انتشارخیال کے بغیر یہوواہ کی خدمت کرنا
۱ ”مبارک ہے وہ قوم جسکا خدا خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہے۔“ (زبور ۱۴۴:۱۵) کیا بادشاہ داؤد کے یہ الفاظ، ان برے دنوں میں بھی ابھی تک سچ ہیں؟ (افسیوں ۵:۱۶) جیہاں! مسیحی ابھی تک یہوواہ کی خدمت کرنے سے لطف اٹھاتے ہیں۔ معاملات ہمیشہ ہمارے لئے آسان نہیں ہیں۔ اس ”اخیر زمانہ“ میں شیطان ہمارے لئے مشکلات کھڑی کرتا ہے، پھر بھی ہم بےحوصلہ نہیں ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱، ۲) بدتر ہونے والی حالتیں اس بات کا اضافی ثبوت ہیں کہ خدا کی بادشاہت کیلئے اس زوالپذیر فرسودہ دنیا کو ہٹانے اور اس کی جگہ ایک صاف نئی دنیا لانے کا وقت بالکل قریب ہے۔ (۲-پطرس ۳:۱۳) اس دنیا کی تاریکی ہماری پرمسرت امید کی چمک کو مدھم یا ختم نہیں کرتی، بلکہ ہماری بادشاہتی امید کی روشنی اور زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ کیا آپ اس تاریک دنیا میں ایک چراغ کی مانند یہوواہ کی خدمت کرنے سے خوش نہیں ہیں؟—فلپیوں ۲:۱۵۔
۲ انفرادی طور پر، ہمیں ہمیشہ دیکھتے رہنا چاہئے کہ ہم یہوواہ کی خدمت کیسے کر رہے ہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ شیطان سب سے بڑا انتشارخیال پیدا کرنے والا ہے۔ ایک ڈکشنری ”خیال منتشر“ ہونے کو ”رخ موڑنا“، ”ایک ہی وقت میں کسی کی توجہ کو مختلف مقصد یا مختلف اطراف کی طرف موڑنا“ اور ”جوش دلانا یا متضاد جذبات یا محرکات کے ساتھ پریشان کرنا“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ اس زمین پر پھینک دیئے جانے کے وقت سے شیطان نوعانسانی کو ”گمراہ“ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وہ ہمارے زمانے کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بہتیرے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) اگرچہ یہوواہ کے گواہوں نے پچھلے سو سالوں سے بادشاہتی منادی کرنے میں جدوجہد کی ہے، کتنے لوگ خدا کے نام کی تقدیس کرنے اور خدا کی بادشاہت کے ذریعے اسکی حاکمیت کو سچا ٹھہرانے والے سب سے اہم مسئلوں کی قدر کرتے ہیں؟ نسبتاً چند ایک۔ (۱-یوحنا ۵:۱۹) اگر شیطان اس زمین پر کئی بلین لوگوں میں انتشارخیال پیدا کر سکتا ہے، تو ہمیشہ موجود رہنے والا خطرہ یہ ہے کہ وہ ہمارے خیال کو بھی منتشر کر سکتا ہے یا ہماری توجہ کو اپنی طرف موڑ سکتا ہے تاکہ یہوواہ کی خدمت کو چھوڑ دیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بھائیوں میں سے بعض شیطان کی طرف سے انتشارخیال سے پریشان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذہنوں کو مختلف سمتوں میں جانے کی اجازت دی ہے۔ آجکل تمام طرح کے انتشارخیال ہیں۔ ان میں سے محض چند ایک پر غور کریں۔
۳ معاشی مسائل اور مادی چیزوں کی محبت: زمین پر بہتیرے ممالک میں، بےروزگاری اور بہت زیادہ مہنگائی فکروں کا سبب بنتی ہیں۔ سچ ہے، ہمیں اپنے لئے اور اپنے خاندانوں کیلئے روٹی، کپڑا، اور پناہگاہ فراہم کرنے چاہئیں۔ لیکن اگر ہم ضروریاتزندگی کے بارے میں خود کو حد سے زیادہ فکرمند ہونے کی اجازت دیتے ہیں تو یہ فکریں ہماری سوچ پر مسلط ہو جائینگی۔ بادشاہتی مسئلے کو اپنی حمایت دینے کی بجائے ہماری جسمانی بقا زندگی میں سب سے اہم معاملہ بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں رسول پولس نے عبرانیوں ۱۳:۵، ۶ میں مشورہ دیا۔ یسوع مسیح ہمیں یقین دلاتا ہے کہ وہ جو بادشاہت کی پہلے تلاش کرتے ہیں انکو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، جس چیز کی ہمیں واقعی ضرورت ہے یہوواہ مہیا کرتا ہے۔ (متی ۶:۲۵-۳۴) پوری دنیا میں پائنیر اور دیگر کلوقتی خادم اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔
۴ شیطان کی دنیا مادی چیزوں کیلئے محبت کو فروغ دیتی ہے۔ زیادہ چیزیں حاصل کرنا یا انکی حفاظت کرنا لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں ایک تحریک دینے والی قوت ہے۔ ایسے ہی انتشارخیال یسوع کے دنوں میں موجود تھے۔ ایک امیر جوان حاکم نے یسوع سے پوچھا تھا کہ اسے ہمیشہ کی زندگی کا وارث بننے کیلئے کیا کرنے کی ضرورت تھی۔ یسوع نے جواب دیا: ”اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مالواسباب بیچ کر غریبوں کو دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملیگا اور آ کر میرے پیچھے ہو لے۔“ (متی ۱۹:۱۶-۲۳) ظاہراً، اس جوان آدمی کے بہتیرے مادی اثاثوں نے اسکی توجہ پوری جان سے خدا کی خدمت کرنے سے ہٹا دی تھی۔ اسکے دل نے اسکے مال کی طرف رخ کر لیا تھا۔ یسوع جانتا تھا کہ اگر وہ جوان آدمی اپنے اوپر سے ان انتشارخیالات کا بوجھ ہٹا لیتا تو اسے فائدہ ہوتا۔ انہوں نے اسکو خدا کی عقیدت میں کامل ہونے سے روکا۔ آپ کے بارے میں کیا ہے؟ کیا آپ خود کو دنیاوی ملازمت کیلئے زیادہ دیر تک کام کرتے ہوئے پاتے ہیں صرف اسلئے کہ اس طرززندگی کو برقرار رکھیں جسکے آپ عادی ہو چکے ہیں؟ کیا اس نے یہوواہ کیلئے آپکی خدمت کو متاثر کیا ہے؟ کیا آپکے مادی اثاثے اس حد تک آپکا وقت اور طاقت لے رہے ہیں کہ بادشاہتی مفاد کیلئے کچھ نہیں بچتا؟ (متی ۶:۲۴) کیا روحانی مفادات کیلئے زیادہ وقت مخصوص کرنے کیلئے آپ اپنی زندگی کو سادہ بنا سکتے ہیں؟
۵ روزمرہ زندگی کے معمولی معاملات: اگر ہم محتاط نہیں ہیں تو ہم زندگی کے معمولی معاملات میں اتنے منہمک ہو سکتے ہیں کہ ہم روحانی حاصلات کو نظرانداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ نوح کے زمانہ کے لوگوں کو یاد کریں۔ وہ معاشرتی معاملات، کھانے پینے، بیاہ کرنے اور اپنے بچوں کی شادیاں کرنے، کی سوچ میں اتنے غرق تھے کہ انہوں نے سر پر کھڑے طوفان کے بارے میں نوح کے آگاہی والے پیغام پر بھی کوئی دھیان نہ دیا۔ اس سے پہلے کہ ان کو احساس ہوتا، طوفان آیا اور ان سب کو بہا لے گیا۔ انتشارخیالات کا مطلب انکی تباہی تھا۔ یسوع نے کہا: ”اسی طرح ابنآدم کا آنا [”موجودگی،“ اینڈبلیو] ہوگا۔“ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) واقعی، بہتیرے لوگ اپنی زندگیوں میں اتنے زیادہ منہمک ہیں کہ اس آگاہی کے پیغام پر توجہ نہیں دیتے جو ہم انکے پاس لے کر جاتے ہیں۔ وہ روحانی چیزوں کیلئے نفرتانگیز بےرخی دکھاتے ہیں۔
۶ کیا آپکی زندگی سماجی سرگرمیوں سے اسقدر بھری ہوئی ہے کہ روحانی معاملات بتدریج کم توجہ حاصل کر رہے ہیں؟ ایک موقع پر، یسوع مریم اور مرتھا کے گھر مہمان ہونے کیلئے مدعو تھا۔ جو کچھ اس نے کہنا تھا مریم اسے غور سے سن رہی تھی۔ دوسری طرف، مرتھا ”خدمت کرتے کرتے گھبرا گئی۔“ مرتھا کو ایک اچھی میزبان بننے کی ضرورت سے زیادہ فکر تھی۔ وہ یسوع کی بات کو سننے کیلئے وقت نکالنے کی ضرورت کی قدر کرنے میں ناکام ہو گئی۔ اس نے مہربانہ طور پر مرتھا پر واضح کیا کہ پرتکلف اشیائےخوردنی ضروری نہ تھیں بلکہ زیادہ توجہ روحانی معاملات پر دی جانی چاہئے تھی۔ کیا آپ کو اس مشورت کا اطلاق کرنے کی ضرورت ہے؟ (لوقا ۱۰:۳۸-۴۲) نیز یسوع نے آگاہ کیا کہ ہمیں خود پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ہم ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں پئیں مبادا ہمارے ذہن کند ہو جائیں۔ انسانی تاریخ کے اس برے وقت میں، ہمیں پوری طرح ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔—لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔
۷ عیشوعشرت کی جستجو: بادشاہتی مسئلے سے توجہ ہٹانے کیلئے شیطان جن انتشارخیالات کو استعمال کرتا ہے ان میں سب سے بڑی چیز عیشوعشرت کی جستجو ہے۔ مسیحی دنیا میں لاکھوں لوگوں نے خدا کی جگہ عیشوعشرت کو دے دی ہے۔ وہ خدا کے کلام میں سنجیدہ دلچسپی لینے کی بجائے کسی تفریح سے جی بہلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۴) بلاشبہ، صحتبخش کھیل اور تفریح بذاتخود غلط نہیں ہیں۔ لیکن ہر ہفتے بہت زیادہ وقت ایسی چیزوں پر صرف کرنا جیسے کہ ٹیلیوژن، فلمیں، ویڈیو، سپورٹس، غیرمذہبی پڑھائی، یا مشاغل، حیلہباز دل کے پیدا ہونے کا سبب بنتے اور ہمیں یہوواہ سے دور لے جا سکتے ہیں۔ (یرمیاہ ۱۷:۹، عبرانیوں ۳:۱۲) یہ کیسے واقع ہو سکتا ہے؟ شاید آپ مسیحی اجلاس کے دوران اپنے ذہن کو بھٹکتا ہوا پائیں، آپ شاید یہ بھی چاہیں کہ اجلاس ختم ہو جائے تاکہ آپ پھر سے عیشوعشرت کی جستجو میں لگ سکیں۔ بہت جلد، آپ اجلاس پر حاضر ہونے یا میدانی خدمت میں مصروف ہونے کی بجائے خود کو گھر پر ہی رکھنے کی وجوہات تلاش کرتے ہوئے پائیں گے۔ اگر یہ دلچسپیاں آپکی زندگی میں انتشارخیالات بن گئی ہیں تو صریحی طور پر فیصلہ کرنے کا وقت اب ہے۔ (لوقا ۸:۱۴) کیا کھیل تفریح میں صرف کئے گئے بیشقیمت گھنٹوں میں سے کچھ کو روحانی ترقی کیلئے استعمال کرنا بہتر نہ ہوگا؟
۸ وقت ضائع کرنے والے ضمنی مسئلے: بعض لوگ جدید معاشرے میں مشترکہ مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ مسیحیوں کو معاشرتی مسائل یا ناانصافیوں کی تصحیح کرنے کی بیکار جدوجہد کی بابت دنیا کے کبھی نہ ختم ہونے والے مباحثوں میں الجھنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ (یوحنا ۱۷:۱۶) یہ سب بائبل کی مشورت اور اس بنیادی حقیقت سے توجہ ہٹانے کے شیطان کے منصوبے کا ایک حصہ ہے کہ صرف ایک ہی مستقل حل—خدا کی بادشاہت ہے۔ اگر ہمیں ذاتی طور پر نقصان پہنچا ہے یا ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ہمیں انتقامپرور بننے یا جذباتی طور پر اسقدر غصے میں آنے سے محتاط رہنا چاہئے کہ ہم یہ بھول ہی جائیں کہ ہم کون ہیں یعنی یہوواہ کے گواہ۔ سب سے بڑھکر یہ کہ یہ یہوواہ ہے جسکے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اور یہ اسکا نام ہے جسے ہمیں ضرور پاک ٹھہرانا چاہئے۔—یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲، متی ۶:۹۔
۹ جبکہ ہر کوئی کسی حد تک اچھی صحت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو بظاہر نہ ختم ہونے والے نظریات اور پیشکردہ علاج کی تدابیر پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینا کسی کو صحت سے متعلق معاملات میں بہت زیادہ وہمی بنا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بہتیرے مختلف پرہیزی کھانوں، علاج، اور جسمانی اور جذباتی مسائل کے معالجات کی حمایت کرتے ہیں، جن میں سے بہتیرے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ جب تک بائبل اصولوں کے ساتھ ٹکراؤ نہ ہو، کوئی شخص صحت کے معاملوں میں جو کچھ کرتا ہے یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ آئیے نوعانسان کی بیماریوں کیلئے بطور حقیقی علاج کے خدا کی بادشاہت پر ہمیشہ اپنا مکمل اعتماد قائم رکھیں۔—یسعیاہ ۳۳:۲۴، مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
۱۰ ثابتقدم اور قائم رہیں: جوں جوں خاتمہ نزدیک آتا ہے، شیطان آپکو یہوواہ کی خدمت کرنے سے ہٹانے کی اپنی کوششوں کو بڑھائے گا۔ ”تم ایمان میں مضبوط ہو کر اسکا مقابلہ کرو۔“ (۱-پطرس ۵:۹) کیسے؟ آپکو چاہئے کہ خدا کے خیالوں سے خود کو تقویت دیں۔ (متی ۴:۴) دنیا کے انتشارخیالات کو آپ سے اور آپکے خاندان سے اس وقت کو چھین لینے کی اجازت نہ دیں جو آپ کو خدا کے کلام پر دھیان دینے اور خاموشی سے غوروفکر کرنے کیلئے درکار ہے۔ خاندانی کھانوں پر، باہم ملکر تعمیری تجربوں اور دیگر روحانی باتوں پر باتچیت کریں۔ اجلاسوں کیلئے تیاری اور ذاتی مطالعے کے بااصول جدول پر قائم رہیں۔
۱۱ جب پریشانیاں آپکے ذہن کو ابتری میں ڈالنے کیلئے خطرہ دکھائی دیں تو دعا میں اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دیں۔ اعتماد رکھیں کہ اسکو آپکی فکر ہے۔ (۱-پطرس ۵:۷) خدا کے اطمینان کو اپنے دل اور ذہنی قوتوں کی حفاظت کرنے دیں۔ (فلپیوں ۴:۶، ۷) انتشارخیالات کو اپنی روحانی بصیرت کو دھندلا نہ کرنے دیں۔ یہوواہ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں جیسے یسوع نے کیا۔ (اعمال ۲:۲۵) اپنی نظر کو سیدھا اپنے نشانے پر مرتکز رکھیں، جیسے امثال ۴:۲۵-۲۷ ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے: ”تیری آنکھیں سامنے ہی نظر کریں اور تیری پلکیں سیدھی رہیں۔ اپنے پاؤں کے راستہ کو ہموار بنا اور تیری سب راہیں قائم رہیں۔ نہ دہنے مڑ نہ بائیں۔“
۱۲ تمام اجلاسوں پر وفاداری سے حاضر ہوں، اور اپنی تربیت کریں تاکہ آپ خدا کے کلام سے ہدایات پر توجہ دیں۔ (عبرانیوں ۲:۱، ۱۰:۲۴، ۲۵) اور اس زوالپذیر دنیا کی پیشکردہ عیشوعشرت کی تلاش کرنے کی بجائے، پھلدار خدمتگزاری کو برقرار رکھنے کو اپنا نشانہ بنائیں۔ یہی ہے جو دائمی خوشی اور تسکین کا باعث ہوتی ہے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۹، ۲۰) آخر میں، کسی چیز کو یا کسی شخص کو اپنی پاک خدمت سے اپنی توجہ کو ہٹانے نہ دیں۔ ”ثابتقدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزائش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تمہاری محنت خداوند میں بیفائدہ نہیں ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸۔