جی سے کام کرنے والے بنیں!
۱ ہمارے پاس یہوؔواہ کے احسانمند ہونے کی بیشمار وجوہات ہیں۔ اِن میں وہ کام شامل ہیں جو اُس نے ماضی میں کئے، جو اب کر رہا ہے، اور ابھی مستقبل میں ہمارے لئے مزید کرے گا۔ ہماری احسانمندی کو ہمیں کیا کرنے کی تحریک دینی چاہئے؟ داؔؤد کا ایک زبور جواب دیتا ہے: ”مَیں ہر وقت خداوند کو مبارک کہونگا۔ اُس کی ستایش ہمیشہ میری زبان پر رہیں گی۔“—زبور ۳۴:۱۔
۲ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ ہمیں منادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایسا کام ہے جسے ہم ”جی سے کرتے [ہیں] یہ جانکر کہ خداوند کیلئے کرتے [ہیں]۔“ (کلسیوں ۳:۲۳) اگر ہم واقعی جی سے کام کرنے والے ہیں تو خدمتگزاری میں ہم کتنا کام کریں گے؟ جب ہم اپنے لئے یہوؔواہ کی محبت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل یقیناً ہمیں تحریک دیتے ہیں کہ اُسکی اور اُسکے بیشقیمت مقاصد کی بابت دوسروں کو بتانے کے کام میں وفاشعاری سے حصہ لیں! جوکچھ ہم کر سکتے ہیں ہم اسے کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔
۳ یہ توقع کرنا معقول ہوگا کہ جی سے کام کرنے والا شخص اپنی توجہ پاک خدمت پر مرتکز رکھنا چاہتا ہے۔ زبورنویس جس نے ظاہری طور پر ایسا ہی محسوس کِیا، بیان کرتا ہے: ”دن میں سات بار [مَیں] تیری ستایش کرتا ہوں۔“ (زبور ۱۱۹:۱۶۴) زبورنویس کے جذبات میں شریک ہونے والے یہوؔواہ کی ستائش کرنے کے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ جب اُنکے حالات اجازت دیتے ہیں تو وہ ممکنہ حد تک گرمجوشی سے خدمت کرتے ہیں۔
۴ ہمارے لئے یہوؔواہ کی ستائش کرنے کے مواقع بہت ہیں: ہمیں اُس وقت تک انتظار نہیں کرنا پڑتا جبتککہ ہم گھرباگھر کی خوشخبری کی منادی میں حصہ نہیں لیتے۔ ہمارے ساتھی کارکنوں، ہممکتبوں، رشتےداروں، اور واقفکاروں سب کو بادشاہتی پیغام سننے کی ضرورت ہے۔ سفر کے دوران ہم گفتوشنید شروع کر سکتے ہیں جو ہوٹل کے عملے، ریستوران کے کارکنوں، پیٹرول سٹیشن پر کام کرنے والوں، یا ٹیکسی ڈرائیورں کو گواہی دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ جب گھر پر موجود ہیں تو ہم پڑوسیوں یا گھر پر سامان پہنچانے والوں کو گواہی دے سکتے ہیں۔ اگر ہم ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں تو وہاں نرسیں، ڈاکٹر، اور دوسرے مریض ہوتے ہیں جنہیں ہم غیررسمی طور پر گواہی دے سکتے ہیں۔
۵ غیررسمی گواہی نتائج حاصل کرتی ہے: ایک دن دو گواہ ایک پارک میں سیر کر رہے تھے اور ایک جوان شخص کیساتھ باتچیت شروع کر دی جو اپنے بچے کے ہمراہ چہلقدمی کر رہا تھا۔ انجامکار اُس نے اور اُسکی بیوی نے سچائی قبول کر لی۔ بعدازاں اُس جوان شخص نے آشکارا کِیا کہ اُن دو گواہوں سے پہلی مرتبہ ملنے سے تھوڑی دیر پہلے اُس نے خدا سے یہ درخواست کرتے ہوئے دُعا کی تھی، ’اگر تو موجود ہے، تو مہربانی سے مجھے موقع دے کہ تجھے جانوں۔‘ وہ پارک میں ملاقات کو اپنی دُعا کیلئے یہوؔواہ کا جواب خیال کرتا ہے۔
۶ وہ جو روحانی طور پر دوسروں کی مدد کرنے کیلئے اپنی خواہش میں مخلص ہیں بڑی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ”پورے دل سے“ ایسی خدمت، یہوؔواہ کو خوش کرتی ہے۔—۱-تواریخ ۲۸:۹۔