31 اگست–6 ستمبر 2026ء
گیت نمبر 89 یہوواہ کی بات سنیں
عبادتوں میں یہوواہ کی بات کو توجہ سے سنیں
”توجہ سے سنیں۔“—لُو 8:18۔
غور کریں کہ . . .
جب ہم عبادتگاہ میں یا دوسرے موقعوں پر یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو ہمیں پورے دھیان سے ہر بات کو کیوں سننا چاہیے اور ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
1-2. (الف)آج یہوواہ اپنے بندوں کے لیے کیا کر رہا ہے؟ (زبور 23:1، 2، 5) (ب)اِس مضمون میں ہم عبادتوں کے حوالے سے کس بات پر غور کریں گے؟
آج یہوواہ ہمیں ڈھیر سارا روحانی کھانا دے رہا ہے۔ بےشک ہم بھی داؤد کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے کہا: ”یہوواہ میرا چرواہا ہے۔ مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔“—زبور 23:1، 2، 5 کو پڑھیں۔
2 ایک طریقہ جس سے یہوواہ ہمیں دل کھول کر روحانی کھانا دے رہا ہے، وہ ہماری عبادتیں ہیں۔ عبادتوں میں ہم اکثر ایسی باتیں سنتے ہیں جنہیں ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ لیکن چاہے ہم ”سچائی میں مضبوطی سے قائم“ ہوں، ہمیں پھر بھی یاددہانیوں کی ضرورت ہے۔ (2-پطر 1:12) لیکن کیا آپ کو اِس وجہ سے عبادتوں کو دھیان سے سننا مشکل لگتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ مضمون آپ کے بہت کام آ سکتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہمیں عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو دھیان سے کیوں سننا چاہیے اور عبادتوں میں تقریریں کرنے والے بھائی کیا کر سکتے ہیں تاکہ دوسروں کے لیے اُن کی باتوں پر دھیان دینا آسان ہو۔ اِس کے بعد ہم کچھ ایسے مشوروں پر غور کریں گے جن پر عمل کرنے سے ہم عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو دھیان سے سُن سکیں گے۔ لیکن آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ عبادتوں کے دوران اصل میں کون ہم سے بات کر رہا ہوتا ہے۔
یاد رکھیں کہ عبادت کے دوران یہوواہ ہم سے بات کر رہا ہوتا ہے
3. (الف)یہوواہ ہم سے کیسے بات کرتا ہے؟ (ب)یہوواہ کے بندے تعلیم دیتے وقت اُس کے کلام کو اچھی طرح سے کیسے اِستعمال کرتے ہیں؟
3 یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے ہم سے بات کرتا ہے۔ (2-تیم 3:16، 17) یسوع مسیح یہ بات اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے پاک کلام کو اِتنی اچھی طرح سے اِستعمال کِیا کہ اُن کی باتیں سننے والے لوگ حیران ہو کر کہتے تھے: ”اِس آدمی نے مذہبی سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی تو پھر اِس کے پاس صحیفوں کا اِتنا علم کہاں سے آیا؟“ (یوح 7:15) خاکسار لوگ تو اُس وقت بہت خوش ہوتے تھے جب یسوع اُنہیں خدا کے کلام میں لکھی باتیں سمجھاتے تھے۔ پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے مسیحی یسوع کے نقشِقدم پر چلے۔ مثال کے طور پر پولُس رسول اور اپلّوس اکثر پاک صحیفوں کو اِستعمال کر کے لوگوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ یہوواہ اُن سے کیا چاہتا ہے۔ (اعما 17:2، 3؛ 18:24، 28) ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ کی تنظیم جو مضامین، تقریروں کے خاکے، ویڈیوز اور براڈکاسٹنگ تیار کرتی ہے، اُن سب کی بنیاد یہوواہ کا کلام ہے۔ جو لوگ پہلی بار ہماری عبادتوں میں آتے ہیں، وہ اکثر یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ہم اپنی عبادتوں میں بائبل کو کتنی اچھی طرح سے اِستعمال کرتے ہیں۔ ہمارے جو بہن بھائی عبادتوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ بائبل کو صرف پڑھتے ہی نہیں ہیں بلکہ وہ اِس میں لکھی باتوں کو سمجھنے اور اِن پر عمل کرنے میں بھی دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔—لُو 24:32۔
4. بائبل میں لفظ ”سننے“ کا کیا مطلب ہے؟
4 جب بائبل میں لفظ ”سننا“ اِستعمال ہوتا ہے تو اکثر اِس کا مطلب کسی کی بات ماننے کی طرف ہوتا ہے۔ جب یہوواہ عبادتوں کے دوران اپنے کلام کے ذریعے ہم سے بات کرتا ہے تو ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کیوں۔ اِس کے بعد ہمارے لیے اُس کی بات ماننا آسان ہو جاتا ہے۔ یہوواہ اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب ہم پورے دھیان سے عبادت کے دوران اُس کی بات سنتے ہیں اور اِس پر عمل کرتے ہیں۔—اَمثا 27:11۔
ہمیں عبادتوں کو دھیان سے کیوں سننا چاہیے؟
5. یہوواہ سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمارے دل میں کیا کرنے کی خواہش پیدا ہوگی؟ (یوحنا 4:23، 24؛ 1-یوحنا 5:3)
5 ہم عبادتوں کو اِس لیے دھیان سے سنتے ہیں کیونکہ ہم یہوواہ سے پیار کرتے ہیں۔ (متی 22:37) جتنا زیادہ ہم یہوواہ کے بارے میں سیکھیں گے اُتنا ہی زیادہ ہمارے دل میں اُس کے لیے محبت بڑھے گی۔ پھر اِس محبت کی وجہ سے ہمارے دل میں اُس کی بات سننے، اُس کے حکم ماننے اور اُس طرح سے اُس کی عبادت کرنے کی خواہش پیدا ہوگی جس طرح سے اُس کے کلام میں بتایا گیا ہے۔—یوحنا 4:23، 24؛ 1-یوحنا 5:3 کو پڑھیں۔
6. ہمیں عبادتوں میں دوسروں کی مدد کرنے کے حوالے سے کیا سکھایا جاتا ہے؟
6 ہم عبادتوں کو اِس لیے دھیان سے سنتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں سے پیار کرتے ہیں۔ (متی 22:39) عبادتوں کے ذریعے یہوواہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے ہمایمانوں کا سہارا کیسے بن سکتے ہیں اور اُن لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو ابھی اُسے نہیں جانتے۔ مثال کے طور پر کتاب ”محبت دِکھائیں—شاگرد بنائیں“ کی مدد سے ہم خود میں ایسی خوبیاں پیدا کر سکتے ہیں جو مُنادی کرتے ہوئے ہمارے بہت کام آ سکتی ہیں۔ کیا آپ کو لوگوں کے ساتھ باتچیت شروع کرنا مشکل لگتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پورے دھیان سے اُن منظروں کو دیکھیں جو بہن بھائی ہفتے کے دوران ہونے والی عبادتوں میں کرتے ہیں۔
7. یہوواہ کا کہنا ماننا اِتنا ضروری کیوں ہے؟
7 ہم عبادتوں کو اِس لیے دھیان سے سنتے ہیں کیونکہ ہم خوشیوں بھری زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے یہوواہ کے بندوں کی طرح آج ہمیں بھی خوشیوں بھری زندگی گزارنے اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے یہوواہ کے حکموں کو ماننا ہوگا۔ (اِست 32:44-47) عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو دھیان سے سننے سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے اور ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہم مشکلوں میں بھی یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں اور صبر سے نئی دُنیا کا اِنتظار کیسے کر سکتے ہیں۔ (روم 8:25) ابھی ہمارے لیے یہوواہ کی بات سننا اِس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں اور ہمارے لیے چوکس رہنا بہت ضروری ہے۔—متی 24:42-44؛ مُکا 1:3۔
ہم عبادتوں کو سننے میں دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
8. تقریریں کرنے والے بھائیوں کو اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری کیوں لاتے رہنی چاہیے؟
8 پلیٹفارم سے حصہ پیش کرنے والے بھائیوں کو اور خاص طور پر عوامی تقریر کرنے والے بھائیوں کو اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہنی چاہیے۔ جب ایک بھائی اپنی تقریر کو اچھی طرح سے تیار کرنے میں خوب وقت لگاتا ہے اور اِس بات کا خیال رکھتا ہے کہ جو کچھ وہ کہے گا، وہ بائبل سے ہو تو وہ پاک کلام کی سچائیاں سیکھنے میں اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو ابھی یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ اپنے ہمایمانوں کی بھی مدد کرتا ہے تاکہ وہ اُن سچائیوں کو اَور اچھی طرح سے سمجھ سکیں اور آئندہ بھی اِن پر عمل کرتے رہیں۔ اگر عبادت میں آپ کا کوئی حصہ ہے تو یاد رکھیں کہ اِس کے ذریعے دوسروں کو اِتنا کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے جتنا شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو۔ تو جب آپ کو کوئی حصہ دینے کا اعزاز ملتا ہے تو دیکھیں کہ آپ اگلے پیراگرافوں میں بتائے مشوروں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ مشورے خاص طور پر اُن بھائیوں کے لیے ہیں جو عوامی تقریر کرتے ہیں لیکن اِن سے اُن سبھی مسیحیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے جنہیں عبادت کے دوران کوئی حصہ پیش کرنا ہوتا ہے۔—2-تیم 4:2؛ طِط 1:9۔
9. آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ دوسرے آپ کی تقریر کو آسانی سے سمجھ سکیں؟
9 معلومات کو اِس ترتیب سے بتائیں کہ دوسرے اِسے آسانی سے سمجھ سکیں۔ بےشک آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی تقریر میں بتائی گئی باتیں آسانی سے سمجھ جائیں۔ اگر آپ اپنی تقریر میں بہت سے نکتوں پر بات کریں گے تو لوگوں کا دھیان تقریر سے ہٹ سکتا ہے۔ تو آپ اچھی تقریر کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ آپ یہ قدم اُٹھا سکتے ہیں: (1)تقریر کے شروع میں ہی یہ واضح کر دیں کہ اِس میں کون سے اہم نکتے ہیں، (2)ہر نکتے پر ایک ایک کر کے بات کریں اور پھر اگلے نکتے پر جانے سے پہلے تھوڑا وقفہ لیں اور (3)تقریر کے آخر میں پھر سے اہم نکتوں کی دُہرائی کریں۔
10. یہ کیوں ضروری ہے کہ آپ اپنے دل میں اُن باتوں کے لیے شوق بڑھائیں جن پر آپ تقریر کرتے ہوئے بات کریں گے؟
10 اپنے دل میں اُن باتوں کے لیے شوق بڑھائیں جن پر آپ تقریر کرتے ہوئے بات کریں گے۔ آپ تبھی ایک موضوع پر جوش سے بات کر پائیں گے اگر آپ کو خود بھی وہ موضوع پسند ہوگا۔ (اَمثا 2:4، 5؛ اعما 4:20) تو گہرائی سے اُن نکتوں اور آیتوں پر غور کریں جو تقریر کے خاکے میں دی گئی ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا امریکہ میں رہنے والے ایک بھائی کی بات پر غور کریں جن کی عمر تقریباً 70 سال ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ جب وہ نوجوان تھے تو اُنہیں ایک تقریر سُن کر کیسا لگا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے آج بھی یاد ہے کہ مقرر نے کتنے زبردست طریقے سے ہمیں بتایا تھا کہ ہم بائبل پڑھنے کے بعد اِس پر گہرائی سے سوچ بچار کیسے کر سکتے ہیں۔ اُس مقرر نے بڑے ہی واضح انداز میں ہمیں یہ بات سمجھائی تھی اور مَیں صاف طور پر دیکھ سکتا تھا کہ اُس کی نظر میں وہ بات کتنی اہم تھی۔ اِس تقریر نے میری زندگی بدل دی تھی۔ اِس سے مَیں نے سیکھا کہ مَیں بائبل پڑھتے وقت اَور زیادہ باتیں کیسے سیکھ سکتا ہوں اور یہوواہ کے ساتھ اَور پکی دوستی کیسے کر سکتا ہوں۔“
11. ایک مقرر کو کیا کرنا چاہیے تاکہ اُس کی تقریر سے دوسروں کو فائدہ ہو؟ (1-تیمُتھیُس 4:13-16)
11 تقریر سننے والوں کی ضرورت کے مطابق اُنہیں مشورے دیں تاکہ وہ اِن پر عمل کر سکیں۔ اِس سلسلے میں بائبل کی ایسی آیتیں اِستعمال کریں جن سے تقریر سننے والوں کا حوصلہ بڑھے۔ اُن کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ وہ بائبل میں لکھی باتوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پولُس نے تیمُتھیُس کو کچھ ایسے خاص مشورے دیے جن کی مدد سے تیمُتھیُس اِفسس کی کلیسیا میں اپنی ذمےداری نبھانے کے ساتھ ساتھ یہوواہ کے بھی قریب رہ سکے۔ (1-تیمُتھیُس 4:13-16 کو پڑھیں۔) تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کی تقریر سننے والے لوگوں کو کن معاملوں میں مدد کی ضرورت ہے اور آپ کیا کریں گے تاکہ وہ تقریر میں بتائی گئی باتوں پر عمل کر سکیں۔
12. تقریر کرتے وقت اپنے لفظوں میں بات کرنا کیوں اچھا ہوتا ہے؟
12 اُونچی آواز میں اپنی تقریر کی تیاری کریں تاکہ آپ اِسے قدرتی انداز میں کر سکیں۔ اپنی تقریر کو لکھ کر لفظ بہلفظ پڑھنے کی بجائے اِسے باتچیت کرنے والے انداز میں کرنے کی کوشش کریں۔ اِس طرح تقریر کو سننے والوں کے لیے اِسے سمجھنا اور اِس پر دھیان دینا آسان ہوگا۔ کتابچے ”تعلیم دینے اور تلاوت کرنے میں لگے رہیں“ میں لکھا ہے: ”قدرتی انداز اور خلوصِدل سے بات کریں تاکہ موضوع اور سامعین کے لیے آپ کے احساسات ظاہر ہوں۔“ جب آپ دل سے بات کریں گے تو تقریر سننے والے لوگ پوری توجہ سے آپ کی بات سنیں گے اور اُن کے دل میں اہم نکتوں پر عمل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔
13. تقریر کی تیاری کرتے وقت آپ کسی تجربہکار مقرر سے مدد کیوں لے سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 کسی تجربہکار مقرر سے مدد لیں۔ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ تقریر کی تیاری کرتے وقت اُس بھائی کو اپنے نوٹس دِکھا سکتے ہیں اور پھر اِسے بہتر بنانے کے لیے اُس کے بتائے ہوئے مشوروں پر عمل کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ اُس کے سامنے اُونچی آواز میں اپنی تقریر کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کو بتا سکے کہ آپ کو کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ (اَمثا 1:5) ہم سبھی کبھی کبھار یہ نہیں دیکھ پاتے کہ ہم جو کچھ کہیں گے، اُسے سامنے والا شخص آسانی سے سمجھ جائے گا یا نہیں۔ اِس لیے آپ کی تقریر سننے والا بھائی آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ نکتوں کو کس طرح سے بیان کر سکتے ہیں تاکہ یہ آسانی سے لوگوں کو سمجھ آ جائیں اور اُن کے دل میں اِن پر عمل کرنے کی خواہش پیدا ہو۔ بےشک ہم ایک بہتر مقرر اور اُستاد بننا چاہتے ہیں تاکہ ہماری بات سننے والوں کو پاک کلام کی اہم سچائیوں سے فائدہ ہو سکے۔a
اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لانے کے لیے کسی ایسے بھائی سے مدد لیں جو ایک اچھا مقرر ہے۔ (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
ہم عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو اَور دھیان سے کیسے سُن سکتے ہیں؟
14. ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں کے بارے میں کیسا محسوس کرنا چاہیے؟ (زبور 119:24، 111، 167)
14 اگر ہم یاد رکھیں گے کہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیاں بہت ضروری ہیں تو ہم عبادتوں کو دھیان سے سنیں گے۔ ہمیں یہوواہ کی طرف سے یاددہانیوں کی بہت ضرورت ہے تاکہ ہم اِس آخری زمانے میں مشکلوں سے نمٹ سکیں۔ (2-تیم 3:1) تو اگر کبھی کبھار ہم عبادتوں میں ایسی باتیں سنتے ہیں جنہیں ہم پہلے بھی کئی بار سُن چُکے ہیں تو ہمیں بھی بالکل ویسا ہی محسوس کرنا چاہیے جیسا زبور 119 کو لکھنے والا شخص یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں کے بارے میں محسوس کرتا تھا۔—زبور 119:24، 111، 167 کو پڑھیں۔
15. ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم عبادتوں میں ملنے والے روحانی کھانے کے لیے اپنے دل میں قدر بڑھاتے رہیں؟
15 یہ بہت ضروری ہے کہ ہم عبادتوں کے ذریعے ملنے والی تعلیمات کو یہوواہ کی طرف سے تحفہ خیال کرتے رہیں۔ اِس سلسلے میں ہم بنی اِسرائیل سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ غور کریں کہ جب یہوواہ اُنہیں ویرانے میں کھانے کے لیے من دے رہا تھا تو کیا ہوا تھا۔ (خر 16:15، 31) شروع شروع میں تو اِسرائیلی من کے لیے بہت شکرگزار تھے کیونکہ یہ اُنہیں یہوواہ کی طرف سے ملا تھا، اِس کا ذائقہ بہت اچھا تھا اور اِس کی وجہ سے وہ زندہ تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ ہر روز من کھا کھا کر تنگ آ گئے۔ (گن 21:5) اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ آج ہم عبادتوں کے دوران بائبل کی کچھ تعلیمات بار بار سنتے ہیں۔ لیکن ہمیں کبھی بھی اِن یاددہانیوں کو کم اہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہمیں بنیاِسرائیل کی طرح نہیں بننا چاہیے جو اُن نعمتوں کے لیے یہوواہ کے شکرگزار نہیں رہے جو یہوواہ اُنہیں دے رہا تھا۔ اِس کی بجائے ہمیں عبادتوں کو یہوواہ کی طرف سے ایک تحفہ سمجھنا چاہیے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وفادار غلام بہت سوچ سمجھ کر یہ طے کرتا ہے کہ عبادتوں میں کون سی معلومات سکھائی جانی چاہیے۔ ہمیں اِس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں سے جو دانشمندی سیکھتے ہیں، اُس کی مدد سے ہم اپنی جان بچا سکتے ہیں۔—اَمثا 3:13، 16-18؛ یوح 17:3۔
16. کس چیز نے عبادتوں کو دھیان سے سننے میں کچھ ایسے بہن بھائیوں کی مدد کی ہے جو کافی لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں؟ (بکس ”اچھی طرح سے سننے کے لیے مشورے“ کو بھی دیکھیں۔)
16 ہم بہن بھائیوں کے دیے ہوئے مشوروں پر عمل کرنے سے بھی عبادتوں کو اَور دھیان سے سُن سکتے ہیں۔ غور کریں کہ کس چیز نے عبادتوں کو دھیان سے سننے میں کچھ ایسے بہن بھائیوں کی مدد کی ہے جو کافی لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایشلی نام کی بہن تقریباً 30 سال سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں عبادت میں بتائی جانے والی باتوں کی پہلے سے تیاری کرتی ہوں۔ اِس طرح مَیں اِنہیں دھیان سے سُن پاتی ہوں۔ اگر مَیں نے پہلے سے تیاری نہیں کی ہوتی تو مجھے جواب ڈھونڈنا مشکل لگتا ہے اور میرا دھیان بھی بھٹک جاتا ہے۔“ اب ذرا جوزف نام کے بھائی کی بات پر بھی غور کریں جو 52 سال سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے عبادتوں میں اُن موضوعات کو سننا اچھا لگتا ہے جن پر پہلے بھی کئی بار بات کی جا چُکی ہے۔ اِس طرح مَیں ایک موضوع کے حوالے سے نئی نئی باتیں سیکھ پاتا ہوں اور اُس کے بارے میں میری سمجھ بھی بڑھتی ہے۔“ بھائی جوزف نے یہ بھی کہا: ”اگر یہوواہ کسی ایسے بھائی کو تقریر کرنے کے لیے اِستعمال کرتا ہے جو اِتنا اچھا مقرر نہیں ہے تو مَیں اُس کے بات کرنے کے انداز پر دھیان دینے کی بجائے اُس پیغام پر دھیان دینے کی کوشش کرتا ہوں جو وہ خدا کے کلام سے دے رہا ہوتا ہے۔“
17. آپ عبادت میں بتائی جانے والی باتوں کو پورے دھیان سے سننے کے لیے اَور کیا کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 ذرا کچھ اَور مشوروں پر بھی غور کریں جن کی مدد سے آپ عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو اَور دھیان سے سُن سکیں گے۔ (1)عبادت میں آنے سے پہلے ہلکا پھلکا کھانا کھائیں تاکہ آپ کو نیند نہ آئے۔ (2)عبادتگاہ میں جلدی آئیں اور پروگرام شروع ہونے سے پہلے اپنی سیٹ ڈھونڈ لیں۔ (3)اپنے فون اور ٹیبلٹ کی آواز بند کر دیں اور اِن کی وجہ سے اپنا دھیان بٹنے نہ دیں۔ (4)اِس بارے میں سوچیں کہ مقرر کن نکتوں پر بات کرے گا۔ (5)اپنا پورا دھیان تقریر کرنے والے بھائی پر رکھیں نہ کہ اِردگِرد ہونے والی باتوں پر۔ (6)چھوٹے چھوٹے نوٹس لیں یا پھر اہم نکتوں کی سادہ سی تصویر بنا لیں۔ (7)بائبل کی آیتوں پر دھیان دیں اور دیکھیں کہ اِن کا معلومات سے کیا تعلق ہے۔ (8)خود سے پوچھیں: ”مَیں اِس معلومات کو کلیسیا کے بہن بھائیوں کی مدد کرتے وقت یا پھر مُنادی میں کیسے اِستعمال کر سکتا ہوں؟“ (9)اِجتماعوں یا علاقائی اِجتماعوں پر جانے سے پہلے پروگرام کے موضوع، تقریروں کے عنوان اور اُن کے ساتھ دی گئی مرکزی آیتوں کو دیکھنے کے لیے وقت نکالیں۔ (10)خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ کر پروگرام کے شروع میں چلائی جانے والی موسیقی اور ویڈیوز کو دیکھیں تاکہ آپ اپنے دل کو یہوواہ سے تعلیم پانے کے لیے تیار کر سکیں۔
یہوواہ کی طرف سے ملنے والی یاددہانیوں پر دھیان دیتے رہیں۔ اپنے فون یا ٹیبلٹ کی وجہ سے عبادتوں سے اپنا دھیان ہٹنے نہ دیں۔ (پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)
پوری توجہ سے یہوواہ کی بات سنتے رہیں
18. ہمیں عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو ہمیشہ دھیان سے کیوں سننا چاہیے؟
18 ہمیں عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو ہمیشہ دھیان سے سننا چاہیے کیونکہ اِن کے ذریعے یہوواہ ”نیکی کی راہوں پر[ہماری]رہنمائی کرتا ہے۔“ (زبور 23:3؛ 31:3) ہمیں یہوواہ کی رہنمائی کی اِس لیے بھی ضرورت ہے تاکہ ہم صحیح کام کرتے رہیں اور ایک ایسی کشتی کی طرح نہ بنیں جو ہوا کے زور سے صحیح راہ سے ہٹ جاتی ہے۔ تو آئیے عبادتوں میں بتائی جانے والی باتوں کو ”توجہ سے سنیں“ اور اِن پر عمل کریں۔ (لُو 8:18) جو لوگ یہوواہ کی بات سنتے ہیں، وہ نہ صرف ابھی خوش رہیں گے بلکہ مستقبل میں ہمیشہ کی زندگی بھی حاصل کریں گے۔—زبور 119:2، 14۔
گیت نمبر 87 اِجلاسوں سے تازگی پائیں
a یہ جاننے کے لیے کہ آپ اَور بہتر مقرر اور اُستاد بننے کے لیے کن مشوروں پر عمل کر سکتے ہیں، کتابچہ ”تعلیم دینے اور تلاوت کرنے میں لگے رہیں“ کو دیکھیں۔