مطالعے کا مضمون نمبر 30
مذہب سے لاتعلق لوگوں کو کیسے گواہی دیں؟
”مَیں ہر طرح کے لوگوں کی خاطر سب کچھ بنا تاکہ کسی نہ کسی طرح کچھ لوگوں کو بچا لوں۔“—1-کُر 9:22۔
گیت نمبر 45: آگے بڑھتے رہو!
مضمون پر ایک نظرa
1. حالیہ دہوں کے دوران کچھ ملکوں میں کون سی تبدیلی رُونما ہوئی ہے؟
ہزاروں سالوں سے زیادہتر لوگوں کا کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رہا ہے۔ لیکن حالیہ دہوں کے دوران اِس حوالے سے ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو خود کو مذہب سے لاتعلق خیال کرتے ہیں۔ کچھ ملک تو ایسے ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اُن کا کوئی مذہب نہیں ہے۔b—متی 24:12۔
2. بہت سے لوگوں کے مذہب سے لاتعلق ہونے کی کون سی وجوہات ہیں؟
2 لیکن لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خود کو مذہب سے لاتعلقc کیوں خیال کرتی ہے؟ اِس کی کئی وجوہات ہیں۔ کچھ لوگوں پر آسائشیں حاصل کرنے کی دُھن سوار ہو جاتی ہے تو کچھ پریشانیوں کی وجہ سے مذہب سے کٹ جاتے ہیں۔ (لُو 8:14) کچھ لوگ خدا کے وجود پر ایمان رکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں جو خدا پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اِس سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات دقیانوسی ہوتی ہیں، ہمارے زمانے پر لاگو نہیں ہوتیں، سائنسی نظریات سے میل نہیں کھاتیں اور ٹھوس دلیلوں پر قائم نہیں ہوتیں۔ شاید بعض نے اپنے دوستوں، اُستادوں اور مشہور شخصیات سے یہ تو سنا ہو کہ زندگی کی اِبتدا اِرتقا کے ذریعے ہوئی پر خدا کے وجود پر یقین رکھنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس دلیل نہ سنی ہو۔ بعض لوگ اُس وقت مذہب سے دُور ہو جاتے ہیں جب وہ مذہبی رہنماؤں کو پیسے اور اِختیار کے پیچھے بھاگتا دیکھتے ہیں۔ اور کچھ ملکوں میں حکومت مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر لوگوں کو مذہب سے لاتعلق کر دیتی ہے۔
3. اِس مضمون کو کس مقصد سے تیار کِیا گیا ہے؟
3 یسوع نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ”سب قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں۔“ (متی 28:19) ہم مذہب سے لاتعلق اشخاص کو مسیح کے شاگرد کیسے بنا سکتے ہیں اور اُن کے دل میں خدا کے لیے محبت کیسے جگا سکتے ہیں؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک شخص ہمارے پیغام کے لیے جو ردِعمل دِکھاتا ہے، اُس کا تعلق اِس بات سے ہو سکتا ہے کہ وہ کہاں پلا بڑھا ہے۔ مثال کے طور پر یورپ کے لوگوں کا ردِعمل ایشیا کے لوگوں سے فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن کیوں؟ یورپ میں بہت سے لوگ بائبل کے بارے میں تھوڑا بہت جانتے ہیں اور اِس نظریے سے واقف ہیں کہ خدا نے سب کچھ بنایا ہے۔ لیکن ایشیا میں لوگوں کی اکثریت بائبل کے متعلق یا تو بہت کم یا بالکل بھی نہیں جانتی۔ اِس کے علاوہ وہاں بہت سے لوگ خدا پر ایمان بھی نہیں رکھتے۔ یہ مضمون اِس لیے تیار کِیا گیا ہے تاکہ اِس کی مدد سے ہم تمام لوگوں کو مؤثر طریقے سے گواہی دے سکیں پھر چاہے اُن کا مذہبی پسمنظر جو بھی ہو۔
لوگوں کی مدد کرنے میں ہمت نہ ہاریں!
4. ہم مُنادی کے کام کے حوالے سے مثبت سوچ کیوں رکھ سکتے ہیں؟
4 مثبت سوچ رکھیں۔ ہر سال مذہب سے لاتعلق کئی اشخاص یہوواہ کے گواہ بن جاتے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اعلیٰ اخلاقی معیاروں کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں اور مذہبی منافقت سے اُکتائے ہوتے ہیں۔ دیگر اشخاص ایسے ہوتے ہیں جو ماضی میں اچھے چالچلن اور عادتوں کے مالک نہیں ہوتے لیکن سچائی سیکھنے کے بعد اپنے طورطریقے بدل لیتے ہیں۔ لہٰذا ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کی مدد سے ہم ایسے لوگوں کو ڈھونڈ نکالیں گے ”جو ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے کی طرف مائل“ ہیں۔—اعما 13:48؛ 1-تیم 2:3، 4۔
بائبل پر ایمان نہ رکھنے والے لوگوں کو گواہی دیتے وقت فرق طریقہ اپنائیں۔ (پیراگراف نمبر 5، 6 کو دیکھیں۔)d
5. بہت سے لوگ کس وجہ سے ہمارے پیغام کے لیے اچھا ردِعمل دِکھاتے ہیں؟
5 نرمی سے پیش آئیں اور پاسولحاظ دِکھائیں۔ اکثر لوگ ہماری باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ بات کرنے کے طریقے کی وجہ سے ہمارے پیغام کے لیے اچھا ردِعمل دِکھاتے ہیں۔ جب ہم لوگوں سے بات کرتے وقت نرمی اور پاسولحاظ دِکھاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم واقعی اُن کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ اِس کی قدر کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کو اپنی بات سننے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذہب کے بارے میں اُن کے نظریات کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ کسی اجنبی کے ساتھ مذہب کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ کچھ لوگ اُس وقت بُرا مان جاتے ہیں جب کوئی اُن سے خدا کے بارے میں اُن کا نظریہ پوچھتا ہے۔ اور بعض لوگوں کو اِس بات پر شرمندگی ہوتی ہے کہ کوئی اُنہیں بائبل پڑھتا، خاص طور پر کسی یہوواہ کے گواہ کے ساتھ بائبل پڑھتا دیکھے۔ صورتحال چاہے جو بھی ہو، ہمیں لوگوں سے بات کرتے وقت نرمی اور پاسولحاظ دِکھانا چاہیے۔—2-تیم 2:24۔
6. پولُس رسول نے لوگوں کے لیے پاسولحاظ کیسے دِکھایا اور ہم اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
6 کچھ لوگوں کو یہ پسند نہیں ہوتا کہ اُن کے سامنے ”بائبل،“ ”تخلیق،“ ”خدا“ یا ”مذہب“ جیسے الفاظ اِستعمال کیے جائیں۔ ہم ایسے لوگوں کو مؤثر طریقے سے گواہی کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم پولُس رسول کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں اور فرق طریقے سے بات کر سکتے ہیں۔ یہودیوں سے بات کرتے وقت پولُس نے صحیفوں سے دلیلیں دیں۔ لیکن اریوپگس میں یونانی فلسفیوں سے بات کرتے وقت اُنہوں نے صحیفوں سے براہِراست کوئی حوالہ نہیں دیا۔ (اعما 17:2، 3، 22-31) ہم اِس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں مُنادی کے دوران کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو بائبل پر ایمان نہیں رکھتا تو یہ اچھا ہوگا کہ اُس سے بات کرتے وقت ہم بائبل سے براہِراست حوالے نہ دیں۔ اور اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ایک شخص کو یہ اچھا نہیں لگے گا کہ دوسرے لوگ اُسے ہمارے ساتھ بائبل پڑھتا دیکھیں تو ہم اُسے فون یا ٹیبلٹ وغیرہ پر آیتیں دِکھا سکتے ہیں۔
7. پولُس نے 1-کُرنتھیوں 9:20-23 میں اپنے بارے میں جو بات کہی، اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
7 لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دھیان سے اُن کی بات سنیں۔ ہمیں اپنے علاقے کے لوگوں کی سوچ اور پسمنظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ (امثا 20:5) ذرا پھر سے پولُس کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے یہودی معاشرے میں پرورش پائی تھی۔ لہٰذا غیریہودیوں کو مُنادی کرنے کے لیے جو کہ یہوواہ اور صحیفوں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے، پولُس کو بات کرنے کا طریقہ بدلنا پڑا ہوگا۔ اپنے علاقے کے لوگوں کی سوچ اور احساسات کو سمجھنے کے لیے ہم اُن کے پسمنظر کے بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں یا کلیسیا کے تجربہکار بہن بھائیوں سے مدد لے سکتے ہیں۔—1-کُرنتھیوں 9:20-23 کو پڑھیں۔
8. بائبل کے بارے میں بات شروع کرنے کا ایک مؤثر طریقہ کیا ہے؟
8 ہمارا مقصد ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا ہے جو ہمارے ”پیغام کو قبول“ کریں۔ (متی 10:11) اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم کسی موضوع پر بات کرتے وقت اُن سے اُن کی رائے پوچھیں اور پھر دھیان سے اُن کی بات سنیں۔ اِنگلینڈ میں ایک بھائی لوگوں کی رائے جاننے کے لیے اُن سے یہ سوال پوچھتا ہے: ہم اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار کیسے بنا سکتے ہیں؟ ہم بچوں کی پرورش کیسے کر سکتے ہیں؟ یا ہم نااِنصافی سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ اُن کے جواب سننے کے بعد وہ کہتا ہے: ”اِس سلسلے میں ذرا 2000 سال پہلے لکھے اِس مشورے پر غور کریں۔“ اِس کے بعد وہ لفظ ”بائبل“ اِستعمال کیے بغیر اُنہیں اپنے موبائل پر موضوع کے مطابق کچھ آیتیں دِکھاتا ہے۔
لوگوں کے دل تک پہنچیں
9. ہم اُن لوگوں کو پیغام کیسے سنا سکتے ہیں جو خدا کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں؟
9 ہم اُن لوگوں کے دل تک اپنا پیغام کیسے پہنچا سکتے ہیں جو خدا کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں؟ ہم اُن کے ساتھ کسی ایسے موضوع سے بات شروع کر سکتے ہیں جس میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ قدرت کے عجائب کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ ہم اُن سے کچھ ایسے بات شروع کر سکتے ہیں: ”آپ جانتے ہوں گے کہ سائنسدانوں نے بہت سے آلات قدرتی چیزوں کی نقل کر کے ایجاد کیے ہیں۔ مثال کے طور پر مائیکروفون بنانے والوں نے کانوں کا مشاہدہ کِیا اور کیمرہ بنانے والوں نے آنکھوں پر تحقیق کی۔“ پھر ہم اُن سے پوچھ سکتے ہیں کہ ”جب آپ قدرتی چیزوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کیا سوچتے ہیں؛ کیا یہ چیزیں خودبخود وجود میں آئی ہیں؛ کیا کسی ذہین ہستی نے اِنہیں بنایا ہے یا آپ کی کوئی اَور رائے ہے؟“ اُن کے جواب کو توجہ سے سننے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں: ”جب سائنسدان کانوں یا آنکھوں وغیرہ کی بناوٹ پر غور کر کے مختلف چیزیں ایجاد کرتے ہیں تو اصل میں وہ کس کی کاریگری کی نقل کر رہے ہوتے ہیں؟ مجھے اِس حوالے سے یہ بات بڑی دلچسپ لگی ہے جو صدیوں پہلے ایک شاعر نے کہی تھی: ’جس نے کان دیا کیا وہ خود نہیں سنتا؟ جس نے آنکھ بنائی کیا وہ دیکھ نہیں سکتا؟ وہ اِنسان کو دانش سکھاتا ہے۔‘ کچھ سائنسدان بھی اِس شاعر کی بات سے اِتفاق کرتے ہیں۔“ (زبور 94:9، 10) اِس کے بعد ہم اُسے ®jw.org پر حصہ ”زندگی کی اِبتدا کے متعلق نظریات“ کے تحت آنے والے سلسلہوار مضامین میں سے کوئی مضمون دِکھا سکتے ہیں۔ (حصہ ”پاک کلام کی تعلیمات“ کے تحت ”سائنس اور بائبل“ پر جائیں۔)
10. ہم کسی ایسے شخص سے باتچیت کیسے شروع کر سکتے ہیں جو خدا کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا؟
10 دُنیا میں زیادہتر لوگ ایک اچھے مستقبل کی آرزو رکھتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ زمین تباہ ہو جائے گی یا اِس حد تک خراب ہو جائے گی کہ اِس پر زندہ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔ ناروے میں خدمت کرنے والے ایک سفری نگہبان کہتے ہیں کہ جو لوگ خدا کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے، وہ اکثر دُنیا کے حالات کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھائی لوگوں سے سلام دُعا کرنے کے بعد اُن سے پوچھتے ہیں: ”کیا ہم ایک اچھے مستقبل کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ آپ کے خیال میں ہم اِس سلسلے میں کس سے اُمید لگا سکتے ہیں: سیاستدانوں سے، سائنسدانوں سے یا کسی اَور سے؟“ اُن کے جواب کو سننے کے بعد وہ بھائی بائبل سے کسی ایسی آیت کو پڑھتے یا اُس کا حوالہ دیتے ہیں جس میں روشن مستقبل کی اُمید دِلائی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کی دلچسپی اُس وقت بڑھ جاتی ہے جب اُنہیں خدا کے اِس وعدے کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ زمین کبھی تباہ نہیں ہوگی اور اچھے لوگ اِس پر ہمیشہ تک رہیں گے۔—زبور 37:29؛ واعظ 1:4۔
11. (الف) ہمیں لوگوں سے فرق فرق طریقے سے بات کیوں کرنی چاہیے؟ (ب) پولُس نے رومیوں 1:14-16 میں جو بات کہی، اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
11 چونکہ ہر شخص کا پسمنظر فرق ہوتا ہے اِس لیے اچھا ہوگا کہ ہم لوگوں کے ساتھ فرق فرق طریقے سے بات کریں۔ جو بات ایک شخص کو اچھی لگتی ہے، وہ شاید دوسرے شخص کو بُری لگ جائے۔ کچھ لوگوں کو اِس بات پر کوئی اِعتراض نہیں ہوتا کہ اُن کے ساتھ خدا یا بائبل کے بارے میں بات کی جائے۔ البتہ کچھ لوگ اُس وقت زیادہ اچھا ردِعمل دِکھاتے ہیں جب ہم اُن کے ساتھ کسی اَور موضوع پر بات شروع کرتے ہیں۔ بہرحال ہمیں ہر طرح کے لوگوں سے بات کرنے کے موقعے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (رومیوں 1:14-16 کو پڑھیں۔) لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نہیں بلکہ یہوواہ خدا اُن لوگوں کے دلوں میں سچائی کے بیج کو بڑھاتا ہے جنہیں اُس کے بارے میں سیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔—1-کُر 3:6، 7۔
ایشیا کے لوگوں کو گواہی
بہت سے یہوواہ کے گواہ مُنادی کرتے وقت ایسے لوگوں کے ساتھ بھی دلچسپی سے بات کرتے ہیں جن کا تعلق کسی غیرمسیحی ملک سے ہوتا ہے۔ وہ اُن کی توجہ بائبل کے ایسے اصولوں پر دِلاتے ہیں جن پر عمل کرنے سے اُنہیں فائدہ ہو سکتا ہے۔ (پیراگراف نمبر 12، 13 کو دیکھیں۔)
12. ہم ایشیا کے ملکوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگوں کو گواہی کیسے دے سکتے ہیں جنہوں نے کبھی خالق کے وجود کے متعلق نہیں سوچا ہوتا؟
12 دُنیا بھر میں بہت سے مبشر مُنادی کے دوران ایشیا کے ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملتے ہیں۔ اِن میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے ملک میں مذہبی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ ایشیا کے کئی ملکوں میں بہت سے لوگوں نے کبھی اِس بات پر غور نہیں کِیا ہوتا کہ کوئی خالق بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں میں سے کچھ تو تجسّس کے مارے فوراً ہم سے بائبل کورس کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ شروع شروع میں نئی باتیں سیکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے دل تک اپنا پیغام کیسے پہنچا سکتے ہیں؟ کچھ تجربہکار مبشروں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگوں سے بات کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اُن کے ساتھ مذہب سے ہٹ کر کسی موضوع پر بات شروع کی جائے، یہ ظاہر کِیا جائے کہ ہمیں اُن کی بھلائی میں دلچسپی ہے اور پھر کسی مناسب وقت پر اُنہیں یہ بتایا جائے کہ بائبل کے فلاں اصول پر عمل کرنے سے ہمیں ذاتی طور پر کیا فائدہ ہوا ہے۔
13. ہم بائبل میں لوگوں کی دلچسپی کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ (سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔)
13 بہت سے لوگ اِس وجہ سے بائبل میں دلچسپی لینے لگتے ہیں کیونکہ اِس میں روزمرہ زندگی کے حوالے سے بہت عمدہ مشورے دیے گئے ہیں۔ (واعظ 7:12) اِس حوالے سے نیو یارک میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جو چینی زبان بولنے والوں کو مُنادی کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے: ”مَیں دوسروں کی بھلائی میں دلچسپی لینے کی کوشش کرتی ہوں اور اُن کی بات دھیان سے سنتی ہوں۔ اگر مجھے پتہ چلتا ہے کہ وہ حال ہی میں کسی دوسرے ملک سے یہاں آئے ہیں تو مَیں اُن سے پوچھتی ہوں: ”اَور اِس نئی جگہ میں سب کیسا چل رہا ہے؟ کیا آپ کو نوکری مل گئی ہے؟ کیا آپ کی آس پڑوس والوں سے دوستی ہو گئی ہے؟““ یوں باتوں باتوں میں اُس بہن کو کبھی کبھار بائبل کے کسی موضوع پر بات شروع کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ موقعے کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے وہ بہن لوگوں سے یہ بھی پوچھتی ہے: ”آپ کے خیال میں ہم لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ذرا اِس سلسلے میں بائبل میں لکھی اِس کہاوت پر غور کریں: ”جھگڑے کا شروع پانی کے پھوٹ نکلنے کی مانند ہے اِس لئے لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑ دو۔“ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اِس مشورے پر عمل کرنے سے ہمیں دوسروں کے ساتھ صلح صفائی سے رہنے میں مدد مل سکتی ہے؟“ (امثا 17:14) اِس طرح باتچیت کرنے سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک شخص مزید سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
14. مشرقی ایشیا میں رہنے والا ایک بھائی اُن لوگوں سے کیسے بات کرتا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے؟
14 ہم اُن لوگوں سے کیسے بات کر سکتے ہیں جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے؟ ایک بھائی جو کہ مشرقی ایشیا میں مذہب سے لاتعلق اشخاص کو مُنادی کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے، یہ مشورہ دیتا ہے: ”جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ”مَیں خدا پر ایمان نہیں رکھتا“ تو دراصل اُس کی بات کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ اُن دیوتاؤں کی پرستش نہیں کرنا چاہتا جنہیں اُس کے علاقے کے لوگ پوجتے ہیں۔ اِس لیے مَیں اُس کی بات سے اِتفاق کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ زیادہتر خداؤں کو اِنسان نے بنایا ہے اور وہ محض خیالی معبود ہیں۔ اِس کے بعد عام طور پر مَیں یرمیاہ 16:20 پڑھتا ہوں جس میں لکھا ہے: ”کیا اِنسان اپنے لئے معبود بنائے جو خدا نہیں ہیں؟“ پھر مَیں اُس سے پوچھتا ہوں: ”ہم سچے خدا اور اِنسان کے بنائے ہوئے خداؤں میں کیسے فرق کر سکتے ہیں؟“ جب وہ جواب دیتا ہے تو مَیں توجہ سے اُس کی بات سنتا ہوں اور پھر یسعیاہ 41:23 میں درج یہ الفاظ پڑھتا ہوں: ”بتاؤ کہ آگے کو کیا ہوگا تاکہ ہم جانیں کہ تُم اِلہٰ [یعنی خدا] ہو۔“ اِس کے بعد مَیں اُسے بائبل سے یہوواہ کی کوئی ایسی پیشگوئی دِکھاتا ہوں جو پوری ہو چُکی ہے۔“
15. ہم مشرقی ایشیا میں رہنے والے ایک بھائی کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
15 ذرا غور کریں کہ مشرقی ایشیا میں رہنے والا ایک اَور بھائی کیسے واپسی ملاقاتیں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”مَیں لوگوں کو بائبل سے ایسے اصول بتاتا ہوں جن پر عمل کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہو سکتا ہے، ایسی پیشگوئیاں دِکھاتا ہوں جو پوری ہو چُکی ہیں اور ایسے قدرتی قوانین کی مثالیں دیتا ہوں جن کے تحت یہ کائنات چل رہی ہے۔ اِس کے بعد مَیں اُنہیں یہ بتاتا ہوں کہ اِن سب باتوں سے ایک زندہ اور ذہین خالق کے وجود کا ثبوت کیسے ملتا ہے۔ جب کوئی شخص خدا کے وجود پر یقین کرنے کی طرف مائل ہونے لگتا ہے تو مَیں اُسے بائبل سے یہوواہ کے بارے میں بتاتا ہوں۔“
16. (الف) عبرانیوں 11:6 کے پیشِنظر لوگوں کو خدا اور بائبل پر ایمان رکھنے کی ضرورت کیوں ہے؟ (ب) ہم خدا اور بائبل پر ایمان پیدا کرنے میں لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
16 جب ہم مذہب سے لاتعلق اشخاص کو بائبل کورس کراتے ہیں تو ہمیں خدا پر اُن کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔ (عبرانیوں 11:6 کو پڑھیں۔) اِس کے علاوہ ہمیں بائبل پر بھی اُن کے ایمان کو بڑھانا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے شاید ہمیں کچھ باتیں کئی بار دُہرانی پڑیں۔ کیوں نہ ہر بار بائبل کورس کے دوران اُن کے ساتھ کچھ ایسے ثبوتوں پر بات کریں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل خدا کا کلام ہے؟ اِس سلسلے میں ہم بائبل میں لکھی کچھ ایسی پیشگوئیوں پر غور کر سکتے ہیں جو پوری ہو چُکی ہیں؛ کچھ ایسے نکتوں پر بات کر سکتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل سائنسی اور تاریخی لحاظ سے درست ہے یا بائبل میں درج مفید مشوروں پر توجہ دِلا سکتے ہیں۔
17. ہماری محبت کا لوگوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟
17 جب ہم لوگوں کے مذہبی پسمنظر سے قطعِنظر اُن کے لیے محبت ظاہر کرتے ہیں تو اُنہیں مسیح کے شاگرد بننے کی ترغیب ملتی ہے۔ (1-کُر 13:1) لوگوں کو تعلیم دیتے وقت ہمارا مقصد اُنہیں یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ خدا ہم سے پیار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم بھی اُس سے پیار کریں۔ ہر سال ایسے ہزاروں لوگ جو پہلے مذہب میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اپنے دل میں خدا کے لیے محبت پیدا کر کے بپتسمہ لے لیتے ہیں۔ لہٰذا مُنادی کرتے وقت مثبت سوچ رکھیں اور ہر طرح کے لوگوں کی بھلائی میں دلچسپی ظاہر کریں۔ دھیان سے اُن کی بات سنیں اور اُن کے پسمنظر اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی مثال سے اُنہیں مسیح کے شاگرد بننا سکھائیں۔
گیت نمبر 16: خدا کی بادشاہت پر اُمید رکھو
a ہمیں مُنادی کے دوران ایسے لوگ مل سکتے ہیں جن کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے لوگ آج مذہب سے لاتعلق ہیں، اُتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ اِس مضمون میں ہم سیکھیں گے کہ ہم ایسے لوگوں کو بائبل کی سچائیوں کے بارے میں کیسے بتا سکتے ہیں اور بائبل اور یہوواہ پر ایمان پیدا کرنے میں اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔
b جائزوں کے مطابق اِن میں سے کچھ ملک یہ ہیں: آذربائیجان، آسٹریا، آسٹریلیا، آئرلینڈ، اِسرائیل، البانیہ، برطانیہ، جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا، چین، چیک ریپبلک، ڈنمارک، سپین، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، فرانس، کینیڈا، ناروے، نیدرلینڈز ویتنام اور ہانگکانگ شامل ہیں۔
c اِصطلاح کی وضاحت: اِس مضمون میں اِصطلاح مذہب سے لاتعلق ایسے لوگوں کے لیے اِستعمال ہوئی ہے جو یا تو کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے یا خدا کے وجود کو نہیں مانتے۔
d تصویر کی وضاحت: ایک بھائی ہسپتال میں اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص کو گواہی دے رہا ہے اور بعد میں وہ شخص ہماری ویبسائٹ پر مزید معلومات حاصل کر رہا ہے۔