یہوواہ خدا کی صفات کی دل سے قدر کریں
”عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔“—افس ۵:۱۔
۱. (الف) جب ہم یہوواہ خدا کی ذات کے متعلق سوچتے ہیں تو اُس کی کونسی صفات ہمارے ذہن میں آتی ہیں؟ (ب) خدا کی صفات کا جائزہ لینے سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟
جب آپ یہوواہ خدا کی ذات کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں اُس کی کونسی صفات آتی ہیں؟ شاید محبت، انصافپسندی، حکمت اور طاقت۔ لیکن خدا میں اِن چار کے علاوہ اَور بھی بہت سی صفات ہیں۔ اب تک ہماری کتابوں اور رسالوں میں خدا کی ۴۰ سے زیادہ صفات پر بات کی جا چکی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر آپ ذاتی مطالعے اور خاندانی عبادت میں اِن صفات کا جائزہ لیں تو آپ خدا کی ذات کو کتنی اچھی طرح جان جائیں گے۔ آپ کے دل میں اپنے آسمانی باپ کے لئے قدر بڑھ جائے گی۔ یوں آپ کو ترغیب ملے گی کہ آپ اُس کی قربت میں رہیں اور اُس کی مانند بننے کی کوشش کریں۔—یشو ۲۳:۸؛ زبور ۷۳:۲۸۔
۲. (الف) ہم یہوواہ خدا کی کسی صفت کے لئے اپنی قدر کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ (ب) اِس مضمون میں اور اگلے دو مضامین میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
۲ کسی چیز یا شخص کی قدر کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی اہمیت کو سمجھیں۔ جتنا زیادہ ہم اُس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اُتنی ہی اُس کے لئے ہماری قدر بڑھتی ہے۔ آپ یہوواہ خدا کی کسی صفت کے لئے اپنی قدر کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ اِس پر تحقیق کریں، اِس پر سوچبچار کریں اور اِسے اپنی زندگی میں ظاہر کرنے کی کوشش کریں۔ (افس ۵:۱) اِس مضمون میں اور اگلے دو مضامین میں ہم خدا کی اُن صفات پر غور کریں گے جن پر ہم اُس کی چار بنیادی صفات کی نسبت کم بات کرتے ہیں۔ مضامین کا یہ سلسلہ شائع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی اِن صفات کے لئے ہمارے دل میں قدر اَور بھی بڑھ جائے۔ ہم اِن میں سے ہر صفت کے معنی پر غور کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہوواہ خدا اِسے کیسے ظاہر کرتا ہے اور ہم یہوواہ خدا کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔
خدا ہماری بات سننے کو تیار رہتا ہے
۳، ۴. (الف) یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسروں کی بات سننے کے لئے تیار ہے؟ (ب) یہوواہ خدا یہ خوبی کیسے ظاہر کرتا ہے؟
۳ یہوواہ خدا کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ہماری بات سننے کے لئے تیار رہتا ہے۔ ایک انسان جس میں یہ خوبی ہوتی ہے، لوگ اُس سے بِلاجھجک بات کر سکتے ہیں۔ اُس کی باتوں اور اُس کے چہرے کے تاثرات سے لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُس سے بات کر سکتے ہیں۔
۴ ہم یہوواہ خدا کو دیکھ تو نہیں سکتے لیکن پاک کلام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہماری بات سننے کے لئے تیار رہتا ہے۔ وہ کائنات کا خالقومالک ہے پھر بھی ہمیشہ ہماری مدد کرنے کو تیار رہتا ہے اور ہماری دُعائیں سنتا ہے۔ (زبور ۱۴۵:۱۸؛ یسعیاہ ۳۰:۱۸، ۱۹ کو پڑھیں۔) ہم جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جتنی دیر چاہیں، اُس سے بات کر سکتے ہیں۔ ہم بِلاجھجک اُس سے دُعا کر سکتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ڈانٹے گا نہیں۔ (زبور ۶۵:۲؛ یعقو ۱:۵) پاک کلام میں اُس کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو اکثر انسانوں کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کی قربت میں آ جائیں۔ مثال کے طور پر داؤد نے لکھا کہ ’یہوواہ کی آنکھیں ہم پر لگی رہتی ہیں‘ اور اُس کا ”دہنا ہاتھ [ہمیں] سنبھالتا ہے۔“ (زبور ۳۴:۱۵، نیو اُردو بائبل ورشن؛ ۶۳:۸) یسعیاہ نبی نے یہوواہ خدا کو ایک چرواہے سے تشبیہ دی۔ اُنہوں نے لکھا: ”[یہوواہ] برّوں کو اپنے بازوؤں میں جمع کرے گا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا۔“ (یسع ۴۰:۱۱) جیسے ایک چرواہا ننھے برّے کو اپنی گود میں رکھتا ہے ویسے ہی یہوواہ خدا ہمیں اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے۔ ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ کی طرح کیسے بن سکتے ہیں؟
ایک اہم خوبی
۵. بزرگوں کو بہنبھائیوں کی بات سننے کے لئے کیوں تیار رہنا چاہئے؟
۵ کچھ عرصہ پہلے مختلف ملکوں میں رہنے والے یہوواہ کے گواہوں سے پوچھا گیا کہ ”آپ کو بزرگوں کی خوبیوں میں سے کونسی خوبی سب سے زیادہ پسند ہے؟“ زیادہتر گواہوں نے جواب دیا کہ وہ ایسے بزرگوں کی قدر کرتے ہیں جو دوسروں کی بات سننے کے لئے تیار ہوں۔ ویسے تو ہم سب میں یہ خوبی ہونی چاہئے۔ لیکن بزرگوں کو خاص طور پر اپنی شخصیت کو ایسا بنانا چاہئے کہ بہنبھائی اُن کے پاس آنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہ کریں۔ (یسع ۳۲:۱، ۲) اِس سلسلے میں ایک بہن نے کہا کہ ”اگر کلیسیا کے بہنبھائی ایک بزرگ کے ساتھ آسانی سے بات کر سکتے ہیں تو پھر وہ اُس کی دوسری خوبیوں سے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔“ لیکن ایک بزرگ کلیسیا کے بہنبھائیوں کو یہ احساس کیسے دِلا سکتا ہے کہ وہ بِلاجھجک اُس کے پاس آ سکتے ہیں اور اُس سے کُھل کر بات کر سکتے ہیں؟
۶. ایک بزرگ کلیسیا کے بہنبھائیوں کو یہ احساس کیسے دِلا سکتا ہے کہ وہ اُس سے بِلاجھجک بات کر سکتے ہیں؟
۶ جب ایک بزرگ کلیسیا میں بچوں اور بڑوں دونوں میں حقیقی دلچسپی لیتا ہے اور اُنہیں وقت دینے کے لئے تیار رہتا ہے تو وہ اُس کے پاس آنے اور بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کریں گے۔ (مر ۱۰:۱۳-۱۶) ایک ۱۲ سالہ لڑکے کارلوس نے کہا: ”بزرگ مجھے بڑے اچھے لگتے ہیں۔ وہ ہنس کر بات کرتے ہیں۔ اور بڑے پیار سے ملتے ہیں۔“ ایک بزرگ کو صرف زبانی کلامی ہی یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ دوسروں کی بات سننے کو تیار رہتا ہے۔ اِس کے برعکس اُسے اپنے رویے سے اِس دعوے کو ثابت کرنا چاہئے۔ (۱-یوح ۳:۱۸) وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
۷. لوگ ہمارے بیج کو دیکھ کر اکثر ہم سے بات کرنے کی طرف مائل کیوں ہوتے ہیں؟ اور ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟
۷ ذرا ایک مثال پر غور کریں۔ حال ہی میں ہمارا ایک بھائی صوبائی اجتماع کے بعد اپنے ملک واپس آ رہا تھا۔ اُس نے صوبائی اجتماع کا بیج لگایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا: ”خدا کی بادشاہت آئے!“ ہوائی جہاز میں ایک ملازم نے جب یہ بیج دیکھا تو اُس نے کہا: ”ہاں، خدا کی بادشاہت آنی بھی چاہئے۔ کیا ہم اِس موضوع پر بات کر سکتے ہیں؟“ بعد میں اُن دونوں کی اچھی باتچیت ہوئی اور اُس ملازم نے ہمارے رسالے خوشی سے قبول کئے۔ شاید آپ کو بھی ایسا کوئی تجربہ ہوا ہو۔ لیکن اجتماع کے بیج کو دیکھ کر لوگ اکثر کیوں ہم سے بات کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں؟ کیونکہ ہمارے بیج سے لوگوں کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہم اپنے مذہب کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر اُن کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ بِلاجھجک ہم سے پوچھ سکتے ہیں۔ اِسی طرح بزرگوں کو بھی بہنبھائیوں کو اشارہ دینا چاہئے کہ وہ بِلاجھجک اُن کے پاس آ سکتے ہیں اور کُھل کر بات کر سکتے ہیں۔ بزرگ یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے بہنبھائیوں کو خوشی سے وقت دینے کے لئے تیار ہیں؟
۸. بزرگ یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ بہنبھائیوں کی بھلائی میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ اور اِس کا کلیسیا پر کیا اثر پڑتا ہے؟
۸ زیادہتر ملکوں میں ہمارے بہنبھائی ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنے سے، ہاتھ ملانے سے اور حالچال پوچھنے سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی بھلائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن اِس سلسلے میں پہل کن کو کرنی چاہئے؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کے ”پاس آ کر اُن سے باتیں کیں“ یعنی اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے بات کرنے میں پہل کی۔ (متی ۲۸:۱۸) اِسی طرح بزرگ بھی اپنے بہنبھائیوں کے پاس آکر اُن سے بات کرنے میں پہل کرتے ہیں۔ اِس کا کلیسیا پر کیسا اثر پڑتا ہے؟ ایک پہلکار بہن جن کی عمر ۸۸ سال ہے، اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں اجلاس میں جاتی ہوں تو بزرگ مجھ سے ہنس کر ملتے ہیں اور کوئی ایسی بات کہتے ہیں جس سے میری حوصلہافزائی ہوتی ہے۔ یہ مجھے بڑا اچھا لگتا ہے۔“ ایک اَور بہن نے کہا: ”شاید یہ بات دوسروں کو معمولی لگے لیکن مجھے اِس بات سے بڑی حوصلہافزائی ملتی ہے کہ اجلاس پر بزرگ مجھ سے مسکرا کر ملتے ہیں۔“
بہنبھائیوں کے لئے وقت نکالیں
۹، ۱۰. (الف) یہوواہ خدا نے ہمارے لئے کونسی مثال قائم کی ہے؟ (ب) بزرگ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے بہنبھائیوں کی بات سننے کے لئے تیار ہیں؟
۹ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بہنبھائی ہمارے ساتھ بِلاجھجک بات کریں تو ہمیں اُن کے لئے وقت بھی نکالنا چاہئے۔ اِس سلسلے میں ہم یہوواہ خدا کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”وہ ہم میں سے کسی سے دُور نہیں“ یعنی وہ ہماری بات سننے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ (اعما ۱۷:۲۷) اِسی طرح بزرگوں کو بھی اجلاس سے پہلے اور بعد میں بچوں اور بڑوں سے بات کرنے کے لئے وقت نکالنا چاہئے۔ ایک بھائی جو پہلکار ہے، اُس نے کہا: ”جب کوئی بزرگ میرا حالچال پوچھتا ہے اور پھر میری بات بھی سنتا ہے تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اُسے واقعی میری فکر ہے۔“ ایک بہن جو ۵۰ سال سے یہوواہ کی گواہ ہیں، اُنہوں نے کہا: ”جب بزرگ اجلاس کے بعد میرے ساتھ بات کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ واقعی میری قدر کرتے ہیں۔“
۱۰ یہ سچ ہے کہ بزرگوں کے پاس بہت سی ذمہداریاں ہیں۔ لیکن اُن کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اجلاس پر اپنا وقت اور توجہ پہلے بہنبھائیوں کو دیں اور پھر دیگر کاموں کو۔
یہوواہ خدا کسی کا طرفدار نہیں
۱۱، ۱۲. (الف) بےطرفداری میں کیا کچھ شامل ہے؟ (ب) بےطرفداری کے سلسلے میں یہوواہ خدا نے کیا مثال قائم کی ہے؟
۱۱ یہوواہ خدا کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کسی کی طرفداری نہیں کرتا۔ (اعما ۱۰:۳۴) جو شخص بےطرفدار ہوتا ہے، وہ یہ مانتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ اور اِسی وجہ سے وہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے۔ ایسا شخص کسی کو اُس کے رنگونسل، مرتبے یا دولت کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح نہیں دیتا۔
۱۲ اِس سلسلے میں سب سے بہترین مثال یہوواہ خدا نے قائم کی ہے۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ وہ ”کسی کا طرفدار نہیں“ اور وہ کسی کی ”رُورعایت نہیں کرتا۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵؛ استثنا ۱۰:۱۷ کو پڑھیں۔) آئیں، موسیٰ نبی کے زمانے کے ایک واقعے پر غور کریں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔
صلافحاد کی بیٹیاں یہوواہ خدا کی بےطرفداری کے لئے شکرگزار تھیں۔ (پیراگراف نمبر ۱۳ اور ۱۴ کو دیکھیں۔)
۱۳، ۱۴. (الف) صلافحاد کی بیٹیوں کو کس مسئلے کا سامنا تھا؟ (ب) اِس واقعے سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا بےطرفدار ہے؟
۱۳ یہ اُس وقت کی بات ہے جب بنیاسرائیل ملک کنعان میں داخل ہونے والے تھے۔ یہوواہ خدا نے اسرائیل کے ہر خاندان کو اُس ملک میں زمین دینے کا وعدہ کِیا تھا۔ پانچ اسرائیلی لڑکیاں ایک مسئلے کی وجہ سے پریشان تھیں۔ اُن کے والد صلافحاد فوت ہو گئے تھے۔ وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ اب اُن کے باپ کی میراث کسے ملے گی کیونکہ شریعت کے مطابق میراث کا حق صرف بیٹوں کے پاس تھا۔ (گن ۲۶:۵۲-۵۵) لیکن صلافحاد کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ (گن ۲۶:۳۳) کیا اُن کی میراث صلافحاد کے رشتہداروں میں بٹ جائے گی اور اِن پانچ بہنوں کو اِس میں کوئی حصہ نہیں ملے گا؟
۱۴ یہ لڑکیاں اپنا مسئلہ موسیٰ کے پاس لے کر گئیں اور اُن سے کہا: ”بیٹا نہ ہونے کے سبب سے ہمارے باپ کا نام اُس کے گھرانے سے کیوں مٹنے پائے؟“ اُنہوں نے موسیٰ سے درخواست کی: ”ہم کو بھی ہمارے باپ کے بھائیوں کے ساتھ حصہ دو۔“ کیا موسیٰ نے اُن سے یہ کہا کہ ”شریعت میں اِس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے“؟ جینہیں۔ موسیٰ نے اِس معاملے کو یہوواہ خدا کے حضور پیش کِیا۔ (گن ۲۷:۲-۵) یہوواہ خدا نے کیا فیصلہ کِیا؟ اُس نے موسیٰ سے کہا: ”صلاؔفحاد کی بیٹیاں ٹھیک کہتی ہیں۔ تُو اُن کو اُن کے باپ کے بھائیوں کے ساتھ ضرور ہی میراث کا حصہ دینا یعنی اُن کو اُن کے باپ کی میراث ملے۔“ یہوواہ خدا نے صرف صلافحاد کی بیٹیوں پر ہی نہیں بلکہ سب اسرائیلیوں پر یہ قانون لاگو کِیا کہ ”اگر کوئی شخص مر جائے اور اُس کا کوئی بیٹا نہ ہو تو اُس کی میراث اُس کی بیٹی کو دینا۔“ (گن ۲۷:۶-۸؛ یشو ۱۷:۱-۶) اُس وقت سے جب بھی کسی اسرائیلی عورت کو ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا تو اُسے میراث میں حصہ دیا جاتا۔
۱۵. (الف) یہوواہ خدا اپنے اُن بندوں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے جن کا کوئی آسرا نہیں ہوتا؟ (ب) بائبل سے کچھ ایسی مثالیں دیں جن سے ظاہر ہو کہ یہوواہ خدا بےطرفدار ہے؟
۱۵ واقعی یہوواہ نہایت مہربان خدا ہے! اُس نے اِن بےسہارا عورتوں کی اُتنی ہی عزت کی جتنی وہ دوسرے اسرائیلیوں کی کرتا تھا۔ (زبور ۶۸:۵) بائبل میں اَور بھی بہت سی ایسی مثالیں درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا اپنے تمام بندوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے۔—۱-سمو ۱۶:۱-۱۳؛ اعما ۱۰:۳۰-۳۵، ۴۴-۴۸۔
یہوواہ خدا کی طرح بےطرفدار بنیں
۱۶. ہم یہوواہ خدا کی طرح بےطرفدار کیسے بن سکتے ہیں؟
۱۶ ہم یہوواہ خدا کی طرح بےطرفدار کیسے بن سکتے ہیں؟ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک شخص تبھی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے جب وہ یہ مانتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ شاید آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ایک بےطرفدار شخص ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے؟ آپ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ میں یہ خوبی ہے یا نہیں؟ اِس سلسلے میں آپ یسوع مسیح کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں۔ جب وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ لوگ اُن کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو اُنہوں نے اپنے قریبی دوستوں سے پوچھا: ”لوگ ابنِآؔدم کو کیا کہتے ہیں؟“ (متی ۱۶:۱۳، ۱۴) یسوع مسیح کی طرح آپ بھی اپنے کسی قریبی دوست سے پوچھ سکتے ہیں کہ ”کیا دوسروں کو یہ لگتا ہے کہ مَیں ایک بےطرفدار شخص ہوں“؟ شاید وہ آپ کو بتائے کہ بعض اوقات آپ کچھ لوگوں کو اُن کے مرتبے، دولت یا نسل کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ یہوواہ خدا سے دُعا کریں تاکہ آپ اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لائیں اور خدا کی طرح سب کے ساتھ برابر سلوک کرنے کی کوشش کریں۔—متی ۷:۷؛ کل ۳:۱۰، ۱۱۔
۱۷. ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم بےطرفدار ہیں؟
۱۷ ہم کلیسیا میں بےطرفداری سے کام کیسے لے سکتے ہیں؟ ہمیں چاہئے کہ ہم سب کے ساتھ عزت اور مہربانی سے پیش آئیں۔ مثال کے طور پر ہمیں سب طرح کے بہنبھائیوں کو اپنے گھر بلانا چاہئے، خواہ وہ غریب ہوں یا یتیم یا کسی اَور پسمنظر سے تعلق رکھتے ہوں۔ (گلتیوں ۲:۱۰؛ یعقوب ۱:۲۷ کو پڑھیں۔) ہم مُنادی کے کام میں بھی بےطرفداری ظاہر کرتے ہیں۔ ہم ہر نسل، قوم اور طبقے کے لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں۔ ہماری تنظیم ۶۰۰ سے زیادہ زبانوں میں کتابیں اور رسالے شائع کرتی ہے۔ واقعی یہ ہمارے بےطرفدار ہونے کا شاندار ثبوت ہے!
۱۸. ہم نے یہوواہ خدا کی جن دو صفات کے بارے میں سیکھا ہے، اُن پر غور کرنے سے ہمیں کیا کرنے کی ترغیب ملتی ہے؟
۱۸ ہم نے سیکھا ہے کہ یہوواہ خدا ہماری بات سننے کے لئے تیار رہتا ہے اور وہ کسی کا طرفدار نہیں ہے۔ جب ہم خدا کی اِن خوبیوں پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اُس کے لئے قدر اَور بھی بڑھتی ہے۔ یوں ہمیں ترغیب ملتی ہے کہ ہم اُس کی اِن خوبیوں کو اپنی زندگی میں اور مُنادی کے کام میں ظاہر کریں۔
”[یہوواہ] اُن سب کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔“ —زبور ۱۴۵:۱۸۔(پیراگراف نمبر ۹ کو دیکھیں۔)
”[یہوواہ] تمہارا خدا . . . رُورعایت نہیں کرتا۔“ —است ۱۰:۱۷۔(پیراگراف نمبر ۱۷ کو دیکھیں۔)