارگزاری کی مدد میں استعمال ہو رہی ہے۔ بیتایل خدمت یہوواہ کی تنظیم کو اَور زیادہ جاننے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ زبورنویس نے اپنے زمانے کی تھیوکریٹک حکمرانی کے زمینی مرکز کو اچھی طرح جاننے کیلئے اسرائیلیوں کی حوصلہافزائی کی تھی۔—زبور ۴۸:۱۲، ۱۳۔
۶ بیتایل خدمت کی برکات: بیتایل میں خدمت کرنے والے اپنے خدمتی استحقاقات کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ بیتایل خاندان کے نوجوان اور عمررسیدہ ارکان کے درجذیل تبصروں پر غور کریں۔ تین سال سے بیتایل خدمت میں خوشی حاصل کرنے والی ایک بیتایل کارکُن بیان کرتی ہے: ”بیتایل میں رہنے سے یہوواہ کیساتھ میرا رشتہ مضبوط ہوا ہے۔ جتنی زیادہ مَیں یہاں خدمت کرتی ہوں اُتنا ہی زیادہ مَیں بیتایل کی کارگزاری کی بابت سیکھتی ہوں اور یہ بات مجھے یہوواہ کی شخصیت کی بابت مزید علم بخشتی ہے۔ بیتایل خدمت نے یہ دیکھنے کیلئے میری آنکھیں کھول دی ہیں کہ یہوواہ ہر طرح کے لوگوں کو استعمال کرتا ہے۔ علاوہازیں آپکو اُسکے حضور مقبول ٹھہرنے کیلئے کامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
۷ ایک نوجوان بھائی یاد کرتا ہے: ”مَیں اپنے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ’نئی دُنیا میں جا کر وہاں قدیم وفادار آدمیوں کو یہ بتانا کتنا اچھا ہوگا کہ مَیں نے دولت کمانے کی بجائے کئی سال بیتایل میں خدمت کی ہے۔‘“
۸ ایک نوجوان بھائی حاصلشُدہ تربیت پر غور کرتا ہے: ”اپنی بابت جاننے اور مجھے کس بات پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور پھر اُن خوبیوں کو پیدا کرنا میرے لئے بہت بڑی برکت ہے۔ مَیں محسوس کرتا ہوں کہ اب مَیں بہتر طور پر یہوواہ کی خدمت کرنے کے لائق ہوں۔ مَیں خود کو پہلے سے زیادہ صابر اور متحمل پاتا ہوں۔ اس کے علاوہ مَیں اَور زیادہ محبت دکھانے کے قابل ہوا ہوں۔“
۹ ایک بہن اُن برکات کی بابت سوچتی ہے جو اُسے اب تک حاصل ہوئی ہیں: ”یہاں دستیاب روحانی پروگرام نے مجھے یہوواہ کی بابت بہت کچھ سکھایا ہے اور یہ بھی کہ مَیں اپنی سوچ، احساسات اور قولوفعل میں کیسے یہوواہ کی نقل کر سکتی ہوں۔ اِسکے علاوہ بیتایل میں تعلیموتربیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جسکی وجہ سے مسلسل برکات بھی حاصل ہوتی ہیں۔“
۱۰ ایک بھائی جو ۵۹ سال سے کُلوقتی خدمت میں ہے جس نے ۴۳ سال بیتایل خدمت میں صرف کئے ہیں، وہ بیان کرتا ہے: ”بیتایل کوئی خانقاہ نہیں ہے جیسا کہ بعض سوچ سکتے ہیں۔ اپنی منظم زندگی کی وجہ سے ہم زیادہ کام انجام دیتے ہیں۔ . . . آج تک ایسا کوئی بھی دن نہیں گزرا کہ مَیں کام کرنے آیا اور مَیں نے کئے جانے والے کام سے خوشی حاصل نہ کی ہو۔ کیوں؟ اِسلئے کہ جب ہم دلوجان سے خود کو یہوواہ کیلئے وقف کر دیتے ہیں تو ہمیں اس بات کو جاننے سے تسکین ملتی ہے کہ ’جو ہم پر کرنا فرض تھا ہم نے وہی کِیا ہے۔‘“—لو ۱۷:۱۰۔
۱۱ بیتایل میں ۶۲ سال سے خدمت کرنے والا ایک اَور بھائی بیان کرتا ہے: ”مَیں پُختہ یقین رکھتا ہوں کہ آنے والے زمینی فردوس سے پہلے بیتایل زمین پر ایک بہترین جگہ ہے۔ کُلوقتی خدمت کو زندگیبھر کا پیشہ بنانے سے مجھے ایک لمحے کی بھی پشیمانی نہیں ہے۔ یہوواہ کی زمینی تنظیم کی عظیم ترقی کو دیکھنا اور اس میں حصہ لینا کتنی خوشی کی بات ہے! یہوواہ کی مدد کے باعث یہ میرا عزم ہے کہ مَیں بیتایل کو اپنا مستقل گھر بناؤں اور بادشاہتی مفادات کی ترقی کیلئے پورے دلوجان کیساتھ کام کروں۔“
۱۲ بیتایل خاندان کے ان ارکان نے اُن بیشمار برکات میں سے صرف چند کا ہی ذکر کِیا ہے جن سے آپ بھی خود کو بیتایل خدمت کیلئے پیش کرنے کی صورت میں مستفید ہو سکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی خدمتی استحقاق کو حاصل کرنے کیلئے آپکو سب سے پہلے ان لیاقتوں پر پورا اُترنا ہوگا۔ بیتایل خاندان کے رُکن کے طور پر خدمت کرنے کیلئے بعض تقاضے کیا ہیں؟
۱۳ بیتایل خدمت کے لئے تقاضے: بیتایل خدمت کی خاطر درخواستدہندگان کیلئے بنیادی تقاضے اس مضمون سے منسلک بکس میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ اِسکے علاوہ، یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ”عیشوعشرت“ کی بجائے سخت محنت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ (۲-تیم ۳:۴؛ ۱-کر ۱۳:۱۱) بیتایل اراکین کو ذاتی مطالعہ کی عمدہ عادت کو فروغ دینے والے اور ”نیکوبد میں امتیاز“ کرنے کے لئے اپنے حواس کو تیز کرنے والے روحانی مردوزن ہونا چاہئے۔ (عبر ۵:۱۴) اُن کی مسیحی پختگی پہلے ہی سے لباس، بناؤسنگھار اور موسیقی اور تفریح کے انتخاب سمیت زندگی کے تمام حلقوں میں نظر آنی چاہئے۔ رضامند دل رکھنے والے بیتایل اراکین جہاں پر انکی ضرورت ہو وہاں خدمت کرتے ہیں۔ نوجوان اراکین کو عام طور پر جسمانی کام دیا جاتا ہے جس میں چھپائی، مطبوعات کی تیاری اور ترسیل، مرمت کا کام، امورِخانہداری، صفائیستھرائی، دھلائی اور کھانے کی تیاری شامل ہے۔ (امثا ۲۰:۲۹) تاہم، دُنیاوی کام کے برعکس، ہر تفویض بڑی اطمینانبخش ہوتی ہے کیونکہ یہ یہوواہ کو جلال دینے والی پاک خدمت ہے۔—کل ۳:۲۳۔
۱۴ بیتایل خدمت کیلئے بلائے جانے والے اشخاص کو کمازکم ایک سال تک بیتایل میں رہنا ہوتا ہے۔ یہ عرصہ اُنہیں مفید کارکُن بننے کیلئے تربیت دیتا ہے۔ تاہم اِس بات کی اُمید کی جاتی ہے کہ وہ بیتایل کو اپنا مستقل گھر بنائیں۔ یہوواہ کی محبت ہی بیتایل اراکین کو ذاتی مفاد کی بجائے بادشاہتی کام کو مُقدم رکھنے کی تحریک دیتی ہے جو یہوواہ خدا کو شاد کرتا ہے۔—متی ۱۶:۲۴۔
۱۵ حالیہ ضروریات: بیتایل میں کام کی نوعیت کے پیشِنظر بنیادی طور پر غیرشادیشُدہ بھائیوں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ تقاضا نہیں ہے توبھی باقاعدہ پائنیروں کو ترجیح دی جاتی ہے جو کہ پہلے ہی سے کُلوقتی خدمت میں ہوتے ہیں۔ بعضاوقات ۱۹ تا ۳۵ سال کی غیرشادیشُدہ بہنوں اور شادیشُدہ جوڑوں کیلئے اسامیاں ہوتی ہیں جنکے پاس بیتایل کی ضرورت کے مطابق کام کرنے کی مخصوص لیاقتیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ہم اس خیال سے کوئی خاص تعلیم یا تربیت حاصل کرنے کیلئے کسی کی حوصلہافزائی نہیں کرتے کہ انہیں بیتایل میں بلائے جانے کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ شاید سچائی میں آنے سے پہلے جنہوں نے کوئی خاص تربیت حاصل کی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو تفصیلات لکھ کر بیتایل درخواست کیساتھ منسلک کر سکتے ہیں۔ اگر آپ درخواست دیتے ہیں اور بیتایل میں خدمت کرنے کیلئے بلائے نہیں جاتے تو بےدل نہ ہوں۔ آپ ہر سال ازسرِنو درخواست دینے پر غور کر سکتے ہیں۔
۱۶ یسوع کے بھائیوں کیساتھ قریبی رفاقت رکھتے ہوئے یہوواہ کی خدمت کرنا بیتایل میں کام کرنے والوں کیلئے ایک منفرد استحقاق ہے۔ گورننگ باڈی ان تمام کے خودایثارانہ جذبے کی قدر کرتی ہے جو ہماری عالمگیر برداری کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔—فل ۲:۲۰-۲۲؛ ۲-تیم ۴:۱۱۔
۱۷ نوجوانو—خود کو بیتایل خدمت کیلئے اب تیار کریں: بیتایل خدمت کیلئے تیاری تقریباً ۱۹ سال کی عمر کے تقاضے تک پہنچنے سے کافی پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ نوجوان بیتایل خدمت کیلئے خود کو تیار کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟ یسوع نے کہا تھا: ”تم میں ایسا کون ہے کہ جب وہ ایک بُرج بنانا چاہے تو پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب نہ کر لے؟“ (لو ۱۴:۲۸) چونکہ کسی بھی تعمیراتی پراجیکٹ کی کامیابی کیلئے تیاری اور منصوبہسازی بہت ضروری ہے اسلئے نوجوانوں کیلئے اس بات پر بغور توجہ دینا نہایت اہم ہے کہ یہوواہ کی خدمت میں وہ اپنا کیسا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں! انہیں روحانی نشانے حاصل کرنے کیلئے زندگی کے اوائل ہی میں ایک پُختہ بنیاد ڈالنی چاہئے۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے، آپ کیسی بنیاد ڈال رہے ہیں؟ اگر آپ بیتایل میں خدمت کرنا پسند کرتے ہیں تو آپ درجذیل باتوں پر بغور توجہ دینے سے فائدہ حاصل کرینگے۔
۱۸ اس خاص خدمتی شرف کو ”قبول“ کریں: متی ۱۹:۱۲ کے مطابق، یسوع کنوارا رہنے کو ”قبول“ کرنے کیلئے شاگردوں کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ کیوں؟ کسی ذاتی وجہ سے نہیں بلکہ ”آسمان کی بادشاہی کے لئے۔“ پولس نے ”خداوند کی خدمت میں بےوسوسہ مشغول رہنے“ کی حوصلہافزائی کی تھی۔ (۱-کر ۷:۳۲-۳۵) بدقسمتی سے، بہتیروں نے اوائل عمری میں شادی کی جستجو کرنے سے بیتایل میں کنوارے اشخاص کے طور پر خدمت کرنے کے شاندار استحقاق کو کھو دیا ہے۔ ہم اپنے نوجوان بھائیوں کی حوصلہافزائی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خاندانی ذمہداریوں سے آزاد ہونے کی وجہ سے اپنی توانائی کو کُلوقتی خدمت کے لئے استعمال کریں۔ تاہم، اگر کچھ عرصہ کے بعد وہ شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ زندگی اور مسیحی خدمتگزاری میں زیادہ تجربہ حاصل کرنے کی وجہ سے زیادہ اچھے شوہر ثابت ہوں گے۔ بیتایل میں کئی سال خدمت کرنے کے بعد، بعض شادی کرکے شادیشُدہ جوڑوں کے طور پر خدمت جاری رکھنے کے قابل رہے ہیں۔ اگر بعد میں اُنہیں پائنیر خدمت جیسے دوسرے استحقاقات حاصل ہوتے ہیں تو انہیں اس وقت کے سلسلے میں کوئی پشیمانی نہیں ہوتی جو کہ اُنہوں نے بیتایل خدمت کو قبول کرنے کیلئے مختص کِیا تھا۔
۱۹ مادی حاصلات کی جستجو کرنے سے انتشارِخیال میں نہ پڑیں: ہر نوجوان یہ پوچھ کر اچھا کرتا ہے: ’کیا ہائی سکول سے فارغالتحصیل ہونے کے بعد میرا نشانہ کُلوقتی دُنیاوی پیشے کی جستجو کرنا ہے یا یہوواہ کی کُلوقتی خدمت کرنا؟‘ یہ درست ہے کہ کُلوقتی خدمت قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن دُنیاوی پیشے کی جستجو بھی قربانیوں کا تقاضا کریگی! انجامکار، کونسی روش حقیقت میں دیرپا اور فائدہمند نتیجے کا باعث ہوگی؟ یسوع نے واضح جواب دیا۔ متی ۶:۱۹-۲۱ کے مطابق اُس نے کہا: ”اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہیگا۔“ دُعا ہے کہ ہمارے دل ہمیں دُنیاوی پیشے یا مادی چیزوں کی جستجو کی طرف لیجانے کی بجائے یہوواہ کی پورے دلوجان سے خدمت کرنے کی طرف راہنمائی کریں۔ ہم سب کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہوواہ کیساتھ اچھا رشتہ قائم کرنا ہی قیمتی خزانہ ہے جس کی جستجو کی جانی چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم اُسکے دل کو شاد کرینگے۔ (امثا ۲۷:۱۱) اپنی جوانی کے دنوں میں یہوواہ کو پہلا درجہ دینے سے، ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری اقدار کا معیار کیا ہے اور بادشاہت ہمارے لئے کتنی اہم ہے۔ یاد رکھیں، ”[یہوواہ] ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اُسکے ساتھ دُکھ نہیں ملاتا۔“ (امثا ۱۰:۲۲) یہوواہ نے نوجوانوں کو جو کچھ عطا کِیا ہے اُس کے عوض اُسے کوئی قابلِقدر چیز دینے سے نوجوانوں کے پاس یہ ظاہر کرنے کا عمدہ موقع ہے کہ اُنکے دل کہاں لگے ہیں۔ بیتایل خدمت ان لیاقتوں پر پورا اُترنے والے اشخاص کیلئے ایسا کرنے کا شاندار موقع عطا کرتی ہے۔
۲۰ بیتایل میں خدمت کرنے والے اشخاص کو اخلاقی طور پر پاکصاف ہونا چاہئے: زبورنویس نے استفسار کِیا: ”جوان اپنی روش کس طرح پاک رکھے؟ اُس نے جواب دیا: ”تیرے [یہوواہ کے] کلام کے مطابق اُس پر نگاہ رکھنے سے۔“ (زبور ۱۱۹:۹) اس میں ہر اُس چیز سے گریز کرنا شامل ہے جسکا تعلق شیطان کے نظاماُلعمل کی اخلاقی خرابی سے ہے۔ انٹرنیٹ پر فحاشی، مخالف جنس کیساتھ نامناسب چالچلن، گھٹیا موسیقی، خراب تفریح اور نوعمری میں الکحلی مشروبات کا استعمال صرف چند ایسے پھندے ہیں جنہیں شیطان ہمارے نوجوانوں کو روحانی نشانوں سے روکنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ان ہتھکنڈوں کی مزاحمت کرنے کیلئے عزمِمُصمم کی ضرورت ہے۔ بطور ایک نوجوان کے اگر آپ خود کو ایسی کسی بھی چیز میں ملوث پاتے ہیں تو اپنی کلیسیا کے بزرگوں سے رابطہ کریں اور بیتایل خدمت کی درخواست دینے سے پہلے ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ یہوواہ کی پوری طرح خدمت کرنے کیلئے صاف ضمیر نہایت ضروری ہے۔—۱-تیم ۱:۵۔
۲۱ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا سیکھیں: بیتایل خدمت میں کامیاب ہونے کا ایک اہم تقاضا دوسروں کیساتھ اچھے تعلقات رکھنا سیکھنا ہے۔ بیتایل خاندان مختلف معاشی حیثیت سے تعلق رکھنے والے بہنبھائیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جبکہ مختلف شخصیات بیتایل کی شان میں اضافہ کرتی ہیں توبھی بعضاوقات یہ چیلنج بھی پیش کرتی ہیں۔ اگر آپ بیتایل خدمت کیلئے سوچ رہے ہیں تو آپ خود سے یہ پوچھ کر اچھا کرینگے: ’جب دوسرے میرے ساتھ متفق نہیں ہوتے تو کیا مَیں جلدی سے ناراض ہو جاتا ہوں؟ کیا دوسرے میرے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا پسند کرتے ہیں؟‘ اگر آپ کو ان حلقوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو اِن معاملات پر ابھی سے کام کرنا شروع کریں۔ ایسا کرنے سے بیتایل خاندان کے اراکین کیساتھ آسانی سے گزارا کرنے اور کام کرنے میں آپ کی مدد ہوگی۔
۲۲ یہوواہ کے ساتھ قریبی رشتہ اُستوار کرکے ایک روحانی شخص بننے کے لئے سخت محنت کریں۔ ذاتی مطالعے کا عمدہ پروگرام ترتیب دیں جس میں بائبل کی روزانہ پڑھائی شامل ہو۔ دوسروں کو خوشخبری سنانے میں مستعد رہیں۔ ان تمام باتوں کو عملی جامع پہنانے سے، آپ اپنی روحانی ترقی ظاہر کرینگے۔ (۱-تیم ۴:۱۵) کُلوقتی خدمت کو ایک پیشے کے طور پر قبول کرنے کی خاطر اب تیاری کرنے والے اشخاص کیلئے کیا ہی شاندار امکانات انکے منتظر ہیں!
۲۳ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہئے: والدین نوجوانوں کی کُلوقتی خدمت کی جستجو کرنے کیلئے کیسے حوصلہافزائی کر سکتے ہیں؟ یسوع نے بیان کیا: ”ہر ایک جب کامل ہؤا تو اپنے اُستاد جیسا ہوگا۔“ (لو ۶:۴۰) ایک پوری طرح تربیتیافتہ شاگرد لامحالہ اپنے مخصوص اُستاد کی عمدہ خوبیوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جب مسیحی والدین ’اپنے خدائی عقیدت کے نشانے کیساتھ‘ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں سخت محنت کرتے ہیں تو انہیں اس اصول کو یاد رکھنا چاہئے۔ (۱-تیم ۴:۷) چونکہ بچے روحانی کاموں کے سلسلے میں اپنے والدین کے رُجحان کی نقل کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں اسلئے والدین خود سے یہ پوچھ کر اچھا کرتے ہیں: ’کیا ہم یہوواہ کی سچی پرستش کے مفادات کو فروغ دینے کیلئے بیتایل میں کئے جانے والے کام کی ذاتی قدر کرتے ہیں؟ کیا ہم بیتایل بندوبست پر یہوواہ کی برکات کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہوواہ کی خدمت میں زندگی بسر کرنا عمدہترین کام کا انتخاب ہے جو ہمارے بچے کر سکتے ہیں؟‘ بیتایل خدمت اور جو کام بیتایل میں کِیا جاتا ہے اُس کیلئے ہماری اپنی دلی قدردانی ہمارے بچوں میں ایسی ہی قدردانی کو پیدا کرنے میں مدد کریگی۔
۲۴ القانہ اور حنّہ سچی پرستش کیلئے گہری قدردانی رکھتے تھے۔ اُنہوں نے آجکل کے والدین کیلئے ایک شاندار نمونہ فراہم کِیا۔ قدیم اسرائیل میں، صرف اسرائیلی مردوں سے خیمۂاجتماع میں سال میں تین مرتبہ ”[یہوواہ] خدا کے آگے حاضر“ ہونے کا تقاضا کِیا جاتا تھا۔ تاہم، القانہ ”سالبسال“ اپنے پورے خاندان کیساتھ یہوواہ کی پرستش کے اس مرکز میں قربانی گزراننے کیلئے کوئی ۳۰ کلومیٹر کا غالباً پیدل سفر کِیا کرتا تھا۔ (خر ۲۳:۱۷؛ ۱-سمو ۱:۳، ۴، ۹، ۱۹؛ ۲:۱۹) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کا یہ سربراہ چاہتا تھا کہ اُس کا پورا خاندان روحانی باتوں سے متعلق اُس جیسی فکر رکھے۔
۲۵ سچی پرستش کے سلسلے میں حنّہ اپنے شوہر جیسی دلچسپی رکھتی تھی۔ اُس نے خیمۂاجتماع میں سچی پرستش کی حمایت کی خاطر تعاون کرنے کیلئے اپنے فرض کو بڑی شدت سے محسوس کِیا۔ حنّہ نے منت مانی کہ اگر یہوواہ اُسے ایک بیٹا دے تو وہ اُسے خیمۂاجتماع کی خدمت میں نذر کر دیگی۔ (۱-سمو ۱:۱۱) موسوی شریعت نے شوہر کو اپنی بیوی کی نامناسب منت کو کالعدم قرار دینے کا حق دیا تھا۔ (گن ۳۰:۶-۸) تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ القانہ نے یہ ظاہر کرتے ہوئے حنّہ کی منت کی توثیق کی تھی کہ سچی پرستش کے اس اظہار کی وہ بھی حمایت کرتا تھا!—۱-سمو ۱:۲۲، ۲۳۔
۲۶ کیا اُن کے بیٹے سموئیل پر اپنے والدین کی طرف سے دکھائی گئی قدردانی اور عمدہ روح کا مثبت اثر ہوا تھا؟ جیہاں، یقیناً۔ ایک نوعمر لڑکے کے طور پر، سموئیل نے رضامندی اور وفاداری سے اپنے تفویضشُدہ کاموں کو پورا کِیا تھا اور اُس نے خدا کی خدمت میں مزید استحقاقات کو عزیز رکھنے کی تربیت پائی تھی۔ القانہ اور حنّہ نے خیمۂاجتماع میں سموئیل کی خدمت کیلئے جو دلچسپی دکھائی تھی وہ وہاں اُسکی تفویضات سنبھالنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کُلوقتی خدمت میں اُسکی حوصلہافزائی اور مدد کرنے کیلئے باقاعدگی سے اُس سے ملنے کیلئے آیا کرتے تھے۔—۱-سموئیل ۲:۱۸، ۱۹۔
۲۷ القانہ اور حنّہ نے آجکل کے والدین کیلئے کیا ہی شاندار مثال قائم کی تھی! جب ہمارے بچے بیتایل خدمت کیلئے ہماری قدردانی کے دلی اظہارات کو سنتے اور بادشاہتی مفادات کے فروغ کیلئے ہماری خودایثارانہ روح کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی دوسروں کی خدمت کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کے دلوں میں اس صحتمندانہ رُجحان کو کامیابی سے پیدا کر رہے ہیں۔ ایک سات سالہ لڑکی نے لکھا: ”مَیں بڑی ہو کر بیتایل میں جاؤنگی اور میرے پاس کچھ کام ہیں جو میں وہاں کرنا چاہوں گی۔ (۱) مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں کو ٹائپ کرونگی، (۲) آپکے آرٹ کے شعبے میں کام کرونگی، (۳) کپڑوں کو تہہ کرونگی۔ ان کاموں میں سے کوئی بھی کام کرونگی اور ان میں سے کوئی بھی کام کرنے سے مَیں بُرا نہیں مناؤنگی۔“ ہمارے بچوں کے دلوں میں ایسی رضامند روح کو فروغ پاتے دیکھنا دل کو گرما دینے والی بات ہے!
۲۸ اَے نوجوانو! یہ بات یاد رکھیں کہ ”دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“ (۱-یوح ۲:۱۷) روحانی نشانوں کی جستجو کرتے رہیں جس میں بیتایل خدمت کا خاص شرف بھی شامل ہے۔ اَے اولاد والو! ماضی کے وفادار اشخاص کے نمونے کی نقل کریں جنہوں نے اپنے بچوں میں خدائی عقیدت پیدا کرنے کی حوصلہافزائی کی تھی۔ (۲-پطر ۳:۱۱) دُعا ہے کہ ہم سب اپنے عظیم خالق کی حتیٰالمقدور خدمت کرنے کیلئے اپنے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ”اب کی اور آیندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اسی کے لئے ہے۔“—۱-تیم ۴:۸؛ واعظ ۱۲:۱۔
[Box on page 8]
بیتایل خدمت کیلئے بنیادی تقاضے
● عمر ۱۹تا ۳۵ سال
● کمازکم ایک سال سے بپتسمہیافتہ
● اچھی روحانی، ذہنی، جذباتی اور جسمانی صحت
● یہوواہ اور اُسکی تنظیم کیلئے گہری محبت رکھنے والا ایک روحانی شخص