صفائی خدا کو عزت دیتی ہے
۱ موسوی شریعت میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کیلئے صریح تقاضے شامل کئے گئے تھے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ایسی امت کے طور پر علیحدہ کر دیا جن سے خود کو جسمانی اور روحانی طور پر پاک رکھنے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ (احبار ۱۱:۳۵، ۳۶، ۱۵:۱-۱۱، یسعیاہ ۵۲:۱۱) یہ صاف ستھری حالت خدا کیلئے باعثعزت ہوئی اور قوم کی صحت میں معاون ثابت ہوئی۔
۲ آجکل بھی، صفائی یہوواہ کے لوگوں کا ایک شناختی نشان ہے۔ لیکن جبکہ یہ بحیثیت گروپ کے یہوواہ کے لوگوں کی شناخت کراتی ہے تو کیا یہ انفرادی طور پر ہم میں سے ہر ایک کی بابت سچ ہے؟ پاکیزگی اور ذاتی صفائی کی بابت جس حد تک ہم فکرمند ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہم کسقدر یہوواہ کے تقاضوں کی قدردانی کرتے ہیں۔
۳ ہمارے گھر کی وضعقطع کی بابت کیا ہے؟ کیا یہ اس بادشاہتی پیغام کی قدر گھٹا دیتی ہے جسے ہم دیتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ بعض ہماری سچائی پر شک کریں اگر ہم زمین کو فردوس میں تبدیل کرنے کی بابت بات کرتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے گھر گندے ہیں اور باغیچہ میں کٹائی نہ ہونے کے باعث گھاس اور جڑی بوٹیاں بہت بڑھ گئی ہیں؟ اگر ہمارا گھر بےترتیب دکھائی دیتا ہے یا گندی عادات کے باعث ناگوار بو پھیلی ہوئی ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے ”خدا کی بادشاہت کے تحت نئی دنیا کیساتھ مطابقت رکھنے والے پاکیزگی کے نمونوں“ کو فروغ دیا ہے؟—اوایم صفحات ۱۳۰-۱۳۱۔
۴ میدانی خدمت کیلئے جو کار ہم استعمال کرتے ہیں اس کی بابت کیا ہے؟ کیا وہ اندر اور باہر سے، معقول حد تک صاف ہے، اس طرح کہ اس کی وضعقطع ہمارے کام کی قدر نہیں گھٹاتی؟ ہمارے لباس، کتابوں کے بیگ، اور ذاتی آرائش کی بابت کیا ہے؟ کیا وہ صاف اور خوش وضع ہیں، اور ٹھوکر کی کوئی وجہ نہیں دیتے؟ یہ معقول بات ہے کہ ہم خود کو اور اپنے کپڑوں کو باقاعدہ غسل کرنے اور دھونے سے صاف رکھیں۔—مینارنگہبانی دسمبر ۱، صفحات ۱۷-۲۰۔
۵ اگر کوئی بھائی ایسا بےپرواہ ہو گیا ہے کہ اس کی ذاتی حفظانصحت یا گردوپیش کلیسیا کیلئے رسوائی کی ایک وجہ بن گئی ہے تو کیا ہو؟ شاید اس کو عمر یا کمزوری کے باعث محض کچھ پرمحبت اعانت کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کی مدد کرنا مہربانی ہوگی۔ بعض کا یہ مسئلہ ہو سکتا ہے اور شاید وہ اس سے باخبر بھی نہ ہوں، مہربانہ نصیحت صورتحال کو درست کرنے کیلئے اسکو آمادہ کر سکتی ہے۔ ایسے افراد جو اس سلسلے میں مستقل طور پر برا نمونہ قائم کرتے ہیں وہ کلیسیا میں نمایاں استحقاقات کے لائق نہ ہونگے۔ یقیناً بزرگوں کو اپنے ذاتی معیار یا ترجیحات کو تھوپنے سے گریز کرنا چاہئے۔
۶ نئے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو ہمارے کنگڈم ہال میں روحانی ضیافتوں سے استفادہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ عام طور پر، ہم دعوت دینے کیلئے مشتاق ہوتے ہیں کیونکہ ہال اسقدر دلکش اور صاف ہوتا ہے۔ تاہم، اسے اس طرح سے رکھنے کیلئے محنت درکار ہوتی ہے۔ اپنے ہال کے چوگرد دیکھیں۔ کیا نشستیں، فرش، اور دیواریں صاف ہیں؟ اگر ہم گندے پردے اور گندی دیواریں دیکھنے کے عادی ہو جائیں تو ہم شاید جلد ہی اسے قابلقبول خیال کرنے لگیں۔ کیا بیتالخلا کے فرش کی باقاعدگی سے رگڑائی کی جاتی ہے؟ تاہم، پہلی مرتبہ آنے والے اجنبی اشخاص ناموافق تاثر کیساتھ جا سکتے ہیں۔ جب صفائی کرنے یا معمولی مرمت وغیرہ کرنے کا وقت آتا ہے تو اپنا حصہ ادا کرنے سے، ہمیں ایک دلکش اور موہ لینے والے ہال کو صحیح حالت میں رکھنے کیلئے اپنی مقدور بھر کوشش کرنی چاہئے۔
۷ بغیر کوئی لفظ کہے، ہم اپنی ذاتی وضعقطع اور اپنے گھروں، گاڑیوں، اور کنگڈم ہالوں کی صفائی کے ذریعے سے خدا کی تمجید کر سکتے ہیں۔ ہمارا اچھا نمونہ ٹھوکر کھلانے کی کوئی وجہ فراہم نہیں کرے گا بلکہ شہادت دے گا کہ ہماری پرستش پاک اور راست ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱، ۳۲، یعقوب ۱:۲۷۔