سب کو ’کلام قبول کرنا چاہئے‘!
۱ لاکھوں لوگ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہمیشہ کی زندگی کے لائق ٹھہرنے کیلئے، اُنہیں اُن ۳،۰۰۰ لوگوں کی طرح ’کلام قبول کرنے‘ کی ضرورت ہے جنہوں نے ۳۳ س.ع. میں پنتِکُست کے موقع پر توبہ کر کے بپتسمہ لیا تھا۔ (اعما ۲:۴۱) اس سے آجکل ہم پر کیا ذمہداری عائد ہوتی ہے؟
۲ ہمیں اپنے بائبل طالبعلموں کی یہوواہ کیلئے عقیدت پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہئے۔ (۱-تیم ۴:۷-۱۰) اس سلسلے میں، جون ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمہ کا پیراگراف ۲۰ تجویز پیش کرتا ہے: ”مطالعے کے دوران شروع سے آخر تک، یہوواہ کی خوبیوں کیلئے قدردانی کو بڑھانے کے مواقع کی تلاش میں رہیں۔ خدا کیلئے اپنے گہرے احساسات کا اظہار کریں۔ طالبعلم کی مدد کریں کہ یہوواہ کیساتھ ایک پُرتپاک، ذاتی رشتے کو فروغ دینے کی بابت سوچے۔“
۳ چیلنج جس کا ہمیں سامنا ہے: جھوٹے مذہب سے متاثر، بیشتر لوگ ایسے طریقۂپرستش سے مطمئن ہیں جو بہت کم وقت اور کوشش اور اُنکے طرزِزندگی میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا تقاضا نہیں کرتا۔ (۲-تیم ۳:۵) ہمیں یہ چیلنج درپیش ہے کہ اپنے بائبل طالبعلموں کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ سچی پرستش میں محض خدا کے کلام کے سننے والے بننے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اُنہیں اپنی زندگیوں میں اُسکا اطلاق کرنا چاہئے۔ (یعقو ۱:۲۲-۲۵) اگر اُنکی ذاتی زندگی میں خدا کو کوئی بات ناپسند ہے تو اُنہیں خدا کو خوش کرنے کیلئے ”رجوع لانے“ اور درست کام کرنے کیلئے اپنی ذمہداری کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ (اعما ۳:۱۹) ابدی زندگی حاصل کرنے کیلئے اُنہیں ’جانفشانی کرنے‘ اور سچائی کیلئے مضبوط مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔—لو ۱۳:۲۴، ۲۵۔
۴ اخلاقیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے، اپنے بائبل طالبعلم سے پوچھیں کہ وہ ان معاملات کی بابت درحقیقت کیا نقطۂنظر رکھتا ہے اور اگر وہ اپنی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو اُسے کیا کرنا چاہئے۔ اُس کی توجہ تنظیم کی طرف مبذول کرائیں جسکی بدولت وہ سچائی سیکھ رہا ہے اور کلیسیائی اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہونے کیلئے اُسکی حوصلہافزائی کریں۔—عبر ۱۰:۲۵۔
۵ اپنی تعلیم کیساتھ طالبعلم کے دل تک پہنچنے کو اپنا نصبالعین بنائیں۔ جب ہم نئے لوگوں کو خدا کے کلام کو قبول کرنے اور بپتسمہ لینے کی تحریک دیتے ہیں تو ہم شادمان ہونگے!—۱-تھس ۲:۱۳۔