یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م10 1/‏6 ص.‏ 29-‏32
  • خدا کی خدمت سے تازہ‌دم ہو جائیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کی خدمت سے تازہ‌دم ہو جائیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کلیسیا کی رفاقت سے تازہ‌دم ہو جائیں
  • مُنادی کرنے سے تازہ‌دم ہو جائیں
  • خاندانی عبادت سے تازہ‌دم ہو جائیں
  • اپنا دھیان خدا کی خدمت سے ہٹنے نہ دیں
  • ‏”‏میرا جؤا اپنے اُوپر اُٹھا لو“‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
  • ‏’‏میرے پاس آئیں، مَیں آپ کو تازہ‌دم کر دوں گا‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • بوجھ سے آرام—‏ایک عملی حل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ‏”‏میرا جُوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
م10 1/‏6 ص.‏ 29-‏32

خدا کی خدمت سے تازہ‌دم ہو جائیں

”‏میرا جؤا اپنے اُوپر اٹھا لو .‏ .‏ .‏ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔“‏—‏متی ۱۱:‏۲۹‏۔‏

۱.‏ سینا کے بیابان میں یہوواہ خدا نے کیا بندوبست کِیا اور کیوں؟‏

جب یہوواہ خدا نے سینا کے بیابان میں شریعت دی تو اِس میں سبت ماننے یعنی ساتویں دن آرام کرنے کا بندوبست بھی شامل تھا۔ یہوواہ خدا نے موسیٰ کے ذریعے اسرائیلی قوم کو حکم دیا کہ ”‏چھ دن تک اپنا کام‌کاج کرنا اور ساتویں دن آرام کرنا تاکہ تیرے بیل اور گدھے کو آرام ملے اور تیری لونڈی کا بیٹا اور پردیسی تازہ‌دم ہو جائیں۔“‏ (‏خر ۲۳:‏۱۲)‏ لہٰذا، یہوواہ خدا نے بڑی محبت سے شریعت کے تحت لوگوں کو ایک دن آرام کرنے کے لئے دیا تاکہ وہ ”‏تازہ‌دم“‏ ہو سکیں۔‏

۲.‏ اسرائیلیوں کے لئے سبت کا دن کیوں فائدہ‌مند تھا؟‏

۲ کیا سبت کا دن صرف آرام کے لئے تھا؟ جی‌نہیں۔ دراصل سبت کا دن یہوواہ خدا کی عبادت میں اسرائیلیوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ سبت کے دن پر اسرائیلی مردوں کو اپنے خاندانوں کو یہ سکھانے کا موقع ملتا تھا کہ وہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی راہ میں قائم رہ کر عدل اور اِنصاف کریں۔“‏ (‏پید ۱۸:‏۱۹‏)‏ اِس دن پر لوگوں کو یہوواہ خدا کے حیرت‌انگیز کاموں پر غور کرنے اور ایک دوسرے کی رفاقت سے خوشی حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا تھا۔ (‏یسع ۵۸:‏۱۳، ۱۴‏)‏ سب سے بڑھ کر سبت کا دن اُس وقت کی عکاسی بھی کرتا تھا جب مسیح کی ہزار سالہ حکومت میں سب انسان حقیقی معنوں میں تازہ‌دم ہو جائیں گے۔ (‏روم ۸:‏۲۱‏)‏ لیکن آجکل سچے مسیحی کیسے تازہ‌دم ہو سکتے ہیں؟‏

کلیسیا کی رفاقت سے تازہ‌دم ہو جائیں

۳.‏ پہلی صدی کے مسیحیوں نے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کیسے کی اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟‏

۳ پولس رسول نے کہا کہ مسیحی کلیسیا ”‏حق کا ستون اور بنیاد ہے۔“‏ (‏۱-‏تیم ۳:‏۱۵‏)‏ جس طرح ایک ستون اور بنیاد کسی عمارت کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے اُسی طرح ابتدائی مسیحیوں کو روحانی طور پر مضبوط رہنے کے لئے کلیسیا کی ضرورت تھی۔ وہ کلیسیا میں اپنے بہن‌بھائیوں سے حوصلہ‌افزائی حاصل کر سکتے تھے۔ (‏افس ۴:‏۱۱، ۱۲،‏ ۱۶‏)‏ جب پولس رسول افسس میں تھا تو کرنتھس کی کلیسیا کے کچھ بھائی اُسے ملنے کے لئے آئے جس سے پولس کو بڑی تقویت ملی۔ اِس سلسلے میں پولس رسول نے بیان کِیا:‏ ”‏مَیں ستفناؔس اور فرؔتوناتس اور اخیکسؔ کے آنے سے خوش ہوں کیونکہ .‏ .‏ .‏ اُنہوں نے میری .‏ .‏ .‏ رُوح کو تازہ کِیا۔“‏ (‏۱-‏کر ۱۶:‏۱۷، ۱۸‏)‏ اِسی طرح جب ططس بھائیوں کی خدمت کے لئے کرنتھس گیا تو بعد میں پولس رسول نے اُس کلیسیا کو لکھا کہ ”‏تُم سب کے باعث [‏ططس]‏ کی رُوح پھر تازہ ہو گئی۔“‏ (‏۲-‏کر ۷:‏۱۳‏)‏ آجکل یہوواہ کے گواہ بھی مسیحی بہن‌بھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھنے سے تازہ‌دم ہو جاتے ہیں۔‏

۴.‏ ہم اجلاسوں پر حاضر ہونے سے تازہ‌دم کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۴ ہم جانتے ہیں کہ اجلاسوں پر حاضر ہونے سے بڑی خوشی ملتی ہے۔ وہاں ہم ”‏ایمان کے باعث تسلی“‏ پاتے ہیں۔ (‏روم ۱:‏۱۲‏)‏ ہمارے مسیحی بہن‌بھائی ایسے لوگ نہیں جن کے ساتھ ہماری تھوڑی بہت جان‌پہچان ہے اور جن سے ہم کبھی‌کبھار ملتے ہیں۔ اِس کے برعکس وہ ہمارے دوست ہیں جن کے لئے ہمارے دل میں محبت اور عزت ہے۔ جب ہم باقاعدگی سے اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہیں تو ہم بہن‌بھائیوں کی رفاقت سے بڑی خوشی اور تسلی پاتے ہیں۔—‏فلیمون ۷‏۔‏

۵.‏ ہم بڑے اجتماعات پر ایک دوسرے سے مل کر تازہ‌دم کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۵ ہم بڑے اجتماعات پر حاضر ہو کر بھی تازہ‌دم ہو جاتے ہیں۔ اِن اجتماعات پر ہم خدا کے کلام بائبل سے زندگی‌بخش تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نیز، ہمیں ”‏کشادہ دل“‏ ہونے یعنی زیادہ سے زیادہ بہن‌بھائیوں سے رفاقت رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ (‏۲-‏کر ۶:‏۱۲، ۱۳‏)‏ لیکن اگر ہم دوسروں کے ساتھ ملنے سے شرماتے ہیں توپھر کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں سے واقفیت بڑھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم بڑے اجتماعات پر دوسروں کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں خدمت کریں۔ اِس سلسلے میں ایک بہن کے تجربے پر غور کریں جو بین‌الاقوامی اجتماع پر حاضر ہوئی۔ اُس نے بیان کِیا:‏ ”‏اپنے خاندان اور چند دوستوں کے سوا مَیں وہاں کسی کو نہیں جانتی تھی۔ مگر جب مَیں نے صفائی کے کام میں حصہ لیا تو میری ملاقات بہت سے بہن‌بھائیوں سے ہوئی۔ اُن کے ساتھ کام کرکے مجھے بہت خوشی ملی۔“‏

۶.‏ چھٹیوں کے دوران تازہ‌دم ہونے کا ایک طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟‏

۶ اسرائیلی سال میں تین مرتبہ عبادت کے لئے ہیکل جایا کرتے تھے۔ (‏خر ۳۴:‏۲۳)‏ اُنہیں اپنے کھیت اور کاروبار چھوڑ کر کئی دن تک کچے راستوں پر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ مگر جب وہ ہیکل میں جمع ہو کر ’‏یہوواہ خدا کی حمد کرتے‘‏ تھے تو اُنہیں ”‏بڑی خوشی“‏ ملتی تھی۔ (‏۲-‏توا ۳۰:‏۲۱‏)‏ آجکل بھی یہوواہ کے بہت سے خادم اپنے خاندان کے ساتھ سفر کرکے بیت‌ایل دیکھنے آتے ہیں اور بہت خوش ہوتے ہیں۔ کیا آپ بھی اگلی چھٹیوں کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ کوئی ایسا ہی بندوبست بنا سکتے ہیں؟‏

۷.‏ (‏ا)‏دعوت پر اکٹھے ہونا بہن‌بھائیوں کے لئے کیسے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟ (‏ب)‏ایسے موقعے ترقی اور خوشی کا باعث کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۷ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ تفریح کے لئے اکٹھے ہونا بھی خوشی بخشتا ہے۔ دانشمند بادشاہ سلیمان نے بیان کِیا:‏ ”‏انسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خوش ہو کر اپنا جی بہلائے۔“‏ (‏واعظ ۲:‏۲۴‏)‏ جب بہن‌بھائی کسی دعوت پر اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ تازہ‌دم ہو جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننے سے اُن کی محبت بھی بڑھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسے موقعے ایک دوسرے کے لئے ترقی اور خوشی کا باعث ہوں تو یہ بہتر ہوگا کہ لوگوں کی تعداد کم رکھی جائے۔ اِس طرح سب کا دھیان رکھنا ممکن ہوگا تاکہ کوئی نامناسب کام نہ ہو۔ خاص طور پر اگر شراب کا اہتمام کِیا جاتا ہے تو پینے والوں پر نگاہ رکھنا بھی آسان ہوگا۔‏

مُنادی کرنے سے تازہ‌دم ہو جائیں

۸، ۹.‏ (‏ا)‏یسوع مسیح کا پیغام فقیہوں اور فریسیوں کی تعلیم سے کیسے فرق تھا؟ (‏ب)‏دوسروں کو بائبل کی تعلیم دینے سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟‏

۸ یسوع مسیح نے نہ صرف خود جوش کے ساتھ مُنادی کی بلکہ اُس نے اپنے شاگردوں میں بھی مُنادی کے کام کے لئے جوش پیدا کِیا۔ مثال کے طور پر اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں۔ پس فصل کے مالک کی مِنت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیج دے۔“‏ (‏متی ۹:‏۳۷، ۳۸‏)‏ یسوع مسیح کا پیغام بہت ہی تازگی‌بخش تھا۔ یہ لوگوں کے لئے ”‏خوشخبری“‏ تھا۔ (‏متی ۴:‏۲۳؛‏ ۲۴:‏۱۴‏)‏ فریسیوں نے تو طرح‌طرح کے قانون بنا کر لوگوں پر بوجھ ڈالا ہوا تھا۔ مگر یسوع مسیح کے پیغام نے لوگوں کو تازہ‌دم کر دیا۔‏‏—‏متی ۲۳:‏۴،‏ ۲۳،‏ ۲۴ کو پڑھیں۔‏

۹ جب ہم لوگوں کو بادشاہت کا پیغام سناتے ہیں تو ہم اُنہیں روحانی طور پر تازہ‌دم کرتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ بائبل کی سچائیوں کے لئے ہماری سمجھ اور شکرگزاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا زبورنویس کی یہ بات بالکل موزوں ہے کہ ”‏[‏یاہ]‏ کی حمد کرو کیونکہ خدا کی مدح‌سرائی کرنا بھلا ہے۔ اِس لئے کہ یہ دل‌پسند اور ستایش زیبا ہے۔“‏ (‏زبور ۱۴۷:‏۱‏)‏ ہم مُنادی کے کام میں یہوواہ کے نام کی حمدوستائش کرتے ہیں۔ لیکن ہم اِس کام میں اپنی خوشی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟‏

۱۰.‏ کیا مُنادی میں ہماری کامیابی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کتنے لوگ ہمارا پیغام قبول کرتے ہیں؟ وضاحت کریں۔‏

۱۰ یہ سچ ہے کہ بعض علاقوں میں بہت کم لوگ ہمارا پیغام سنتے ہیں۔ ‏(‏اعمال ۱۸:‏۱،‏ ۵-‏۸ کو پڑھیں۔)‏ اگر آپ بھی ایسے علاقے میں رہتے ہیں تو اپنا دھیان اِس بات پر رکھیں کہ آپ کی مُنادی سے کیا اچھے نتائج نکل رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا کے نام کی مُنادی کرنے کے لئے آپ جو کوششیں کرتے ہیں وہ بے‌فائدہ نہیں ہیں۔ (‏۱-‏کر ۱۵:‏۵۸‏)‏ نیز، مُنادی میں ہماری کامیابی کا اندازہ اِس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ کتنے لوگ خوشخبری کو قبول کرتے ہیں۔ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا خلوصدل لوگوں کو بادشاہت کا پیغام سننے کا موقع ضرور دے گا۔—‏یوح ۶:‏۴۴‏۔‏

خاندانی عبادت سے تازہ‌دم ہو جائیں

۱۱.‏ یہوواہ خدا نے والدین کو کونسی ذمہ‌داری سونپی ہے اور وہ اِسے کیسے پورا کر سکتے ہیں؟‏

۱۱ والدین کی یہ ذمہ‌داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہوواہ خدا اور اُس کی راہوں کے بارے میں سکھائیں۔ (‏است ۱۱:‏۱۸، ۱۹)‏ اگر آپ کے بچے ہیں تو کیا آپ اُنہیں آسمانی باپ کے متعلق سکھانے کے لئے وقت نکالتے ہیں؟ یہوواہ خدا یہ اہم ذمہ‌داری پوری کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ وہ اپنی تنظیم کے ذریعے کتابیں، رسالے، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ فراہم کرتا ہے۔‏

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏خاندانی عبادت کے بندوبست سے سارے خاندان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟ (‏ب)‏والدین خاندانی عبادت کو دلچسپ بنانے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۲ اِس کے علاوہ دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت نے خاندانی عبادت کے لئے ہر ہفتے ایک شام مقرر کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اِس شام پورا خاندان مل کر بائبل کا مطالعہ کرنے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اِس مشورے پر عمل کرنے سے بہتیرے خاندانوں نے یہ محسوس کِیا ہے کہ وہ یہوواہ کے اَور زیادہ قریب آ گئے ہیں۔ نیز، اُن کے درمیان محبت کا بندھن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ لیکن والدین کیا کر سکتے ہیں تاکہ سارا خاندان اِس بندوبست سے روحانی طور پر تازہ‌دم ہو جائے؟‏

۱۳ خاندانی عبادت کو بیزار کرنے والا نہیں ہونا چاہئے۔ یہوواہ خدا چونکہ ہمیشہ خوش رہتا ہے اِس لئے وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی عبادت سے خوشی حاصل کریں۔ (‏۱-‏تیم ۱:‏۱۱؛‏ فل ۴:‏۴‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ پہلے جو وقت کتابی مطالعے کے اجلاس کے لئے استعمال ہوتا تھا اب وہ خاندانی عبادت کے لئے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ اِس لئے اب خاندانوں کو بائبل کی سچائیوں پر غور کرنے کے لئے اَور زیادہ وقت مل گیا ہے۔ والدین کو سوچنا چاہئے کہ وہ خاندانی عبادت کو دلچسپ بنانے کے لئے کونسے فرق‌فرق طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں دس سالہ برانڈن کے خاندان کی مثال پر غور کریں۔ برانڈن کو سانپ بہت پسند ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ بائبل میں سانپ کو شیطان سے منسلک کیوں کِیا گیا ہے۔ اِس لئے برانڈن کے والدین نے اُسے اِس موضوع پر تحقیق کرکے معلومات پیش کرنے کا موقع دیا کہ ”‏یہوواہ خدا نے شیطان کو سانپ کیوں کہا؟“‏ بعض خاندان کبھی‌کبھار بائبل پر مبنی ڈرامہ کرتے ہیں جس میں ہر فرد کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ اپنے کردار کے الفاظ کو بائبل سے پڑھتے ہیں اور اُس کے مطابق اداکاری کرتے ہیں۔ ایسے طریقے استعمال کرنے سے آپ کے بچے خاندانی عبادت میں شوق سے حصہ لیں گے اور یوں بائبل کے اُصول اُن کے دل پر نقش ہو جائیں گے۔‏a

اپنا دھیان خدا کی خدمت سے ہٹنے نہ دیں

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏اِن آخری ایام میں پریشانیوں اور خطرات میں اضافہ کیسے ہو گیا ہے؟ (‏ب)‏مسیحیوں کو مزید کس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟‏

۱۴ اِن آخری ایام میں لوگ پہلے سے زیادہ پریشانیوں اور خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے لاکھوں لوگ پریشان ہیں۔ جن لوگوں کے پاس نوکریاں ہیں اُنہیں بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے اُن کی کمائی خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی نہیں۔ (‏حجی ۱:‏۴-‏۶ پر غور کریں۔)‏ سیاستدان بھی دہشت‌گردی اور دیگر بُرائیوں کے سامنے بے‌بس نظر آتے ہیں۔ بعض لوگ تو اپنے ہی گُناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔—‏زبور ۳۸:‏۴‏۔‏

۱۵ شیطان کی دُنیا میں رہتے ہوئے سچے مسیحیوں کو بھی مختلف پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (‏۱-‏یوح ۵:‏۱۹‏)‏ بعض‌اوقات تو اُنہیں یہوواہ کے لئے راستی قائم رکھنے کی وجہ سے اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یسوع نے کہا تھا کہ ”‏اگر اُنہوں نے مجھے ستایا تو تمہیں بھی ستائیں گے۔“‏ (‏یوح ۱۵:‏۲۰‏)‏ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم ”‏ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔“‏ (‏۲-‏کر ۴:‏۹‏)‏ ایسا کیوں ہے؟‏

۱۶.‏ یہوواہ کی خدمت میں اپنی خوشی قائم رکھنے کے لئے ہماری مدد کیسے ہوتی ہے؟‏

۱۶ یسوع مسیح نے فرمایا:‏ ”‏اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تُم کو آرام دُوں گا۔“‏ (‏متی ۱۱:‏۲۸‏)‏ یسوع مسیح کی قربانی پر ایمان لانے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا بھروسا یہوواہ خدا پر ہے۔ اِس طرح ہم”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ حاصل کرتے ہیں۔ (‏۲-‏کر ۴:‏۷‏)‏ ”‏مددگار“‏ یعنی خدا کی روحُ‌القدس ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے تاکہ ہم آزمائشوں کو برداشت کریں اور یہوواہ کی خدمت میں اپنی خوشی قائم رکھیں۔—‏یوح ۱۴:‏۲۶؛‏ یعقو ۱:‏۲-‏۴‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ (‏ا)‏ہمیں کس سوچ سے بچنا چاہئے؟ (‏ب)‏کھانے، پینے اور تفریح میں حد سے زیادہ مگن ہو جانے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟‏

۱۷ آجکل دُنیا کے لوگ عیش‌وعشرت کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن سچے مسیحیوں کو ایسی سوچ سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ ‏(‏افسیوں ۲:‏۲-‏۵ کو پڑھیں۔)‏ اگر ہم دُنیا کی سوچ اَپنا لیتے ہیں تو ہم ”‏جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی“‏ کے پھندے میں پھنس سکتے ہیں۔ (‏۱-‏یوح ۲:‏۱۶‏)‏ یا پھر ہم اِس غلط سوچ میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ جسم کی خواہشات کو پورا کرنے سے ہمیں اطمینان حاصل ہوگا۔ (‏روم ۸:‏۶‏)‏ مثال کے طور پر، بعض لوگ جسم کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے نشہ‌بازی کرتے ہیں، گندی تصویریں دیکھتے ہیں اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ شیطان لوگوں میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ ایسے کام کرنے سے تازہ‌دم ہو سکتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔—‏افس ۶:‏۱۱‏۔‏

۱۸ یہ سچ ہے کہ مناسب حد تک کھانے، پینے اور تفریح کرنے میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔ خاص طور پر اِس بُرے زمانے میں رہتے ہوئے ہمیں اِن معاملات میں خود پر ضبط رکھنا چاہئے۔ ہمیں اِن میں اتنا مگن نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہمارا دھیان خدا کی خدمت سے ہٹ جائے اور ہم ”‏خداوند یسوؔع مسیح کے پہچاننے میں بیکار اور بے‌پھل“‏ ہو جائیں۔—‏۲-‏پطر ۱:‏۸‏۔‏

۱۹، ۲۰.‏ ہم حقیقی معنوں میں تازہ‌دم کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۱۹ جب ہم تمام معاملات کو یہوواہ کی نظر سے دیکھتے ہیں تو موسیٰ کی طرح ہم بھی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ اِس دُنیا کا عیش‌وآرام عارضی ہے۔ (‏عبر ۱۱:‏۲۵‏)‏ پس کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے ہی سے ہم تازہ‌دم ہو سکتے ہیں۔—‏متی ۵:‏۶‏۔‏

۲۰ دُعا ہے کہ ہم خدا کی خدمت کرنے سے ہمیشہ تازہ‌دم رہیں۔ اِس طرح ہم ”‏بیدینی اور دُنیوی خواہشوں کا انکار کرکے .‏ .‏ .‏ اُس مبارک اُمید یعنی اپنے بزرگ خدا اور مُنجی یسوؔع مسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے منتظر“‏ رہیں گے۔ (‏طط ۲:‏۱۲، ۱۳‏)‏ پس یسوع مسیح کے اختیار اور ہدایات کو تسلیم کرتے ہوئے یسوع کے جوئے کے تحت رہنے کا عزم کریں۔ یوں ہم تازہ‌دم ہو جائیں گے اور ہمیں حقیقی خوشی حاصل ہوگی۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a خاندانی بائبل مطالعے کو دلچسپ اور معلوماتی بنانے کے لئے مزید تفصیلات جنوری ۱۹۹۱ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے صفحہ ۲، ۳ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔‏

آپ کا جواب کیا ہو گا؟‏

‏• آجکل سچے مسیحی کیسے تازہ‌دم ہو سکتے ہیں؟‏

‏• مُنادی کا کام ہمیں اور دوسروں کو تازہ‌دم کیسے کرتا ہے؟‏

‏• والدین کیا کر سکتے ہیں تاکہ خاندانی عبادت سارے گھرانے کو تازہ‌دم کر دے؟‏

‏• خدا کی خدمت سے ہمارا دھیان کیسے ہٹ سکتا ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۳۰ پر تصویریں]‏

یسوع مسیح کا جؤا اُٹھانے سے ہم تازہ‌دم ہو جاتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں