سوالی بکس
▪ حاضرباش والدین کو اپنے بچوں کی اجلاسوں پر مناسب آدابواطوار قائم رکھنے کے سلسلے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں؟
بچے فطری طور پر توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں اور زیادہ دیر تک ایک جگہ پر بیٹھ نہیں سکتے۔ چاقوچوبند بچے اجلاس کے بعد کنگڈم ہال یا اجلاسوں کی دیگر جگہوں، پارکنگ کی جگہوں یا پھر فٹپاتھ پر ایک دوسرے کے آگےپیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔ تاہم، یہ مثل واقعی سچی ہے: ”جو لڑکا بےتربیت چھوڑ دیا جاتا ہے اپنی ماں کو رُسوا کرے گا۔“—امثا ۲۹:۱۵۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض عمررسیدہ بھائیبہنوں کو بچوں کے بھاگنے اور اُن پر گِرنے کی وجہ سے شدید چوٹیں آئی ہیں۔ ایسے حادثات والدین اور کلیسیا کے لئے غیرضروری اخراجات اور تکلیف کا باعث بنے ہیں۔ بچوں اور دوسروں کے تحفظ کی خاطر اُنہیں کنگڈم ہال کے اندر یا باہر بھاگنے اور کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
والدین کی یہ صحیفائی ذمہداری ہے کہ وہ پرستش کی جگہوں کا احترام کرنے میں اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ (واعظ ۵:۱الف) ہمارے مسیحی اجلاسوں، اسمبلیوں اور کنونشنوں پر حاضرباشوں کو اس بات کا خیال رکھنے کی ذمہداری سونپی جاتی ہے کہ ”سب باتیں شایستگی . . . کے ساتھ عمل میں آئیں“ اور ’نظموضبط‘ برقرار رہے۔ (۱-کر ۱۴:۴۰؛ کل ۲:۵) اُنہیں پروگرام سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد کنگڈم ہال کے اندر اور باہر ہمیشہ چوکس رہنا چاہئے۔ اگر کوئی بچہ بھاگتا دوڑتا یا شرارتیں کرتا نظر آتا ہے تو حاضرباش شفقت سے اُسے رُوک کر سمجھا سکتا ہے کہ ایسا کرنا کیوں مناسب نہیں ہے۔ بچے کے باپ یا ماں کو بھی مشفقانہ طریقے سے اس مسئلے سے اور بچے کی نگرانی کرنے کی ضرورت سے آگاہ کرنا چاہئے۔ ماں یا باپ کو مناسب جوابیعمل دکھانا چاہئے۔
شیرخوار اور چھوٹے بچوں کا اجلاسوں کے دوران کبھیکبھار رونا یا شور مچانا قابلِسمجھ بات ہے۔ حاضرباش پروگرام شروع ہونے سے ۲۰ منٹ پہلے پہنچ کر چھوٹے بچوں والے والدین کیلئے ہال میں چند آخری قطاروں کو محفوظ کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کیساتھ وہاں بیٹھ سکیں۔ ہم سب کو اُن کیلئے اِن نشستوں کو خالی چھوڑ کر تعاون کرنا چاہئے۔
اگر کوئی بچہ شور مچا رہا ہے تو والدین کو اس سلسلے میں ضرور کچھ کرنا چاہئے۔ اگر والدین ایسا نہیں کرتے اور شور اختلال کا سبب بنتا ہے تو حاضرباش کو مہربانہ طریقے سے والدین سے کہنا چاہئے کہ وہ اپنے بچے کو ہال سے باہر لیجائیں۔ جب ہم چھوٹے بچوں والے نئے اشخاص کو اجلاسوں پر آنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہمیں اُن کیساتھ ہی بیٹھنا چاہئے تاکہ جب بچے روئیں یا دیگر طریقوں سے شور مچائیں تو ہم اس سلسلے میں اُنکی مدد کر سکیں۔
کنگڈم ہال میں ہر عمر کے بچوں اور خدا کے گھر میں اُن کے اچھے آدابواطوار کو دیکھکر ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔ (۱-تیم ۳:۱۵) یہوواہ کے نظامِپرستش کا احترام کر کے وہ اسکی تمجید کرتے اور کلیسیا کے تمام لوگوں کی نظر میں مقبول ٹھہرتے ہیں۔