کون منادی کرنے کے لائق ہے؟
۱ جب خدمتگزاری کی بات آتی ہے تو کیا آپ نے کبھی موسیٰ کی طرح محسوس کیا ہے؟ اُس نے کہا: ”اَے خداوند! مَیں فصیح نہیں۔ نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تُو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔“ (خروج ۴:۱۰) اگر آپ ایسا محسوس کرتے ہیں تو آپ باز رہنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یسوع نے ”ہمیں حکم دیا کہ اُمت میں منادی کرو اور گواہی دو۔“ (اعمال ۱۰:۴۲) لہٰذا، ہم کس طرح خوشخبری کے لائق مناد بنتے ہیں؟
۲ یہ ہماری دنیاوی تعلیم کی حد نہیں جو ہمیں خدمتگزاری کے اہل بناتی ہے۔ پولس نے کہا کہ ”جسم کے لحاظ سے بہت سے حکیم . . . نہیں بلائے گئے“ اور یہ کہ ”دنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بیوقوفی ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱:۲۶؛ ۳:۱۹) یسوع نے اپنے رسولوں کا انتخاب مزدور طبقے سے کِیا—پیشے کے لحاظ سے ان میں سے کمازکم چار ماہیگیر تھے۔ متکبر مذہبی رہنماؤں نے انہیں ”اَنپڑھ اور ناواقف آدمی“ سمجھتے ہوئے حقیر جانا۔ دنیاوی معیاروں کے مطابق دیکھا جائے تو رسول منادی کرنے کے اہل نہیں تھے۔ تاہم، پنتِکُست کے دن پر پطرس کے عالمانہ خطاب نے ۳۰۰۰ اشخاص کو بپتسمہ لینے کی تحریک دی۔—اعمال ۲:۱۴، ۳۷-۴۱؛ ۴:۱۳۔
۳ یہوواہ ہمیں منادی کرنے کے لائق ٹھہراتا ہے: پولس نے بیان کِیا: ”ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۳:۵) حکمت کے ماخذ یہوواہ نے لاکھوں اشخاص کو دوسروں کو بادشاہتی سچائی کی منادی کرنے کی تعلیم دی ہے۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) اس کام کے اثرآفریں اور پھلدار ہونے کا اندازہ ”نیکنامی کے“ زندہ ”خط“ کے طور پر پچھلے سال بپتسمہ پانے والے ۳۳۸،۴۹۱اشخاص سے لگایا جا سکتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۳:۱-۳) جو باتیں ہم نے یہوواہ سے سیکھی ہیں، ہمارے پاس اس کے متعلق دلیری اور پورے یقین کیساتھ منادی کرنے کی ہر وجہ موجود ہے۔
۴ خدا کی تنظیم نے خادموں کیلئے ایک بینالاقوامی تربیتی پروگرام تشکیل دیا ہے۔ صحائف اور بائبل مطالعے کی مختلف امدادی کُتب کے ذریعے ہمیں منادی کیلئے ”بالکل تیار ہونے“ کیلئے تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) سوسائٹی کی مطبوعات میں پائے جانے والے اعلیٰ علم نے بہت سے لوگوں کو متاثر کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک سویڈیش جریدے نے بیان کِیا: ”یہوواہ کے گواہ جس ایمان کی منادی کرتے ہیں اس کی پُشت پر اعلیٰ تعلیمی معیار اور عالمی پیمانے پر مبنی بائبل ادب ہے۔“
۵ ہمارے پانچ ہفتہوار اجلاسوں میں فراہمکردہ ہدایت، ہمارے بائبل پڑھائی اور مطالعے کے پروگرام، تھیوکریٹک منسٹری سکول میں مشورت، دیگر تجربہکار خادموں کی طرف سے ذاتی مدد اور سب سے بڑھ کر یہوواہ کی پاک روح کی حمایت کیساتھ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں پوری طرح منادی کرنے کے لائق سمجھتا ہے۔ ” ہم . . . خدا کی طرف سے خدا کو حاضر جان کر مسیح میں بولتے ہیں۔“—۲-کرنتھیوں ۲:۱۷۔
۶ اگر ہم اسکی تنظیم کے ذریعے خدا کی فراہمکردہ تھیوکریٹک تربیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں تو ہمارے پاس باز رہنے یا ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم اس یقین کیساتھ بڑی خوشی سے دوسروں کو منادی کر سکتے ہیں کہ یہوواہ ہماری کوششوں کو برکت بخشے گا۔—۱-کرنتھیوں ۳:۶۔