”آزمائے جائیں“—کیسے؟
۱ یہوواہ کی تنظیم کی مسلسل ترقی کے ساتھ ساتھ خدمتگزار خادموں کے طور پر خدمت انجام دینے کیلئے لائق بھائیوں کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں سمیت بہتیرے بھائی جو ابھی مقرر نہیں ہوئے، کلیسیا میں خدمت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جب اُنہیں کوئی اضافی تفویض سونپی جاتی ہے تو وہ خود کو کارآمد سمجھتے اور احساسِتکمیل کا تجربہ کرتے ہیں۔ انکی مزید ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ ”آزمائے جائیں۔“ (۱-تیم ۳:۱۰) یہ کیسے ہوتا ہے؟
۲ بزرگوں کا کردار: خدمتگزار خادم بننے کے لئے ۱-تیمتھیس ۳:۸-۱۳ کے مطابق کسی بھائی کی صحیفائی قابلیت کا اندازہ لگاتے وقت، بزرگ اس کی ذمہداری نبھانے کی صلاحیت کو پرکھیں گے۔ وہ اُسے رسالے اور لٹریچر تقسیم کرنے، مائیکروفون کی ذمہداری سنبھالنے، کنگڈم ہال کی دیکھبھال کرنے اور دوسری اہم خدمات تفویض کر سکتے ہیں۔ بزرگ اس بات کا دھیان رکھینگے کہ وہ اپنی تفویضات کے لئے کیسا جوابیعمل دکھاتا ہے اور اُنہیں کیسے پورا کرتا ہے۔ وہ قابلِاعتماد ہونے، پابندئوقت، مستعدی، انکساری، رضامندی کی روح اور دوسروں کے ساتھ خوشاخلاقی سے پیش آنے کی خوبیوں کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ (فل ۲:۲۰) کیا وہ آرائشوزیبائش کے سلسلے میں اچھا نمونہ ہے؟ کیا وہ ذمہداری کا احساس رکھتا ہے؟ بزرگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ”اپنے کاموں کو نیک چالچلن کے وسیلہ سے اُس حلم کے ساتھ ظاہر کرے جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے۔“ (یعقو ۳:۱۳) کیا وہ کلیسیا کیلئے مددگار ثابت ہونے کیلئے کوشاں ہے؟ کیا وہ میدانی خدمت میں سرگرمی سے حصہ لیکر یسوع کے ”سب قوموں کو شاگرد“ بنانے کے حکم کی فرمانبرداری کر رہا ہے۔—متی ۲۸:۱۹؛ ۱۹۹۰ کے واچٹاور کے صفحہ ۱۸-۲۸ دیکھیں۔
۳ اگرچہ خدمتگزار خادم کی تقرری کیلئے کمازکم عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے توبھی بائبل ایسے بھائیوں کا حوالہ ”خدمت کا کام“ کرنے والے مردوں کے طور پر دیتی ہے۔ چونکہ اُن کے بیوی بچوں کا بھی ذکر کِیا گیا ہے اس لئے ہم اُن کے ابتدائی یا متوسط عنفوانِشباب میں ہونے کی توقع نہیں کرتے۔ (۱-تیم ۳:۱۲، ۱۳، اینڈبلیو) ایسے مردوں کو ”جوانی کی خواہشوں“ سے بھاگنا اور خدا اور انسانوں کے سامنے ایک راست حیثیت اور صاف ضمیر حاصل ہونا چاہئے۔—۲-تیم ۲:۲۲۔
۴ اگرچہ فطری صلاحیت مفید ہوتی ہے توبھی رویہ اور جذبہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کیا وہ بھائی فروتنی سے خدا کی تمجید کرنے اور اپنے بھائیوں کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہوواہ کلیسیا میں ترقی کرنے کے سلسلے میں اُس کی کوششوں پر برکت دے گا۔