یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 15/‏4 ص.‏ 7-‏11
  • بائبل کو پڑھنے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل کو پڑھنے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل کو پڑھنے کے ساتھ‌ساتھ سوچ‌بچار کریں
  • بائبل کی تعلیم کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں
  • بائبل کے ذریعے دوسروں کی مدد کریں
  • بائبل کو پڑھنے سے ہم محفوظ رہتے ہیں
  • نجات پانے کے لئے بائبل کو پڑھنا لازمی ہے
  • روزانہ کی بائبل پڑھائی سے فائدہ اُٹھانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • بائبل پڑھائی—‏بااجر اور پُرلطف
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • شاگرد بنانے کیلئے منادی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 15/‏4 ص.‏ 7-‏11
‏[‏صفحہ ۷ پر تصویر]‏

بائبل کو پڑھنے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں

‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ خدا کی شریعت سے نہایت ہی خوش ہوں۔“‏ —‏روم ۷:‏۲۲‏، کیتھولک ترجمہ۔‏

اِن سوالوں کے جواب تلاش کریں:‏

  • خدا کے کلام کو آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز میں پڑھنے سے کیا فائدہ ہوگا؟‏

  • آپ مختلف آیتوں کو یاد رکھنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اِنہیں موقعے کی مناسبت سے استعمال کر سکیں؟‏

  • بائبل کو پڑھنے سے ہم کیسے محفوظ رہتے ہیں؟‏

۱-‏۳.‏ بائبل کو پڑھنے اور اِس کی تعلیم پر عمل کرنے سے کون‌سے فائدے حاصل ہوتے ہیں؟‏

‏”‏مَیں ہر روز یہوواہ خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اُس نے مجھے بائبل کی سمجھ عطا کی ہے۔“‏ یہ بات ایک عمررسیدہ بہن نے کہی جو بائبل کو ۴۰ مرتبہ پڑھ چکی ہیں اور ابھی بھی پڑھ رہی ہیں۔ ایک نوجوان بہن نے بتایا کہ ”‏مَیں بائبل کو پڑھنے سے یہ جان گئی ہوں کہ خدا کی ذات حقیقی ہے۔ اُس کے ساتھ میری دوستی اور قربت پہلے سے زیادہ گہری ہو گئی ہے۔ جتنا خوش مَیں اب ہوں اُتنا پہلے کبھی نہیں تھی۔“‏

۲ پطرس رسول نے ہمیں نصیحت کی کہ ہم خدا کے کلام کی سچائیوں کو جاننے کی خواہش رکھیں۔ (‏۱-‏پطر ۲:‏۲‏)‏ جب ہم اِس خواہش کو پورا کرنے کے لئے بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں اور اِس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں تو ہمارا ضمیر صاف رہتا ہے اور ہماری زندگی بامقصد ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے پکے دوست ملتے ہیں جو خدا سے محبت کرتے ہیں اور اُس کی خدمت کرتے ہیں۔ اِن تمام فائدوں کی بِنا پر ہم ”‏خدا کی شریعت سے نہایت ہی خوش“‏ رہتے ہیں۔ (‏روم ۷:‏۲۲‏، کیتھولک ترجمہ‏)‏ بائبل کو پڑھنے کے اَور بھی بہت سے فائدے ہیں۔‏

۳ آپ جتنا زیادہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے بارے میں سیکھیں گے اُتنا ہی آپ کے دل میں اُن کے لئے اور انسانوں کے لئے محبت بڑھے گی۔ آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ خدا اپنے بندوں کو اِس بدکار دُنیا کے خاتمے سے کیسے بچائے گا۔ اِس کے علاوہ بائبل کو پڑھنے سے آپ کو زندگی‌بخش پیغام ملا ہے۔ یہوواہ خدا یہ پیغام دوسروں کو سنانے میں آپ کی رہنمائی کرتا ہے اور آپ کو برکت دیتا ہے۔‏

بائبل کو پڑھنے کے ساتھ‌ساتھ سوچ‌بچار کریں

۴.‏ بائبل کی اِس نصیحت کا کیا مطلب ہے کہ ’‏تجھے شریعت کی کتاب کا دھیان ہو‘‏؟‏

۴ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کا کلام جلدی‌جلدی نہ پڑھیں بلکہ ایسے پڑھیں کہ اِسے سمجھیں بھی۔ یہوواہ خدا نے یشوع کو ہدایت کی:‏ ”‏شریعت کی یہ کتاب تیرے مُنہ سے نہ ہٹے بلکہ تجھے دن اور رات اِسی کا دھیان ہو۔“‏ (‏یشو ۱:‏۸؛‏ زبور ۱:‏۲‏)‏ اِس آیت میں جس عبرانی اصطلا‌ح کا ترجمہ ”‏دھیان ہو“‏ کِیا گیا ہے، وہ دھیمی آواز میں پڑھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیا اِس ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پیدایش سے مکاشفہ تک ہر آیت کو دھیمی آواز میں پڑھنا چاہئے؟ جی‌نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خدا کے کلام کو ایسی رفتار سے پڑھیں کہ ہم پڑھنے کے ساتھ‌ساتھ سوچ‌بچار بھی کر سکیں۔ ایسا کرنے سے ہم اُن لفظوں، جملوں یا واقعات پر توجہ دے سکتے ہیں جو کسی خاص صورتحال میں ہم پر لاگو ہوتے ہیں۔ اِنہیں آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز میں پڑھیں۔ یوں جو کچھ ہم پڑھیں گے، وہ ہمارے دل پر اثر کرے گا۔ جب ہم خدا کی ہدایت کو اچھی طرح سمجھیں گے تو ہمیں اُس پر عمل کرنے کی ترغیب ملے گی۔‏

۵-‏۷.‏ (‏الف)‏ بائبل کو آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز میں پڑھنا گندے کاموں سے بچنے کے سلسلے میں کیسے فائدہ‌مند ثابت ہوتا ہے؟ (‏ب)‏ بائبل کو آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز میں پڑھنا دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے میں کیسے ہماری مدد کرتا ہے؟ (‏ج)‏ بائبل کو آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز میں پڑھنے سے ہم مشکل وقت میں بھی یہوواہ خدا پر بھروسا کرنے کے قابل کیسے ہوتے ہیں؟‏

۵ بائبل میں کچھ کتابیں ایسی ہیں جنہیں سمجھنا شاید آپ کو مشکل لگے۔ اِنہیں خاص طور پر آہستہ‌آہستہ اور دھیمی آواز کے ساتھ پڑھیں۔ اِس سلسلے میں تین صورتوں پر غور کریں۔ پہلی صورت:‏ فرض کریں کہ ایک نوجوان بھائی، ہوسیع کی کتاب پڑھ رہا ہے۔ وہ ۴ باب کی ۱۱ سے ۱۳ آیتوں کو پڑھنے کے بعد رُک جاتا ہے۔ ‏(‏ہوسیع ۴:‏۱۱-‏۱۳ کو پڑھیں۔)‏ مگر کیوں؟ اُس کی ساری توجہ اِن آیتوں پر لگ جاتی ہے۔ دراصل اُسے سکول میں گندے کام کرنے پر اُکسایا جاتا ہے۔ وہ اِن آیتوں پر سوچ‌بچار کرنے لگتا ہے اور خود سے کہتا ہے:‏ ”‏یہوواہ خدا اُن کاموں کے بارے میں بھی جانتا ہے جو لوگ چھپ کر کرتے ہیں۔ مَیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جس سے یہوواہ خدا ناراض ہو۔“‏ یہ نوجوان بھائی عزم کرتا ہے کہ وہ ہر طرح کے گندے کاموں سے دُور رہے گا۔‏

۶ دوسری صورت:‏ فرض کریں کہ ایک بہن، یوایل کی کتاب پڑھ رہی ہے۔ جب وہ ۲ باب کی ۱۳ آیت کو دھیمی آواز میں پڑھتی ہے تو اِس بات پر سوچ‌بچار کرتی ہے کہ وہ کیسے یہوواہ خدا کی مانند بن سکتی ہے جو ”‏رحیم‌ومہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے۔“‏ ‏(‏یوایل ۲:‏۱۳ کو پڑھیں۔)‏ وہ ارادہ کرتی ہے کہ آئندہ وہ اپنے شوہر اور دوسرے بہن‌بھائیوں کے ساتھ نہ تو غصے سے بات کرے گی اور نہ ہی کسی پر طنز کرے گی۔‏

۷ تیسری صورت:‏ فرض کریں کہ ایک بھائی کی نوکری چلی گئی ہے۔ وہ بڑا پریشان ہے کہ وہ اپنے بیوی‌بچوں کا پیٹ کیسے پالے گا۔ وہ ناحوم پہلے باب کی ۷ آیت میں پڑھتا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ بھلا ہے اور مصیبت کے دن پناہ‌گاہ ہے۔ وہ اپنے توکل کرنے والوں کو جانتا ہے۔“‏ یہ آیت پڑھ کر اُسے بڑی تسلی اور حوصلہ ملتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہوواہ خدا اُسے اور اُس کے گھر والوں کو اِس مشکل میں سنبھالے گا۔ اِس لئے وہ اِس مسئلے کے بارے میں حد سے زیادہ پریشان رہنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر وہ ۱۵ آیت کو پڑھتا ہے۔ ‏(‏ناحوم ۱:‏۱۵ کو پڑھیں۔)‏ اِس آیت کو پڑھنے کے بعد وہ سمجھ جاتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں بھی خوش‌خبری کی مُنادی کرتا رہے گا تو اِس سے ظاہر ہوگا کہ اُس نے یہوواہ خدا کو اپنی پناہ‌گاہ بنایا ہے۔ لہٰذا وہ نوکری تلاش کرنے کے ساتھ‌ساتھ ہفتے کے دوران بھی مُنادی کے کام میں حصہ لیتا ہے۔‏

۸.‏ کوئی ایسی بات بتائیں جو آپ نے بائبل کو پڑھتے وقت سیکھی اور جس سے آپ کو بہت فائدہ ہوا۔‏

۸ جن باتوں پر ابھی ہم نے غور کِیا ہے، وہ ایسی کتابوں سے لی گئی ہیں جنہیں سمجھنا بعض لوگوں کو مشکل لگتا ہے۔ ہوسیع، یوایل اور ناحوم کی کتابوں سے چند مفید باتوں پر غور کرنے کے بعد یقیناً ہم اِن کتابوں سے دیگر آیتوں پر بھی سوچ‌بچار کرنا چاہیں گے۔ واقعی اِن کتابوں کو پڑھنے سے ہمیں تسلی ملتی ہے اور ہم مختلف صورتوں میں سمجھ‌داری سے کام لینے کے قابل ہوتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر اِن تین کتابوں میں اِتنی فائدہ‌مند باتیں پائی جاتی ہیں تو پھر پوری بائبل میں کتنی زیادہ مفید باتیں ہوں گی۔ دراصل خدا کا کلام ہیرے کی کان کی طرح ہے۔ جتنی زیادہ محنت سے آپ ہیرے ڈھونڈیں گے اُتنے ہی ہیرے آپ کو ملیں گے۔ اِسی طرح جتنی لگن سے آپ بائبل پڑھیں گے اُتنی ہی آپ کو مفید باتیں ملیں گی۔‏

بائبل کی تعلیم کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں

۹.‏ ہم پاک کلام کی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۹ یہ بہت اہم ہے کہ ہم ہر روز بائبل کو پڑھیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جو کچھ ہم پڑھتے ہیں، اُسے سمجھیں بھی۔ جب آپ بائبل میں مختلف لوگوں، جگہوں اور واقعات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو اُن کے پس‌منظر کے متعلق جاننے کے لئے ہماری کتابوں اور رسالوں میں تحقیق کریں۔ یا شاید بائبل میں کوئی بات پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ یہ بات میری زندگی پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟ اِس سلسلے میں کلیسیا کے کسی بزرگ یا کسی اَور پُختہ بھائی یا بہن سے مشورہ لیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم پاک کلام کی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ اِس سلسلے میں آئیں، ہم پہلی صدی کے ایک مسیحی کی مثال پر غور کریں جن کا نام اپلوس تھا۔‏

۱۰، ۱۱.‏ (‏الف)‏ اپلوس دوسروں کو صحیح تعلیم دینے کے قابل کیسے ہوئے؟ (‏ب)‏ ہم اپلوس کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (‏بکس ”‏کیا آپ نئی وضاحت کے مطابق تعلیم دیتے ہیں؟“‏ کو دیکھیں۔)‏

۱۰ اپلوس ایک یہودی مسیحی تھے جو ’‏کتابِ‌مُقدس کے ماہر تھے اور روحانی جوش سے کلام کرتے تھے۔‘‏ اعمال کی کتاب میں اُن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ”‏یسوؔع کی بابت صحیح صحیح تعلیم دیتا تھا مگر صرف یوؔحنا ہی کے بپتسمہ سے واقف تھا۔“‏ اپلوس یہ نہیں جانتے تھے کہ یسوع مسیح نے بپتسمے کے متعلق نئی تعلیم دی ہے۔ جب اپلوس شہر افسس میں تعلیم دے رہے تھے تو اَکوِلہ اور اُن کی بیوی پرِسکلہ نے اپلوس کی باتیں سنیں۔ وہ اپلوس کو اپنے گھر لے آئے اور اُنہیں ”‏خدا کی راہ اَور زیادہ صحت سے بتائی۔“‏ (‏اعما ۱۸:‏۲۴-‏۲۶‏)‏ اپلوس کو اِس سے کیا فائدہ ہوا؟‏

۱۱ افسس میں تعلیم دینے کے بعد اپلوس، اخیہ کے علاقے میں چلے گئے۔ ”‏اُس نے وہاں پہنچ کر اُن لوگوں کی بڑی مدد کی جو فضل کے سبب سے ایمان لائے تھے۔ کیونکہ وہ کتابِ‌مُقدس سے یسوؔع کا مسیح ہونا ثابت کرکے بڑے زوروشور سے یہودیوں کو علانیہ قائل کرتا رہا۔“‏ (‏اعما ۱۸:‏۲۷، ۲۸‏)‏ اب اپلوس بپتسمے کے متعلق صحیح تعلیم دے رہے تھے۔ یوں وہ اُن لوگوں کی ”‏بڑی مدد“‏ کرنے کے قابل ہوئے جو خدا کو جاننا چاہتے تھے اور اُس کی عبادت کرنا چاہتے تھے۔ ہم اپلوس کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اپلوس کی طرح ہماری بھی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اُن باتوں کو سمجھیں جو ہم بائبل میں پڑھتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جب کوئی بھائی یا بہن ہمیں یہ مشورہ دیتا ہے کہ ہم دوسروں کو بہتر طور پر تعلیم کیسے دے سکتے ہیں تو ہمیں عاجزی کے ساتھ اُن کے مشورے کو ماننا چاہئے اور اُن کے شکرگزار ہونا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم خدا کے کلام کو اَور زیادہ مہارت سے استعمال کر سکیں گے۔‏

بائبل کے ذریعے دوسروں کی مدد کریں

۱۲، ۱۳.‏ مثال سے واضح کریں کہ ہم بائبل کے ذریعے ایسے شخص کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو کسی وجہ سے خدا کی خدمت کرنے سے ہچکچاتا ہے۔‏

۱۲ پرِسکلہ، اَکوِلہ اور اپلوس کی طرح ہم بھی دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ خدا کو پہچانیں اور اُس کی عبادت کریں۔ جب آپ کسی شخص کی مدد کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں تبدیلیاں لائے اور روحانی لحاظ سے بڑھے اور وہ واقعی ایسا کرتا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ یا شاید آپ ایک بزرگ ہیں اور آپ نے کسی بہن یا بھائی کو بائبل سے کوئی مشورہ دیا تھا۔ جب وہ بہن یا بھائی آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے مشورے پر عمل کرنے سے وہ اپنی مشکلات سے نپٹنے کے قابل ہوا ہے اور پھر وہ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟ بِلاشُبہ جب ہم خدا کے کلام کے ذریعے دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور اِس سے اُنہیں بہت فائدہ ہوتا ہے تو ہمیں واقعی خوشی اور اطمینان ملتا ہے۔‏a آئیں، دیکھیں کہ ہم خدا کے کلام کے ذریعے دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔‏

۱۳ ایلیاہ نبی کے زمانے میں بہت سے اسرائیلی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ یہوواہ خدا کی عبادت کریں یا بعل کی۔ آج‌کل بھی کچھ لوگ جو ہمارے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں، یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ وہ یہوواہ خدا کی خدمت کریں گے یا نہیں۔ ایلیاہ نبی نے اپنے زمانے کے لوگوں کو جو نصیحت کی، وہ آج‌کل اِن لوگوں کے لئے بہت فائدہ‌مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ‏(‏۱-‏سلاطین ۱۸:‏۲۱ کو پڑھیں۔)‏ اگر کوئی شخص اپنے دوستوں یا رشتہ‌داروں کے ڈر کی وجہ سے یہوواہ خدا کا خادم بننے کی طرف قدم نہیں اُٹھاتا تو آپ اُس کی ہمت بڑھانے کے لئے اُس کے ساتھ یسعیاہ ۵۱:‏۱۲،‏ ۱۳ پر غور کر سکتے ہیں۔ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔)‏

۱۴.‏ آپ مختلف آیتوں کو یاد رکھنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اِنہیں موقعے کی مناسبت سے استعمال کر سکیں؟‏

۱۴ واقعی بائبل میں بہت سی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے یا ہماری اصلاح ہوتی ہے۔ لیکن آپ شاید سوچیں:‏ ”‏مَیں مختلف آیتیں یاد رکھنے کے لئے کیا کر سکتا ہوں تاکہ مَیں اِنہیں موقعے کی مناسبت سے استعمال کر سکوں؟“‏ بائبل کو ہر روز پڑھیں اور اُس پر سوچ‌بچار کریں۔ یوں آپ بہت سی آیتوں سے واقف ہو جائیں گے اور جب آپ کو اِنہیں استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی تو روحُ‌القدس یہ آیتیں آپ کو یاد دِلائے گی۔—‏مر ۱۳:‏۱۱؛‏ یوحنا ۱۴:‏۲۶ کو پڑھیں۔‏

۱۵.‏ آپ خدا کے کلام کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل کیسے ہوں گے؟‏

۱۵ سلیمان بادشاہ کی طرح یہوواہ خدا سے حکمت مانگیں تاکہ آپ مُنادی کا کام اور کلیسیا میں اپنی ذمہ‌داریاں بخوبی انجام دے سکیں۔ (‏۲-‏توا ۱:‏۷-‏۱۰‏)‏ پُرانے زمانے کے نبیوں کی طرح پاک کلام میں ”‏بڑی تلاش اور تحقیق“‏ کریں۔ یوں آپ یہوواہ خدا کو بہتر طور پر جان سکیں گے اور اُس کے مقصد کو سمجھ سکیں گے۔ (‏۱-‏پطر ۱:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ پولس رسول نے تیمتھیس کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ ’‏ایمان اور اچھی تعلیم کی باتوں سے پرورش پاتے رہیں۔‘‏ (‏۱-‏تیم ۴:‏۶‏)‏ اگر آپ بھی پاک کلام کی باتوں کو سمجھنے کے لئے تحقیق کرتے رہیں گے تو آپ اَور بھی اچھی طرح دوسروں کی مدد کر سکیں گے تاکہ وہ روحانی طور پر بڑھیں۔ اِس کے ساتھ‌ساتھ آپ کا اپنا ایمان بھی مضبوط ہوگا۔‏

بائبل کو پڑھنے سے ہم محفوظ رہتے ہیں

۱۶.‏ (‏الف)‏ بیریہ میں رہنے والے یہودیوں کو ”‏روزبروز کتابِ‌مُقدس میں تحقیق“‏ کرنے سے کیا فائدہ ہوا تھا؟ (‏ب)‏ آج‌کل یہ کیوں اہم ہے کہ ہم ہر روز بائبل کو پڑھیں؟‏

۱۶ شہر بیریہ میں رہنے والے یہودی ”‏روزبروز کتابِ‌مُقدس میں تحقیق کرتے تھے۔“‏ جب پولس رسول نے اُنہیں بادشاہت کا پیغام سنایا تو اُنہوں نے یہ تحقیق کی کہ پولس رسول کی باتیں پاک کلام کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اِن میں سے بہت سے یہودی سمجھ گئے کہ پولس رسول صحیح تعلیم دے رہے ہیں۔ اِس لئے وہ ’‏ایمان لے لائے۔‘‏ (‏اعما ۱۷:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر روز بائبل کو پڑھنے سے خدا پر ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ہم اِس دُنیا کے خاتمے سے بچ کر خدا کی نئی دُنیا میں جانا چاہتے ہیں تو یہ لازمی ہے کہ ہمارا ایمان کبھی نہ ڈگمگائے۔—‏عبر ۱۱:‏۱‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ (‏الف)‏ مضبوط ایمان اور محبت سے ہمارے دل کی حفاظت کیسے ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ نجات کی اُمید ہمیں کیسے محفوظ رکھتی ہے؟‏

۱۷ پولس رسول نے ایمان کے ساتھ‌ساتھ محبت اور اُمید کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏ہم جو دن کے ہیں ایمان اور محبت کا بکتر لگا کر اور نجات کی اُمید کا خود پہن کر ہوشیار رہیں۔“‏ (‏۱-‏تھس ۵:‏۸‏)‏ جنگ کے دوران فوجی بکتر یعنی سینہ‌بند پہنتے تھے تاکہ اُن کا دل محفوظ رہے۔ ہمیں بھی اپنے مجازی دل کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ غلط خواہشوں سے محفوظ رہے۔ جب ہم خدا کے وعدوں پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور خدا اور انسان کے لئے اپنے دل میں محبت کو بڑھاتے ہیں تو ہم روحانی اِعتبار سے بکتر پہنتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہمارے دل کی حفاظت ہوتی ہے اور ہم یہوواہ خدا کی قربت میں رہتے ہیں۔‏

۱۸ پولس رسول نے ’‏نجات کی اُمید کے خود‘‏ یعنی ہیلمٹ کا بھی ذکر کِیا۔ جو فوجی جنگ میں ہیلمٹ پہن کر نہیں جاتا تھا، اُس کی جان کو بہت خطرہ ہوتا تھا۔ لیکن اگر اُس نے ہیلمٹ پہنا ہوتا تھا تو وہ سر پر ہونے والے حملوں سے بچ جاتا تھا اور اُس کو سنگین چوٹ نہیں لگتی تھی۔ جب ہم خدا کا کلام پڑھتے ہیں تو ہماری یہ اُمید اَور زیادہ مضبوط ہوتی ہے کہ یہوواہ خدا ہماری حفاظت کرتا رہے گا۔ اِس مضبوط اُمید کی بِنا پر ہم اُن لوگوں کی ”‏بے‌ہودہ بکواس“‏ سے بچتے ہیں جو خدا کی تنظیم کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ (‏۲-‏تیم ۲:‏۱۶-‏۱۹‏)‏ اِس کے علاوہ جب کوئی ہمیں غلط کام کرنے پر اُکساتا ہے تو اِسی اُمید کی بدولت ہم خدا کے وفادار رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏

نجات پانے کے لئے بائبل کو پڑھنا لازمی ہے

۱۹، ۲۰.‏ ہم خدا کے کلام کی دل سے قدر کیوں کرتے ہیں؟ اور ہم اِس کا اِظہار کیسے کرتے ہیں؟ (‏بکس ”‏یہوواہ خدا وقت پر میری رہنمائی کرتا ہے“‏ کو دیکھیں۔)‏

۱۹ اِس دُنیا کا خاتمہ تیزی سے قریب آ رہا ہے۔ اِس لئے ہمیں خدا کے کلام پر پہلے سے کہیں زیادہ بھروسا کرنے کی ضرورت ہے۔ بائبل میں دئے گئے اصولوں پر عمل کرنے سے ہم بُری عادتوں پر قابو پانے اور غلط خواہشوں کے خلاف لڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بائبل کو پڑھنے سے ہمیں حوصلہ اور تسلی ملتی ہے۔ یوں ہم ہر ایسی آزمائش کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو شیطان اور اُس کی دُنیا کی طرف سے آتی ہے۔ خدا کے کلام کی رہنمائی میں ہم زندگی کی راہ پر چلتے رہتے ہیں۔‏

۲۰ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ”‏سب آدمی“‏ یعنی ہر طرح کے لوگ نجات پائیں۔ اِن میں خدا کے بندے بھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم بادشاہت کی خوش‌خبری سناتے ہیں اور بائبل سے تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن وہ سب لوگ جو نجات پانا چاہتے ہیں، اُن کے لئے لازمی ہے کہ وہ ”‏سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“‏ (‏۱-‏تیم ۲:‏۴‏)‏ لہٰذا اِس دُنیا کے خاتمے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم بائبل کو پڑھیں اور اِس میں دی گئی ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں۔ بائبل کو ہر روز پڑھنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم دل کی گہرائیوں سے خدا کے کلام کی قدر اور عزت کرتے ہیں۔—‏یوح ۱۷:‏۱۷‏۔‏

a جس شخص کے ساتھ ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں، اُسے بائبل سے مشورہ دینے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اُسے اپنا طرزِزندگی بدلنے پر مجبور کریں یا اُس پر نکتہ‌چینی کریں۔ ہمیں اُس کے ساتھ بالکل ویسے ہی رحم اور تحمل سے پیش آنا چاہئے جیسے یہوواہ خدا ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔—‏زبور ۱۰۳:‏۸‏۔‏

کیا آپ نئی وضاحت کے مطابق تعلیم دیتے ہیں؟‏

اپلوس دوسروں کو بہتر طور پر تعلیم دینے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

جب بائبل کی کسی تعلیم کے متعلق کوئی نئی وضاحت آتی ہے تو ہمیں اِسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم دوسروں کو نئی اور صحیح معلومات دیں۔ اِس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذرا دیکھیں کہ آپ نیچے دئے گئے سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

  • یسوع مسیح نے متی ۲۴:‏۳۴ میں جس ”‏نسل“‏ کا ذکر کِیا، وہ کون ہے؟ ‏—‏مینارِنگہبانی یکم اپریل ۲۰۱۰ء، صفحہ ۱۹۔‏

  • متی ۲۵:‏۳۲ میں ”‏بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا“‏ کرنے کا ذکر کِیا گیا ہے، ایسا کب ہوگا؟‏‏—‏مینارِنگہبانی یکم دسمبر ۱۹۹۵ء، صفحہ ۱۱-‏۱۳۔‏

  • لوقا ۲۱:‏۲۶ میں کہا گیا ہے کہ ”‏ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلا‌ؤں کی راہ دیکھتے‌دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی،“‏ ایسا کب ہوگا؟‏‏—‏مینارِنگہبانی یکم مئی ۱۹۹۴ء، صفحہ ۲۹، ۳۰۔‏

اگر ہم ہر روز بائبل کو پڑھیں گے اور اِس پر تحقیق کریں گے تو ہم دوسروں کو نئی وضاحت کے مطابق تعلیم دیں گے۔ یوں وہ اُس روشنی میں چل سکیں گے جو یہوواہ خدا بخشتا ہے۔—‏امثا ۴:‏۱۸‏۔‏

یہوواہ خدا وقت پر میری رہنمائی کرتا ہے

ایک جوان بہن نے لکھا:‏ ”‏ہمارا شفیق آسمانی باپ ہمیں بہت سی ہدایات دیتا ہے۔ لیکن اُس نے بائبل کو روزانہ پڑھنے کے سلسلے میں جو ہدایات دی ہیں، اُن کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا ہے۔ جب مَیں نے بائبل کو پڑھنا شروع کِیا تو اُس وقت ہائی سکول میں میرا آخری سال تھا۔ مَیں نے تقریباً دو سال میں پوری بائبل پڑھی۔ اِس عرصے کے دوران مَیں نے خدا کے کلام میں جو کچھ پڑھا، اِس سے یہ فیصلہ کرنے میں میری مدد ہوئی کہ مَیں آگے چل کر کیا کروں گی۔ اب مَیں بائبل کو دوسری بار پڑھ رہی ہوں۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سی باتیں مَیں نے پہلے نہیں پڑھیں۔ مجھے بائبل کو پڑھنے میں پہلے سے بھی زیادہ مزہ آ رہا ہے۔ مَیں یہوواہ خدا کی شکر گزار ہوں کہ وہ وقت پر میری رہنمائی کرتا ہے۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں