کیا آپ یہوواہ کی تعظیم کرنے کیلئے مزید کام کر سکتے ہیں؟
۱ ہم سب کیلئے یہ نہایت اہم سوال ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔ اپنے مالک، یسوع مسیح کے وفادار تقلید کرنے والوں کے طور پر، ہم اسکے نام کا اعلانیہ اقرار کرنے سے آجکل اپنے خدا کی تعظیم کرتے ہیں۔ اگر ہمیں خدا کی پسندیدگی حاصل کرنا ہے تو یہی وہ ذمہداری ہے جسے ہمیں ضرور اٹھانا چاہیے۔ (مرقس ۱۳:۱۰، لوقا ۴:۱۸، اعمال ۴:۲۰، عبرانیوں ۱۳:۱۵) ایسی باقیماندہ پراگندہ ”بھیڑوں“ تک یہ خوشخبری پہنچانے کا کیا ہی ناقابلبیان شرف—جیہاں، اعزاز—جو ابھی یہوواہ کے عالمگیر گلے کا حصہ بن سکتی ہیں!—یوحنا ۱۰:۱۶۔
۲ کیا آپ اور آپکے بچے خدمتگزاری میں اپنی کارگزاری کو بڑھانے سے یہوواہ کی تعظیم کرنے کیلئے مزید کام کر سکتے ہیں؟ عالمگیر پیمانہ پر ہمہوقت بڑھتی ہوئی تعداد میں آپکے بھائی اور بہنیں پائنیر خدمت میں داخل ہو رہے ہیں۔ اپریل ۱۹۹۲ کے مہینے کے دوران پاکستان میں کل ۵۷ اشخاص خاص، باقاعدہ، یا امدادی پائنیر خدمت میں تھے۔ کیا آپ نے ذاتی طور پر پائنیرنگ کرنے پر سنجیدہ سوچبچار کی ہے؟ کیا آپ کلوقتی خدمتگزاری کے نصبالعین کے حصول کیلئے اپنے بچوں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں؟
۳ کیوں نہ پائنیر خدمت کی جانب اپنے ذاتی احساسات کا تجزیہ کریں؟ جب کبھی اس موضوع کا ذکر ہوتا ہے تو کیا آپ جلدی سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آپکے حالات بالکل آپکو ایک پائنیر خادم کے طور پر خدمت کرنے کی اجازت نہیں دیتے؟ یہ سچ ہے کہ پائنیرنگ ہر ایک کیلئے ممکن نہیں۔ صحیفائی ذمہداریاں اور دیگر بندشیں بہتیروں کو کلوقتی خدمت کرنے سے روکتی ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸) لیکن کیا آپ نے حال ہی میں اس معاملہ پر دعائیہ غور کیا ہے؟ کیا یہ دیکھنے کیلئے آپ نے بطور ایک خاندان کے اس موضوع پر گفتگو کی ہے کہ آیا کمازکم ایک ممبر پائنیر خدمت کر سکتا ہے؟ نومبر ۱۵، ۱۹۸۲ کے دی واچٹاور کے شمارے نے صفحہ ۲۳ پر یہ سوچ کو ابھارنے والا بیان دیا: ”درحقیقت، ہر مسیحی خادم کو دعائیہ غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ پائنیر خدمت کر سکتا ہے یا نہیں۔ ۱۵ سال سے پائنیر خدمت کرنے والے جنوبی افریقہ کے ایک جوڑے نے کہا: ”ہم پائنیرنگ کیوں کر رہے ہیں؟ اگر ہم نہ کرتے تو کیا ہم خدا کے حضور کبھی اسکی توجیہ کر سکتے؟“ بہتیرے جو پائنیر نہیں ہیں اسی طرح کا سوال پوچھ سکتے ہیں: ”کیا میں یہوواہ کے حضور اس بات کی واقعی توجیہ کر سکتا ہوں کہ میں پائنیر نہیں ہوں؟““
۴ اس موضوع پر واچٹاور کے ایک اور مضمون نے یہ غورطلب تبصرہ پیش کیا: ”ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھ دیانتدار ہونا چاہیے۔ کیا آپ کہتے ہیں کہ، ”روح تو مستعد ہے لیکن جسم کمزور ہے“؟ لیکن کیا روح واقعی مستعد ہے؟ آئیے روح کی غیرمستعدی کیلئے جسم کی کمزوریوں کو عذر کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں۔“—۸/۱۵ W۷۸ ص۔۲۳۔
۵ جو والدین چاہتے ہیں کہ انکے بچے کامیاب ہوں: امثال ۱۵:۲۰ ہمیں یقیندہانی کراتی ہے: ”دانا بیٹا باپ کو خوش رکھتا ہے۔“ خداترس والدین یقینی طور پر اس وقت خوش ہوتے ہیں جب انکے بیٹے اور بیٹیاں یہوواہ کیلئے مخصوصشدہ خدمت والی زندگی کی جستجو کرتے ہیں۔ تاہم، آپکے بچے خودبخود دانشمندانہ روش کا انتخاب نہیں کریں گے۔ اس دنیا کی کشش بہت طاقتور ہے۔ والدین، آپکے بچوں کی اقدار بڑی حد تک آپکی اپنی اقدار سے مرتب ہوتی ہیں۔ اگر آپ ہمیشہ کلوقتی خدمت کے فوائد کی بابت مثبت انداز میں بات کرتے ہیں، اگر آپ عقیدتمند پائنیروں کی رفاقت حاصل کرنے کیلئے اپنے نوجوانوں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں، اگر آپ واقعی اس بات پر قائل ہیں کہ کلوقتی خدمتگزاری سب سے زیادہ باعزت پیشہ ہے جسے آپکے بچے کبھی اختیار کر سکتے ہیں تو یہ مثبت رویہ بلاشبہ آپکے بچوں کو بہت زیادہ متاثر کریگا۔ انسان کی بجائے یہوواہ کے ساتھ نیکنام پیدا کرنے کی قدروقیمت کی قدردانی کرنے کیلئے انکی مدد کریں۔
۶ نوجوان لوگو، امثال ۲۲:۱ اس انتخاب کو اجاگر کرتی ہے جو آپکو کرنا ہے: ”نیکنام بےقیاس خزانہ سے اور احسان سونے چاندی سے بہتر ہے۔“ آپ اپنے لئے کس قسم کا نام پیدا کریں گے؟ ان مردوں اور عورتوں کی بابت سوچیں جنکے متعلق ہم بائبل میں پڑھتے ہیں جنہوں نے مخصوصشدہ خدمت کے ذریعے خدا کے ساتھ نام پیدا کیا۔ پیارا طبیب، لوقا تھا، اور خدا کے ساتھ ساتھ چلنے والا، حنوک تھا۔ سموئیل نے کمسن عمر سے ہی یہوواہ کی ہیکل میں اپنی خدمت شروع کرنے سے ممکنہ عمدہترین تعلیم حاصل کی تھی۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ وفادار خادم ان انتخابات پر جو انہوں نے کئے تھے کبھی پچھتائے تھے؟ وہ کیونکر پچھتاتے؟ ان سب نے مسرتبخش، پھلدار، اور پرجوش زندگیاں بسر کیں۔ اور انہوں نے یہوواہ کی ابدی خوشنودی حاصل کی!—زبور ۱۱۰:۳، ۱۴۸:۱۲، ۱۳، امثال ۲۰:۲۹الف، ۱-تیمتھیس ۴:۸ب۔
۷ جب بچے زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو انکے والدین فخر کا احساس محسوس کرتے ہیں۔ اس ”خداوند کی طرف سے میراث“ کی تربیت کرنے، تادیب کرنے اور تعلیم دینے میں انکی سرمایہکاری کا اجر کئی گنا زیادہ ملتا ہے۔ (زبور ۱۲۷:۳) والدین کیلئے اور کونسی چیز مزید باعثافتخار ہو سکتی ہے کہ ایک بیٹا یا بیٹی یہوواہ کی تعظیم کرنے کیلئے وہ سب کچھ کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں؟ بہتیرے نوجوان لوگ جدید زمانہ میں لوقا، حنوک اور سموئیل کے نقوشقدم کی پیروی کر رہے ہیں جیسے کہ ایک خط واضح کرتا ہے: ”میں ۱۶ سال کا ہوں۔ اپنے بپتسمہ پانے کے ۹ ماہ بعد میں نے باقاعدہ پائنیرنگ شروع کی ... اور اس وقت سے میں یہوواہ سے برکات حاصل کر رہا ہوں۔ ... سکول میں بھی پائنیرنگ آپکی مدد کرتی ہے۔ اس سے پہلے، میرے ہمجماعت مجھے ایک گواہ ہونے کی وجہ سے تنگ کرتے تھے۔ اب، چونکہ مجھے ذاتی مطالعے کیلئے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لئے میں ”اپنے ملامت کرنے والوں کو جواب دینے“ کے لائق ہوں۔
۸ کسی کو خدمتگزاری میں لیس کرنے کیلئے تعلیم: اس مقام پر ہم دنیاوی تعلیم کے مسئلے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا حلقہ ہے جس میں ایک متوازن نقطہنظر خاص طور پر درکار ہوتا ہے۔ مارچ ۱۹۹۳ کے مینارنگہبانی نے ”بامقصد تعلیم“ کے مضمون کو اجاگر کیا۔ ”مناسب تعلیم“ کی ذیلی سرخی کے تحت یہ نکتہ بیان کیا گیا تھا: ”مسیحیوں کو خود اپنی کفالت کرنے کے قابل ہونا چاہیے، خواہ وہ کلوقتی پائنیر خادم ہی کیوں نہ ہوں۔ (۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۰-۱۲) ... ان بائبل اصولوں کا لحاظ رکھنے اور اپنی مسیحی ذمہداریوں کو پورا کرنے کیلئے ایک نوجوان مسیحی کو کتنی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے؟ ... انکے لئے کن [اجرتوں] کو ”کافی“ کہا جا سکتا ہے جو خوشخبری کے پائنیر خادم بننے کی خواہش رکھتے ہیں؟ ایسوں کو عام طور پر اپنے بھائیوں یا خاندان پر ”بوجھ“ ڈالنے سے گریز کرنے کیلئے جزوقتی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔—۱-تھسلنیکیوں ۲:۹۔“
۹ اگر امکانی پائینر ضمنی تعلیم کو ضروری سمجھتا ہے تاکہ کل وقتی خدمت کے حصول کے لئے اس کی مدد ہو سکے تو مارچ ۱۹۹۳ کا مینارنگہبانی یہ سفارش کرتا ہے: ”ایک نوجوان گواہ اچھا کریگا کہ اگر ممکن ہو تو اسے گھر پر رہتے ہوئے حاصل کرے، یوں وہ معمول کے مطابق مطالعے کی مسیحی عادات، اجلاس پر حاضری اور منادی کرنے کی کارگزاری کو جاری رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔“
۱۰ افریقہ سے ایک ۲۲ سالہ نوجوان کا تجربہ ہے جسے فنی تربیت کے سکول میں جانا پڑا گو کہ اسکا دل پائنیر خدمت میں تھا۔ فنی تربیت کے سکول میں ہی ہوتے ہوئے اس نے بطور ایک امدادی پائنیر کے اندراج کرایا۔ اسکے ہمعصروں نے یہ کہتے ہوئے اسکا مذاق اڑایا کہ وہ یقیناً اپنے امتحان میں فیل ہو جائے گا۔ انکے لئے اسکا جواب ہمیشہ یہ تھا: ”پہلے اسکی بادشاہی اور اسکی راستبازی کی تلاش کرو۔“ خود کو منظم رکھتے ہوئے، وہ ہر صبح بہت جلدی اٹھتا اور دو گھنٹے اسباق کی تیاری کرتا اور پھر بعد از دوپہر جب کلاسیں ختم ہو جاتیں تو میدانی خدمت میں حصہ لیتا۔ سارا سکول حیران رہ گیا جب یہ نوجوان اسپیشل وظیفہ کے ایوارڈ کے سلسلے میں تین بہترین طالبعلموں کا انتخاب کرنے کیلئے خاص امتحان میں تیسرے درجے پر آیا۔ دوسرے درجے پر آنے والا طالبعلم ایک دلچسپی رکھنے والا شخص تھا جسکے ساتھ ہمارا پائنیر بھائی سکول میں بائبل مطالعہ کرتا تھا۔ جو طالبعلم پہلے درجے پر آیا وہ بھی سکول میں ایک اور سرگرم نوجوان گواہ تھا۔
۱۱ بزرگ اپنا حصہ ادا کرتے ہیں: کلیسیائی بزرگ، جنہیں اس کام پر فخر ہے جو پائنیر کر رہے ہیں، ان سرگرم خادموں کیلئے بڑی حوصلہافزائی فراہم کرتے ہیں۔ بزرگ ایسا کرکے خوش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ محنتکش، نتیجہخیز پائنیر کسی بھی کلیسیا کیلئے ایک برکت ہیں۔ باقاعدہ پائنیر خدمت میں ایک یا اس سے زیادہ سال صرف کرنے کے بعد ایسے اشخاص پائنیر خدمتی سکول میں اضافی تربیت حاصل کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ یہ کورس پائنیروں کے موثر ہونے کیلئے ترقی کرنے میں ایک انمول آلہ ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ پائنیر کام میں پیش پیش ہیں، انہیں بھی پرمحبت حوصلہافزائی درکار ہے، اور بزرگوں کو اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کمربستہ ہونا چاہیے۔—۱-پطرس ۵:۱-۳۔
۱۲ بزرگ کس طرح پائنیر کام کو متحرک کر سکتے ہیں؟ ایک اچھا نقطہآغاز یہ ہوگا کہ وقتاًفوقتاً اس بات کا تعین کریں کہ کون اس استحقاق کو حاصل کرنے کے لائق ہو سکتا ہے۔ بزرگ ان افراد تک رسائی کر سکتے ہیں جو پائنیر خدمت کرنے کی سازگار حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ بشمول ان بہتیروں کے جو باقاعدہ بنیاد پر امدادی پائنیر خدمت کرتے ہیں یعنی ریٹائیرڈ اشخاص، خانہدار بیویاں، اور طالبعلم۔ جبکہ کسی کو بھی یہ محسوس نہیں ہونے دینا چاہیے کہ اندراج کرانے کے لئے وہ کسی مجبوری کے تحت ہے، وہ جو خواہش رکھتے ہیں لیکن ہچکچاتے رہے ہیں تھوڑی سی عملی حوصلہافزائی کے ساتھ یہ جان سکتے ہیں کہ پائنیرنگ انکی دسترس میں ہے۔
۱۳ جو درخواست دینے کی خواہش رکھتے ہیں انکی حوصلہافزائی کرتے وقت بزرگوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ درخواستدہندہ کیلئے یہ ضروری نہیں کہ بطور باقاعدہ پائنیر کے اندراج کرانے سے پہلے امدادی پائنیر کے کام میں کئی مہینے صرف کرے۔ (کےایم ۹/۸۶ ضمیمہ پیرا ۲۴-۲۶) یقیناً بزرگ معقول طور پر یہ تسلی کر لینا چاہیں گے کہ درخواستدہندہ گھنٹوں کے تقاضا کو پورا کرنے کی حالت میں ہے۔
۱۴ درخواست پر کلیسیائی سروس کمیٹی کے نظرثانی کرنے اور اس بات کی تسلی کرنے کیلئے کہ تمام سوالات کے جواب دے دئے گئے ہیں سیکریٹری کے احتیاط سے جانچ کرنے کے بعد اسے بلاتاخیر سوسائٹی کو ارسال کر دینا چاہیے۔
۱۵ سیکریٹری کو ان مسائل کی بابت بزرگوں کو باخبر رکھنا چاہیے جنکا شاید پائنیر تجربہ کر رہے ہیں۔ یہ خاص کر ان کلیسیاؤں میں بہت ضروری ہے جہاں بہت زیادہ پائنیر ہیں۔ خدمتی سال کے آخر پر پائنیروں کی کارگزاری پر نظرثانی کرنے کے علاوہ، جیسے کہ کلیسیائی تجزیاتی رپورٹ (10-S) میں درخواست کی گئی تھی، سیکریٹری کو چاہیے کہ اپریل کے اوائل میں خدمتی نگہبان کو اپنے ساتھ ملاقات کرنے کی دعوت دے تاکہ یہ دیکھیں کہ شاید گھنٹوں کے تقاضا کو پورا کرنے میں کون پیچھے رہ رہے ہیں اور انہیں ذاتی توجہ درکار ہے۔ (دیکھیں ہماری بادشاہتی خدمتگزاری برائے فروری ۱۹۹۳، اعلانات) اگر بلاتاخیر مدد کی جائے تو پائنیر کامیابی سے خدمتی سال کو مکمل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
۱۶ نئے پائنیروں کی ایک بڑی تعداد نوعمر اور نسبتاً سچائی میں نئی ہے۔ انکا رضاکارانہ جذبہ یقیناً ہمیں خوش کرتا ہے! لیکن ان نئے اشخاص کو ابھی گھرباگھر کے کام میں ہنرمندی پیدا کرنے، موثر واپسی ملاقاتیں کرنے، اور بائبل مطالعوں پر تعلیم دینے کیلئے تربیت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ تربیت نہیں ملتی تو نیا شخص شاید ایک یا کچھ سال بعد بےحوصلہ ہو جائے اور خدمتگزاری میں اچھے نتائج حاصل نہ ہونے کی وجہ سے انجامکار پائنیر خدمت کو ترک کر دے۔ ہوشیار بزرگ معمولی مسائل یا کارگزاری میں سرد پڑ جانے کا سراغ لگانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اگر فوری توجہ دی جائے اور پائنیر کی اسکے مسئلہ میں مدد کی جائے تو وہ نتیجہخیز خدمت کے کئی سالوں سے لطفاندوز ہو سکتا ہے۔
۱۷ کیا آپ دوردراز کے پانیوں میں ماہیگیری کر سکتے ہیں؟ یسوع کے شاگردوں میں سے کچھ ماہیگیر تھے۔ بعض اوقات، ساری رات ماہیگیری کرنے کے بعد، پھر بھی انکے جال خالی رہتے تھے۔ (یوحنا ۲۱:۳) اس ملک کے ان حصوں میں جہاں سالوں سے ”آدمگیری“ کا کام ہوتا رہا ہے، بعض پائنیر یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ انکی کلیسیا کے ”پانیوں“ میں بہت کم ”مچھلیاں“ رہ گئی ہیں۔ (متی ۴:۱۹) اس کے برعکس، کیا ایسے دیگر ممالک سے آنے والی رپورٹیں پڑھ کر ہمارے اندر جذبات کی لہر نہیں دوڑ جاتی جہاں پبلشر اور پائنیر بہت زیادہ بائبل مطالعے کرا رہے ہیں؟ ان ممالک میں پائنیروں اور مشنریوں نے جس خوشی کا تجربہ کیا ہے وہ صاف ظاہر ہے۔ (۹/۱ W۹۲ صفحہ ۲۰ پیرا ۱۵) لہذا، اگر بعض محنتکش پائنیر ایسے ممالک میں آباد ہونے کی حالت میں ہیں جہاں ضرورت زیادہ ہے تو انہیں کوچ کرنے سے پہلے اپنے برانچ آفس سے رائے لینی چاہیے۔
۱۸ شروع شروع میں، شاید اس لئے بعض نے پائینرنگ شروع کی ہو کہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنا ٹھیک بات ہے لیکن وہ سوچتے تھے کہ آیا وہ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے شاید کچھ شکوک اور شرائط کے ساتھ درخواست دی ہو۔ شروع میں میدان میں شاید انکے نتائج بہت ہی کم رہے ہوں۔ تو بھی، وقت آنے پر ان کی مہارت ترقی کر گئی، اور ان کے کام پر یہوواہ کی برکت کا ثبوت مل گیا۔ انجام کار انکی خوشی اور اعتماد بڑھ گیا۔ بعض کے لئے پائینرنگ بیتایل خدمت، گلئیڈ ٹریننگ اور مشنری کام، منسٹریل ٹریننگ سکول اور سفری کام کی جانب بھی گزرپتھر ثابت ہوئی ہے۔
۱۹ شاید آپ کے لئے دوسرے ملک جانا یا گلئیڈ ٹریننگ سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ ہو، لیکن پھر بھی اس ملک کے اندر دوسرے پانیوں میں ماہیگیری کے مواقع ہیں خاص کر اگر آپ کا موجودہ علاقہ پھلدار نہیں ہے۔ اس طرح کا عمل شاید آپ کے طرززندگی میں تبدیلی کا تقاضا کرے لیکن روحانی انعام واقعی بہت زیادہ ہوں گے۔—متی ۶:۱۹-۲۱۔
۲۰ یا اگر آپ کے حالات اجازت دیتے ہیں تو آپ اپنے سرکٹ میں کسی قریبی کلیسیا کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ قابلیت رکھتے ہیں، تو آپ کا سرکٹ اوورسیر سرکٹ کی ان کلیسیاؤں پر جو کسی دوسرے پائنیر سے فائدہ اٹھائیں گی مشورے دینے کیلئے خوش ہوگا۔
۲۱ بعض پائنیر اور پبلشر گھر ہی میں رہ کر اپنے علاقہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ شاید وہ کوئی دوسری زبان جانتے ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپکے علاقہ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ کوئی دوسری زبان بولتا ہے؟ کیا ایسے لوگ ہیں جنہیں کسی ایسے شخص سے بادشاہتی پیغام حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو اشاروں کی زبان بولتا ہے؟ وہ جو کوئی دوسری زبان جانتے ہیں بادشاہتی پیغام کیساتھ ہر قسم کے لوگوں تک پہنچنے میں بڑے مددگار ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک حقیقی چیلنج ہو سکتا ہے، یہ بہت زیادہ بااجر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔—۱-تیمتھیس ۲:۴، ططس ۲:۱۱۔
۲۲ اگر آپ اس وقت یہوواہ کی تعظیم کرنے کیلئے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو آپ کر سکتے ہیں تو آپ خدمت کے اپنے موجودہ استحقاقات میں شادمان ہوں۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ مزید کام کر سکتے ہیں تو اس معاملہ کو دعا میں یہوواہ کے حضور پیش کریں۔ حقیقتپسندانہ طریقے سے جائزہ لیں کہ آپکے حالات آپکو کونسی تبدیلیاں پیدا کرنے کی اجازت دیں گے۔ کسی بزرگ کے ساتھ جو پائنیر روح رکھتا ہے یا سرکٹ اوورسئیر کیساتھ اپنے منصوبوں کی بابت گفتگو کریں۔ جب آپ نے ایک دعائیہ، عملی فیصلہ کر لیا ہے تو بلاتاخیر اسکی پیروی کریں اور یہوواہ کے اس وعدے پر اعتماد رکھیں کہ وہ انکی عزت کرتا ہے جو اسکی عزت کرتے ہیں۔—عبرانیوں ۱۳:۵، ۶، ۱-سموئیل ۲:۳۰۔