یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏12 ص.‏ 26-‏29
  • گلئیڈ ”‏زمین کی انتہا تک“‏ مشنری بھیجتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • گلئیڈ ”‏زمین کی انتہا تک“‏ مشنری بھیجتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ اور پڑوسی کی وفاداری سے خدمت کریں
  • انسٹرکٹر پُرتپاک یاددہانیاں فراہم کرتے ہیں
  • تجربہ‌کار مشنری حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں
  • روحانیت کو ہلاک کرنے والی وبا سے بچنا
  • رضامندانہ جذبے کے تحت لوگوں کا گلئیڈ آنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • خدمت کیلئے تحریک پانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • گلئیڈ کے طالبعلموں کیلئے ایک خوشگوار دن
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • یہوواہ میں خوش‌وخرم رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏12 ص.‏ 26-‏29

گلئیڈ ”‏زمین کی انتہا تک“‏ مشنری بھیجتا ہے

نصف صدی سے زیادہ عرصے سے واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ مشنری بھیجتا رہا ہے۔ ستمبر ۱۱، ۱۹۹۹ کو گلئیڈ کی ۱۰۷ویں کلاس فارغ‌التحصیل ہوئی۔ یہ ۱۱ ممالک سے ۴۸ طالبعلموں پر مشتمل تھی جنہیں ۲۴ مختلف ممالک میں خدمت کرنے کے لئے تعینات کِیا گیا۔ یہ آسمان پر جانے سے پہلے یسوع کے آخری الفاظ کی تکمیل میں نہایت اہم کردار ادا کرنے والے ہزاروں مشنریوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ اس نے پیشینگوئی کی کہ اس کے شاگرد ”‏زمین کی انتہا تک [‏اس کے]‏ گواہ“‏ ہونگے۔—‏اعمال ۱:‏۸‏۔‏

گریجویشن پروگرام کی شاندار تقریب پیٹرسن، نیو یارک، میں واچ‌ٹاور ایجوکیشنل سینٹر کے خوبصورت ماحول میں منعقد ہوئی۔ گریجویشن کرنے والے طالبعلم حاضرین میں رشتہ‌داروں، قریبی دوستوں اور مہمانوں کو دیکھ کر نہایت خوش تھے۔ بروکلن اور والکل کی عمارتوں سے آڈیو اور ویڈیو کنکشن کے ذریعے سامعین‌وناظرین کی کُل حاضری ۴،۹۹۲ تھی۔‏

یہوواہ اور پڑوسی کی وفاداری سے خدمت کریں

‏”‏یہوواہ کی طرف کون ہے؟“‏ یہ گورننگ باڈی کے ایک رُکن اور گریجویشن پروگرام کے چیئرمین کیری باربر کے افتتاحیہ بیان کا عنوان تھا۔ اُنہوں نے واضح کِیا کہ یہ وہ مسئلہ تھا جس کا موسیٰ کے دنوں میں اسرائیلیوں کو سامنا تھا۔ فارغ‌التحصیل ہونے والوں اور حاضرین کو یاد دلایا گیا کہ بہتیرے اسرائیلی یہوواہ کے وفادار نہ رہنے کی وجہ سے بیابان میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بُت‌پرستی کا ارتکاب کرنے کے بعد اُنہوں نے ”‏بیٹھ کر کھایا پیا۔ اِسکے بعد وہ اُٹھے اور کھیل‌کود میں لگ گئے۔“‏ (‏خروج ۳۲:‏۱-‏۲۹)‏ یسوع نے مسیحیوں کو اسی خطرے سے آگاہ کِیا:‏ ”‏پس خبردار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہ‌بازی اور اس زندگی کی فکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔“‏—‏لوقا ۲۱:‏۳۴-‏۳۶‏۔‏

اگلے مقرر، رائٹنگ کمیٹی کے رُکن جین سمالی نے گریجویشن کرنے والے طالبعلموں سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ پاریگورک ثابت ہونگے؟“‏ اس نے وضاحت کی کہ یونانی لفظ پاریگوریا انگریزی زبان میں بے‌چینی کم کرنے والی ایک دوا کے نام کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ تاہم، پولس رسول نے اس معنی‌خیز یونانی لفظ کو کلسیوں ۴:‏۱۱ میں اپنے ساتھی مسیحیوں کی بابت بتانے کے لئے استعمال کِیا۔ اُردو ریوائزڈ ورشن بائبل میں اس لفظ کا ترجمہ ”‏تسلی“‏ کِیا گیا ہے۔‏

گریجویشن کرنے والے مشنری اپنی تفویضات میں مقامی بھائیوں اور بہنوں کیلئے فروتنی سے تسلی کا باعث بننے اور اپنے ساتھی مشنریوں کیساتھ رفاقت میں تعاون اور مشفقانہ جذبہ ظاہر کرنے سے حقیقت‌پسندانہ طور پر جدید زمانہ کے پاریگورک بن سکتے ہیں۔‏

اس کے بعد گورننگ باڈی کے ایک اَور رُکن ڈینئل سڈلک نے ”‏زندگی گزارنے کا زریں اُصول“‏ کے موضوع پر بات‌چیت کی۔ اُنہوں نے واضح کِیا کہ متی ۷:‏۱۲ میں جب یسوع مسیح نے یہ اُصول پیش کِیا کہ ”‏جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی اُنکے ساتھ کرو“‏ تو اس میں دوسروں کو محض نقصان پہنچانے سے گریز کرنا ہی نہیں بلکہ ان کیلئے مثبت کام کرنا بھی شامل ہیں۔‏

اس اصول پر، کامیابی سے عمل کرنے کے لئے، تین چیزوں کا تقاضا کِیا جاتا ہے:‏ دیکھنے والی آنکھ، ہمدرد دل اور مدد کرنے والا ہاتھ۔ اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے، اُنہوں نے بیان کِیا:‏ ”‏اگر ہم میں کسی کی مدد کرنے کی خواہش ہو تو ہمیں فوراً کرنی چاہئے۔ جو کچھ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے لئے کریں وہی ہمیں ان کیلئے کرنے کی خاطر اضافی کوشش کرنی چاہئے۔“‏ یہ بات ان مشنریوں کے حق میں خاص طور پر سچ ہے جو سچی مسیحیت کو عمل میں لانے کی خاطر لوگوں کی مدد کرنے کیلئے دوسرے ممالک میں جاتے ہیں۔‏

انسٹرکٹر پُرتپاک یاددہانیاں فراہم کرتے ہیں

گلئیڈ انسٹرکٹر کارل ایڈمز نے گریجویشن کرنے والے مشنریوں کو ”‏ترقی کرتے رہنے“‏ کی حوصلہ‌افزائی دی۔ کس لحاظ سے؟ اوّل، علم میں اور اس کے عمدہ استعمال کی صلاحیت میں۔ گلئیڈ میں، طالبعلموں نے بائبل واقعات کے پس‌منظر اور سیاق‌وسباق کی تحقیق کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ اُنکی اس بات پر غور کرنے کیلئے حوصلہ‌افزائی کی گئی تھی کہ کس طرح سے ہر واقعہ کو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہونا چاہئے۔ انہیں ایسا کرتے رہنے کی تاکید کی گئی۔‏

‏”‏دوم، محبت میں بڑھتے رہیں۔ محبت ایک ایسی چیز ہے جو نگہداشت کئے جانے کی صورت میں پھلتی‌پھولتی ہے۔ جب اس سے غفلت برتی جاتی ہے تو یہ مر سکتی ہے،“‏ بھائی ایڈمز نے کہا۔ (‏فلپیوں ۱:‏۹‏)‏ اب مشنریوں کے طور پر، انہیں مختلف حالات کے تحت محبت میں بڑھنے کی ضرورت ہوگی۔ سوئم:‏ ”‏ہمارے خداوند اور مُنجی یسوؔع مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۸‏)‏ ”‏یہ وہ عظیم فضل ہے جو یہوواہ نے اپنے بیٹے کی معرفت ظاہر کِیا ہے،“‏ مقرر نے بیان کِیا۔ ”‏جب ہم اس غیرمستحق فضل کی قدردانی میں بڑھتے ہیں تو خدا کی مرضی بجا لانے اور اُس کام کو کرنے میں ہماری خوشی بھی بڑھتی ہے جو اُس نے ہمیں سونپا ہے۔“‏

ایک اَور گلئیڈ انسٹرکٹر مارک نومیر نے اس عنوان پر بات کی ”‏محبت سے قبول کریں اور آپ قبول کر سکتے ہیں۔“‏ اُنہوں نے فہمائش کی:‏ ”‏مشنری زندگی میں چیلنج‌خیز صورتحال کو محبت سے قبول کرنا سیکھیں اور آپ انہیں برداشت کرنے کے قابل ہونگے۔ یہوواہ فقط انہی کو تنبیہ کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ اگر آپ محسوس کریں کہ کوئی مشورت نامناسب، نکتہ‌چیں یا غیرمنصفانہ ہے تو یہوواہ کیلئے محبت اور اُسکے ساتھ آپکا رشتہ اسے قبول کرنے کیلئے آپ کی مدد کریگا۔“‏

بھائی نومیر نے نشاندہی کی کہ مشنری خدمت میں بہت سی ذمہ‌داریاں شامل ہوتی ہیں۔ ”‏لیکن محبت کے بغیر ذمہ‌داری آپ کو غیرمطمئن بنا دے گی۔ محبت کے بغیر آپکی گھریلو ذمہ‌داریاں—‏مثلاً کھانا پکانا، خریداری کرنا، پھلوں کو دھونا، پانی اُبالنا—‏آپکو تھکا سکتی ہیں۔ آپ کو سوچنا چاہئے، ’‏مَیں یہ کام کیوں کر رہا ہوں؟‘‏ درحقیقت، اگر آپ خود سے کہتے ہیں کہ ’‏میری کوششیں میرے ساتھی مشنریوں کی صحت اور خوشی میں معاونت کر رہی ہیں‘‏ توپھر انہیں قبول کرنا مشکل نہ ہوگا۔“‏ آخر میں، اُنہوں نے تاکید کی:‏ ”‏خواہ یہ تنبیہ قبول کرنے، اپنی مشنری ذمہ‌داریاں پوری کرنے یا غلط‌فہمیاں دُور کرنے کی بات ہو، محبت سے ان ساری باتوں کو قبول کرنا آپ کو آپ کی تفویض میں قائم رہنے کے قابل بنائے گا۔ ’‏محبت کو زوال نہیں۔‘‏“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏۔‏

گلئیڈ انسٹرکٹر والس لیورنس نے ان کئی خوشگوار تجربات کی ازسرِنو کردارنگاری کی جن سے طالبعلموں نے مقامی کلیسیا کیساتھ کام کرتے ہوئے لطف اُٹھایا تھا۔ گھربہ‌گھر کی منادی میں جانے کے علاوہ، اُنہوں نے اپنی مشنری تربیت کو ٹرک اڈوں، لانڈری کی دکانوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر مقامات پر لوگوں کو ڈھونڈنے کیلئے استعمال کِیا۔‏

تجربہ‌کار مشنری حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں

جب نئے مشنری کسی غیرمُلک میں جاتے ہیں تو کیا فکر کی کوئی بات ہوتی ہے؟ کیا وہ غیرملکی تفویض کے چیلنجوں پر پورا اُتر سکیں گے؟ کامیاب ہونے کیلئے ان نئے آنے والوں کی مدد کیلئے برانچ دفاتر کیا کرتے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب دینے کیلئے سروس ڈپارٹمنٹ کے سٹیون لٹ اور رائٹنگ ڈپارٹمنٹ کے ڈیوڈ سپلین نے ان بھائیوں کا انٹرویو لیا جو اس وقت واچ‌ٹاور ایجوکیشنل سینٹر پر برانچ سکول کے سلسلے میں حاضر تھے۔ جن بھائیوں کا انٹرویو لیا گیا وہ سپین، ہانگ‌کانگ، لائبیریا، بینن، مڈغاسکر، برازیل اور جاپان کی برانچ کمیٹیوں میں خدمت انجام دیتے ہیں۔‏

یہوواہ کے ان تجربہ‌کار خادموں نے جن میں سے بہتیروں نے مشنریوں کے طور پر عشروں سے خدمت کی ہے، گریجویشن کرنے والے طالبعلموں اور حاضرین میں انکے والدین اور رشتہ‌داروں کی بڑی حوصلہ‌افزائی کی۔ اپنے اور ساتھی مشنریوں کے تجربے کی بنیاد پر، اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ مسائل اور تفکرات کیساتھ کامیابی سے نپٹا جا سکتا ہے۔ اُنہیں درپیش مسئلہ بڑا ہو سکتا ہے ”‏مگر اسے حل کیا جا سکتا ہے اور سوسائٹی ہماری مدد کرتی ہے،“‏ مڈغاسکر کے مشنری رائی‌مو کواؤکانن نے تبصرہ کِیا۔ ”‏ہم نے اپنی تفویض چنی نہیں تھی بلکہ ہمیں ملی تھی،“‏ اس وقت برازیل میں خدمت کرنے والے اوسٹن گسٹاوسن نے بیان کِیا۔ ”‏پس ہم نے اس سے چمٹے رہنے کیلئے اپنی پوری کوشش کرنے کا فیصلہ کِیا۔“‏ جاپان میں خدمت کرنے والا جیمز لنٹن بیان کرتا ہے کہ جس چیز نے اس کی مدد کی وہ ان ”‏بھائیوں کی موجودگی تھی جو پہلے ہی سے مشنری تفویض میں خدمت کر رہے تھے۔“‏ مشنری خدمت یہوواہ کی خدمت کرنے اور اسکی بھیڑوں کی دیکھ‌بھال کرنے کا ایک خوش‌کُن اور تسکین‌بخش طریقہ ہے۔‏

روحانیت کو ہلاک کرنے والی وبا سے بچنا

گورننگ باڈی کے ایک ممبر تھیوڈور جیرس، جنہوں نے خود ۱۹۴۶ میں گلئیڈ کی ساتویں کلاس سے گریجویشن کی تھی، اس عنوان پر اختتامی تقریر پیش کی، ”‏روحانی طور پر زندہ رہنے کا چیلنج۔“‏ سب سے پہلے دُنیا کے مختلف حصوں میں ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم کو تسلیم کرتے ہوئے، اُنہوں نے نشاندہی کی کہ درحقیقت، نوعِ‌انسان پر بدترین آفات آ رہی ہیں۔‏

زبور ۹۱ کا حوالہ دیتے ہوئے، بھائی جیرس نے اس ”‏وبا“‏ اور ”‏ہلاکت“‏ کی نشاندہی کی جس نے ہمارے گرد لاکھوں لوگوں کو روحانی طور پر بیمار اور ہلاک کر دیا ہے۔ شیطان اور اس کے شریر نظام نے روحانیت کو کمزور اور ختم کرنے کیلئے دُنیوی فلسفے اور مادہ‌پرستی پر مبنی وبائی پروپیگنڈا استعمال کِیا ہے لیکن یہوواہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ جو ”‏حق‌تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے“‏ یہ وبا اُس کے نزدیک نہیں آئے گی۔—‏زبور ۹۱:‏۱-‏۷‏۔‏

‏”‏چیلنج،“‏ بھائی جیرس نے بیان کیا، ”‏ایمان میں صحتمند رہنے، تحفظ کی جگہ میں رہنے کا ہے۔ ہم ان ٹھٹھابازوں کی مانند نہیں ہو سکتے جو ’‏روحانیت سے بے‌بہرہ‘‏ ہیں۔ آجکل یہی مسئلہ ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا تنظیم میں ہم سب کو سامنا ہے۔ آپ کو بھی اپنی مشنری خدمت میں اس کا سامنا ہو سکتا ہے۔“‏ (‏یہوداہ ۱۸، ۱۹‏)‏ تاہم گریجویشن کرنے والے مشنریوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی تفویضات میں روحانیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انہیں اس بات پر غور کرنے کی تاکید کی گئی کہ ہمارے بھائی روس، ایشیا اور افریقی ممالک میں پابندیوں، شدید مخالفت، تمسخر، دہریت‌پسندانہ پروپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کے باوجود کیسے برداشت کر رہے ہیں۔ نیز، بہتیرے معاملات میں، نسلی اختلافات اور ضروریاتِ‌زندگی کے فقدان کی وجہ سے جسمانی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔‏

جب روحانیت میں تنزلی واقع ہو تو ”‏مسئلے کے سبب پر توجہ دینا اور پھر خدا کے کلام کی مشورت کو استعمال کرتے ہوئے اسے دُور کرنے کی کوشش کرنا لازمی ہے۔“‏ بائبل سے مثالیں پیش کی گئیں۔ یشوع کی حوصلہ‌افزائی کی گئی کہ شریعت کی اپنی کتاب کی ہر روز دھیمی آواز سے پڑھائی کِیا کرے۔ (‏یشوع ۱:‏۸)‏ جب یوسیاہ کے زمانے میں شریعت کی کتاب ملی تو یہوواہ نے اس کی ہدایات کے وفادارانہ اطلاق کو برکت بخشی۔ (‏۲-‏سلاطین ۲۳:‏۲، ۳‏)‏ تیمتھیس بچپن سے پاک نوشتوں سے واقف تھا۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ بیریہ کے باشندے نہ صرف اچھا سننے والے تھے؛ بلکہ اُنہیں صحائف کی روزبروز تحقیق کرنے کی وجہ سے ”‏نیک ذات“‏ بھی خیال کِیا گیا۔ (‏اعمال ۱۷:‏۱۰، ۱۱‏)‏ نیز خدا کے کلام سے واقفیت اور اس کے استعمال کے سلسلے میں یسوع مسیح سب سے نمایاں مثال ہے۔—‏متی ۴:‏۱-‏۱۱‏۔‏

اختتام پر بھائی جیرس نے پُرتپاک طریقے سے نئے مشنریوں کو تاکید کی:‏ ”‏اب آپ اپنی مشنری تفویض انجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ آپ حقیقت میں زمین کے مختلف حصوں میں جا رہے ہیں۔ اگر ہم روحانی طور پر زندہ رہنے کے چیلنج کا سامنا کرتے ہیں تو پھر ہم کسی بھی چیز کو اُس کام سے ہماری توجہ ہٹانے کی اجازت نہیں دیں گے جس کا ہم نے عزم کر رکھا ہے۔ آپ سرگرمی سے منادی کرنے جا رہے ہیں، اپنے ایمان کی نقل کرنے کیلئے دوسروں کو تحریک دیں اور ہم آپ کیساتھ ملکر دُعا کرتے ہیں کہ جنہیں آپ تعلیم دیں یہوواہ انہیں زندہ کرے جیسے اُس نے ہمیں کِیا ہے۔ اس طرح اَور زیادہ لوگ اس روحانی آفت سے بچ جائیں گے جو اس وقت عالمگیر پیمانے پر اپنے عروج پر ہے۔ وہ یہوواہ کی مرضی پوری کرنے کیلئے بڑھتی ہوئی تعداد میں ہمارے ساتھ شامل ہونگے۔ دُعا ہے کہ یہوواہ اس مقصد کے لئے آپ کو برکت دے۔“‏

دُنیابھر کے مختلف ممالک سے پیغامِ‌تہنیت پڑھنے کے بعد، گریجویشن کرنے والے طالبعلموں کو انکے ڈپلومے دئے جانے کا وقت آیا۔ اس کے بعد طالبعلموں کے ذریعے ترتیب دیا ہؤا قدردانی سے معمور پُرتپاک خط پڑھا گیا۔ وہ حاصل‌کردہ تربیت اور مشنریوں کی حیثیت سے ”‏زمین کی انتہا تک“‏ جانے کی خاطر اپنی مخصوص تفویضات کیلئے یہوواہ اور اُسکی تنظیم کے کسقدر مشکور تھے!‏—‏اعمال ۱:‏۸‏۔‏

‏[‏صفحہ 29 پر بکس]‏

کلاس کے اعدادوشمار

اُن ممالک کی تعداد جنکی نمائندگی کی گئی:‏۱۱

اُن ممالک کی تعداد جن کیلئے تفویض دی گئی:‏۲۴

طالبعلموں کی تعداد:‏۴۸

شادی‌شُدہ جوڑوں کی تعداد:‏۲۴

اوسط عمر:‏۳۴

سچائی میں اوسط سال:‏۱۷

کُل وقتی خدمت میں اوسط سال:‏۱۲

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ سے گریجویشن کرنے والی ۱۰۷ویں جماعت

درج‌ذیل فہرست میں قطاروں کے نمبر آگے سے پیچھے کی طرف اور ہر قطار میں نام بائیں سے دائیں درج کئے گئے ہیں۔‏

‏;.1. Peralta, C.; Hollenbeck, B.; Shaw, R.; Hassan, N.; Martin, D

‏;.Hutchinson, A. 2. Edwards, L.; Vezer, T.; Ceruti, Q

‏;.Entzminger, G.; D‎’Aloise, L.; Baglieri, L. 3. Knight, P

‏.4 .Krause, A.; Kasuske, D.; Rose, M.; Friedl, K.; Nieto, R

‏;.Rose, E.; Backus, T.; Talley, S.; Humbert, D.; Bernhardt, A

‏;.Peralta, M. 5. D‎’Aloise, A.; Humbert, D.; Dunn, H.; Gatling, G

‏;.Shaw, J.; Ceruti, M. 6. Baglieri, S.; Krause, J.; Hollenbeck, T

‏;.Martin, M.; Bernhardt, J.; Hutchinson, M. 7. Backus, A

‏.8 .Dunn, O.; Gatling, T.; Vezer, R.; Knight, P.; Hassan, O

‏;.Nieto, C.; Talley, M.; Friedl, D.; Kasuske, A.; Edwards, J

‏.Entzminger, M

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں