وہ علم حاصل کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کریں جو زندگی کا باعث ہے
۱ پولسؔ رسول نے واضح کِیا کہ یہ ’خدا کی مرضی ہے کہ تمام اقسام کے انسانوں کو سچائی کے صحیح علم تک پہنچنا چاہئے۔‘ (۱-تیمتھیس ۲:۴) اِس علم کو حاصل کرنے کیلئے ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ ایک طریقہ اُن لوگوں کیساتھ واپسی ملاقاتیں کرنا ہے جنکی دلچسپی کو کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے ذریعے بڑھایا گیا ہے۔ یہ اشاعت بائبل سچائی کو بہت واضح، سادہ، جچےتُلے الفاظ میں پیش کرتی ہے۔ اسکا مطالعہ کرنے سے، تمام اقسام کے لوگوں کو زندگی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ ہم کیا کہہ سکتے ہیں جس سے دوسروں کی حوصلہافزائی ہو کہ ہمارے ساتھ اس کا مطالعہ کریں؟
۲ اُنکے لئے جنہوں نے ایک عملی رہبر کے طور پر بائبل میں دلچسپی ظاہر کی تھی، شاید یہ کہتے ہوئے آپ مطالعے کی پیشکش کیلئے واپس جا سکتے ہیں:
▪ ”جب مَیں پہلے یہاں آیا تھا تو ہم نے باتچیت کی تھی کہ ہم کیوں راہنمائی کے عملی ماخذ کے طور پر بائبل پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ بائبل خدا کی طرف سے الہامی ہونے کی وجہ سے، تسلی اور اُمید کا سرچشمہ بھی ہے، جیسےکہ مسیح کے رسولوں میں سے ایک نے بیان کِیا۔ [پڑھیں رومیوں ۱۵:۴۔] اپنی گزشتہ گفتگو کے اختتام پر، مَیں نے یہ سوال اُٹھایا تھا، ہم بائبل میں پائے جانے والے علم سے ذاتی طور پر کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟“ علم کی کتاب کے صفحہ ۱۱ پر پیراگراف ۱۸ پڑھیں۔ اس بات کو اُجاگر کریں کہ یہوؔواہ کے گواہ ایسے علم کو حاصل کرنے کیلئے جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث بنتا ہے ہر جگہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے، پوری دُنیا میں تقریباً پانچ ملین بائبل مطالعے کرا رہے ہیں۔ باب ۱ کے پہلے پانچ پیراگرافوں کو استعمال کرتے ہوئے، ایک مختصر سا مظاہرہ پیش کریں کہ کیسے مطالعہ کرایا جاتا ہے۔
۳ اگر پہلی ملاقات پر آپ نے کسی کے ساتھ دُعا کے موضوع پر گفتگو کی تھی تو پھر آپ ایک مطالعہ شروع کرانے کی کوشش میں اس رسائی کو آزما سکتے ہیں:
▪ ”مجھے اُمید ہے کہ آپ نے دُعا کی بابت اُن معلومات سے استفادہ کیا ہے جن پر ہم نے کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے میں سے باتچیت کی تھی۔ مَیں نے واپس آنے اور اس بات پر غوروفکر کرنے کا وعدہ کِیا تھا کہ کیسے خدا سے دُعا کرنے والے اُسکی بات بھی سن سکتے ہیں۔ غور کریں کہ صفحہ ۱۵۸ پر کیا بیان کِیا گیا ہے۔ [پیراگراف ۱۸ پڑھیں۔] لہٰذا، ذاتی طور پر بائبل کا مطالعہ کرنے سے، ہم وہ سن رہے ہوتے ہیں جو کچھ خدا ہم سے کہنا چاہتا ہے۔ ایسا کرنا ہمیں اَور زیادہ اُسکے قریب لے آتا ہے اور اُن روزمرّہ کے مسائل سے نپٹنے میں ہماری مدد کرتا ہے جنکی بابت ہم دُعا کرتے ہیں۔ آپ کے ساتھ بائبل مطالعہ کرکے مجھے خوشی ہوگی۔“ اگر شخص آمادہ ہو جاتا ہے تو علم کی کتاب کے پہلے باب سے شروع کریں۔
۴ اگر آپ نے مطالعہ شروع کرنے کے لئے براہِراست رسائی کو استعمال کِیا تھا تو آپ پہلی گفتگو کی پیروی میں یہ کہہ سکتے ہیں:
▪ ”مَیں نے آپ کے پاس دوبارہ آنے کی خاص کوشش کی کیونکہ مَیں آپکو اپنے مُفت بائبل مطالعے کے پروگرام کی بابت مزید بتانا چاہتا تھا۔ مَیں نے آپ کے پاس اس کتاب، علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے، کی ایک کاپی چھوڑی تھی، جو مطالعے کیلئے امدادی کتاب ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔ غور کریں کہ یہ خدا کے کلام پر دھیان دینے کیلئے کیسے ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے۔ [صفحہ ۲۲ پر پیراگراف ۲۳ پڑھیں۔] اگر آپ براہِمہربانی اپنی کتاب لے آئیں تو شاید ہم وہیں سے مطالعہ جاری رکھ سکتے ہیں جہاں ہم نے پچھلی مرتبہ چھوڑا تھا۔“ اگر پہلی ملاقات پر مطالعہ شروع نہیں ہوا تھا تو آپ کہہ سکتے ہیں: ”شاید میرے لئے یہ مظاہرہ کرنے کا موزوں وقت ہوگا کہ ہم بائبل کا مطالعہ کیسے کرتے ہیں۔“ چند ایک پیراگرافوں پر غور کرنے کے بعد، اگلے مطالعے کیلئے دوبارہ آنے کے قطعی وقت کا بندوبست بنائیں۔
۵ علم کی کتاب کو مؤثر طور پر استعمال کرنا ہمیں دوسروں کی خوشی کیلئے صحیح علم پھیلانے کے قابل بنائیگا۔ (امثال ۱۵:۷) ایسا علم اُنکے لئے جنکے دل راست ہیں باعثِمسرت ہوگا، اور یہ اُنکے لئے یہوؔواہ کی راستبازی کی مطابقت میں زندگی بسر کرنے کیلئے ایک زبردست محرک ہوگا جو بالآخر ہمیشہ کی زندگی کا باعث بنے گا۔