مسیحیوں کے طور پر زندگی
یہوواہ صاف ستھرے لوگوں سے محبت کرتا ہے
بہت سے والدین اپنے بچوں کو صفائی ستھرائی کے اصول سکھاتے ہیں، مثلاً وہ اُن سے کہتے ہیں کہ اپنے ہاتھ دھوئیں، گھر کو صاف رکھیں، فرش کو گندا نہ کریں اور کچرے کو کچرے کے ڈبے میں ڈالیں۔ لیکن اصل میں صفائی ستھرائی کے سلسلے میں اصول ہمارے پاک خدا یہوواہ نے قائم کیے ہیں۔ (خر 30:18-20؛ اِست 23:14؛ 2-کُر 7:1) جب ہم خود کو اور اپنی چیزوں کو صاف ستھرا رکھتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کی بڑائی کرتے ہیں۔ (1-پطر 1:14-16) لیکن کیا ہم اپنے گھر اور اِس کے آسپاس کی جگہوں کو بھی صاف ستھرا رکھتے ہیں؟ دُنیا کے لوگ کوڑا کرکٹ یونہی سڑکوں پر یا پھر اگر وہ پارک میں ہوتے ہیں تو وہیں پھینک دیتے ہیں۔ لیکن مسیحی اِس زمین کو صاف ستھرا رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ (زبور 115:16؛ مکا 11:18) چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم صفائی ستھرائی کو کیسا خیال کرتے ہیں۔ کیا ہم ٹافی کے ریپر، چیونگگم، خالی بوتلیں وغیرہ کچرے کے ڈبے میں ڈالتے ہیں؟ مسیحیوں کے طور پر ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ”ہم خدا کی خدمت کرنے کے لائق ہیں۔“—2-کُر 6:3، 4۔
پنجابی (شاہ مکھی) ویڈیو ”یہوواہ صاف ستھرے لوکاں نُوں پیار کردا اے“ دیکھیں اور پھر اِن سوالوں کے جواب دیں:
کچھ لوگ اپنی چیزوں کو صاف نہ رکھنے کے کون سے بہانے بناتے ہیں؟
موسیٰ کی شریعت سے کیسے ظاہر ہوا کہ یہوواہ صفائی ستھرائی کو اہم خیال کرتا ہے؟
ہم کچھ کہے بغیر یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟
مَیں کیسے ظاہر کر سکتا ہوں کہ مَیں صفائی ستھرائی کے حوالے سے یہوواہ جیسی سوچ رکھتا ہوں؟