روشنیبرداروں کے طور پر اپنے نمونہ دینے والے کی پیروی کرنا
۱ یسوؔع نے اپنی بابت کہا: ”مَیں دُنیا کا نُور ہوں۔“ اسکے نمونے کی پیروی کرنے سے، یسوؔع کے شاگرد بھی ”دنیا کے نُور“ تھے۔ (متی ۵:۱۴) ”دنیا کے نُور“ کے طور پر، یسوؔع کہہ سکتا تھا کہ وہ سب جو اسکی پیروی کرتے ہیں ”زندگی کا نُور“ پائینگے۔ (یوحنا ۸:۱۲) یہ ہمیں روحانی روشنیبردار بناتا ہے، جنہیں کبھی بھی کسی چیز کو اس روشنی کو چھپانے یا دھندلا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔
۲ یہوؔواہ کی تنظیم یہ دکھانے کے لئے ہمیں تربیت فراہم کرتی ہے کہ ہم کیسے مؤثر روشنیبردار بنیں۔ ہم جو مشورت اور راہنمائی حاصل کرتے ہیں اگر ہم احتیاط کے ساتھ اس پر عمل کرتے ہیں تو ہم تمام طرح کے لوگوں کو بادشاہتی سچائی کی بابت روشنخیالی عطا کرنے کے قابل ہونگے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۶) روشنیبرداروں کے طور پر خدمت کرنے میں نہ صرف ہر موقع پر سچائی کی بابت گفتگو کرنا بلکہ مسیحیوں کے طور پر عمدہ چالچلن قائم رکھنا بھی شامل ہے۔ ہمارے نمونہ دینے والے کا چالچلن بےداغ تھا۔ اسکے پیروکاروں کے طور پر، ہمیں ظاہر کرنا چاہئے کہ مسیحیت ہماری روزمرہ زندگی کا معمول ہے۔ (افسیوں ۵:۹؛ ططس ۲:۷، ۸، ۱۰) ہمیں ایسے اچھے کام کرنے چاہئیں جنہیں دوسرے دیکھ سکیں اور جو انہیں خدا کی حمد کرنے کی تحریک دیں۔—متی ۵:۱۶۔
۳ ایک گواہ کو گھرباگھر جاتے ہوئے ایک غیرمعمولی درخواست کا سامنا ہوا۔ صاحبِخانہ اور اسکی اہلیہ علیل تھے لیکن انہیں کافی پیسے بینک میں جمع کرانے تھے۔ انہوں نے پوچھا آیا گواہ یہ کر دیگا۔ اس نے حامی بھر لی اور اسے بینک لے جانے کیلئے ۲،۰۰۰ ڈالر نقد دیئے گئے! جب وہ واپس آیا تو اس نے پوچھا: ”مجھے نہ جانتے ہوئے بھی آپ کیونکر مجھ پر اعتماد کر سکتے تھے؟“ جواب تھا: ”ہم جانتے ہیں اور باقی ہر کوئی بھی جانتا ہے کہ صرف یہوؔواہ کے گواہ ایسے لوگ ہیں جن پر اعتماد کِیا جا سکتا ہے۔“ ہم کتنے شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ ہمارا احتیاط کیساتھ بائبل کے اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا خدا کو ایسی عزت دینے والی شہرت کا سبب بنتا ہے!
۴ پہلی جماعت کی ایک ٹیچر نے اپنی کلاس کو بتایا کہ کیوں ایک چھ سالہ گواہ طالبہ اَولیا سے متعلق تصاویر میں رنگ بھرنے میں حصہ نہیں لے رہی تھی۔ ٹیچر نے کہا کہ جو کچھ وہ یقین رکھتی ہے اسکی وجہ سے دوسروں سے فرق ہونے کا حوصلہ رکھنے کی بابت وہ اس پر بہت زیادہ فخر کرتی ہے۔ ٹیچر نے تبصرہ کِیا اگر ہم کسی بات پر پُختہ اعتقاد رکھتے ہیں تو ہمارے اندر اُس پر قائم رہنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔ اُس رات ٹیچر نے خود اپنے عقائد کا تجزیہ کِیا اور اسے تسلیم کرنا پڑا کہ اس نے اپنے عقائد پر قائم رہنے کیلئے ویسا ہی حوصلہ ظاہر نہیں کِیا تھا۔ اگلے دن اس نے اعلان کِیا کہ وہ اپنی جماعت کو آنے والے کسی بھی تہوار کی تقریبات میں نہیں الجھائے گی، جن میں سے بعض پر وہ خود بھی اعتقاد نہیں رکھتی تھی!
۵ یہوؔواہ کے لوگ اپنی روشنی چمکانے کے آرزومند ہیں، قطعنظر اس سے کہ وہ کہاں ہیں۔ سکول میں بچوں کے مثالی چالچلن نے ہممکتبوں اور اساتذہ کو اُمیدافزا طور پر متاثر کِیا ہے۔ بالغ گواہ جو آسپڑوس میں عمدہ چالچلن کا مظاہرہ کرتے ہیں دوسروں کیلئے بادشاہتی پیغام کی تعریف کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مختلف حالات کے تحت غیررسمی گواہی اُن خلوصدل لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہے جو مزید جاننا چاہتے ہیں۔ دنیاوی ملازمت کی جگہ پر ہماری مستعدی اور ایمانداری بھی گواہی دیتی ہے۔ جیہاں، قطعنظر اس سے کہ ہم کہاں ہیں یا کیا کر رہے ہیں، ہم سچائی میں دلچسپی کو بڑھا سکتے ہیں۔
۶ ہمارے عظیم نمونہ دینے والے کی بےعیب زندگی کے نمونے پر اپنی نظریں جمائے رکھنے سے ہم شاگردوں کے طور پر اپنی مہارتوں کو کمال تک پہنچانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے نمونے کی نقل کرنا اس بات کی یقیندہانی کرائیگا کہ ہماری روشنی ”سب کے سامنے چمک“ رہی ہے۔—متی ۵:۱۵، اینڈبلیو؛ ۱-پطرس ۲:۲۱۔