سچے خدا کا علم زندگی کا باعث ہے
۱ ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے،“ یسوؔع نے دُعا میں اپنے باپ سے کہا، ”وہ تجھ خدایِواحد اور برحق کو . . . جانیں۔“ (یوحنا ۱۷:۳) یہ کیا ہی نفعبخش اجر ہے! اشاعت علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے استعمال کرنے سے، ہم دوسروں کی یہ سیکھنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے اُنہیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اُنکی دلچسپی کو بڑھانے اور اُن میں علم کی کتاب پڑھنے کی خواہش پیدا کرنے کیلئے کیا کہہ سکتے ہیں۔
۲ آپ کچھ یوں کہنے سے، بائبل کو راہنمائی کے عملی ماخذ کے طور پر نمایاں کرنے والی پیشکش کو استعمال کر سکتے ہیں:
▪ ”ہم اپنے پڑوسیوں سے گفتگو کر رہے ہیں کہ زندگی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے راہنمائی کے عملی ماخذ کو کہاں تلاش کریں۔ ماضی میں بہت سے لوگ پہلے بائبل سے مشورت حاصل کرتے تھے۔ لیکن اب لوگوں کے رویے بدل چکے ہیں؛ بہتیرے لوگ بائبل کو انسانوں کی لکھی ہوئی کتاب سمجھ کر، اسکی مُتشکِک ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ [جواب دینے دیں۔] اسکی بہت اچھی وجہ موجود ہے کہ کیوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بائبل ہمارے زمانے کیلئے عملی ہے۔ [۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷ کو پڑھیں۔] بائبل کے اصول آج بھی اُتنے ہی قابلِعمل ہیں جتنےکہ خدا کی طرف سے بائبل کی تحریر کا الہام دیتے وقت تھے۔“ علم کی کتاب میں صفحہ ۱۶ پر جائیں، اور یسوؔع کے پہاڑی وعظ میں پائی جانے والی عملی راہنمائی پر مختصراً تبصرہ کریں۔ پیراگراف ۱۱ یا پیراگراف ۱۳ کے اقتباس کو پڑھیں۔ کتاب پیش کریں، اور اس سوال کا جواب دینے کیلئے واپس آنے کا بندوبست بنائیں کہ ہم بائبل میں پائے جانے والے علم سے ذاتی طور پر کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟
۳ چونکہ دُعا بہتیروں کیلئے دلچسپی کا موضوع ہے، شاید آپ یہ پوچھتے ہوئے اس پر گفتگو کرنا چاہیں:
▪ ”ایسے تمام مسائل کیساتھ جن کا جدید زمانۂجدید کی زندگی میں ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے، کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ دُعا ہمارے لئے حقیقی مدد ثابت ہو سکتی ہے؟ [جواب دینے دیں۔] بہتیرے محسوس کرتے ہیں کہ وہ خدا سے دُعا کرنے سے اُسکی قربت میں آ گئے ہیں اور یہ کہ اس عمل نے اُنہیں باطنی قوت بخشی ہے، اور بائبل اِسی بات کا وعدہ کرتی ہے۔ [علم کی کتاب کو صفحہ ۱۵۶ پرکھولیں اور فلپیوں ۴:۶، ۷ پڑھیں۔] تاہم، کوئی شخص محسوس کر سکتا ہے کہ اُسے بعضاوقات دُعاؤں کا جواب نہیں ملتا۔ یہ باب بحث کرتا ہے کہ ’جس طرح آپ خدا کے نزدیک جا سکتے ہیں۔‘ کتاب پیش کریں، اور بتائیں کہ یہ باب اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کیسے خدا کی بات سن سکتے ہیں چونکہ اُسکے ساتھ رابطہ یکطرفہ نہیں ہے۔ جب مَیں آئندہ آؤنگا تو ہم اس پر باتچیت کر سکتے ہیں۔
۴ کیا آپ بائبل مطالعہ شروع کرنے کیلئے براہِراست رسائی کو آزمانا پسند کرینگے؟ ایک یہ ہے جو آپ کیلئے کارگر ثابت ہو سکتی ہے:
▪ ”ہم ایک مُفت گھریلو بائبل مطالعے کا کورس پیش کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی پہلے بائبل کا کوئی کورس کِیا ہے؟ [جواب دینے دیں۔] آئیے مَیں آپ کو مطالعے کی وہ امدادی کتاب دکھاؤں جو ہم استعمال کرتے ہیں۔“ علم کی کتاب دکھائیں، صفحہ ۳ پر جائیں تاکہ صاحبِخانہ فہرستِمضامین دیکھ سکے، اور پھر پوچھیں، ”کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بائبل ان موضوعات کی بابت کیا کہتی ہے؟“ اُس باب پر جائیں جس کیلئے زیادہ دلچسپی دکھائی جاتی ہے اور ذیلیسُرخیاں پڑھیں۔ وضاحت کریں کہ آپ اس چیز کا مختصراً مظاہرہ کرنا چاہینگے کہ ہم اپنے مطالعے کے کورس میں ان معلومات پر کیسے غوروخوض کرتے ہیں۔ خواہ مطالعہ شروع ہوتا ہے یا نہیں، کتاب پیش کریں۔
۵ آجکل سچے خدا کے صحیح علم کے لئے لاکھوں لوگ جوابیعمل دکھا رہے ہیں۔ (یسعیاہ ۲:۲-۴) یہ ہمارا شرف ہے کہ یہوؔواہ کی بابت سیکھنے اور زندگی کی جانب بڑھنے میں جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کریں۔—۱-تیمتھیس ۲:۴۔