ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والے علم کو پھیلانا
۱ یہوؔواہ ”انسان کو دانش سکھاتا ہے۔“ (زبور ۹۴:۱۰) وہ اُن تک اپنی بابت زندگیبخش علم کو پھیلانے کیلئے ہمیں استعمال کرتا ہے جو قابلِقبول طور پر اُسکی خدمت کرنے سے بےخبر ہیں۔ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے تعلیم دینے کیلئے ایک عمدہ آلۂکار ہے جسکے ذریعے خلوصدل اشخاص اُسکے تحریری کلام، بائبل سے خدا کی بابت صحیح سمجھ حاصل کر سکتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴) علم کی کتاب کی سچائی کی واضح اور منطقی ترتیب لوگوں کی مدد کریگی کہ جوکچھ یہوؔواہ اُنہیں سکھانے کی کوشش کرتا ہے اُسکی سمجھ حاصل کریں۔ اِس مہینے ہم لوگوں کو ایسی گفتگو میں شریک کرنا چاہتے ہیں جو اُن کیلئے کتاب پڑھنا پسند کرنے کا سبب بنیں گی۔ چند تجاویز پیشِخدمت ہیں۔ انہیں رٹ لینے کی بجائے، کلیدی خیالات اپنے الفاظ میں اور گفتگو کرنے کے قدرتی انداز میں بیان کرنے کی کوشش کریں۔
۲ چونکہ بیشتر لوگ موت کے باعث کسی عزیز کو کھو چکے ہیں، آپ پہلے کچھ اس طرح کی بات کہتے ہو ئے اُمیدِقیامت کو متعارف کرا سکتے ہیں:
▪ ”ہم میں سے زیادہتر موت کے باعث کسی عزیز کو کھو چکے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایسے شخص کو دوبارہ دیکھینگے؟ [جواب دینے دیں۔] موت انسان کے لئے خدا کے ابتدائی مقصد کا حصہ نہیں تھی۔ یسوؔع نے ثابت کِیا کہ ہمارے عزیزواقارب موت سے بچائے جا سکتے ہیں۔ [پڑھیں یوحنا ۱۱:۱۱، ۲۵، ۴۴۔] اگرچہ یہ بات صدیوں پہلے واقع ہوئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا نے ہمارے لئے کیا کچھ کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ [علم کی کتاب کو صفحہ ۸۵ کی تصویر پر کھولیں اور تصویری عبارت پڑھیں۔ پھر صفحہ ۸۶ کی تصویر دکھائیں اور اس پر تبصرہ کریں۔] اگر آپ قیامت کی اس تسلیبخش اُمید کی بابت مزید پڑھنا پسند کرینگے تو مَیں یہ کتاب آپکے پاس چھوڑ کر خوش ہونگا۔“
۳ اُمیدِقیامت کی بابت ابتدائی گفتگو کے بعد، آپ اُسی شخص کے ساتھ اگلی گفتگو اس طریقے سے شروع کر سکتے ہیں:
▪ ”شاید آپ کو میری یہ بات یاد ہو کہ موت انسان کیلئے خدا کے ابتدائی مقصد کا حصہ نہیں تھی۔ اگر یہ سچ ہے تو ہم کیوں بوڑھے ہوتے اور مرتے ہیں؟ بعض کچھوے ۱۰۰ سال سے زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں، اور ایسے درخت بھی موجود ہیں جو ہزاروں سال سے قائمودائم ہیں۔ کیوں انسان ہی صرف ۷۰ یا ۸۰ سال زندہ رہتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] ہم اسلئے مرتے ہیں کیونکہ پہلے انسانی جوڑے نے خدا کی نافرمانی کی تھی۔“ پڑھیں رومیوں ۵:۱۲۔ علم کی کتاب صفحہ ۵۳ پر کھولیں اور باب کا عنوان پڑھیں۔ شائعشُدہ سوالات کے جوابات کی نشاندہی کرتے ہوئے، پہلے تین پیراگرافوں پر غور کریں۔ باقیماندہ باب پر گفتگو کرنے کیلئے بعد میں واپس آنے کا بندوبست کریں۔ اس اثنا میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کیلئے اُس شخص کی حوصلہافزائی کریں۔
۴ اگر آپ کسی ایسے شخص سے باتچیت کر تے ہیں جو مذہبی دکھائی دیتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں:
▪ ”درحقیقت آجکل ہزاروں مختلف مذاہب موجود ہیں۔ وہ تمام اقسام کے متضاد عقائد کی تعلیم دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب اچھے ہیں اور ہم جو بھی اعتقاد رکھتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ [جواب دینے دیں۔] یسوؔع نے سچے مذہب کی تعلیم دی اور ظاہر کِیا کہ پرستش کی دیگر اقسام خدا کو قابلِقبول نہیں ہیں۔ [پڑھیں متی ۷:۲۱-۲۳۔] اگر ہم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم اُسکی مرضی کی مطابقت میں اُس کی پرستش کریں۔“ علم کی کتاب باب ۵ پر کھولیں، عنوان پڑھیں، اور چند ایک ذیلیسُرخیوں کی نشاندہی کریں۔ وضاحت کریں کہ یہ معلومات کسی شخص کی یہ سیکھنے میں مدد کرینگی کہ کیسے خدا کو خوش کریں۔ کتاب پیش کریں۔
۵ بہت زیادہ مذاہب ہو نے کی وجہ سے پریشان لوگ آپ کی واپسی ملاقات پر شاید اس سوال کے جواب کی قدر کریں:
▪ ”آجکل اتنے زیادہ مختلف مذاہب موجود ہونے کیساتھ، ہم کیسے تعیّن کر سکتے ہیں کہ صحیح کونسا ہے؟ آپ کس چیز کی تلاش کرینگے؟ [جواب دینے دیں۔] یسوؔع نے ہمیں بتایا کہ اُس کے سچے پیروکاروں کی شناخت کیسے کریں۔“ پڑھیں یوحنا ۱۳:۳۵۔ علم کی کتاب کے باب ۵ میں پیراگراف ۱۸ اور ۱۹ پر غور کریں۔ واضح کریں کہ ان صحیفائی راہنمائیوں اور جھوٹی تعلیم کے اخراج کے علم کو استعمال کرتے ہوئے، ایک شخص سچے مذہب کو پہچان سکتا ہے۔ بتائیں کہ کیسے یہوؔواہ کے گواہ پوری دُنیا میں اپنی حقیقی محبت اور اعلیٰ اخلاقی معیاروں کیلئے مشہور ہیں۔ وضاحت کریں کہ کیسے، علم کی کتاب کو استعمال کرتے ہوئے، بائبل کا مطالعہ صاف طور پر اُس قسم کی پرستش کی شناخت کرائے گا جسے خدا پسند کرتا ہے۔
۶ اگر آپ کسی ماں یا باپ سے ملتے ہیں تو یہ رسائی مؤثر ہو سکتی ہے:
▪ ”ہر روز، ہم ایسے سرکش نوجوانوں کی بابت رپورٹیں سنتے ہیں جو کسی بھی صورت میں اخلاقی اقدار کے مالک دکھائی نہیں دیتے۔ بعض بالغ بچوں کو اچھائی اور بُرائی کے مابین امتیاز نہ سکھانے کے لئے سکول کے نظام کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کسے یہ تربیت فراہم کرنی چاہئے؟ [جواب دینے دیں۔] بائبل اس سوال پر جوکچھ بیان کرتی ہے اُسے سنیں۔ [پڑھیں افسیوں ۶:۴۔] یہ ہمیں بتاتی ہے کہ بچوں میں اخلاقی اقدار جاگزین کرنا والدین کی ذمہداری ہے۔“ علم کی کتاب کو صفحہ ۱۴۵ پر کھولیں، پیراگراف ۱۶ پڑھیں، اور صفحہ ۱۴۷ کی تصاویر پر تبصرہ کریں۔ وضاحت کریں کہ یہ کتاب تمام خاندان کے مطالعے کیلئے مرتب کی گئی ہے۔ صفحہ ۱۴۶ پر پیراگراف ۱۷ اور ۱۸ کو استعمال کرتے ہوئے، جسطرح ہم خاندانوں کیساتھ مطالعہ کرتے ہیں اس کا مظاہرہ کرنے کی پیشکش کریں۔
۷ اگر آپ نے پہلی ملاقات پر ہی ایک فکرمند ماں یا باپ کیساتھ مطالعہ شروع کر دیا تھا تو آپ شاید واپسی ملاقات پر یہ کہتے ہو ئے اسے جاری رکھ سکتے ہیں:
▪ ”آج کی دُنیا ہمارے نوجوانوں کے آگے بہت سی آزمائشیں رکھتی ہے۔ جب وہ جوان ہوتے ہیں تو یہ بات اُنکے لئے خداترس بننا نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ اپنی پچھلی گفتگو میں، ہم نے دو اُصولوں کو جُدا کِیا تھا۔ خداپرست والدین کے طور پر، ہمیں اپنے بچوں کیلئے عمدہ مثالیں قائم کرنے کی ضرورت ہے، اور ہمیں اُن کے لئے اپنی محبت کے مستقل اظہارات فراہم کرنے چاہئیں۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ایک اَور چیز ہے جسکی بچوں کو اپنے والدین کی طرف سے ضرورت ہے۔“ پڑھیں امثال ۱:۸۔ علم کی کتاب میں صفحہ ۱۴۸ کھولیں اور پیراگراف ۱۹-۲۳ کا احاطہ کرتے ہوئے، مطالعہ جاری رکھیں۔ تجویز پیش کریں کہ آپ باب ۱ سے شروع کرتے ہوئے، پورے خاندان سے مطالعہ کرنے کیلئے دوبارہ واپس آئینگے۔