اچھا سننے والا بنیں
۱ توجہ سے سننے کیلئے ضبطِنفس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں سننے والے شخص کے اندر کانوں میں پڑنے والی باتوں سے کچھ سیکھنے اور فائدہ اُٹھانے کی خواہش کا ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ، یسوع نے اس ضرورت کو یوں بیان کِیا کہ ”خبردار رہو کہ تم کس طرح سنتے ہو۔“—لو ۸:۱۸۔
۲ اس بات کا اطلاق بالخصوص کلیسیائی اجلاسوں، اسمبلیوں اور کنونشنوں پر ہوتا ہے۔ ہمیں ان مواقع پر غور سے سننے کی ضرورت ہے۔ (عبر ۲:۱) یہاں کچھ نکات درج کئے گئے ہیں جو مسیحی اجتماعات پر ایک اچھا سننے والا بننے میں آپکی مدد کرینگے۔
▪ اجلاس کی اہمیت کی قدر کریں۔ یہ ہمارے لئے ”دیانتدار اور عقلمند داروغہ“ کے وسیلے ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] سے تعلیم“ پانے کا اہم ذریعہ ہیں۔—یسع ۵۴:۱۳؛ لو ۱۲:۴۲۔
▪ پیشگی تیاری کریں۔ زیرِبحث آنے والے مواد کا جائزہ لیں اور اپنی بائبل اور مطالعے میں استعمال ہونے والی اشاعت کی ذاتی کاپی ساتھ لیکر آئیں۔
▪ اجلاسوں کے دوران اپنی توجہ مرکوز رکھنے کی خاص کوشش کریں۔ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے باتیں کرنے اور دیگر حاضرین کی طرف دیکھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ اجلاس کے بعد کی مصروفیات یا ذاتی معاملات کی بابت سوچنے سے انتشارِخیال کا شکار ہونے سے گریز کریں۔
▪ پیش کی جانے والی معلومات کا جائزہ لیں۔ خود سے پوچھیں: ’اس کا مجھ پر کیسے اطلاق ہوتا ہے؟ مَیں اسکا اطلاق کب کرونگا؟‘
▪ بائبل حوالہجات اور اہم نکات کے مختصراً نوٹس لیں۔ ایسا کرنے سے زیرِبحث آنے والے مواد کی بابت سوچنے اور خاص نکات کو یاد رکھنے میں آپکی مدد کریگا جنہیں آپ بعدازاں استعمال کر سکتے ہیں۔
۳ اپنے بچوں کو توجہ سے سننا سکھائیں: بچوں کو روحانی مشورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ (است ۳۱:۱۲) قدیم وقتوں میں خدا کی قوم میں ’سنکر سمجھنے کے لائق‘ تمام لوگوں کو بڑے دھیان سے شریعت کی پڑھائی کو سننا تھا۔ (نحم ۸:۱-۳) اگر والدین اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہوتے اور توجہ سے سنتے ہیں تو بچے بھی ایسا ہی رُجحان اپنائیں گے۔ بچوں کو بہلانے کیلئے کھلونے یا تصاویر میں رنگ بھرنے والی کتابیں ساتھ لانا دانشمندانہ بات نہیں۔ بیتالخلا کے غیرضروری چکر لگانا بھی سننے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ چونکہ ”حماقت لڑکے کے دل سے وابستہ ہے“ اسلئے والدین کو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ اُنکے بچے اجلاس کے دوران خاموشی سے بیٹھ کر غور سے سنیں۔—امثا ۲۲:۱۵۔
۴ اچھا سننے والا بننے سے ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم واقعی دانشمند ہیں اور ”علم میں ترقی“ کرنا چاہتے ہیں۔—امثا ۱:۵۔