شاگرد بنانے کے اہم کام پر ترقیپسندانہ نظر
۱ زمین سے رُخصت ہونے سے پہلے، یسوع نے اپنے شاگردوں کو ”تمام قوموں کو شاگرد بنانے“ کا حکم دیا۔ اس نے اُن سے منادی کرنے اور تعلیم دینے کی پُرزور مہم کی ذمہداری کو قبول کرنے اور اپنی کارگزاری کو تمام آبادشُدہ زمین تک پھیلا دینے کا تقاضا کِیا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ اعما ۱:۱۸) کیا اُنہوں نے اس حکم کو ناقابلِبرداشت بوجھ خیال کِیا؟ رسول یوحنا کے مطابق نہیں۔ شاگرد بنانے والے کے طور پر ۶۵ سال صرف کرنے کے بعد اُس نے لکھا: ”خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُسکے حکموں پر عمل کریں اور اُسکے حکم سخت نہیں۔“—۱-یوح ۵:۳۔
۲ ابتدائی مسیحیوں کی کارگزاری کا صحیفائی ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ اُنہوں نے یسوع مسیح کے شاگرد بنانے کے حکم پر فوراً عمل کِیا۔ (۲-تیم ۴:۱، ۲) اُنہوں نے محض فرض کے تحت نہیں بلکہ خدا کی حمدوستائش کرنے کی اپنی پُرمحبت خواہش اور دوسروں کو نجات کی اُمید دینے کیلئے ایسا کِیا تھا۔ (اعما ۱۳:۴۷-۴۹) تمام لوگ جو شاگرد بنے اُنہوں نے بعد میں خود بھی شاگرد بنانے کا کام شروع کر دیا اس وجہ سے پہلی صدی میں مسیحی کلیسیاؤں نے تیزی کیساتھ ترقی کی۔—اعما ۵:۱۴؛ ۶:۷؛ ۱۶:۵۔
۳ شاگرد بنانے کا کام زور پکڑتا ہے: شاگرد بنانے کا سب سے عظیم کام اس ۲۰ویں صدی میں تشکیل پا رہا ہے! اب تک، لاکھوں لوگوں نے خوشخبری کو قبول کر لیا ہے اور اُس پر عملپیرا ہوئے ہیں۔ (لو ۸:۱۵) موجودہ نظامالعمل کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے اسلئے ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے ہمیں ایسے آلات فراہم کئے ہیں جو خلوصدل لوگوں کیلئے سچائی کو تیزی کیساتھ سیکھنا ممکن بنا دیتے ہیں۔—متی ۲۴:۴۵۔
۴ ہم نے ۱۹۹۵ میں کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے اور اس کے بعد ۱۹۹۶ میں خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے بروشر حاصل کِیا تھا۔ علم کی کتاب کے سلسلے میں، فروری ۱۹۹۶ کے مینارِنگہبانی کے شمارے نے صفحہ ۲۴ پر بیان کِیا: ”اس ۱۹۲ صفحات کی کتاب کو دوسروں کی نسبت مختصر وقت میں پڑھا جا سکتا ہے اور جو لوگ ’ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کئے ہیں‘ اُنہیں اس کے مطالعے کے ذریعے یہوواہ کیلئے مخصوصیت کرنے اور بپتسمہ لینے کی بابت کافی کچھ سیکھنے کے قابل ہونا چاہئے۔“—اعما ۱۳:۴۸۔
۵ جون ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمے، ”علم کی کتاب کے ذریعے کیسے شاگرد بنائیں“ نے ہمارے لئے یہ نشانہ قائم کِیا: ”طالبعم کے حالات اور رجحان پر انحصار کرتے ہوئے، آپ کیلئے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ عجلت میں مطالعہ ختم کئے بغیر، ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت کے ایک سیشن میں زیادہ ابواب کا احاطہ کریں۔ جب اُستاد اور طالبعلم دونوں ہر ہفتے مطالعے کیلئے اپنے وعدے کی پابندی کرتے ہیں تو طالبعلم ترقی کریگا۔“ مضمون مزید کہتا ہے: ”اس بات کی توقع کی جانی چاہئے کہ جب ایک شخص علم کی کتاب کا مطالعہ ختم کر لیتا ہے تو خدا کی خدمت کرنے میں اُس کی خلوصدلی اور دلچسپی کی وسعت ظاہر ہو جائیگی۔“ اکتوبر ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے سوالی بکس نے وضاحت کی: ”یہ توقع کی جاتی ہے کہ نسبتاً تھوڑے عرصہ میں، ایک مؤثر استاد ایک اوسط درجے کے طالبعلم کی یہوواہ کی خدمت کرنے کے سلسلے میں دانشمندانہ فیصلہ کرنے کیلئے کافی علم حاصل کرنے کیلئے مدد کرنے کے قابل ہوگا۔“
۶ علم کی کتاب نتائج حاصل کرتی ہے: ایک نوجوان خاتون نے اپنے بپتسمے کے موقع پر بیان کِیا کہ اُس نے علم کی کتاب کا مطالعہ کرنے کی بابت کیسا محسوس کِیا۔ کچھ عرصہ تک وہ ہمیشہ زندہ کتاب سے مطالعہ کرتی رہی تھی۔ جب علم کی کتاب ریلیز کی گئی تو مطالعہ کرانے والی بہن نے اُسکا مطالعہ نئی کتاب سے کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی، طالبعلم نے محسوس کِیا کہ یہ اس کی طرف سے فیصلے کا تقاضا کر رہا ہے نیز اُسکے بعد اُسے تیزی سے ترقی کرنے کی تحریک ملی تھی۔ نوجوان خاتون جو اب ہماری بہن ہے، بیان کرتی ہے: ”ہمیشہ زندہ کتاب نے یہوواہ سے محبت کرنے میں میری مدد کی لیکن علم کی کتاب نے اُس کی خدمت کرنے کے فیصلے میں میری مدد کی تھی۔“
۷ غور کریں کہ ایک دوسری خاتون نے کتنی تیزی کیساتھ سچائی کو سیکھا۔ اپنے دوسرے مطالعے کے بعد، وہ سرکٹ اوورسیئر کے دَورے کے دوران کنگڈم ہال میں اجلاس پر حاضر ہوئی۔ اُس ہفتے اپنے تیسرے مطالعے پر، اُس نے اسے بتایا کہ وہ یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کر چکی ہے اور اب ایک غیربپتسمہ یافتہ پبلشر بننا چاہتی ہے۔ اُس خاتون نے بزرگوں کیساتھ ملاقات کی جنہوں نے اُسے پبلشر بننے کی اجازت دے دی اور اگلے ہفتے اُس نے میدانی خدمت شروع کر دی۔ وہ اپنے بائبل مطالعے میں اتنی مصروف ہو گئی کہ اُس نے ہفتے میں دو یا تین مرتبہ مطالعہ کرنے کیلئے اپنی ملازمت سے چھٹی لے لی اور خدمتگزاری میں زیادہ وقت صرف کِیا۔ بعضاوقات، اُنہوں نے ہر سیشن میں دو یا تین ابواب کا مطالعہ کِیا۔ جوکچھ وہ سیکھ رہی تھی وہ اپنی زندگی کے تمام حلقوں میں اُس کا اطلاق کرنے لگی، چار ہفتوں میں علم کی کتاب مکمل کی اور بپتسمے کیلئے ترقی کی!
۸ ایک بہن کا شوہر جو خود کو ”روایتی بےایمان ساتھی“ کہتا ہے۔ ایک دن، ایک بھائی نے اُسے اس شرط پر علم کی کتاب سے بائبل مطالعہ کرانے کی پیشکش کی کہ وہ شخص چاہے تو پہلے مطالعے یا اُس کے بعد کسی بھی وقت مطالعہ بند کر سکتا ہے۔ اپنے سکول کے زمانے میں نالائق طالبعلم ہونے اور ۲۰ سال سے زیادہ عرصہ سے کسی بھی قسم کے مذہبی لٹریچر کا مطالعہ نہ کرنے کے باوجود، شوہر مطالعہ کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ علم کی کتاب سے مطالعہ کرنے کی بابت اُس کا ردِعمل کیا تھا؟ اُس نے کہا: ”مجھے یہ جان کر حقیقی خوشی ہوئی تھی کہ اس بائبل امداد کو اس قدر سادگی کیساتھ تحریر کِیا گیا تھا۔ معلومات کو اتنا واضح اور منطقی انداز سے پیش کِیا گیا تھا کہ جلد ہی، مَیں بڑے اشتیاق کیساتھ اپنے اگلے مطالعے کا منتظر رہنے لگا۔ میرے استاد نے شاگرد بنانے کے سوسائٹی کے خاکہشُدہ طریقے کی مہارت کیساتھ پیروی کی اور یہوواہ کی روح کی مدد سے، مَیں نے چار ماہ بعد بپتسمہ لے لیا تھا۔ واقعی مَیں کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم شاگرد بنانے کے کام کیلئے محبت پیدا کر لیتے ہیں، میدانی خدمتگزاری میں خلوصدل اشخاص کی تلاش کرنا جاری رکھتے ہیں، علم کی کتاب اور سوسائٹی کی دیگر بائبل امداد کو استعمال کرتے ہیں اور سب سے بڑھکر، یہوواہ کی ہدایت کیلئے دُعا کرتے ہیں تو ہم شاگرد بنانے کیلئے مدد کرنے کا نہایت خاص استحقاق رکھ سکتے ہیں۔“ مندرجہبالا تجربات واقعی غیرمعمولی ہیں۔ ہمارے بیشتر طالبعلم اس طرح جلدی سے سچائی میں نہیں آتے۔
۹ طالبعلموں کی ترقی کرنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے: اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ خدا کے کلام کی تعلیم دینے والوں اور سیکھنے والوں دونوں کی لیاقتیں کافی مختلف ہو سکتی ہیں۔ روحانی افزائش سُست یا تیز ہو سکتی ہے۔ بعض طالبعلم دوسروں کی نسبت چند ہی مہینوں میں کافی ترقی کر جاتے ہیں۔ ایک شخص کی روحانی افزائش کی رفتار کا انحصار اُس کے تعلیمی پسمنظر، روحانی چیزوں کیلئے اُس کی قدردانی کی حد اور یہوواہ کیلئے اُس کی عقیدت کی وسعت پر ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ مطالعہ کرنے والا ہر شخص ”شوق کیساتھ“ روزانہ مطالعہ نہیں کرتا، جیسےکہ بیریہ کے لوگوں نے کِیا اور ایمان لے آئے۔—اعما ۱۷:۱۱، ۱۲۔
۱۰ اسی وجہ سے اپریل ۱۹۹۸ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کا ضمیمہ ”زیادہ بائبل مطالعوں کی ضرورت ہے،“ حقیقتپسندانہ راہنمائی فراہم کرتا ہے: ”بِلاشُبہ، تمام طالبعلم ایک ہی رفتار سے ترقی نہیں کرتے۔ بعض دوسروں کی نسبت روحانیت کی جانب اتنے مائل نہیں ہوتے نہ ہی سکھائی جانے والی باتوں کو جلدی سے سمجھ پاتے ہیں۔ دیگر بہت مصروف زندگیاں بسر کرتے ہیں اور ممکن ہے ہر ہفتے ایک پورا باب مکمل کرنے کیلئے مطلوبہ وقت دینے کے قابل نہ ہوں۔ تاہم، شاید بعض معاملات میں مخصوص ابواب کا احاطہ کرنے کیلئے مطالعے کے ایک سے زیادہ سیشن رکھنا اور کتاب مکمل کرنے کیلئے کچھ اضافی مہینے ضروری ہو سکتے ہیں۔“
۱۱ شاگرد بنانے والے ایک متوازن نظریہ رکھتے ہیں: طالبعلم کے حالات اور رجحان کے مطابق مطالعے کی رفتار کا تعیّن کرنا ضروری ہے۔ چونکہ تقاضا بروشر سے مطالعے شروع کرانے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کی جا رہی ہے اس لئے ممکن ہے علم کی کتاب شروع کرنے سے پہلے اسے ختم کرنے کیلئے دو سے تین مہینے لگ جائیں۔ اگر ہم جون ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمے میں خاکہشُدہ تمام تجاویز کو استعمال کرتے ہیں تو علم کی کتاب ختم کرنے میں مزید چھ سے نو مہینے لگ سکتے ہیں۔ علم کی کتاب سے کچھ ہی دیر پہلے مطالعہ شروع کرنے والوں میں سے بعض نے تیزی کیساتھ بائبل سچائیوں کو سیکھنے کیلئے طالبعلم کی مدد کرنے کیلئے تقاضا بروشر سے مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد دوبارہ علم کی کتاب سے مطالعہ شروع کیا گیا تھا۔ اگر مطالعہ علم کی کتاب سے شروع کِیا گیا ہے اور اچھی ترقی ہو رہی ہے تو کتاب مکمل کرنے کے بعد تقاضا بروشر سے مطالعہ کروانا فائدہمند ہو سکتا ہے اس طرح سے خدا کے کلام کی بنیادی سچائیوں پر تیزی سے نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی صورت میں، ہم کتاب جلدی ختم کرنے کی خاطر طالبعلم کو صحیح سمجھ حاصل کرنے سے روکنا نہیں چاہتے۔ ہر طالبعلم کو خدا کے کلام میں اپنے نئے ایمان کیلئے پُختہ بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۲ ہم جس دور سے گزر ہے ہیں اُس کے پیشِنظر، سچائی سیکھنے کیلئے دوسروں کی مدد کرنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ضروری ہے۔ نئے بائبل مطالعے شروع کرنے کیلئے ہمہوقت دُعا کرنے کیساتھ ساتھ، آئیے اُن کے لئے دُعا کریں جو پہلے ہی ہمارے ساتھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ ”دُنیا کے آخر تک“ اَور زیادہ شاگردوں کو بپتسمہ دینے سے ہم خوشی حاصل کرتے رہیں گے۔—متی ۲۸:۲۰۔