ہر صحیفہ تعلیم دینے کیلئے فائدہمند ہے
۱ بائبل کی قدروقیمت کی بابت متعدد اور مختلف آراء ہیں۔ تاہم، ہم پُختہ یقین رکھتے ہیں کہ اِس کے صفحات میں نوعِانسان کے تمام پیچیدہ مسائل کے حل نیز زندگی میں ہماری ذاتی روش کے لئے قابلِاعتماد راہنمائی موجود ہے۔ (امثال ۳:۵، ۶) اِس کی مشورت کی حکمت لاثانی ہے۔ جن اخلاقی معیاروں کی یہ تائید کرتی ہے اِن پر کسی کو فوقیت نہیں۔ اِسکا پیغام زبردست ہے جو ”دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔“ (عبرانیوں ۴:۱۲) اِس کتاب کو الماری سے باہر نکالنے اور اِس کی ہوشمندانہ جانچپڑتال کرنے کی ضرورت کو سمجھنے کے لئے ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ نومبر کے دوران نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے ساتھ دی بائبل—گاڈز ورڈ اَور مینز؟ کتاب پیش کرتے وقت آپ شاید درجذیل تجاویز میں سے چند ایک استعمال کرنا چاہیں۔
۲ چونکہ بہت سے لوگ اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے کی بابت فکرمند ہوتے ہیں، شاید یہ رسائی اُن کی توجہ حاصل کرے:
▪ ”اِن دنوں بہت سے لوگ جن سے مَیں باتچیت کرتا ہوں اپنی مالی ذمہداریوں کو پورا کرنے کی بابت پریشان ہیں۔ بہتیرے مادی چیزوں کے حصول میں الجھ گئے ہیں، اور یہ تناؤ پر منتج ہوتا ہے۔ آپکے خیال میں ایسے معاملات پر بہترین مشورت حاصل کرنے کے لئے کہاں رجوع کر سکتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] مَیں نے دیکھا ہے کہ بائبل عملی نصیحت پیش کرتی ہے جو غیرضروری مسائل سے بچنے کے لئے ہماری مدد کر سکتی ہے۔ آئیے مَیں آپ کو ایک مثال دکھاتا ہوں۔“ کتاب دی بائبل—گاڈز ورڈ اَور مینز؟ کا صفحہ ۱۶۳ کھولیں اور پیراگراف ۳ میں حوالہشُدہ ۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰ کو پڑھیں۔ پیراگراف ۴ پر مزید تبصرے کریں، اور پھر کتاب پیش کریں۔
۳ یہ ایک اَور تجویز ہے جسکی بابت آپ سوچ سکتے ہیں:
▪ ”ہر بار جب ہم اخبار پڑھتے یا خبریں سنتے ہیں تو ہم کسی اَور تکلیفدہ مسئلے کی بابت سنتے ہیں جو ہمیں پریشان کر دیتا ہے۔ [کسی پریشانکُن واقعہ کا ذکر کریں جس کا ذکر حال ہی میں خبروں میں کِیا گیا ہے۔] ہم اِس طرح کے مسائل سے کیسے نپٹ سکتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] پیچھے ۱۹۸۳ میں ریاستہائے متحدہ کے اُس وقت کے صدر [رؔونلڈ ریگن] نے کہا کہ بائبل میں عظیمترین پیغام ہے جو کبھی لکھا گیا ہو اور یہ کہ ’اِس کے صفحات کے اندر تمامتر مسائل کے حل پائے جاتے ہیں جو کبھی انسان کے علم میں آئے ہیں۔‘ اُس نے جوکچھ کہا وہ بائبل جو خود بیان کرتی ہے اُسے ذہن میں لاتا ہے۔ [۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷ کو پڑھیں۔] آئیے مَیں آپ کو بتاؤں کہ ہم کس وجہ سے بائبل پر اعتماد رکھ سکتے ہیں۔“ اشتہار جس وجہ سے آپ بائبل پر بھروسہ کر سکتے ہیں میں سے چند اہم نکات کو نمایاں کریں۔ بعد میں آکر باتچیت کرنے کی پیشکش کریں کہ یہ کتنا شاندار ہے کہ بائبل پیشینگوئیاں حالیہ عالمی واقعات میں تکمیل پا رہی ہیں۔
۴ اگر آپکے علاقے میں بہت زیادہ غیرمذہبی لوگ ہیں تو آپ اِس رسائی کو آزما سکتے ہیں:
▪ ”اِس علاقے میں بہت سے لوگ بعض مُقدس کتابوں کو بطور ازخود تردید کرنے والی اور بطور خرافات سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اُنہوں نے مذہب کے نام سے کی جانے والی اتنی زیادہ بُری باتیں دیکھی ہیں کہ وہ بائبل پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔ درحقیقت، زیادہ سے زیادہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا بائبل خدا کا کلام ہے یا انسان کا۔ آپ کی کیا رائے ہے؟“ جواب دینے دیں۔ صاحبِخانہ کے جواب کے پیشِنظر، کتاب دی بائبل—گاڈز ورڈ اَور مینز؟ کے کسی ایسے حصے کو کھولیں جسکا تعلق صاحبِخانہ کے اعتراض یا نقطۂنگاہ سے ہے، اور ایک یا دو نکات پر باتچیت کریں۔ مثال کے طور پر، شاید آپکو صفحہ ۶۶ پر شروع ہونے والے ذیلی عنوان ”یسوؔع—ایک حقیقی ہستی“ کے تحت پیراگراف ۲۷-۲۹ استعمال کرنے کا موقع مِل جائے۔
۵ ہمارے عظیم مُعلم نے یقین کر لیا ہے کہ اُس کی مرضی کا علم سب کے لئے قابلِرسائی ہو جو اُسے جاننا چاہتے ہیں۔ بائبل کی حقیقی قدروقیمت کو سمجھنے میں دوسروں کی مدد کرنا اُن بہترین باتوں میں سے ایک ہے جو ہم اُن کی مدد کرنے کے لئے کر سکتے ہیں؛ یہ اُن کی زندگیاں بچا سکتا ہے۔—امثال ۱:۳۲، ۳۳۔