رشتہداروں کو کیسے گواہی دیں؟
۱ اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی کہ ہم نئی دُنیا میں اپنے عزیزوں کیساتھ داخل ہوں اور ملکر یہوواہ کی پرستش کریں! اپنے رشتہداروں کو گواہی دینے سے یہ خوشکُن امکان ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ تاہم، ایک تازگیبخش طریقے سے ایسا کرنا بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک سرکٹ اوورسیئر نے کہا: ”وہ لوگ اچھے نتائج حاصل کرتے ہیں جو وقتاًفوقتاً اپنے رشتہداروں سے ایسے موضوعات پر بات کرتے ہیں جو اُن میں تجسّس پیدا کرتے ہیں۔“ ایسا کیسے کِیا جا سکتا ہے؟
۲ انکا تجسّس بڑھائیں: اس پر اچھی طرح غور کریں کہ آپ اپنے رشتہداروں کا تجسّس کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ (امثا ۱۵:۲۸) انکی دلچسپیاں کیا ہیں؟ وہ کن مسائل سے دوچار ہیں؟ شاید آپ کسی ایسے موضوع پر جس میں اُنکی خاص دلچسپی ہے کوئی مضمون دکھا سکتے یا کسی عمدہ صحیفے کا ذکر کر سکتے ہیں۔ اگر آپکے رشتہدار قریب نہیں رہتے تو شاید آپ ایک خط یا ٹیلیفون کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔ انہیں بہت زیادہ گواہی دئے بغیر سچائی کے بیج بوئیں اور یہوواہ پر آس رکھیں جو بیج کو بڑھانے والا ہے۔—۱-کر ۳:۶۔
۳ یسوع نے ایک ایسے آدمی کو ہدایت دی جس میں بہت سی بدروحیں تھیں: ”اپنے لوگوں کے پاس اپنے گھر جا اور اُنکو خبر دے کہ [یہوواہ] نے تیرے لئے کیسے بڑے کام کئے اور تجھ پر رحم کِیا۔“ (مر ۵:۱۹) ذرا تصور کریں کہ اس آدمی کے رشتہداروں پر اسکا کیا اثر ہوا ہوگا! اگرچہ آپکو شاید ایسی ڈرامائی حالت کا تجربہ نہ بھی ہوا ہو توبھی آپکے رشتہدار آپکی سرگرمیوں یا آپکے بچوں کی سرگرمیوں میں ضرور دلچسپی رکھتے ہونگے۔ مسیحی خدمتی سکول میں آپ نے جو تقریر دی، آپ جس کنونشن پر حاضر ہوئے، آپ نے بیتایل کا دورہ کِیا یا ایک خاص ذاتی واقعہ بیان کرنے سے آپ یہوواہ اور اسکی تنظیم کی بابت مزید باتچیت کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
۴ فہیم بنیں: رشتہداروں کو گواہی دیتے ہوئے ایک ہی ملاقات پر سب کچھ بتانے سے گریز کریں۔ ایک بھائی اپنے بائبل مطالعہ شروع کرنے کے وقت کو یوں بیان کرتا ہے: ”مَیں نے بائبل سے جوکچھ سیکھا تھا اسکی بابت کئی گھنٹوں تک اپنی والدہ سے گفتگو کرتا رہا۔ لیکن اسکی وجہ سے اکثر میری اپنے والد کیساتھ بحثوتکرار بھی ہو جاتی تھی۔“ جب ایک رشتہدار بائبل کے پیغام میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو اُسے اس طریقے سے جواب دیں کہ اُسکے اندر مزید جاننے کی خواہش پیدا ہو۔ (امثا ۲۵:۷) ہمیشہ ویسے ہی احترام، مروّت اور صبر کا مظاہرہ کریں جیسا آپ میدانی خدمت میں اجنبیوں سے باتچیت کرتے وقت ظاہر کرتے ہیں۔—کل ۴:۶۔
۵ ایک موقع پر، یسوع کے رشتہداروں نے اُسے بےخود خیال کِیا۔ (مر ۳:۲۱) تاہم، بعد میں بعض ایمان لے آئے۔ (اعما ۱:۱۴) اگر رشتہداروں کو گواہی دینے کی آپکی ابتدائی کوششیں سُودمند نہیں ہوتیں تو ہمت نہ ہاریں۔ حالات اور رُجحانات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ کسی اَور موقع کی تلاش میں رہیں تاکہ آپ انہیں کوئی ایسا نکتہ بیان کر سکیں جس سے ان میں تجسّس پیدا ہو سکتا ہے۔ انہیں ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر ڈالنے میں مدد دینے سے آپکو خوشی حاصل ہوگی۔—متی ۷:۱۳، ۱۴۔
[Study Questions]
۱. رشتہداروں کو گواہی دیتے وقت بصیرت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
۲ اپنے رشتہداروں میں مخلصانہ دلچسپی کیسے ان میں تجسّس کو بڑھا سکتی ہے؟
۳. ہمارے رشتہداروں کی ہمارے کام میں دلچسپی گواہی دینے کی راہ کیسے ہموار کر سکتی ہے؟
۴. رشتہداروں کو گواہی دیتے وقت ہمیں کن خطرات سے بچنا چاہئے؟
۵. اگر ہمارے رشتہدار گواہی کو سُن کر اچھا ردِعمل ظاہر نہیں کرتے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟