آپبیتی
ہمارا کام تو بدلتا رہا مگر جذبہ قائم رہا
سن ۱۹۴۹ء میں مجھے ایک ایسے قصبے میں بھیجا گیا جہاں یہوواہ کے گواہ بہت کم تھے۔ وہاں مجھے اکثر اکیلے مُنادی کا کام کرنا پڑتا تھا۔ مَیں نے یہ کام پہلے کبھی بھی اکیلے نہیں کِیا تھا۔ اِس لئے جب بھی مَیں مُنادی کے لئے گھر سے نکلتا تو گھبراہٹ سے میری ٹانگیں کانپتی تھیں۔ ایک اَور مسئلہ یہ تھا کہ اِس علاقے میں زیادہتر لوگ بائبل کا پیغام سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بعض تو طیش میں آ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ”اگر تُم دوبارہ یہاں نظر آئے تو تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔“ مجھے پہلکار کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ایک مہینہ ہو گیا تھا مگر ابھی تک صرف ایک شخص نے ہی مجھ سے کتاب لی تھی۔—مارکس۔
یہ بات تو ۶۰ سال پُرانی ہے مگر میری کہانی اِس سے بھی کئی سال پہلے شروع ہوئی۔ مَیں ۱۹۲۷ء میں پیدا ہوا۔ ہم سات بہنبھائی تھے اور مَیں چوتھے نمبر پر تھا۔ میرے ابو جُوتے بنانے کا کام کرتے تھے۔ اِس کے علاوہ وہ مالی بھی تھے۔ ہم نیدرلینڈز کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ ہمارا گھر ایک کچے راستے پر واقع تھا۔ ہمارے زیادہتر پڑوسی کسان تھے اور مَیں بھی کھیتیباڑی کرتا تھا۔ میرا ایک پڑوسی تھیونس بین تھا۔ وہ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ یہوواہ کا گواہ بن گیا۔ اور مَیں نے دیکھا کہ وہ بہت ہنسمکھ اور ملنسار ہو گیا ہے۔ اُسے دیکھ کر مجھے تجسّس ہونے لگا کہ آخر اُس میں یہ تبدیلی آئی کیسے۔ یہی وجہ تھی کہ مَیں نے تھیونس کی بات بڑے دھیان سے سنی جب اُس نے مجھے بادشاہت کی خوشخبری سنائی۔ ایسا ۱۹۴۷ء میں ہوا۔ تب میری عمر ۱۹ سال تھی۔ مَیں نے سچائی قبول کر لی اور ہم دونوں پکے دوست بن گئے۔a
مَیں نے مئی ۱۹۴۸ء میں مُنادی کے کام میں حصہ لینا شروع کِیا۔ اور ۲۰ جون کو ایک اجتماع پر مَیں نے بپتسمہ لے لیا۔ یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو مَیں نے پہلکار کے طور پر خدمت شروع کی اور مجھے مشرقی نیدرلینڈز کے ایک قصبے میں بھیج دیا گیا جس کا نام بورکیولو ہے۔ اِس قصبے میں یہوواہ کے گواہوں کی ایک چھوٹی سی کلیسیا تھی۔ یہ قصبہ میرے گھر سے کوئی ۱۳۰ کلومیٹر (۸۰ میل) دُور تھا۔ مَیں نے سوچا کہ مَیں وہاں سائیکل پر چلا جاتا ہوں۔ میرے خیال سے تو یہ صرف ۶ گھنٹے کا سفر تھا لیکن تیز بارش اور آندھی کی وجہ سے مجھے وہاں پہنچنے میں ۱۲ گھنٹے لگ گئے حالانکہ آخری ۹۰ کلومیٹر (۵۵ میل) کا سفر مَیں نے ٹرین میں طے کِیا۔ خیر مَیں رات کے وقت وہاں ایک بھائی کے گھر پہنچا۔ اور جتنا عرصہ مَیں نے بورکیولو میں پہلکار کے طور پر خدمت کی، مَیں اِسی خاندان کے ساتھ رہا۔
دوسری عالمی جنگ ختم تو ہو گئی تھی لیکن لوگ بڑی مشکل سے گزربسر کر رہے تھے۔ میرے پاس بھی زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مثلاً میرے پاس بہت ہی تھوڑے کپڑے تھے، بس ایک سوٹ اور ایک پینٹ۔ سوٹ مجھے بہت بڑا تھا اور پینٹ بہت چھوٹی تھی۔ جیسا کہ مَیں نے شروع میں بتایا، بورکیولو میں میرا پہلا مہینہ بڑی مشکل سے کٹا۔ لیکن یہوواہ خدا نے میرے کام میں برکت ڈالی اور مَیں نے بہت سے لوگوں کو بائبل سے تعلیم دی۔ یہاں خدمت کرتے ابھی مجھے نو مہینے ہی ہوئے تھے کہ مجھے شہر ایمسٹرڈیم بھیج دیا گیا۔
دیہات سے شہر میں
مَیں ایک دیہاتی علاقے میں پلا بڑا تھا لیکن اب مَیں ایک بہت بڑے شہر ایمسٹرڈیم میں آ گیا تھا۔ یہاں مُنادی کا کام کرنے میں مجھے بڑا مزہ آیا۔ مَیں نے پہلے ہی مہینے میں جتنی کتابیں اور رسالے بانٹے اُتنے تو مَیں نے پچھلے نو مہینوں میں نہیں بانٹے تھے۔ یہاں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد مَیں آٹھ لوگوں کو بائبل سے تعلیم دینے لگا۔ پھر مجھے کلیسیا کا نگہبان مقرر کِیا گیا اور مجھے پہلی بار عوامی تقریر پیش کرنے کو کہا گیا۔ عوامی تقریر دینا میرے لئے پہاڑ کو سر کرنے کے برابر تھا۔ لہٰذا جب تقریر سے کچھ دن پہلے مجھے کسی اَور کلیسیا میں بھیج دیا گیا تو مَیں نے چین کا سانس لیا۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ آگے چل کر تقریریں دینے کا سلسلہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے گا۔ اب تک مَیں ۵۰۰۰ سے زیادہ تقریریں دے چُکا ہوں۔
اُوپر: مارکس (دائیں طرف) ۱۹۵۰ء میں ایمسٹرڈیم کے نزدیک کسی عوامی جگہ میں مُنادی کا کام کر رہے ہیں۔
مئی ۱۹۵۰ء میں مجھے شہر ہارلم بھیج دیا گیا۔ پھر مجھے سفری نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کی دعوت ملی۔ یہ خبر سُن کر تو میری نیند ہی اُڑ گئی۔ مَیں نے نیدرلینڈز کے برانچ کے دفتر میں کام کرنے والے ایک بھائی سے بات کی جن کا نام رابرٹ وِنکلر تھا۔ مَیں نے اُنہیں بتایا کہ مَیں اِتنی بڑی ذمہداری اُٹھانے کے لائق نہیں۔ مگر اُنہوں نے کہا: ”تُم بس فارم بھرو، باقی کام تُم سیکھ جاؤ گے۔“ اِس کے بعد مجھے ایک مہینے کی تربیت دی گئی اور پھر مَیں نے سفری نگہبان کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ ایک کلیسیا کے دورے کے دوران میری ملاقات جینی ٹاٹکن سے ہوئی۔ وہ ایک پہلکار تھیں اور اچھی طبیعت اور مزاج کی مالک تھیں۔ وہ یہوواہ خدا سے بڑی محبت کرتی تھیں اور پوری لگن سے اُس کی خدمت کر رہی تھیں۔ ہم نے ۱۹۵۵ء میں شادی کر لی۔ اب جینی آپ کو بتائیں گی کہ وہ پہلکار کیسے بنیں۔
شادی کے بعد خدمت میں ایک نیا موڑ
جینی: میری امی ۱۹۴۵ء میں یہوواہ کی گواہ بنیں۔ اُس وقت میری عمر ۱۱ سال تھی۔ میری امی جلد ہی یہ بات سمجھ گئیں کہ بچوں کو بائبل کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ لیکن میرے ابو کو یہوواہ کے گواہوں کی تعلیم پسند نہیں تھی۔ اِس لئے جب وہ گھر پر نہیں ہوتے تھے تو امی ہم تینوں بہنبھائیوں کو بائبل سے تعلیم دیتی تھیں۔
مَیں پہلی بار ۱۹۵۰ء میں یہوواہ کے گواہوں کے اجلاس میں گئی۔ یہ دراصل ایک صوبائی اجتماع تھا۔ اِس کے ایک ہفتے بعد مَیں پہلی بار اپنے قصبے ایسن میں یہوواہ کے گواہوں کی عبادتگاہ میں گئی۔ جب میرے ابو کو اِس بات کا علم ہوا تو وہ بہت غصے میں آ گئے اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ اِس پر میری امی نے مجھ سے کہا: ”تمہیں معلوم ہے نا کہ اب تمہیں کس کے پاس جانا ہے؟“ دراصل اُن کا اشارہ کلیسیا کے بہنبھائیوں کی طرف تھا۔ لہٰذا مَیں کلیسیا کے کچھ بہنبھائیوں کے ساتھ رہنے لگی۔ لیکن میرے ابو پھر بھی میری مخالفت کرنے سے باز نہ آئے۔ اِس لئے مَیں اپنے گھر سے ۹۵ کلومیٹر (۶۰ میل) دُور ایک شہر میں چلی گئی اور وہاں کی کلیسیا کے ساتھ خدمت کرنے لگی۔ مَیں ابھی نابالغ تھی اِس لئے کچھ سرکاری افسروں نے میرے ابو سے کہا کہ ”نابالغ بچے کو گھر سے نکالنا جُرم ہے۔“ اِس لئے میرے ابو نے مجھے گھر واپس بلا لیا۔ اُنہوں نے خود کبھی سچائی کو قبول نہ کِیا لیکن آخرکار مجھے اجلاسوں میں جانے اور مُنادی کے کام میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
نیچے: جینی (دائیں طرف) ۱۹۵۲ء میں مددگار پہلکار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ابھی مجھے گھر واپس آئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ میری امی سخت بیمار پڑ گئیں۔ سارے گھر کا کامکاج میرے سر پر آن پڑا۔ اِس کے باوجود مَیں روحانی طور پر بڑھتی رہی اور مَیں نے ۱۹۵۱ء میں بپتسمہ لے لیا۔ اُس وقت میری عمر ۱۷ سال تھی۔ سن ۱۹۵۲ء میں جب میری امی کی طبیعت کچھ سنبھلی تو مَیں نے تین پہلکار بہنوں کے ساتھ مل کر دو مہینے تک مددگار پہلکار کے طور پر خدمت کی۔ ہمارے پاس ایک کشتی تھی جس میں رہنے کا سارا اِنتظام تھا۔ ہم چاروں اِسی کشتی میں رہتی تھیں۔ ہم نے ایسن کے نزدیک دو قصبوں میں مُنادی کا کام کِیا۔ مَیں ۱۹۵۳ء میں پہلکار بن گئی۔ ایک سال بعد مارکس ہماری کلیسیا کے دورے پر آئے۔ ہم دونوں نے ۱۹۵۵ء میں شادی کر لی کیونکہ ہمیں لگا کہ ہم مل کر اَور اچھی طرح خدا کی خدمت کر سکتے ہیں۔—واعظ ۴:۹-۱۲۔
بائیں طرف: ہماری شادی کی تصویر (۱۹۵۵ء)
مارکس: شادی کے بعد ہمیں پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے کے لئے ایک قصبے میں بھیجا گیا جس کا نام ویندام ہے۔ وہاں ہم ایک بہت ہی چھوٹے کمرے میں رہتے تھے جس کی لمبائی تین میٹر (دس فٹ) اور چوڑائی دو میٹر (سات فٹ) تھی۔ لیکن جینی نے اِس چھوٹے سے کمرے کو بھی خوب سجایا۔ رات کو ہمیں اپنا پلنگ بچھانے کے لئے میز اور دو چھوٹی کُرسیاں ہٹانی پڑتی تھیں۔
چھ مہینے بعد ہمیں ملک بیلجیئم بھیجا گیا جہاں مَیں نے سفری نگہبان کے طور پر خدمت کی۔ سن ۱۹۵۵ء میں وہاں صرف ۴۰۰۰ مبشر تھے۔ لیکن اب مبشروں کی تعداد ۲۴ ہزار سے زیادہ ہے۔ شمالی بیلجیئم میں رہنے والے لوگ بھی نیدرلینڈز کے لوگوں کی طرح ڈچ زبان بولتے ہیں۔ لیکن بیلجیئم کے لوگوں کا تلفظ اور لہجہ بہت فرق ہے۔ اِس لئے شروعشروع میں ہمیں یہاں کی زبان سمجھنے میں کافی دقت ہوئی۔
جینی:ہر ہفتے ایک نئی کلیسیا میں جانا کوئی آسان بات نہیں تھی۔ ہم اپنیاپنی سائیکل پر ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا میں جاتے تھے اور بہنبھائیوں کے گھروں میں ٹھہرتے تھے۔ چونکہ ہمارا اپنا کوئی گھر نہیں تھا اِس لئے ہم ایک کلیسیا کا دورہ ختم کرنے کے بعد منگل کی صبح تک اُسی کلیسیا کے بہنبھائیوں کے ساتھ رہتے تھے۔ اور پھر منگل ہی کو دوسری کلیسیا کے دورے پر نکل پڑتے تھے۔ اگرچہ یہ سب کچھ اِتنا آسان نہیں تھا تو بھی ہم نے ہمیشہ یہ بات یاد رکھی کہ یہوواہ خدا کی خدمت کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
مارکس:ہم نے جن کلیسیاؤں کا دورہ کِیا، شروعشروع میں ہم وہاں کسی بہنبھائی سے واقف نہیں تھے۔ لیکن بہنبھائیوں نے ہمارا بہت خیال رکھا اور ہماری بڑی مہماننوازی کی۔ (عبر ۱۳:۲) مَیں نے کئی سالوں تک شمالی بیلجیئم میں ایک سفری نگہبان کے طور پر خدمت کی۔ اِس عرصے کے دوران ہم نے ڈچ بولنے والی تمام کلیسیاؤں کا کئی بار دورہ کِیا۔ اِس سے ہمیں بہت فائدے ہوئے۔ مثال کے طور پر ہم اِن بہنبھائیوں سے اچھی طرح واقف ہو گئے اور ہمیں اِن سے بہت لگاؤ ہو گیا۔ بہت سے بچے ہماری نظروں کے سامنے بڑے ہوئے اور اُنہوں نے اپنی زندگیاں یہوواہ خدا کے لئے وقف کیں۔ ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ اِن میں سے بہت سے اب کُلوقتی خدمت کر رہے ہیں۔ (۳-یوح ۴) اِنہیں خدمت کرتے دیکھ کر ہماری حوصلہافزائی ہوتی ہے اور ہمارا یہ عزم اَور مضبوط ہوتا ہے کہ ہم دلوجان سے یہوواہ خدا کی خدمت کرتے رہیں گے۔—روم ۱:۱۲۔
ہماری قربانی اور خدا کی برکت
مارکس: جس دن ہماری شادی ہوئی، اُسی دن سے ہم سوچنے لگے کہ کاش ہم گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کر سکیں۔ ہم ہر روز ایک گھنٹے کے لئے انگریزی زبان کی کتابیں پڑھتے تھے۔ لیکن کتابوں سے انگریزی زبان سیکھنا آسان نہیں تھا۔ اِس لئے ہم نے فیصلہ کِیا کہ ہم چھٹیاں لے کر اِنگلینڈ جائیں گے۔ ہم نے سوچا کہ وہاں ہمیں مُنادی کے کام کے دوران انگریزی بولنے کا زیادہ موقع ملے گا۔ آخرکار ۱۹۶۳ء میں ہمیں یہوواہ کے گواہوں کے مرکزی دفتر کی طرف سے ایک لفافہ ملا۔ اِس لفافے میں دو خط تھے، ایک میرے نام اور دوسرا جینی کے نام۔ میرے خط میں مجھے یہ دعوت دی گئی تھی کہ مَیں گلئیڈ سکول میں دس مہینے کا ایک خاص کورس کرنے کے لئے آؤں۔ یہ کورس بھائیوں کے لئے تھا تاکہ وہ خدا کی تنظیم میں مختلف ذمہداریوں کو اچھی طرح نبھا سکیں۔ اِسی لئے ۱۰۰ طالبعلموں میں سے ۸۲ مرد تھے۔
جینی: جو خط مجھے ملا، اُس میں مجھ سے پوچھا گیا کہ اگر مارکس کورس کے لئے جائیں تو کیا مَیں اُن کے بغیر بیلجیئم میں خدمت کرنے کو تیار ہوں۔ مَیں آپ کو سچ بتاؤں کہ اِس بات سے مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ مجھے لگا کہ خدا میری یہ خواہش پوری نہیں کرنا چاہتا کہ مَیں گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کروں۔ پھر مَیں نے سوچا کہ گلئیڈ سکول جانے والوں کو بھی تو یہی سکھایا جاتا ہے کہ وہ کسی اَور ملک میں مُنادی کے کام کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ اور مَیں تو پہلے ہی اِس مقصد کے ساتھ بیلجیئم آئی ہوئی تھی۔ اِس لئے مَیں یہیں رہنے پر راضی ہو گئی۔ مجھے خصوصی پہلکار کے طور مقرر کر دیا گیا اور مَیں اینا اور ماریا کے ساتھ خدمت کرنے لگی۔ یہ دونوں بڑے عرصے سے خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کر رہی تھیں۔ ہم تینوں کو بیلجیئم کے شہر گینٹ میں خدمت کرنے کے لئے بھیجا گیا۔
مارکس: مجھے کورس شروع ہونے سے پانچ مہینے پہلے بروکلن بلا لیا گیا تاکہ میری انگریزی کچھ بہتر ہو جائے۔ وہاں مَیں نے کلیسیاؤں کو کتابیں اور رسالے پہنچانے والے شعبے میں کام کِیا۔ مَیں نے مُنادی کے کام کی نگرانی کرنے والے شعبے میں بھی خدمت کی۔ مرکزی دفتر میں کام کرنے سے میرے دل میں خدا کی تنظیم کے لئے قدر اَور بڑھ گئی۔ ایشیا، یورپ اور جنوبی امریکہ کے برِاعظموں میں کتابیں اور رسالے بھیجنے سے مجھے اندازہ ہوا کہ ہماری تنظیم کتنی بڑی ہے۔ مَیں بروکلن میں بہت سے بہنبھائیوں سے ملا۔ مجھے خاص طور پر بھائی میکملن سے ملاقات ابھی تک یاد ہے۔ وہ بھائی رسل کے زمانے میں سفری نگہبان کے طور پر خدمت کرتے تھے۔ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور اُنہیں اچھی طرح سنائی بھی نہیں دیتا تھا۔ پھر بھی وہ باقاعدگی سے اجلاسوں میں آتے تھے۔ مَیں اُن کی مثال سے بہت متاثر ہوا اور مَیں نے سیکھا کہ اجلاسوں میں جانا کس قدر اہم ہے۔—عبر ۱۰:۲۴، ۲۵۔
جینی: ہم ہفتے میں کئی بار ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے۔ ہمیں ایک دوسرے کی یاد بہت ستاتی تھی۔ پھر بھی مَیں خوشی سے مُنادی کا کام کر رہی تھی اور مارکس اپنے کورس سے لطفاندوز ہو رہے تھے۔ جب مارکس واپس لوٹے تو اُس وقت مَیں ۱۷ لوگوں کو بائبل سے تعلیم دے رہی تھی۔ ایک دوسرے سے ۱۵ مہینے دُور رہنا بہت مشکل تھا لیکن یہ بات صاف ظاہر تھی کہ یہوواہ خدا نے ہماری اِس قربانی کو بےکار نہیں جانے دیا۔ جس دن مارکس کو واپس آنا تھا، اُس دن جہاز کئی گھنٹے دیر سے پہنچا۔ لیکن آخرکار جب مارکس پہنچے تو ہم دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے۔ تب سے آج تک ہم کبھی جُدا نہیں ہوئے۔
ہم نے ہر ذمہداری جیجان سے نبھائی
مارکس:جب مَیں گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کرکے دسمبر ۱۹۶۴ء میں واپس آیا تو ہمیں بیتایل میں خدمت کرنے کے لئے کہا گیا۔ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جلد ہی ہمیں کہیں اَور خدمت کرنے کے لئے بھیج دیا جائے گا۔ صرف تین مہینے بعد مجھے صوبائی نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کے لئے شمالی بیلجیئم بھیج دیا گیا۔ پھر کچھ عرصے بعد بھائی آلزن اور اُن کی بیوی الس کو بیلجیئم بھیجا گیا۔ اِن دونوں نے بھی گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کی تھی۔ بھائی آلزن کو صوبائی نگہبان مقرر کر دیا گیا اور ہم پھر سے بیتایل میں خدمت کرنے لگے۔ سن ۱۹۶۸ء سے لے ۱۹۸۰ء تک کبھی مَیں بیتایل میں اور کبھی حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرتا رہا۔ پھر ۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۵ء تک مَیں نے صوبائی نگہبان کے طور پر کام کِیا۔
اگرچہ خدا کی خدمت کے حوالے سے ہماری ذمہداریاں اکثر بدلتی رہیں لیکن ہم نے اپنی ہر ذمہداری کو خوشی اور لگن سے پورا کِیا۔ ہم نے ہمیشہ یاد رکھا کہ ہماری زندگی یہوواہ خدا کی ہے۔ جب جب ہماری ذمہداری میں تبدیلی آئی، ہم نے یہ ذہن میں رکھا کہ ہر تبدیلی کا مقصد یہی ہے کہ بادشاہت کا کام فروغ پائے۔
جینی: سن ۱۹۷۷ء میں مارکس کو بروکلن اور پھر ۱۹۹۷ء میں پیڑسن بلایا گیا۔ وہاں اُنہیں ایک کورس میں شرکت کے لئے بلایا گیا تھا جو برانچ کی کمیٹی کے ارکان کے لئے تھا۔ دونوں مرتبہ مجھے اُن کے ساتھ جانے کا اعزاز ملا۔
یہوواہ خدا نے ہماری ہر ضرورت پوری کی
مارکس: سن ۱۹۸۲ء میں جینی کا ایک آپریشن ہوا مگر وہ جلد صحتیاب ہو گئی۔ تین سال بعد ہمیں ایک کلیسیا نے ایک فلیٹ دیا جو اُن کی عبادتگاہ کے اُوپر بنا ہوا تھا۔ آخرکار ۳۰ سال بعد ہمیں رہنے کے لئے اپنا گھر ملا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب بھی ہم کسی کلیسیا کا دورہ کرنے کے لئے جاتے تو مجھے سامان نیچے اُتارنے کے لئے ۵۴ سیڑھیاں باربار اُترنی اور چڑھنی پڑتی تھیں۔ پھر ۲۰۰۲ء میں ہمیں ایک اَور فلیٹ دے دیا گیا جو سب سے نچلی منزل پر تھا۔ کچھ عرصے بعد ہمیں ایک اَور قصبے میں بھیج دیا گیا جس کا نام لوکرین ہے۔ اُس وقت میری عمر ۷۸ سال تھی۔ تب سے ہم اِسی قصبے میں خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم آج بھی ہر روز مُنادی کے کام میں جاتے ہیں۔
”ہمیں جو بھی کام دیا گیا اور جہاں بھی دیا گیا، ہم نے اُسے خوشی سے کِیا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم جو بھی کر رہے ہیں، یہوواہ خدا کے لئے کر رہے ہیں۔“
جینی:ہم دونوں کُل ملا کر تقریباً ۱۲۰ سال سے کُلوقتی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے یہوواہ خدا کا یہ وعدہ پورا ہوتے ہوئے دیکھا ہے: ”مَیں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔“—عبر ۱۳:۵؛ است ۲:۷۔
مارکس: ہم نے جوانی میں ہی اپنی زندگی یہوواہ خدا کے نام کر دی تھی۔ ہم نے کبھی مرتبے اور اختیار کی چاہ نہیں کی۔ ہمیں جو بھی کام دیا گیا اور جہاں بھی دیا گیا، ہم نے اُسے خوشی سے کِیا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم جو بھی کر رہے ہیں، یہوواہ خدا کے لئے کر رہے ہیں۔
a بعد میں میری امی، ابو، بڑی بہن اور دو بھائی بھی یہوواہ کے گواہ بن گئے۔