”تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے“
۱ ہمارے چاروں طرف دُنیا اخلاقی اور روحانی اعتبار سے تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ سچائی کی روشنی تاریکی کے ”بےپھل کاموں“ کو نمایاں کرتی ہے تاکہ ٹھوکر کھلانے والی ان مُہلک رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔ چنانچہ، پولس رسول نے مسیحیوں کو تاکید کی: ”نور کے فرزندوں کی طرح چلو۔“—افس ۵:۸، ۱۱۔
۲ ”نور کا پھل“ اس دُنیا کی تاریکی سے بالکل فرق ہے۔ (افس ۵:۹) یہ پھل پیدا کرنے کیلئے ہمیں مسیحی طرزِزندگی کی روشن مثالیں قائم کرنی چاہئیں جن سے ظاہر ہو گا کہ ہمیں یسوع کی مقبولیت حاصل ہے۔ ہمیں سچائی کیلئے سنجیدگی، خلوص اور گرمجوشی جیسی خوبیاں بھی ظاہر کرنی چاہئیں۔ ہماری روزمرّہ زندگی اور خدمتگزاری میں یہ پھل عیاں ہونے چاہئیں۔
۳ ہر وقت روشنی چمکائیں: یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا: ”تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے۔“ (متی ۵:۱۶) ہم یسوع کی نقل کرتے ہوئے، خدا کی بادشاہت اور اُس کے مقاصد کا پرچار کرنے سے یہوواہ کا نُور منعکس کرتے ہیں۔ جب ہم لوگوں کے گھروں میں اور اپنی جائےملازمت پر، سکول میں، اپنے پڑوسیوں کے درمیان ہر مناسب موقع پر سچائی کی تشہیر کرتے ہیں تو ہم چراغوں کی مانند چمکتے ہیں۔—فل ۲:۱۵۔
۴ یسوع نے کہا تھا کہ بعض لوگ نُور سے دشمنی رکھینگے۔ (یوح ۳:۲۰) لہٰذا، جب بیشتر لوگ ”مسیح . . . کے جلال کی خوشخبری کی روشنی“ سے مُنہ پھیر لیتے ہیں تو ہم بےحوصلہ نہیں ہوتے۔ (۲-کر ۴:۴) یہوواہ نوعِانسان کے دلوں کو پڑھتا ہے اور وہ بدکاروں کو اپنے لوگوں میں پسند نہیں کرتا۔
۵ جب ہم یہوواہ کی راہوں پر چلتے اور روحانی نُور سے معمور ہوتے ہیں تو ہم اسے دوسروں پر بھی منعکس کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے چالچلن کو دیکھ کر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ”زندگی کا نُور“ ہے تو پھر وہ بھی روشنی بردار بننے کے لئے ضروری تبدیلیاں پیدا کرنے کی تحریک پائینگے۔—یوح ۸:۱۲۔
۶ اپنی روشنی چمکانے سے ہم اپنے خالق کی حمد کا باعث بنتے ہیں اور اُسے جاننے اور ہمیشہ کی زندگی کی اُمید حاصل کرنے کیلئے خلوصدل لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ (۱-پطر ۲:۱۲) چونکہ ہمارے پاس روشنی ہے اس لئے ہمیں روحانی تاریکی سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے اور روشنی کے کام کرنے میں دوسروں کی مدد کیلئے اسے استعمال کرنا چاہئے۔