”تم بھی تیار رہو“
۱ اس دستوراُلعمل کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی عظیم پیشینگوئی میں یسوع نے زندگی کی فکروں میں پھنس جانے کے خلاف آگاہ کِیا۔ (متی ۲۴:۳۶-۳۹؛ لو ۲۱:۳۴-۳۶) بڑی مصیبت کے کسی بھی وقت شروع ہو جانے کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ ہم یسوع کی اس آگاہی پر دھیان دیں: ”تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا ابنِآدم آ جائے گا۔“ (متی ۲۴:۴۴) اس سلسلے میں کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۲ فکروں اور اندیشوں کا مقابلہ کرنا: ایک روحانی گڑھا جس سے ہمیں ہمیشہ خبردار رہنے کی ضرورت ہے وہ ’زندگی کی فکریں‘ ہیں۔ (لو ۲۱:۳۴) بعض ممالک میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی نے ضروریاتِزندگی حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ دیگر ممالک میں، مادی چیزیں حاصل کرنے کا رُجحان بہت عام ہے۔ اگر مادی چیزوں کی فکر ہماری سوچ پر حاوی ہو جاتی ہے تو ہم بادشاہتی حقائق سے اپنی توجہ ہٹانے کے خطرے میں ہو سکتے ہیں۔ (متی ۶:۱۹-۲۴، ۳۱-۳۳) مسیحی اجلاس ہمیں اس طرف نظر جمائے رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کیا آپ ہر اجلاس پر حاضر ہونے کا نشانہ رکھتے ہیں؟—عبر ۱۰:۲۴، ۲۵۔
۳ آج کی دُنیا ایسی چیزوں سے پُر ہے جو ہمارا قیمتی وقت چھین سکتی ہیں۔ اگر ایک شخص انٹرنیٹ پر ای-میل پڑھنے اور بھیجنے یا کمپیوٹر گیمز کھیلنے میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے تو کمپیوٹر ہمارے لئے ایک پھندا بن سکتا ہے۔ اَنگنت گھنٹے ٹیلیویژن، موویز، مشاغل، دُنیاوی پڑھائی اور کھیلوں کی نظر ہو سکتے ہیں اور یوں ہمارے پاس روحانی چیزوں کے لئے بہت کم وقت بچے گا۔ اگرچہ تفریح اور آرام وقتی طور پر تازگی بخش سکتے ہیں توبھی ذاتی اور خاندانی بائبل مطالعہ دائمی فوائد پہنچاتا ہے۔ (۱-تیم ۴:۷، ۸) کیا آپ ہر روز خدا کے کلام پر غوروخوض کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں؟—افس ۵:۱۵-۱۷۔
۴ ہم کتنے شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ کی تنظیم نے ”ان سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابنِآدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور“ حاصل کرنے میں ہماری مدد کے لئے روحانی ہدایت کا یہ پروگرام ترتیب دیا ہے! (لو ۲۱:۳۶) ہمیں اِن فراہمیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ’خود کو تیار ثابت‘ کرنا چاہئے تاکہ ہمارا ایمان ”یسوؔع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف اور جلال اور عزت کا باعث ٹھہرے۔“—۱-پطر ۱:۷۔