ہمیں اُستاد ہونا چاہئے، محض مُناد نہیں
۱ یہ دیکھا گیا ہے کہ ”یہوواہ کے گواہوں نے حقیقتاً اپنی گواہی سے پوری زمین کا احاطہ کر لیا ہے۔“ یہ کیسے ممکن ہوا ہے؟ انسانی زور یا توانائی سے تو نہیں بلکہ خدا کی روح سے جو اُس وقت اُس کے خادموں پر کام کرتی ہے جب وہ اپنی منادی کرنے اور تعلیم دینے کی تفویض کو پورا کرنے کے لئے مختلف فراہمیوں کو استعمال کرتے ہیں۔—زک ۴:۶؛ اعما ۱:۸۔
۲ اشاعتیں ہمارے منادی کے کام کو پایۂتکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک اثرآفریں ذریعہ ہیں۔ سالہا سال کے دوران، یہوواہ کے گواہوں نے بادشاہتی خوشخبری کو پھیلانے میں مدد کے لئے کروڑوں کتابیں، کتابچے، بروشر، رسالے اور اشتہارات شائع کئے اور اُنہیں تقسیم کِیا ہے۔ ۱۹۹۷ ائیربُک کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہے کہ لٹریچر کی اشاعت نے ریکارڈ قائم کر دئے ہیں۔ آج تک، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کی ۹۱ ملین کاپیاں شائع ہو چکی ہیں۔ ریاستہائےمتحدہ میں ایک ہی سال میں شائع ہونے والے واچٹاور اور اویک! کی تعداد ۱.۷ فیصد تک بڑھ گئی۔ جرمن میں، رسالوں کی اشاعت ۳۵ فیصد تک بڑھ گئی۔ پاکستان میں گزشتہ خدمتی سال کے دوران، رسالوں کی تقسیم ۴۲،۷۷۰ کی کُل تعداد سے ۱۰،۰۰۰ بڑھ گئی جوکہ ۳۰ فیصد اضافہ ہے۔
۳ اتنے زیادہ لٹریچر کی ضرورت کیوں ہے؟ عالمگیر پیمانے پر، ہمارے لئے پیشکردہ اس حوصلہافزائی کے لئے حیرتانگیز جوابیعمل دکھایا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی لوگ ملیں اُنہیں گواہی دیں۔ ہم جتنا زیادہ اپنے گواہی دینے کے کام کو وسیع کرتے ہیں—عوامی مقامات پر، گلیکوچوں اور کاروباری علاقے میں—اُتنا ہی زیادہ لٹریچر تھوڑی بہت دلچسپی دکھانے والے لوگوں کو پیش کِیا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کو پہلے اگر کبھی ممکن ہوتا تو شاذونادر ہی بادشاہتی پیغام کو سننے کا موقع ملتا تھا۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے، کلیسیائیں خدمتگزاری کے تمام حلقوں میں استعمال کے لئے مختلف اقسام کی مطبوعات دستیاب رکھتی ہیں۔
۴ لٹریچر کی تقسیم میں ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہمارا مقصد صرف لٹریچر پیش کرنا نہیں ہے۔ شاگرد بنانے کی تفویض کے دو پہلو ہیں—منادی کرنا اور تعلیم دینا۔ اوّل، ہمیں بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے، لوگوں کو اس بات سے واقف کرنے کا شرف حاصل ہے کہ صرف یہی نوعِانسان کی واحد اُمید ہے۔ (متی ۱۰:۷؛ ۲۴:۱۴) ہمارے بائبل پر مبنی لٹریچر کی اثرآفرینی طویل مدت سے ثابت ہو چکی ہے اور یہ دلچسپی پیدا کرنے اور دوسروں کو بادشاہت کا علم فراہم کرنے کا اثرآفریں ذریعہ ہے۔
۵ دوم، اگر ہمیں شاگرد بنانے ہیں تو ہمیں اُن سب باتوں کی تعلیم دینی چاہئے جنکا یسوع نے حکم دیا تھا۔ (متی ۱۱:۱؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) ایک بار پھر، بائبل طالبعلموں کے دلوں میں سچائی کو جاگزیں کرنے، اُنہیں شاگرد بننے میں مدد دینے کے ہمارے کام میں لٹریچر اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۶ لٹریچر قبول کرنے والے ’کلام کے سننے والے‘ ہو سکتے ہیں لیکن اگر اُنہیں بےیارومددگار چھوڑ دیا جائے تو وہ بمشکل ہی اس پر عمل کرنے والے بنیں گے۔ (یعقو ۱:۲۲-۲۵) شاید ہی کچھ لوگ شاگرد بنیں جبتک کہ کوئی اُن کی راہنمائی نہیں کرتا۔ (اعما ۸:۳۰، ۳۱) اُنہیں ایسے اُستاد کی ضرورت ہے جو صحائف میں پائی جانے والی سچائی کو خود پرکھنے میں اُنکی مدد کرے۔ (اعما ۱۷:۲، ۳) ہمارا مقصد اُنہیں مخصوصیت اور بپتسمے کی حد تک پہنچنے میں مدد دینا اور دوسروں کو تعلیم دینے کی خاطر پوری طرح لائق بننے کیلئے اُنکی تربیت کرنا ہے۔—۲-تیم ۲:۲۔
۷ زیادہ اُستادوں کی بہت ضرورت ہے: جب ہم منادی کرتے ہیں تو ہم کھلمکھلا خوشخبری کا اعلان کرتے ہیں۔ تاہم، تعلیم دینے میں کسی کو ترقیپسندانہ انداز سے علم فراہم کرنا شامل ہوتا ہے۔ جبکہ منادی دوسروں کو بادشاہتی پیغام سے واقف کراتی ہے، تعلیم خوشخبری کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ (لو ۸:۱۵) ایک اُستاد اعلان کرنے سے زیادہ کچھ کرتا ہے؛ وہ وضاحت کرتا ہے، اچھے دلائل کے ساتھ استدلال کرتا ہے، ثبوت پیش کرتا اور قائل کرتا ہے۔
۸ ہم میں سے زیادہ سے زیادہ کو اُستاد ہونا چاہئے، محض مناد نہیں۔ (عبر ۵:۱۲الف) لٹریچر تقسیم کرنا ہمارے کام کا نہایت اہم حصہ ہے لیکن اپنی خدمتگزاری کے دوسرے مقصد کو حاصل کرنے کا انحصار آخرکار اسی بات پر ہے کہ ہم اُستادوں کے طور پر کیا سرانجام دیتے ہیں۔ اگرچہ ہم لٹریچر پیش کرکے، اپنی خدمتگزاری کو پوری طرح سرانجام دیکر بہت خوش ہو سکتے ہیں توبھی ہمیں لٹریچر پیش کرنے کو ہی اپنا حتمی مقصد خیال نہیں کرنا چاہئے۔ (۲-تیم ۴:۵) لٹریچر پیشکشیں تو دوسروں کو سچائی کی تعلیم دینے کے مواقع کی راہ کھولنے کا اثرآفریں ذریعہ ہیں۔
۹ بائبل مطالعے شروع کرانے کے لئے واپسی ملاقاتیں کریں: غالباً ہم سب نے کثیر تعداد میں کتابیں، بروشر اور رسالے پیش کئے ہیں اور یوں واپسی ملاقاتوں کی لمبی فہرست تیار کر لی ہے۔ ہمیں دلچسپی کو بڑھانے کی غرض سے دوبارہ جانے کے لئے باقاعدہ وقت کا شیڈول بنانا چاہئے۔ واپسی ملاقات میں ہمارا بنیادی مقصد مزید لٹریچر پیش کرنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کی حوصلہافزائی کرنا ہے کہ جوکچھ اُن کے پاس پہلے سے موجود ہے اُسی کو پڑھیں اور مستفید ہوں۔ اگر کوئی صحیح علم حاصل کرنے میں ہماری مدد کرنے کی خاطر بار بار نہ آیا ہوتا تو ہم نے خود کتنی روحانی ترقی کی ہوتی؟—یوح ۱۷:۳۔
۱۰ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ یا کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے سے بائبل مطالعہ شروع کرانے کے خیال سے تمام دلچسپی کی پیروی کریں۔ یہ دونوں مطبوعات بادشاہتی پیغام کو آسان فہم انداز میں پیش کرتی ہیں۔ تقاضا بروشر مطالعے کے جامع کورس پر مشتمل ہے جو بائبل کی بنیادی تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے۔ علم کی کتاب کسی کو زیادہ تفصیل مگر سادگی، فصاحت اور اختصار کے ساتھ سچائی کی تعلیم دینے کے قابل بناتی ہے۔
۱۱ سلیس تعلیمی پروگرام، جیساکہ جون ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمے میں وضاحت کی گئی ہے، اُستاد کے لئے تعلیم دینے اور طالبعلم کے لئے سیکھنے کو سہل بنا دیتا ہے۔ تعلیم دینے کے لئے اثرآفریں ثابت ہونے والے طریقوں اور اصولوں پر نظرثانی کرنے کے لئے اس ضمیمے کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔ اس میں پیشکردہ تجاویز میں سے بعض یہ ہیں کہ طالبعلم میں کیسے حقیقی ذاتی دلچسپی دکھائی جا سکتی ہے، ایک سیشن میں کتنے مواد کا احاطہ کِیا جا سکتا ہے، موضوع کے ساتھ تعلق نہ رکھنے والے سوالات کا جواب کیسے دیا جا سکتا ہے، اُستاد اور طالبعلم دونوں مطالعے سے پہلے کیسے تیاری کر سکتے ہیں اور طالبعلم کی توجہ یہوواہ کی تنظیم کی طرف کیسے مبذول کرائی جا سکتی ہے۔ تجاویز پر عمل کرنے سے، نئے اشخاص سمیت ہم میں سے بیشتر، ترقیپسندانہ مطالعے کرانے کے قابل ہونگے۔
۱۲ میدان سے اچھی کامیابی کی رپورٹیں: شاگرد بنانے کے کام کو تیز کرنے کے لئے تقاضا بروشر اور علم کی کتاب نہایت قابلِقدر امداد ثابت ہوئے ہیں۔ بولیویا میں ایک بھائی نے تقاضا بروشر حاصل کرنے پر فوراً اسے ایک آدمی کے ساتھ مطالعہ شروع کرنے کے لئے استعمال کِیا۔ چار ماہ بعد ڈسٹرکٹ کنونشن پر، یہ طالبعلم بپتسمے کے مسرور اُمیدواروں میں شامل تھا!
۱۳ بہتیروں نے علم کی کتاب سے اپنا مطالعہ ختم کرنے کے بعد یہوواہ کے لئے اپنی زندگیاں مخصوص کرنے کی تحریک پائی ہے۔ انگولا میں ایک کلیسیا کے اندر، اُس علاقے میں علم کی کتاب کا استعمال شروع کرنے کے صرف چار ماہ بعد پبلشروں کے بائبل مطالعوں کی تعداد ۱۹۰ سے بڑھ کر ۲۶۰ ہو گئی اور اجلاس کی حاضری کی تعداد ۱۸۰ سے دو گُنا بڑھ کر ۳۶۰ ہو گئی۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد، ایک دوسری کلیسیا قائم کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
۱۴ علم کی کتاب سے اپنا پہلا مطالعہ شروع کرانے کے بعد، ایک بھائی نے کہا کہ اس سے مطالعہ کرانا بہت ”آسان ہے اگر کنڈکٹر صرف سوال پوچھے، چند قابلِاطلاق صحائف پڑھے اور اس بات کا یقین کر لے کہ طالبعلم سمجھ گیا ہے۔“ اگرچہ ہمیشہ سے اُس کا یہی خیال تھا کہ صرف لائق پبلشر ہی ترقیپسندانہ بائبل مطالعہ کرا سکتے ہیں اور وہ کبھی نہیں کرا سکتا توبھی اُس نے یہ کہتے ہوئے تسلیم کِیا کہ وہ کرا سکتا ہے: ”اگر مَیں کرا سکتا ہوں توپھر ہر کوئی کرا سکتا ہے۔“
۱۵ اپنی خدمتگزاری کے ایک حصے کے طور پر بائبل مطالعے کرانے سے ہی ہم شاگرد بنانے کے مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ جنہوں نے خدمتگزاری کے اس حلقے میں حصہ لینے کی لیاقت کو بڑھایا ہے اُنہوں نے یہ محسوس کِیا کہ یہ واقعی اطمینانبخش اور نہایت بااجر ہے۔ دُعا ہے کہ ہمارے حق میں بھی یہ کہا جائے کہ ہم ”کمال دلیری سے . . . خدا کی بادشاہی کی منادی [کرتے] اور خداوند یسوؔع مسیح کی باتیں [سکھاتے]“ ہیں۔—اعما ۲۸:۳۱۔