یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 مارچ ص.‏ 14-‏19
  • اپنا دھیان بٹنے نہ دیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنا دھیان بٹنے نہ دیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کن باتوں کی وجہ سے ہمارا دھیان بھٹک سکتا ہے؟‏
  • یسوع نے یہوواہ کو سب سے زیادہ اہمیت کیسے دی؟‏
  • ہم یہوواہ کو سب سے زیادہ اہمیت کیسے دے سکتے ہیں؟‏
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع برانچ کے نمائندے کے ساتھ
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 مارچ ص.‏ 14-‏19

18-‏24 مئی 2026ء

گیت نمبر 35 اہم باتوں پر دھیان دیں

اپنا دھیان بٹنے نہ دیں

‏”‏یہوواہ کی مرضی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔“‏‏—‏اِفِس 5:‏17‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم اُس وقت بھی یہوواہ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کیسے دے سکتے ہیں جب ہم اپنے مسئلوں کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں اور ہم میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں بچتی۔‏

1-‏2.‏ کبھی کبھار ایک اہم چیز بھی ہمارا دھیان کیسے بھٹکا سکتی ہے؟‏

فرض کریں کہ آپ گاڑی چلا رہے ہیں اور آپ کو کسی کا فون آتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کو جس شخص کی کال آ رہی ہے، اُسے جواب دینا بہت ضروری ہے۔ لیکن آپ یہ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر آپ نے وہ کال سنی تو آپ کا دھیان زیادہ اہم بات سے ہٹ جائے گا۔ آپ کو پتہ ہے کہ اُس لمحے آپ کے لیے اپنا پورا دھیان سڑک پر رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اِسی طرح کبھی کبھار ہمیں اپنی زندگی میں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اُس لمحے ہمارے لیے کیا کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔‏

2 ہم سبھی کو اپنی زندگی میں بہت سے اہم کام کرنے ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم کام وہ ہوتے ہیں، جو یہوواہ کی عبادت سے تعلق رکھتے ہیں۔‏a (‏متی 6:‏33‏)‏ اِس لیے یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم بہت سوچ بچار کر کے اِس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ کون سے کام ہمارے لیے یہوواہ کی خدمت کرنے کی راہ میں رُکاوٹ بن سکتے ہیں۔—‏اَمثا 4:‏25؛‏ متی 6:‏22‏۔‏

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے اور اِن پر غور کرنے سے ہمیں کیسے فائدہ ہوگا؟‏

3 بے‌شک ہم میں سے کوئی بھی جان بُوجھ کر اپنا دھیان یہوواہ کی خدمت سے نہیں ہٹانا چاہتا۔ لیکن ہم سبھی کو اپنی زندگی میں ایسی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی وجہ سے ہمارا دھیان بڑی آسانی سے یہوواہ سے ہٹ سکتا ہے۔ (‏لُو 21:‏34-‏36‏)‏ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اپنا دھیان یہوواہ کی خدمت پر رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ہم اِن تین سوالوں پر غور کریں گے:‏ (‏1)‏کن چیزوں کی وجہ سے ہمارا دھیان بٹ سکتا ہے؟ (‏2)‏یسوع نے یہوواہ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے کیا کِیا؟ اور (‏3)‏ہم یہوواہ کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ کیسے دے سکتے ہیں؟‏

کن باتوں کی وجہ سے ہمارا دھیان بھٹک سکتا ہے؟‏

4-‏6.‏ کون سی چیزیں بڑی آسانی سے ہمارا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹا سکتی ہیں؟‏

4 ہماری زندگی میں بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جو ہمارا وقت اور توجہ مانگتے ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں صحت کے مسئلوں کا سامنا ہے یا پھر ہمیں اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کچھ ضروری کام کرنے ہوتے ہیں۔ بے‌شک یہ کام اہم ہوتے ہیں لیکن کیا اِن کی وجہ سے ہمارا دھیان بٹ سکتا ہے؟ جی۔ اگر یہ کام ہمارے سر پر سوار رہتے ہیں اور ہمارا سارا وقت اور طاقت نچوڑ لیتے ہیں تو یہ ہمارا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹا سکتے ہیں۔‏

5 شاید ہم میں سے بہت سے بہن بھائی ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں دنگے‌فساد، بے‌روزگاری، یا بیماریاں بہت عام ہیں۔ (‏2-‏تیم 3:‏1‏)‏ جب ہمیں اِن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو شاید ہم اِتنے پریشان ہو جائیں کہ ہم ہر وقت بس اِنہی کے بارے میں سوچتے رہیں۔‏

6 اِس کے علاوہ شاید ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہیں اِن بُرے حالات کا سامنا کرنا پڑا اور اِن کی وجہ سے اُن کی زندگی بالکل بدل گئی۔ ظاہری بات ہے کہ ایسے حالات سے گزر کر کوئی بھی شخص پریشان ہو جائے گا۔ یہوواہ نے اِنسانوں کو پریشانی اور تکلیفیں سہنے کے لیے بنایا ہی نہیں تھا۔ مشکلیں سہتے وقت شاید کچھ لوگوں کو لگے کہ اب وہ کبھی ایک نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ اِس لیے کچھ لوگ اپنے غم اور فکروں کو بُھلانے کے لیے آرام اور تفریح میں زیادہ سے زیادہ وقت لگانے لگتے ہیں۔ اگر ہمیں بھی کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ آئیے یسوع مسیح کی مثال پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سی باتیں اُن کا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹا سکتی تھیں لیکن اُنہوں نے اپنا دھیان یہوواہ کی مرضی پوری کرنے پر کیسے رکھا۔‏

یسوع نے یہوواہ کو سب سے زیادہ اہمیت کیسے دی؟‏

7.‏ کون سی باتیں یسوع کا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹا سکتی تھیں؟‏

7 یسوع مسیح کا دھیان بہت سی باتوں کی وجہ سے بٹ سکتا تھا۔ مثال کے طور پر اُن کے زمانے میں بہت سے لوگ غریب تھے اور طرح طرح کی بیماریوں کی وجہ سے تکلیف سہہ رہے تھے۔ (‏متی 14:‏14؛‏ مر 14:‏7‏)‏ وہ لوگ نہ صرف رومی حکومت کے ہاتھوں بلکہ اپنے ہم‌ایمانوں یعنی یہودیوں کے ہاتھوں بھی ظلم سہہ رہے تھے۔ اِس لیے جب کچھ لوگوں نے دیکھا کہ یسوع کے پاس معجزے کرنے کی طاقت ہے تو اُنہوں نے یسوع کو اپنا بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ (‏یوح 6:‏14، 15‏)‏ اَور تو اَور شیطان نے بھی یسوع کو دُنیا کا حکمران بننے کی پیشکش کی تھی۔ یسوع چاہتے تو وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ اگر وہ لوگوں کے حکمران بن جائیں گے تو بہت اچھا ہوگا۔ (‏متی 4:‏8، 9‏)‏ اِس کے علاوہ اگر یسوع چاہتے تو وہ اُس وقت اپنے لیے ایک آسان راستہ چُن سکتے تھے جب اُن کے قریبی دوست پطرس نے اُن سے کہا تھا:‏ ”‏مالک!‏ خود پر رحم کریں۔“‏—‏متی 16:‏21، 22‏۔‏

8.‏ یسوع نے اُن مشکلوں کا مقابلہ کیسے کِیا جن کی وجہ سے اُن کا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹ سکتا تھا؟‏

8 یسوع مسیح اپنی زندگی میں یہوواہ کو پہلا درجہ کیسے دے پائے؟ اِس سلسلے میں اُنہوں نے تین کام کیے۔ سب سے پہلا کام:‏ اُنہوں نے اپنے آسمانی باپ کی سوچ کو اپنایا۔ (‏یوح 8:‏28؛‏ 14:‏9‏)‏ دوسرا کام:‏ وہ خدا کی بادشاہت کی مُنادی کرنے اور دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں تعلیم دینے میں مصروف رہے (‏متی 9:‏35‏)‏ اور تیسرا کام:‏ اُنہوں نے ہمیشہ یہ یاد رکھا کہ کون سی بات واقعی سب سے زیادہ اہم ہے۔ (‏یوح 4:‏34‏)‏ جب شیطان نے یسوع کو آزمایا تو اُنہوں نے صاف اور سیدھے لفظوں میں شیطان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اور جب پطرس نے یسوع کو ایک ایسا کام کرنے کے لیے کہا جو یہوواہ کی مرضی کے خلاف تھا تو یسوع نے اُن کی بات کو بھی رد کر دیا حالانکہ یسوع جانتے تھے کہ پطرس نے وہ بات صاف نیت سے کی تھی۔ (‏متی 4:‏10؛‏ 16:‏23‏)‏ سچ ہے کہ ہمارے مسئلے اُن مسئلوں سے فرق ہو سکتے ہیں جن کا سامنا یسوع نے کِیا تھا۔ لیکن ہم بھی یہوواہ کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دینے کے لیے وہی تین کام کر سکتے ہیں جو یسوع نے کیے تھے۔‏

ہم یہوواہ کو سب سے زیادہ اہمیت کیسے دے سکتے ہیں؟‏

9.‏ اِفِسیوں 5:‏17 کے مطابق ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟‏

9 یہوواہ کی طرح سوچیں۔‏ ایسا کرنے سے آپ ’‏اُس کی مرضی کو سمجھ‘‏ پائیں گے۔ ‏(‏اِفِسیوں 5:‏17 کو پڑھیں۔)‏ آپ یہوواہ کا کلام پڑھنے اور اِس پر سوچ بچار کرنے سے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سی باتیں اُس کے دل کو خوش کرتی ہیں۔ آپ تو اُس صورتحال میں بھی یہوواہ کی مرضی کو جان سکتے ہیں جب اُس صورتحال کے بارے میں بائبل میں واضح طور پر نہیں بتایا جاتا۔ لیکن اِس کے لیے آپ کو مختلف معاملوں کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو اچھی طرح سے جاننا ہوگا اور پھر اِس کے مطابق کام کرنا ہوگا۔‏

10.‏ ہم یہوواہ کی سوچ کو کیسے جان سکتے ہیں؟‏

10 یہوواہ کی سوچ کو جاننے کے لیے ہم اُس کے کلام کا مطالعہ کر سکتے ہیں اور اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ وہ کتنے پیار سے اِنسانوں کی مدد کرتا ہے۔ (‏یرم 45:‏5‏)‏ بائبل پڑھتے وقت ہم خود سے اِس طرح کے سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏مجھے اِن آیتوں سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ اور مَیں اِن آیتوں کی مدد سے اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق کیسے ڈھال سکتا ہوں؟“‏ ظاہری بات ہے کہ ہماری سوچ یہوواہ کی سوچ کے آگے بہت چھوٹی ہے۔ (‏یسع 55:‏9‏)‏ اِس لیے ہمیں اُس سے یہ دُعا کرنی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی پر چلنے میں ہماری مدد کرے۔ (‏زبور 143:‏10‏)‏ اِس کے علاوہ ہمیں یہوواہ سے یہ دُعا بھی کرنی چاہیے کہ وہ ہماری مدد کرے تاکہ ہم اُس کی سوچ کو سمجھ سکیں اور اِسے اپنا سکیں۔—‏1-‏یوح 5:‏14‏۔‏

11.‏ یہوواہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟‏

11 یہوواہ کی سوچ کو جاننے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم دُنیا کے خاتمے سے پہلے تیار رہیں۔ اِسی لیے وہ یہ نہیں چاہتا کہ ہمارا دھیان اُن باتوں سے ہٹ جائے جو واقعی بہت اہم ہیں۔ (‏متی 24:‏44‏)‏ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ ہم زندگی کی فکروں کے بوجھ تلے دب جائیں۔ (‏متی 6:‏31، 32‏)‏ اِسی لیے وہ اُس وقت ہمیں بہت اچھے مشورے دیتا ہے جب ہم اپنی صحت، نوکری یا گھر والوں کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ جب بھی ہمیں مشکلوں کا سامنا کرتے وقت طاقت اور دانش‌مندی کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم اُس پر بھروسا کریں۔—‏زبور 55:‏22؛‏ اَمثا 3:‏5-‏7‏۔‏

12.‏ کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم دُنیا کے بُرے حالات کے باوجود خوش رہ سکیں؟ (‏متی 5:‏3‏)‏

12 یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں۔‏ ہم سبھی کو دُنیا کے بُرے حالات کو دیکھ کر کسی حد تک پریشانی ہوتی ہے اور اِنہیں روکنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ لیکن اگر ہم یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں گے تو ہم بُرے حالات کی وجہ سے حد سے زیادہ پریشان نہیں ہوں گے۔ ہم یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے سے خوش رہ سکتے ہیں کیونکہ یہوواہ نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ ہم ایسا کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ‏(‏متی 5:‏3 کو پڑھیں۔)‏ ہم یہوواہ کے کلام کا مطالعہ کرنے اور بڑھ چڑھ کر اُس کی خدمت کرنے سے اپنی اِس ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بھی ہم یہوواہ کو خوش کر پائیں گے کیونکہ ہم اپنے وقت کا اچھا اِستعمال کر رہے ہوں گے۔—‏اَمثا 23:‏15‏۔‏

13.‏ ہم ”‏اپنے وقت کا بہترین اِستعمال“‏ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

13 یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم نے اِس بات کا پکا اِرادہ کِیا ہوا ہے کہ ہم”‏اپنے وقت کا بہترین اِستعمال“‏ کریں گے۔ (‏اِفِس 5:‏15، 16‏)‏ بائبل میں ہمیں صرف یہی نہیں سکھایا گیا کہ ہمیں اپنے روزمرہ کے کاموں کو کرنے کے لیے اپنے وقت کو کیسے اِستعمال کرنا چاہیے بلکہ اِس میں ہمیں یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ ہم اِس بُری دُنیا کے خاتمے کے آنے سے پہلے اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں۔ تو ہم اپنے وقت کو بہترین طریقے سے اِستعمال کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اگر ہم زیادہ‌تر وقت دُنیا میں چلنے والے مسئلوں کے بارے پڑھیں گے یا سنیں گے تو ہم بے‌حوصلہ ہو جائیں گے اور ہمارے پاس اُن کاموں کو کرنے کے لیے طاقت نہیں بچے گی جو ہم یہوواہ کی خدمت میں اِستعمال کر سکتے ہیں۔ تو اچھا ہوگا کہ ہم بہت زیادہ بُری خبروں کے بارے میں نہ تو پڑھیں اور نہ ہی اِنہیں دیکھیں اور سنیں۔ اِس طرح ہمارے پاس یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے زیادہ وقت اور طاقت ہوگی۔ اِس کے علاوہ ہمیں اِس بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اَور زیادہ بڑھ چڑھ کر مُنادی کیسے کر سکتے ہیں جیسے کہ ہم اَور زیادہ واپسی ملاقاتیں کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہمیں جب بھی موقع ملے، ہم دوسروں کو گواہی دیں تاکہ وہ ”‏نجات پائیں اور سچائی کے بارے میں صحیح علم حاصل کریں۔“‏—‏1-‏تیم 2:‏4‏۔‏

14.‏ یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے سے ہمیں کن طریقوں سے فائدہ ہوگا؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

14 یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے سے ہم یہ بات یاد رکھ پاتے ہیں کہ دُنیا میں اِتنے بُرے حالات کیوں ہیں۔ جب ہم دُنیا میں پھیلی غریبی، ظلم‌وتشدد اور بیماریاں دیکھتے ہیں تو ہم بہت زیادہ پریشان نہیں ہوتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اِن باتوں کے بارے میں پہلے سے ہی بائبل میں بتا دیا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ بہت جلد اِن سب مصیبتوں کو ختم کر دے گا اور ایک نئی دُنیا قائم کرے گا۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، وہ ہماری مدد کرے گا تاکہ ہم بُرے حالات میں بھی پُرسکون رہیں اور اُس کے وفادار رہیں۔—‏زبور 16:‏8؛‏ 112:‏1،‏ 6-‏8‏۔‏

ایک میاں بیوی بڑے اِعتماد سے ٹرالی کے ذریعے گواہی دینے کے لیے جا رہے ہیں۔ تصویروں کا مجموعہ:‏ دُنیا میں چلنے والے بُرے حالات۔ 1.‏ کچھ لوگ بڑے غصے سے سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ 2.‏ سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کا اِشتہار۔ 3.‏ کچھ فوجی میدانِ‌جنگ میں ہیں۔ 4.‏مختلف بیماریوں کے لیے دوائیاں۔ 5.‏ وہ چارٹ جس میں کمپنیوں کے گِرتے ہوئے سٹاک دِکھائے گئے ہیں۔‏

چاہے دُنیا میں جتنے بھی بُرے حالات چل رہے ہوں، یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)‏b


15.‏ پہلا پطرس 4:‏7 کے مطابق ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟‏

15 کبھی نہ بھولیں کہ کون سی بات واقعی اہم ہے۔‏ آج دُنیا میں بہت سے لوگوں کا دھیان صرف موج مستی اور تفریح کرنے پر ہی لگا رہتا ہے اور وہ اِس بارے میں نہیں سوچتے کہ اِس دُنیا کا خاتمہ کتنا قریب ہے۔ بے‌شک تفریح کرنا غلط نہیں ہے لیکن ہمیں”‏سمجھ‌داری سے کام“‏ لیتے ہوئے تفریح کے بارے میں دُنیا کی سوچ کو نہیں اپنانا چاہیے۔ ‏(‏1-‏پطرس 4:‏7 کو پڑھیں۔)‏ اِس طرح ہم اپنا بہت زیادہ وقت اور طاقت تفریح کرنے میں نہیں لگائیں گے اور اچھے فیصلے کر پائیں گے۔ اپنے وقت کا سمجھ‌داری سے اِستعمال کرنے سے ہم ظاہر کریں گے کہ ہمیں یہوواہ کی سوچ اور احساسات کی پرواہ ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی باتیں اہم ہیں اور کون سی نہیں۔—‏2-‏تیم 1:‏7‏۔‏

16.‏ اپنی موت سے کچھ وقت پہلے بھی یسوع کا دھیان کس بات پر تھا؟‏

16 یسوع مسیح نے ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھا کہ یہوواہ کا وفادار رہنا اور اُسے خوش کرنا زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یسوع کا تو اپنی موت سے کچھ وقت پہلے بھی اِسی بات پر دھیان تھا۔ اِسی لیے اُنہوں نے شدت سے یہوواہ سے دُعا کی۔ لیکن یسوع کے شاگردوں نے ایسا نہیں کِیا۔ وہ دُعا کرنے کی بجائے ”‏غم سے نڈھال ہو کر سو گئے۔“‏—‏لُو 22:‏39-‏46؛‏ یوح 19:‏30‏۔‏

17.‏ بہت سے لوگ سوشل میڈیا کیوں اِستعمال کرتے ہیں اور اِس سے اُن کا دھیان اہم باتوں سے کیسے ہٹ سکتا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

17 یسوع مسیح کے شاگردوں کی طرح ہم بھی کبھی کبھار تھک کر نڈھال اور بے‌حوصلہ ہو سکتے ہیں۔ شاید دُنیا کے حالات کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہو جائیں۔ آج بہت سے لوگ اپنی پریشانیوں سے دُور بھاگنے کے لیے اِنٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک شخص اپنے دوستوں اور رشتے‌داروں کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اپنی تصویریں پوسٹ کرنے اور اِنٹرنیٹ پر ویڈیوز دیکھنے اور گیمز کھیلنے میں اپنا بہت زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں۔ ہم اِس پھندے سے بچنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏مَیں جس حد تک سوشل میڈیا کو اِستعمال کرتا ہوں، کیا اُس سے مجھے فائدہ ہو رہا ہے یا میرا دھیان زیادہ اہم باتوں سے ہٹ رہا ہے؟“‏

ایک بہن اپنے گھر میں ہے اور وہ بائبل پڑھنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اُس کا دھیان اپنے فون پر بجنے والے الارم کی وجہ سے بٹا ہوا ہے۔ اُسے اپنے دوستوں کی طرف سے میسج اور نئی فلموں اور چیزوں کو خریدنے کے نوٹیفیکیشن آ رہے ہیں۔‏

اگر ہم سمجھ‌داری سے کام لیں گے تو ہم سوشل میڈیا اور تفریح میں بہت زیادہ وقت لگانے سے بچ جائیں گے۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏


18.‏ ہمیں تفریح کا اِنتخاب کرتے وقت سمجھ‌داری سے کام کیوں لینا چاہیے؟‏

18 تھوڑی بہت تفریح کرنا اور کبھی کبھار آرام کرنا اچھی بات ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں اِس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ٹی‌وی یا اِنٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھیں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک ویڈیو یا کوئی ویڈیو کلپ دیکھتے ہیں اور پھر فوراً ہی ایک نئی ویڈیو سکرین پر آ جاتی ہے اور پھر ہم اُسے بھی دیکھنے لگتے ہیں۔ اِس طرح ہم ایک کے بعد ایک ویڈیو دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ کچھ ویڈیوز تو ایسی ہوتی ہیں جن میں مار دھاڑ اور حرام‌کاری دِکھائی جاتی ہے۔ ذرا ایشیا میں رہنے والے ہمارے ایک بھائی کی مثال پر غور کریں جسے ایسی ویڈیوز دیکھنے سے نقصان ہوا۔ شروع شروع میں وہ فلموں کے چھوٹے چھوٹے سین دیکھا کرتا تھا۔ لیکن پھر اُس کی سکرین پر کچھ اَور ویڈیوز کے سین بھی آنے لگے اور آہستہ آہستہ وہ نامناسب سین بھی دیکھنے لگا۔ آخرکار اُسے گندی فلمیں دیکھنے کی عادت ہو گئی۔ شکر ہے کہ ہمارے بھائی نے کلیسیا کے بزرگوں اور اپنے قریبی دوستوں سے مدد لی اور یوں وہ اپنی اِس عادت پر قابو پا سکا۔ مثال کے طور پر اُس نے کچھ ایپس کو ڈیلیٹ کر دیا اور یہ فیصلہ کِیا کہ وہ اپنے فون کو کتنی دیر اِستعمال کرے گا۔ اِس بھائی کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سمجھ‌داری سے اِس بات کا فیصلہ کریں کہ ہم اپنے فارغ وقت کو کیسے اِستعمال کریں گے۔‏

19.‏ اگر ہمارا دھیان ہر وقت تفریح اور آرام کرنے پر ہی لگا رہے گا تو کیا ہو سکتا ہے؟‏

19 ہمیں ایک اَور معاملے میں بھی تفریح اور آرام کرتے وقت سمجھ‌داری سے کام لینا چاہیے۔ ہم سبھی کو اپنی مصروف زندگی میں تھوڑا آرام کرنے اور اپنے لیے وقت نکالنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ صحت‌مند رہنے کے لیے اچھا بھی ہے۔ لیکن اگر ہم آرام اور تفریح کرنے پر بہت زیادہ دھیان دیں گے تو یہ ہماری توجہ زیادہ اہم باتوں سے ہٹا دیں گے اور ہمارا بہت زیادہ وقت لے لیں گے۔ (‏فِل 1:‏10‏)‏ تو ہم سبھی کو یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم کتنا آرام اور تفریح کریں گے اور اِن میں کتنا وقت لگائیں گے۔ اِس حوالے سے کوئی فیصلہ کرتے وقت ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏مَیں تفریح اور آرام کرنے میں جتنا وقت لگاتا ہوں، کیا اُس سے یہ نظر آتا ہے کہ مَیں سمجھ‌داری سے کام لے رہا ہوں؟ کیا مَیں اِس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ مَیں اُن کاموں کو زیادہ اہمیت دوں جو واقعی بہت اہم ہیں؟ کیا مَیں نے خود کو اِس دُنیا کے خاتمے کے لیے تیار کِیا ہوا ہے؟“‏

20.‏ یہ کیوں اچھی بات ہے کہ ہم کسی بھی چیز کی وجہ سے اپنا دھیان یہوواہ کی خدمت سے ہٹنے نہ دیں؟‏

20 یہ کتنی اچھی بات ہوگی نا کہ ہم کسی بھی چیز کو اِس بات کی اِجازت نہ دیں کہ یہ ہمارا دھیان زندگی کی سب سے اہم بات سے ہٹا دے یعنی یہوواہ کی خدمت کرنے سے!‏ (‏یسع 48:‏17‏)‏ یہوواہ کی مدد سے ہم ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کر پائیں گے اور دُنیا کے بُرے حالات کو دیکھ کر حد سے زیادہ پریشان نہیں ہوں گے۔ اِس کے علاوہ ہم بہت زیادہ تفریح کرنے میں اپنا وقت بھی ضائع نہیں کریں گے۔ آئیے ہم سبھی اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ ہم یہوواہ کی سوچ کو اپنائیں گے، اُس کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں گے اور اُن باتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے جو واقعی بہت اہم ہیں۔ ایسا کرنے سے ہم نہ صرف یہوواہ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دے پائیں گے بلکہ ”‏حقیقی زندگی کو[‏بھی]‏مضبوطی سے تھام سکیں“‏ گے۔—‏1-‏تیم 6:‏19‏۔‏

یہوواہ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • اُس کی سوچ کو جاننے کی کوشش کریں؟‏

  • اُس کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں؟‏

  • یہ کبھی نہ بھولیں کہ کون سی بات واقعی اہم ہے؟‏

گیت نمبر 129 ہم ثابت‌قدم رہیں گے

a جملے کی وضاحت:‏ یہوواہ کی عبادت سے تعلق رکھنے والے کاموں میں بائبل کا مطالعہ کرنا، عبادتوں میں جانا، خاندانی عبادت کرنا اور مُنادی کرنا شامل ہے۔ اِس کے علاوہ اِس میں ہماری عبادت‌گاہوں کو بنانا اور اِن کی دیکھ‌بھال کرنا، قدرتی آفت سے متاثر بہن بھائیوں کی مدد کرنا، اِجتماعوں پر کام کرنے کے لیے خوشی سے خود کو پیش کرنا یا بیت‌ایل میں خدمت کرنا بھی شامل ہے۔‏

b تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک میاں بیوی دُنیا کے حالات کی وجہ سے حد سے زیادہ فکرمند نہیں ہیں۔ اِس کی بجائے وہ مُنادی کرنے میں مصروف ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں