بزرگ دوسروں کو ذمہداریاں اُٹھانے کی تربیت دیتے ہیں
پوری دُنیا میں یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں میں نگہبانی کے مرتبوں پر خدمت کرنے کے لائق آدمیوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس صورتحال کی تین اہم وجوہات ہیں۔
اوّل، یہوواہ ”سب سے حقیر [کو] ایک زبردست قوم“ بنانے کا اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے۔ (یسعیاہ ۶۰:۲۲) اس کے غیرمستحق فضل کی بدولت، پچھلے تین سالوں میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے یہوواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لیا ہے۔ ان نئے بپتسمہیافتہ اشخاص کو مسیحی پختگی کی جانب ترقی کرنے میں مدد دینے کیلئے ذمہدار آدمیوں کی ضرورت ہے۔—عبرانیوں ۶:۱۔
دوم، کئی دہوں سے بزرگوں کے طور پر خدمت انجام دینے والے بعض اشخاص کیلئے بڑھاپے یا صحت کی خرابی کی وجہ سے کلیسیائی کام میں کمی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
سوم، بہتیرے سرگرم مسیحی بزرگ اب ہسپتال رابطہ کمیٹیوں، ریجنل بلڈنگ کمیٹیوں یا اسمبلی ہال کمیٹیوں کے ارکان کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ بعض معاملات میں توازن قائم کرنے کیلئے اپنی مقامی کلیسیا میں کچھ ذمہداریوں سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
اضافی لائق آدمیوں کی فوری ضرورت کو کیسے پورا کِیا جا سکتا ہے؟ تربیت اس مسئلے کا حل ہے۔ بائبل مسیحی نگہبانوں کی حوصلہافزائی کرتی ہے کہ وہ ”دیانتدار آدمیوں“ کی تربیت کریں ”جو اَوروں کو بھی سکھانے کے قابل ہوں۔“ (۲-تیمتھیس ۲:۲) ایک لغت کے مطابق، فعل ”تربیت کرنے“ کا مطلب ”تعلیم دینا، سکھانا، پرورش کرنا“ ہے۔ آئیے دیکھیں کہ بزرگ دیگر لائق اشخاص کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔
یہوواہ کی تقلید کریں
اس میں کوئی شک نہیں کہ یسوع مسیح اپنے کام میں ’لائق، قابل اور ماہر‘ تھا! اس نے بذاتِخود یہوواہ خدا سے تربیت حاصل کی تھی۔ کن عناصر نے اس تربیتی پروگرام کو اسقدر مؤثر بنا دیا تھا؟ یوحنا ۵:۲۰ کے مطابق، یسوع نے تین عناصر کا ذکر کِیا: ”باپ بیٹے کو [۱] عزیز رکھتا ہے اور [۲] جتنے کام خود کرتا ہے اُسے دکھاتا ہے بلکہ [۳] اِن سے بھی بڑے کام اُسے دکھائیگا۔“ ان عناصر کا تجزیہ تربیت کے سلسلے میں بصیرت فراہم کریگا۔
غور کریں کہ یسوع نے پہلے بیان کِیا: ”باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے۔“ تخلیق کی ابتدا ہی سے یہوواہ اور اس کے بیٹے کے درمیان ایک پُرتپاک بندھن موجود تھا۔ امثال ۸:۳۰ اس رشتے پر روشنی ڈالتی ہے: ”اُس وقت ماہر کاریگر کی مانند مَیں [یسوع] اُس [یہوواہ خدا] کے پاس [تھا] اور مَیں ہر روز اُسکی خوشنودی [تھا] اور ہمیشہ اُسکے حضور شادمان [رہتا تھا]۔“ یسوع کے ذہن میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہوواہ ’خاص طور پر اسے چاہتا ہے۔‘ اس کے علاوہ، یسوع نے اپنے باپ کیساتھ کام کرتے وقت اپنی خوشی کو ہرگز پوشیدہ نہیں رکھا تھا۔ مسیحی بزرگوں اور تربیت پانے والوں کے درمیان ایک پُرتپاک، بےلاگ رشتہ کتنا عمدہ ہوتا ہے!
یسوع نے جس دوسرے عنصر کا ذکر کِیا وہ یہ ہے کہ باپ ”جتنے کام خود کرتا ہے اُسے دکھاتا ہے۔“ یہ الفاظ امثال ۸:۳۰ کی تصدیق کرتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کے وقت یسوع یہوواہ کے ”پاس“ تھا۔ (پیدایش ۱:۲۶) بزرگ خادموں کیساتھ کام کرنے سے اس شاندار نمونے کی تقلید کر سکتے ہیں اور انہیں دکھا سکتے ہیں کہ وہ عمدہ طریقے سے اپنے فرائض کیسے پورے کر سکتے ہیں۔ تاہم، صرف نئے مقررشُدہ خادموں کو ہی ترقیپسندانہ تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان وفادار بھائیوں کی بابت کیا ہے جو نگہبانی کے مرتبے تک پہنچنے کیلئے کئی سالوں سے کوشاں ہیں لیکن انہیں ابھی تک مقرر نہیں کِیا گیا؟ (۱-تیمتھیس ۳:۱) بزرگوں کو ایسے آدمیوں کو خاص مشورت دینی چاہئے تاکہ وہ جان سکیں کہ انہیں کہاں پر بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر، ایک خادم قابلِبھروسا، وقت کا پابند اور اپنے فرائض کی انجامدہی میں فرضشناس ہو سکتا ہے۔ وہ ایک اچھا اُستاد بھی ہو سکتا ہے۔ کئی لحاظ سے وہ کلیسیا میں شاندار کام کرنے والا بھی ہے۔ تاہم، اُسے شاید اس بات کا احساس نہیں کہ وہ ساتھی مسیحیوں کیساتھ سختی سے پیش آتا ہے۔ بزرگوں کو ”حلم“ ظاہر کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے ”جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے۔“ (یعقوب ۳:۱۳) کیا یہ بزرگ کی طرف سے شفقت کا اظہار نہیں ہوگا کہ وہ اُس خادم سے بات کرے اور واضح مثالوں کے ذریعے مسئلے کو اُجاگر کرتے ہوئے اصلاح کیلئے عملی تجاویز پیش کرے؟ اگر بزرگ ’اپنی مشورت کو نمکین بنا‘ کر پیش کرتا ہے تو اس کی باتوں کو اچھی طرح قبول کِیا جائیگا۔ (کلسیوں ۴:۶) بیشک، خادم رضامندی سے مشورت سننے اور قبول کرنے سے بزرگ کے کام کو اَور زیادہ خوشگوار بنا دیگا۔—زبور ۱۴۱:۵۔
بعض کلیسیاؤں میں بزرگ خادموں کو مسلسل عملی مشورت اور تربیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ لائق خادموں کو بیمار یا عمررسیدہ اشخاص سے ملاقات کرتے وقت ساتھ لیجاتے ہیں۔ اس طرح خادم گلّہبانی کے کام میں تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ بیشک، ایک خادم خود بھی اپنی روحانی ترقی کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔—مندرجہذیل بکس بعنوان ”خادم کیا کر سکتے ہیں“ دیکھیں۔
یسوع مسیح کی تربیت کو اسقدر مؤثر بنانے والا تیسرا عنصر یہوواہ کا اسے مستقبل کی ترقی کو مدِنظر رکھ کر تربیت دینا تھا۔ یسوع نے اپنے باپ کے متعلق کہا کہ وہ بیٹے کو ”اِن سے بھی بڑے کام“ دکھائے گا۔ یسوع کے زمینی تجربے نے اُسے وہ خوبیاں پیدا کرنے کے لائق کِیا جن کی اُسے مستقبل کی تفویضات کو پورا کرنے کے لئے ضرورت تھی۔ (عبرانیوں ۴:۱۵؛ ۵:۸، ۹) مثال کے طور پر، یسوع عنقریب لاکھوں مُردہ اشخاص کو زندہ کرکے ان کی عدالت کرنے کی اہم تفویض حاصل کرے گا!—یوحنا ۵:۲۱، ۲۲۔
آجکل بھی بزرگوں کو مستقبل کی ضروریات مدِنظر رکھتے ہوئے خادموں کی تربیت کرنی چاہئے۔ اگر موجودہ ضروریات پوری کرنے کیلئے بزرگ اور خادم کافی ہیں تو کیا نئی کلیسیا تشکیل پانے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہوگا؟ اگر کئی کلیسیائیں تشکیل پاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ پچھلے تین سال کے دوران پوری دُنیا میں ۶،۰۰۰ سے زائد نئی کلیسیائیں تھیں۔ ان نئی کلیسیاؤں کی دیکھبھال کیلئے بہت سے بزرگوں اور خادموں کی ضرورت ہے!
اَے بزرگو، کیا آپ جن کو تربیت دے رہے ہیں ان کیساتھ پُرتپاک ذاتی رشتہ قائم کرنے سے یہوواہ کے نمونے کی پیروی کر رہے ہیں؟ کیا آپ اُنہیں اپنا کام انجام دینا سکھا رہے ہیں؟ کیا آپ مستقبل کی ضروریات سے باخبر ہیں؟ یسوع کی تربیت کے سلسلے میں یہوواہ کے نمونے کی پیروی کرنا بہتیروں کیلئے کثیر برکات پر منتج ہوگا۔
ذمہداری سونپنے سے مت گھبرائیں
کئی اہم تفویضات نپٹانے کے عادی لائق بزرگ دوسروں کو اختیار سونپنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے انہوں نے غیرتسلیبخش نتائج کیساتھ ماضی میں ایسا کرنے کی کوشش کی ہو۔ پس وہ یہ رُجحان اپنا سکتے ہیں کہ ’اگر آپ کسی کام کو اچھے طریقے سے کرنا چاہتے ہیں تو اسے خود ہی کرنا ہوگا۔‘ لیکن کیا یہ رُجحان صحائف کے مطابق یہوواہ کی اس مرضی سے ہمآہنگ ہے کہ کم تجربہکار زیادہ تجربہکار آدمیوں سے تربیت حاصل کریں؟—۲-تیمتھیس ۲:۲۔
جب پولس کا ایک سفری ساتھی یوحنا مرقس پمفیلیہ میں اپنی تفویض کو چھوڑ کر گھر واپس چلا گیا تو اُسے بڑی مایوسی ہوئی تھی۔ (اعمال ۱۵:۳۸، ۳۹) تاہم، پولس نے اس بُرے تجربے کو دوسروں کی تربیت کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے ایک اَور نوجوان بھائی تیمتھیس کو منتخب کِیا اور اسے مشنری کام کی تربیت دی۔a (اعمال ۱۶:۱-۳) بیریہ میں مشنریوں کو ایسی سخت مخالفت کا سامنا ہوا کہ پولس کا وہاں رہنا محال ہو گیا۔ لہٰذا، اس نے نئی کلیسیا کو ایک پُختہ عمررسیدہ بھائی سیلاس اور تیمتھیس کے ہاتھوں میں سونپ دیا۔ (اعمال ۱۷:۱۳-۱۵) اس میں کوئی شک نہیں کہ تیمتھیس نے سیلاس سے کافی کچھ سیکھا ہوگا۔ بعدازاں، جب تیمتھیس مزید ذمہداری اُٹھانے کے لائق ہوا تو پولس نے اُسے تھسلنیکے میں کلیسیا کی حوصلہافزائی کرنے کیلئے بھیجا۔—۱-تھسلنیکیوں ۳:۱-۳۔
پولس اور تیمتھیس کے درمیان کوئی رسمی، سردمہر یا غیرشخصی رشتہ نہیں تھا۔ اُن کے درمیان ایک پُرتپاک بندھن تھا۔ کرنتھس کی کلیسیا کو لکھتے وقت پولس نے تیمتھیس کا ذکر اپنے ’پیارے اور دیانتدار فرزند‘ کے طور پر کِیا جسے وہ وہاں بھیجنا چاہتا تھا۔ اُس نے مزید بیان کِیا: ”[تیمتھیس] میرے اُن طریقوں کو جو مسیح میں ہیں تمہیں یاد دلائیگا۔“ (۱-کرنتھیوں ۴:۱۷) پولس سے حاصل ہونے والی تربیت پر عمل کرنے سے تیمتھیس اپنی تفویضات انجام دینے کے لائق بن گیا۔ جیسے پولس نے تیمتھیس میں دلچسپی لی تھی ویسے ہی بہتیرے نوجوان بھائی حقیقی دلچسپی دکھانے والے بزرگوں سے حاصل ہونے والی تربیت سے استفادہ کرنے کی وجہ سے لائق خادم، بزرگ یا سفری نگہبان بن گئے ہیں۔
اَے بزرگو، دوسروں کو تربیت دو!
آجکل واقعی یسعیاہ ۶۰:۲۲ کی پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے۔ یہوواہ ”سب سے حقیر [کو] ایک زبردست قوم“ بنا رہا ہے۔ ایک قوم منظم ہونے کی صورت میں ہی ”زبردست“ رہ سکتی ہے۔ اَے بزرگو، کیوں نہ مخصوصشُدہ لائق آدمیوں کو اضافی تربیت دینے کے طریقوں پر غور کِیا جائے؟ ہر خادم کو یہ احساس دلانے کا یقین کر لیں کہ اُسے ترقی کرنے کیلئے کن حلقوں میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بپتسمہیافتہ بھائیوں کو بھی حاصل ہونے والی ذاتی توجہ سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔ اپنی صلاحیت، علم اور تجربے کو بڑھانے کے مواقع سے مستفید ہوں۔ یہوواہ مشفقانہ مدد کے ایسے پروگرام کو یقیناً برکت دیگا۔—یسعیاہ ۶۱:۵۔
[فٹنوٹ]
a بعدازاں، پولس نے ایک مرتبہ پھر یوحنا مرقس کے ساتھ کام کِیا تھا۔—کلسیوں ۴:۱۰۔
[صفحہ ۳۰ پر تصویر کی عبارت]
خـادم کـیـا کـر سـکـتے ہـیـں
اگرچہ بزرگوں کو خادموں کی تربیت کرنی چاہئے توبھی خادم اپنی روحانی ترقی کو تیز کرنے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
—خدمتگزار خادموں کو اپنی تفویضات پوری کرنے میں مستعد اور قابلِبھروسا ہونا چاہئے۔ انہیں مطالعے کی اچھی عادات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑی حد تک ترقی کا انحصار مطالعے اور سیکھی ہوئی باتوں کے اطلاق پر ہوتا ہے۔
—مسیحی اجلاس پر تقریر پیش کرنے کی تیاری کرنے والے خادم کو مواد کی پیشکش کے طریقے کی بابت کسی لائق بزرگ سے تجاویز کیلئے درخواست کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔
—خادم ایک بزرگ سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ اُسے بائبل پر مبنی تقریر دیتے ہوئے غور سے دیکھے اور بہتری کیلئے مشورہ دے۔
خادموں کو بزرگوں کی مشورت کے طالب ہونا، اسے قبول کرنا اور اس کا اطلاق کرنا چاہئے۔ اس طرح ان کی ترقی ”سب پر ظاہر“ ہوگی۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۵۔