واپسی ملاقاتیں کرنے سے ظاہر کریں کہ آپ پرواہ کرتے ہیں
۱ دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو گھرباگھر تلاش کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ دوسروں کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ بادشاہتی پیغام کو سنیں۔ پس فروری کے مہینے کے دوران جہاں آپ لٹریچر چھوڑتے ہیں وہاں مزید رابطہ قائم کرنے کا پُختہ یقین کر لیں کیونکہ یہ ظاہر کرنے کا عمدہ طریقہ ہے کہ آپ دوسروں کی پرواہ کرتے ہیں۔
۲ اگر آپ نے کتاب ”سچائی جو باعثِ ابدی زندگی ہے“ چھوڑی تھی تو آپ اسطرح اپنی باتچیت کو ازسرِنو شروع کر نے کی کوشش کر سکتے ہیں:
◼ ”پچھلی مرتبہ ہم نے خدا کی بادشاہت اور جو کچھ یہ ہمارے لئے کریگی اسکی بابت باتچیت کی تھی۔ وہ بادشاہت جلد ہی اس زمین کو فردوس بنا ڈالیگی۔ چونکہ ہم نے کبھی بھی فردوس نہیں دیکھا ہے اسلئے اسکا تصور کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ وہ کچھ ایسا نظر آ سکتا ہے۔ [صفحہ ۴ پر تصویر کا حوالہ دیں۔] ایسے فردوس کا بائبل میں وعدہ کیا گیا ہے۔“ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴ پڑھیں۔ اگر دلچسپی دکھائی جاتی ہے تو صفحہ ۱۰، پیراگراف ۱۱ اور ۱۲ پر کھولیں اور توجہ دلائیں کہ اگر ہم آنے والے فردوس میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
۳ کتاب ”خوشی—اسے جسطرح حاصل کیا جائے“ (انگریزی) کی تقسیم پر مزید رابطہ قائم کر نے کیلئے ایک تجویز یہ ہے:
◼ ”ہم سب خوش ہونا پسند کرتے ہیں۔ بہتیرے محسوس کرتے ہیں کہ حقیقی خوشی اس دنیا میں ناممکن بات ہے۔ آپ اسکی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] یہ کہا گیا ہے کہ خوشی ایک ذہنی کیفیت ہے۔ اگر ہمارے ذہن دوسروں کیلئے محبت، خدا کیلئے احترام اور مستقبل کیلئے یقینی اُمید سے معمور ہیں تو ہم اپنے مسائل کے باوجود حقیقی خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔“ زبور ۱۱۹:۱، ۲ پڑھیں۔ واضح کریں کہ بائبل کا مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح دوسروں سے محبت کریں، خدا کیلئے احترام ظاہر کریں، اور مستقبل کیلئے تسلیبخش اُمید حاصل کریں۔
۴ آپ شاید اسطرح کی ایک مختصر پیشکش کیساتھ پیش کی گئی کتاب ”حقیقی امن اور سلامتی—آپ اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟“ (انگریزی) پر مزید رابطہ قائم کریں:
◼ ”آجکل عالمی لیڈر امن اور سلامتی لانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہوؔواہ خدا ہی وہ واحد ہستی ہے جو ایسا کر سکتی ہے۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ [صفحہ ۱۷۵ پر پیراگراف ۱ اور ۲ کے نکات پر باتچیت کریں اور پھر یسعیاہ ۲۶:۴ پڑھیں۔] میں آپکو دکھانا پسند کروں گا کہ یہ کتاب کس طرح آپکی مدد کر سکتی ہے۔“
۵ آپ شاید پیش کئے گئے بروشر ”کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟“ (انگریزی) پر اس تجویز کے ساتھ مزید رابطہ قائم کرنا چاہیں:
◼ ”پچھلی مرتبہ میں نے اس بروشر کی ایک کاپی آپکے پاس چھوڑی تھی، جو ایک نہایت اہم سوال اُٹھاتا ہے: ’کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟‘ اس بروشر کا اعادہ کرنے کے بعد، آپ کس فیصلے پر پہنچے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] غالباً نئی دنیا کا وعدہ کرنے والے صحائف پڑھنے سے آپکی حوصلہافزائی ہوئی تھی، جہاں ہم امن کیساتھ رہ سکتے ہیں۔ [صفحات ۲، ۳ پر تصاویر دکھائیں، اور نئی دنیا کی بعض دلکش خصوصیات پر توجہ دلائیں۔] مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اور آپکے عزیز ایسی دنیا میں رہنا پسند کرینگے۔ نوٹ کریں کہ صفحہ ۳۱ پر پیراگراف ۱۶ اسکی بابت کیا کہتا ہے۔“ پیراگراف پڑھیں، اور اس بات کی طرف توجہ دلائیں کہ یہوؔواہ کے طالب ہونے کا مطلب اسکے کلام، بائبل کا مطالعہ کرنے کے ذریعے اسکی اور اسکے مقاصد کی بابت اور زیادہ سیکھنا ہے۔
۶ یہوؔواہ نے اپنی بھیڑوں کی نگہداشت کرنے والے ایک شفیق چرواہے کی حیثیت سے کامل نمونہ قائم کیا ہے۔ (حزقیایل ۳۴:۱۱-۱۴) اسکی مشفقانہ نگہداشت کی تقلید کرنے میں ہماری مخلصانہ کوشش اسکو خوش کرتی ہے، ہماری محبت کو ظاہر کرتی ہے، اور دوسروں کیلئے برکات لاتی ہے۔