ہر نیک کام کیلئے خوشی سے خود کو پیش کرنا
۱ ایک دُنیاوی اشاعت نے یہ کہتے ہوئے یہوؔواہ کے گواہوں کا حوالہ دیا: ”کسی بھی دوسرے گروہ کے ایسے ارکان کو تلاش کرنا مشکل ہوگا جو اپنے مذہب کے لئے اتنی محنت کرتے ہوں جتنی کہ گواہ کرتے ہیں۔“ یہوؔواہ کے گواہ کیوں اتنی محنت اور ایسے مسرورکُن جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں؟
۲ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ فوری توجہ کی ضرورت کے احساس سے معمور ہیں۔ یسوؔع نے پہچان لیا تھا کہ اُس کے پاس محدود وقت ہے جس میں اُس نے زمین پر اپنا کام ختم کرنا تھا۔ (یوحنا ۹:۴) آج جبکہ خدا کا جلالی بیٹا اپنے دشمنوں کے درمیان حکمرانی کرتا ہے، یہوؔواہ کے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ اپنا کام کرنے کے لئے اُن کے پاس محدود وقت ہے۔ اس لئے، وہ پاک خدمت کے لئے خوشی سے خود کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ (زبور ۱۱۰:۱-۳) فصل کی کٹائی میں اَور زیادہ مزدوروں کو لانے کی ضرورت کے تحت، اُن کی کوششوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ (متی ۹:۳۷، ۳۸) لہٰذا، وہ یسوؔع کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس نے اپنے کام میں رضامندی اور مستعدی کا کامل نمونہ قائم کِیا۔—یوحنا ۵:۱۷۔
۳ یہوؔواہ کے گواہوں کے پوری جان سے یہوؔواہ کے لئے کام کرنے کی ایک اَور وجہ یہ ہے کہ اُن کی عالمگیر تنظیم دیگر تمام گروہوں سے مختلف ہے۔ دُنیاوی مذہبی تنظیمیں اپنے پیروکاروں سے خاصکر بہت ہی کم وقت اور کوشش کا تقاضا کرتی ہیں۔ جو کچھ اُن کا ایمان ہے وہ اُن کی روزمرّہ کی زندگیوں پر، دوسروں کے ساتھ اُن کے تعلقات پر، یا زندگی میں اُن کے مشاغل پر یا تو بہت ہی کم یا پھر کوئی اثر نہیں رکھتا۔ سچے ایمان کی قوتِمتحرکہ کی کمی کے باعث، اُنہوں نے اِصرار کِیا ہے کہ اُن کے چرواہے اُنہیں اِس بات کا یقین دلاتے ہوئے ’اُن سے خوشگوار باتوں کی بابت گفتگو کرتے ہیں‘ کہ اُن کی برائے نام کوشش ہی کافی ہے۔ (یسعیاہ ۳۰:۱۰) جذبۂبےاعتنائی اور روحانی سُستی کو جاگزین کرتے ہوئے، اُن کے پادریوں نے ’اُن کے کانوں میں کھجانے‘ سے احسان کِیا ہے۔—۲-تیمتھیس ۴:۳۔
۴ یہوؔواہ کے لوگوں کے درمیان کیا ہی فرق پایا جاتا ہے! ہماری پرستش سے متعلق ہر چیز میں کوشش، مشقت اور کام شامل ہوتا ہے۔ ہر روز اور ہر کام میں جو ہم کرتے ہیں، ہم اپنے ایمان کو عمل میں لاتے ہیں۔ جبکہ سچائی ہمیں نہایت خوشی عطا کرتی ہے، اِس میں جو کچھ یہ تقاضا کرتی ہے اُسے پورا کرنے کے لئے ہماری طرف سے ”بڑی جانفشانی“ شامل ہے۔ (مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۲:۲) زیادہتر لوگوں کو مصروف رکھنے کے لئے روزمرّہ زندگی کی ذمہداریوں کی دیکھبھال کرنا ہی کافی ہے۔ پھر بھی، ہم اِن فکروں کو اجازت نہیں دیتے کہ ہمیں بادشاہتی مفادات کو مُقدم رکھنے سے روکیں۔—متی ۶:۳۳۔
۵ یہوؔواہ کی خدمت میں ہمیں جو کچھ بھی کرنے کے لئے دیا گیا ہے وہ اس قدر مفید اور فوری تعمیل طلب ہے کہ ہم دیگر مشاغل سے وقت ’نکالنے‘ اور اُسے روحانی معاملات میں زیادہ نفعبخش انداز میں استعمال کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ (افسیوں ۵:۱۶) یہ جانتے ہوئے کہ ہماری خدائی عقیدت اور رضامندانہ جذبہ یہوؔواہ کو خوش کرتے ہیں، ہمارے پاس اپنی محنت کو جاری رکھنے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ کثیر برکات جو اب ہم حاصل کرتے ہیں اور آئندہ زندگی کے امکانات کے ساتھ، ہمارا عزمِمُصمم بادشاہتی مفادات کی خاطر ”محنت اور جانفشانی“ کرنے کو جاری رکھنا ہے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۰۔
۶ عقیدت اور جذبۂخودایثاری: آجکل زیادہتر لوگ مادی ضروریات اور مفادات کو کسی بھی دوسری چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اِس بات پر پوری توجہ مرکوز کرنے کو بالکل درست خیال کرتے ہیں کہ وہ کیا کھائیں، پئیں، یا پہنیں گے۔ (متی ۶:۳۱) ضروریاتِزندگی پر قانع نہ ہوتے ہوئے، وہ اب اچھی زندگی سے بھرپور لطفاندوز ہونے اور ’سالوں کے لئے بہت ساری اچھی چیزیں جمع کر رکھنے‘ کے نصبالعین سے تحریک پاتے ہیں ’تاکہ وہ آرام سے رہ سکیں، کھائیں، پئیں اور مزے اُڑائیں۔‘ (لوقا ۱۲:۱۹) ایک باقاعدہ چرچ جانے والا محسوس کرتا ہے کہ اُس کے مذہب کی طرف سے مطلوبہ کوئی بھی ذاتی کوشش اُس کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ ہے۔ بعض کیلئے مادہپرستانہ مشاغل کو چھوڑنے یا پھر کم کرنے یا کسی تسکینبخش شوق کو ترک کرنے کا نظریہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ اپنی ہی ذات پر اُس کی سوچ مرتکز ہونے کے ساتھ، جذبۂخودایثاری کو پیدا کرنا غیرحقیقی، غیرعملی ہے۔
۷ ہم اِس معاملے کو فرق انداز سے دیکھتے ہیں۔ خدا کے کلام نے ہماری سوچ کو بلند کر دیا ہے اِس طرح ہم انسانوں کے خیالات کی بجائے خدا کے خیالات پر سوچتے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۵:۸، ۹) زندگی میں ہمارے ایسے نصبالعین ہیں جو جسمانی مشاغل سے اعلیٰ ہیں۔ یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت اور اُس کے نام کی تقدیس پوری کائنات کے اندر نہایت اہم مسئلے ہیں۔ اِن مسائل کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ مقابلتاً تمام قومیں ”اُس کی نظر میں ہیچ ہیں۔“ (یسعیاہ ۴۰:۱۷) خدا کی مرضی کو نظرانداز کرنے والے طریقے سے اپنی زندگیاں بسر کرنے کی کسی بھی کوشش کو حماقت خیال کِیا جانا چاہئے۔—۱-کرنتھیوں ۳:۱۹۔
۸ پس اگرچہ بعض مادی چیزیں درکار ہوتی ہیں اور دیگر ہماری بادشاہتی کارگزاریوں کو سرانجام دینے کیلئے مفید ہوتی ہیں تو بھی ہم سمجھتے ہیں کہ یہ درحقیقت ”نہایت اہم چیزیں“ نہیں ہیں۔ (فلپیوں ۱:۱۰، اینڈبلیو) مادی مفادات کی اپنی جستجو کو محدود کرنے میں اور دانشمندی سے اپنے دلوں کو ’اندیکھی چیزوں‘ پر ’جو ابدی ہیں“ مرکوز کئے رکھنے کی کوشش کرنے میں ہم ۱-تیمتھیس ۶:۸ کے جذبے کی پیروی کرتے ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۴:۱۸۔
۹ ہم جتنا زیادہ خدائی خیالات پر سوچتے ہیں ہمیں مادی چیزوں کے سلسلے میں اُتنی ہی کم فکر ہوتی ہے۔ جو کچھ یہوؔواہ نے ہمارے لئے پہلے ہی سے کر رکھا ہے اور مستقبل کیلئے اُس نے جن شاندار برکات کا وعدہ فرمایا ہے جب ہم اُسکی بابت سوچتے ہیں تو ہم سے وہ جیسی بھی قربانی مانگتا ہے ہم اِسے دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ (مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰) ہم تو اُسکے حضور اپنی زندگی کے مقروض ہیں۔ اگر اُسکا رحم اور محبت نہ ہوتے تو ہم اب اور مستقبل میں کسی بھی طرح زندگی سے محظوظ نہ ہو پاتے۔ ہم خود کو پیش کرنے کے پابند خیال کرتے ہیں کیونکہ ہر وہ کام جو ہم اُس کی خدمت میں کر رہے ہیں ’ہم پر کرنا فرض ہے۔‘ (لوقا ۱۷:۱۰) کوئی بھی چیز جسے یہوؔواہ کو واپس دینے کے لئے ہم سے کہا جاتا ہے، ہم اُس میں یہ جانتے ہوئے خوشی سے حصہ لینگے کہ ہم ”بہت کاٹیں“ گے۔—۲-کرنتھیوں ۹:۶، ۷۔
۱۰ رضامند کارکن اب درکار ہیں: اپنے آغاز ہی سے، مسیحی کلیسیا وسیع کارگزاری کے دَور میں داخل ہوگئی۔ ۷۰ س.ع. میں یرؔوشلیم کے زوال سے قبل مکمل گواہی دی جانی تھی۔ اُس وقت کے دوران یسوؔع کے شاگرد ”کلام سنانے کے جوش سے مجبور“ تھے۔ (اعمال ۱۸:۵) تیزترین توسیع نے مزید مبشروں اور ہنرمند چرواہوں کو تربیت دینے اور اُن کی مدد حاصل کرنے کو ضروری بنا دیا۔ دُنیاوی اربابِاختیار کے ساتھ تعلقات میں تجربہکار اور مادی اشیاء کو جمع کرنے اور بانٹنے کی نگرانی کرنے کے لائق قابل لوگوں کی ضرورت تھی۔ (اعمال ۶:۱-۶؛ افسیوں ۴:۱۱) جبکہ چند ایک نے نمایاں طور پر خدمت کی، زیادہتر پسِمنظر ہی میں رہے۔ لیکن اُن سب نے کام کو پورا کرنے کے لئے پورے دل سے باہم ملکر کام کرتے ہوئے ’جانفشانی کی۔‘—لوقا ۱۳:۲۴۔
۱۱ اگرچہ بعد میں آنے والی بہت صدیوں کے دوران عالمگیر پیمانے پر پُرجوش کارگزاری کی ضرورت نسبتاً کم تھی، بادشاہتی کارگزاری کی ایک بڑی تجدید کا آغاز اُس وقت ہوا جب ۱۹۱۴ میں یسوؔع نے اپنا بادشاہتی اختیار سنبھالا۔ پہلےپہل، کم ہی لوگوں نے سوچا کہ بادشاہتی مفادات کی خاطر کارکنوں کی ضرورت اتنی زیادہ ہو جائیگی کہ پوری دُنیا کے تمام ممالک کے رضامند اشخاص میں سے لاکھوں کی مدد درکار ہوگی۔
۱۲ آجکل تنظیم مختلف قسم کے ایسے منصوبوں میں پورے طور پر مشغول ہے جنہوں نے ہمارے وسائل پر اُن کی انتہا تک بوجھ ڈالا ہے۔ بادشاہتی کارگزاری بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے دَور کی نزاکت ہمیں جانفشانی کرنے اور زیرِتکمیل کام کو پورا کرنے کے لئے ہمارے پاس ہر اثاثے کو استعمال کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ تمام بدکار نظامالعمل کے خاتمے کے اسقدر نزدیک ہونے کے ساتھ، ہم آنے والے دنوں میں اَور بھی زیادہ زبردست کارگزاری کی توقع کرتے ہیں۔ یہوؔواہ کے ہر مخصوصشُدہ خادم سے درخواست کی گئی ہے کہ جمع کرنے کے اِس فوری تعمیل طلب کام میں خود کو رضامندی سے پیش کرے۔
۱۳ کیا کئے جانے کی ضرورت ہے؟ ہم حقگوئی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”خداوند کے کام میں کرنے کے لئے بہت کام“ ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸، اینڈبلیو) بہت سے علاقوں میں فصل پک چکی ہے، لیکن مزدور تھوڑے ہیں۔ ہمیں صرف اپنے ذاتی علاقے کے اندر گواہی دینے میں مزید ہمہگیر ہونے ہی کی نہیں بلکہ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں خدمت کرنے کے چیلنج سے نپٹنے میں بھی اپنا حصہ ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
۱۴ دُنیا کے تمام حصوں میں جسطرح گواہ دیگر کارگزاریوں کے لئے رضامندی سے خود کو پیش کرتے ہیں اُسے دیکھنا قابلِتعریف ہے۔ اِن کے کام کرنے کا حلقہ پرستش کے مقامات کو تعمیر کرنے میں رضاکارانہ پیشکش، کنونشنوں پر خدمت اور قدرتی آفت کے اوقات میں امدادی کاوشوں میں اعانت کرنے سے لیکر باقاعدہ بنیاد پر مقامی کنگڈم ہال کی صفائی تک ہو سکتا ہے۔ مؤخرالذکر کارگزاری کے سلسلے میں، ہمیشہ یہ تسلی کر لینے کا معاملہ موجود ہے کہ ہر اجلاس کے بعد کنگڈم ہال کو صاف اور باقرینہ حالت میں چھوڑا گیا ہے۔ اِن کاموں کو پورا کرنا جو شاید ادنیٰ دکھائی دیں لوقا ۱۶:۱۰ میں یسوؔع کے الفاظ کی مناسب سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے: ”جو تھوڑے میں دیانتدار ہے وہ بہت میں بھی دیانتدار ہے اور جو تھوڑے میں بددیانت ہے وہ بہت میں بھی بددیانت ہے۔“
▪ کلیسیائی کارگزاریوں کی حمایت کرنا: جبکہ ہر کلیسیا مجموعی تنظیم کے حصے کے طور پر کام کرتی اور ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ سے ہدایت حاصل کرتی ہے، یہ انفرادی بادشاہتی پبلشروں سے ملکر بنی ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) اس کی کامرانیوں کا انحصار زیادہتر اس بات پر ہے کہ ہر گواہ کام کرنے کے لئے کسقدر رضامند اور لائق ہے۔ کلیسیا اپنے علاقے میں خوشخبری کی منادی کرانے، نئے شاگرد بنانے اور پھر اُنہیں روحانی اعتبار سے تقویت بخشنے پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اس کام میں معاونت کر سکتا ہے۔ ہم ذاتی مطالعے، اجلاسوں میں پُرمطلب حصہ لینے اور کلیسیا کے اندر دیگر حاجتمندوں کی مدد کرنے میں بھی اپنے لئے نشانے قائم کر سکتے ہیں۔ یہ کارگزاریاں اپنی رضامندی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہمارے واسطے بہت سے عمدہ مواقع پیش کرتی ہیں۔
▪ نگہبانی کے مرتبوں پر فائز اشخاص کا پیشوائی کرنا: یہوؔواہ نے ہر کلیسیا کی نگرانی کو اپنے مقررہ بزرگوں کے ہاتھوں میں دے رکھا ہے۔ (اعمال ۲۰:۲۸) یہ ایسے اشخاص ہیں جنہوں نے اِس شرف کے لائق ٹھہرنے کی غرض سے ترقی کی ہے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱) عملاً کلیسیا میں ہر بھائی کے اندر زیادہ بڑی ذمہداریوں کے لائق ٹھہرنے کے لئے کچھ قابلیت ضرور ہے۔ بہتیرے بھائی روحانی طور پر ترقی کر رہے ہیں اور اُنہیں کلیسیائی بزرگوں کی راہنمائی اور پُرمحبت اعانت کے سائے میں ترقی کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ اِن اشخاص کو بائبل اور ہماری مطبوعات کے مستعد طالبعلم ہونا چاہئے۔ وہ روح سے مقررکردہ بزرگوں کے اطاعتشعار ہونے، اُن کے ایمان کی نقل کرنے اور نگہبانوں کے لئے مطلوبہ خوبیوں کو پیدا کرنے سے اپنی رضامندی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔—عبرانیوں ۱۳:۷، ۱۷۔
▪ کُلوقتی خدمت کو اختیار کرنا: کلیسیا بنیادی طور پر خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے کام کرتی ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) جب سرگرم اشخاص پائنیروں کے طور پر نام درج کرانے سے اپنی کوششوں کو تیز کرتے ہیں تو یہ کتنی بڑی برکت ہوتی ہے! اِس میں عموماً اُن کی نجی زندگیوں میں ردوبدل کرنا شامل ہوتا ہے۔ خدمت کے اِس خصوصی حلقے میں کام کرتے رہنے کی خاطر اُن کے لئے اضافی تبدیلیاں درکار ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ جو کچھ عارضی حوصلہشکنی کے باعث ایک سال یا تھوڑی مدت کے بعد چھوڑ جانے کی بجائے اِس شرف کو تھامے رہتے ہیں یہوؔواہ کی کثیر برکت کا تجربہ کرنے کا یقین رکھتے ہیں۔ پُرمحبت بزرگ اور دیگر پُختہ اشخاص قولوفعل سے اُن کی حوصلہافزائی کرتے ہوئے پائنیروں کی کامیابی کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اُن نوجوان لوگوں نے کیا ہی عمدہ جذبے کا مظاہرہ کِیا جو سکول سے فارغ ہونے پر فوراً پائنیر کام کی طرف چلے گئے ہیں! اُن بالغ اشخاص کے حق میں بھی یہ بات سچ ہے جو اپنی دُنیاوی ذمہداریوں کے کم ہوتے ہی باقاعدہ پائنیروں کے طور پر اندراج کرا لیتے ہیں۔ ایک مخصوصشُدہ مسیحی کے لئے یہ کسقدر تسکین کا باعث ہوتا ہے جب وہ یہوؔواہ کے جمع کرنے کے کام کی رفتار کو بڑھانے کے ساتھ یوں تعاون کرتا ہے!—یسعیاہ ۶۰:۲۲۔
▪ اجلاس کی جگہوں کی تعمیر اور دیکھبھال میں شریک ہونا: حقیقت میں سینکڑوں جدید کنگڈم ہال اور بہتیرے اسمبلی ہال تعمیر کئے گئے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ تقریباً سارا کام ہمارے اُن بھائیوں اور بہنوں کے ذریعے کِیا گیا ہے جنہوں نے خوشی سے اپنے وقت اور مہارتوں کی رضاکارانہ پیشکش کی ہے۔ (۱-تواریخ ۲۸:۲۱) ہزاروں رضامند کارکن کسی بھی طرح کے کام کرنے درکار ہوں اُنہیں انجام دینے سے اِن سہولیات کو اچھی حالت میں رکھتے ہیں۔ (۲-تواریخ ۳۴:۸) چونکہ یہ کام پاک خدمت کا ایک پہلو ہے اس لئے مدد کرنے والے رضامندی سے خود کو پیش کرتے ہیں اور اِس سلسلے میں اپنی خدمت کے لئے خرچ کی ہوئی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتے بالکل ویسے ہی جیسے وہ گھرباگھر کی منادی کرنے، کلیسیا میں عوامی تقاریر دینے یا اسمبلی یا کنونشن کا کام کرنے میں مدد دینے کے لئے معاوضہ ادا کئے جانے کا تقاضا نہیں کرتے۔ یہ رضاکار یہوؔواہ کی حمد کے لئے پرستش کے مقامات کا نقشہ بنانے اور تعمیر کرنے میں اپنی خدمات خوشی سے پیش کرتے ہیں۔ وہ قانونی دستاویزات مکمل کرنے، حسابات کے ریکارڈ بنانے، خریداری کے روابط قائم کرنے اور درکار سامان کی قیمت کا تخمینہ لگانے والے کاموں میں شوق سے مدد کرتے ہیں۔ یہوؔواہ کے یہ وفادار خادم کسی قِسم کا اُوپر کا خرچہ نہیں ڈالتے یا کسی بھی طریقے سے اپنی پیشکردہ خدمات سے بالواسطہ یا بِلاواسطہ مادی طور پر نفع حاصل نہیں کرتے کیونکہ اُن کی تمامتر مہارتیں اور وسائل یہوؔواہ کے لئے مخصوص ہیں۔ (دیکھیں فروری ۱۹۹۲ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری، صفحہ ۴، پیراگراف ۱۰) یہ کارگزاری مستعد کارکنوں کا تقاضا کرتی ہے جو اپنی خدمات ”جی سے“ انجام دیں جیسےکہ ”خداوند کے لئے کرتے“ ہیں۔—کلسیوں ۳:۲۳۔
۱۵ تو پھر، یہ کونسی چیز ہے جو یہوؔواہ کے لوگوں کی رضامندی کو منفرد بنا دیتی ہے؟ یہ دینے کا جذبہ ہے۔ اُن کے فیاضی کے ساتھ دینے میں پیسے یا مادی اشیاء سے زیادہ کچھ شامل ہے—وہ ”خوشی سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔“ (زبور ۱۱۰:۳) یہوؔواہ کے لئے ہماری مخصوصیت کا جوہر یہی ہے۔ ہمیں ایک خاص انداز سے اجر دیا گیا ہے۔ ہم ”زیادہ خوشی“ کا تجربہ کرتے ہیں اور ہم ”زیادہ کاٹتے“ ہیں کیونکہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں دوسرے اُس کی قدرافزائی کرتے ہیں، جو ہمیں اِس کا بدلہ دیتے ہیں۔ (اعمال ۲۰:۳۵؛ ۲-کرنتھیوں ۹:۶؛ لوقا ۶:۳۸) ہمارا سب سے بڑا محسن ہمارا آسمانی باپ، یہوؔواہ ہے جو ”خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۹:۷) وہ ہمیں ایسی برکات کے ساتھ سو گُنا واپس دیگا جو ہمیشہ تک قائم رہینگی۔ (ملاکی ۳:۱۰؛ رومیوں ۶:۲۳) لہٰذا جب آپکو یہوؔواہ کی خدمت میں استحقاقات دئے جاتے ہیں تو کیا آپ خوشی سے اپنی رضاکارانہ پیشکش کرینگے اور یسعیاؔہ کی طرح جواب دینگے: ”مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج“؟—یسعیاہ ۶:۸۔