آپکے رشتہداروں کی بابت کیا ہے؟
۱ ہم میں سے بہتیروں کے بعض رشتہدار ایسے ہیں جو سچائی میں نہیں۔ ہم کسقدر آرزومند ہیں کہ یہ عزیز ہمارے ساتھ زندگی کی راہ پر گامزن ہوں! جب وہ ہمارے گھرانے کے رُکن ہوں تو اُنکے دائمی مستقبل کیلئے ہماری دلچسپی اَور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہم نے کئی سال سے اُن کے اندر سچائی کیلئے دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے توبھی ہمیں یہ نتیجہ اخذ نہیں کر لینا چاہئے کہ اب حالت مایوسکُن ہے۔
۲ جب یسوع نے اپنی مُنادی کی تو ”اُس کے بھائی بھی اُس پر ایمان نہیں لائے تھے۔“ (یوحنا ۷:۵) ایک موقع پر، اُسکے رشتہداروں نے سوچا کہ وہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ (مرقس ۳:۲۱) تاہم، یسوع اُنکی طرف سے نااُمید نہیں ہوا تھا۔ ایک وقت آیا کہ اُس کے بھائیوں نے سچائی کو قبول کر لیا۔ (اعمال ۱:۱۴) اُس کا سوتیلا بھائی یعقوب مسیحی کلیسیا کا ایک ستون بنا۔ (گلتیوں ۱:۱۸، ۱۹؛ ۲:۹) اگر آپ اپنے رشتہداروں کو سچائی قبول کرتے ہوئے دیکھنے کی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بادشاہتی خوشخبری لیکر اُن کے پاس جانے کی کوشش ترک نہ کریں۔
۳ تازگیبخش بنیں دِق کرنے والے نہیں: جب یسوع نے دوسروں کو مُنادی کی تو اُسکے سامعین نے خوفزدہ نہیں بلکہ تازہدم محسوس کِیا تھا۔ (متی ۱۱:۲۸، ۲۹) اُس نے اُن پر ایسی تعلیمات کی بھرمار نہیں کی تھی جنہیں وہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔ اپنے رشتےداروں کو سچائی کے پانیوں سے تازہدم کرنے کیلئے اُنہیں ایک وقت میں ایک کپ دیں پوری بالٹی نہ اُنڈیل دیں! ایک سفری نگہبان نے مشاہدہ کِیا: ”بہترین نتائج اُنہیں حاصل ہوتے ہیں جو تھوڑی گواہی دینے سے اپنے رشتہداروں میں اشتیاق پیدا کرتے ہیں۔“ اس طرح، ممکن ہے کہ مخالفین بھی سوالات پوچھنے لگیں اور بالآخر سچائی کی پیاس محسوس کریں۔—۱-پطرس ۲:۲؛ مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۳:۱، ۲۔
۴ بہتیرے شادیشُدہ مسیحیوں نے اپنے بیاہتا ساتھیوں کے کسی پسندیدہ مضمون پر لٹریچر کھلا چھوڑ کر اُنہیں مؤثر گواہی دی ہے۔ ایک بہن جس نے ایسا کِیا وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اپنے بچوں سے ایسی وضاحتوں کیساتھ مطالعہ بھی کرتی تھی جو اُس کیلئے فائدہمند تھیں۔ بعضاوقات وہ اُس سے پوچھتی: ”آج مَیں نے اپنے مطالعہ میں فلاں بات سیکھی تھی۔ اسکی بابت آپکا کیا خیال ہے؟“ انجامکار اُس کے شوہر نے سچائی قبول کر لی۔
۵ احترام کرنے والے بنیں، غیرمتحمل نہیں: ایک پبلشر نے بیان کِیا کہ ”رشتےداروں کو بھی ذاتی نظریات اور آراء رکھنے کا حق حاصل ہے۔“ اسلئے جب وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں یا جب وہ بالخصوص ہم سے سچائی کی بابت کلام نہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں تو ہمیں احترام دکھانا چاہئے۔ (واعظ ۳:۷؛ ۱-پطرس ۳:۱۵) متحمل اور پُرمحبت اور اچھے سامعین بننے سے ہم مؤثر گواہی دینے کیلئے مناسب مواقع کی تلاش میں رہ سکتے ہیں۔ ایسا تحمل بااجر ہو سکتا ہے جیسےکہ ایک مسیحی شوہر کے معاملے میں دیکھا گیا جس نے ۲۰ سال تک تحمل کیساتھ اپنی بےایمان بیوی کی بدسلوکی کو برداشت کِیا۔ جونہی اُس نے تبدیل ہونا شروع کِیا، اُس نے کہا: ”مَیں یہوواہ کا کسقدر شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھے تحمل سے کام لینے میں مدد دی کیونکہ اب مَیں نتیجہ دیکھ سکتا ہوں: میری بیوی نے زندگی کی راہ پر چلنا شروع کر دیا ہے!“
۶ آپکے رشتےداروں کی بابت کیا ہے؟ ممکن ہے کہ آپ کے اچھے مسیحی چالچلن اور اُن کیلئے آپکی دُعاؤں کی وجہ سے، ”[وہ] خدا کی طرف کھینچ جائیں۔“—۱-پطرس ۳:۱، ۲۔