یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏12 ص.‏ 30
  • کیا آپ کو یاد ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کو یاد ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • تُو اپنے بھائی کو جیت سکتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • یہوواہ، ایک ایسا خدا جو ”‏معاف کرنے کو تیار“‏ ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏12 ص.‏ 30

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

کیا آپ نے مینارِنگہبانی کے حالیہ شماروں پر پوری توجہ دی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ذیل میں درج نکات کی دوہرائی کو دلچسپ پائینگے:‏

◻دو مسیحیوں کو منگنی کی بابت سوچنے سے پہلے خود سے کونسے سوالات پوچھنے چاہئیں؟‏

‏’‏کیا مَیں دوسرے شخص کی روحانیت اور خدا کے لئے اُسکی عقیدت سے واقعی مطمئن ہوں؟ کیا مَیں اُس کیساتھ زندگی بھر خدا کی خدمت کرنے کا تصور کر سکتا ہوں؟ کیا ہم موزوں طور پر ایک دوسرے کی شخصیتی اوصاف سے واقف ہو گئے ہیں؟ کیا مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہم میں ہمیشہ ہم‌آہنگی برقرار رہیگی؟ کیا ہم ایک دوسرے کے ماضی کے کاموں اور موجودہ حالات کی بابت کافی کچھ جانتے ہیں؟‘‏—‏۱۵/‏۸، صفحہ ۳۱۔‏

◻جب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ”‏تُم دُنیا کے نمک ہو“‏ تو اُس کا اس سے کیا مطلب تھا؟‏ (‏متی ۵:‏۱۳‏)‏

یسوع نے اس بات کی دلالت کی کہ اُسکے پیروکاروں کے ذریعے کی جانے والی خدا کی بادشاہت کی مُنادی اُنکے سننے والوں پر ممکنہ طور پر محفوظ رکھنے والا یا زندگی بچانے والا اثر ڈالیگی۔ واقعی جنہوں نے یسوع کے الفاظ کا اطلاق کِیا وہ دُنیا میں پائی جانے والی اخلاقی اور روحانی تنزلی سے محفوظ رہے۔—‏۱۵/‏۸، صفحہ ۳۲۔‏

◻کورٹ‌شپ کرنے والے جوڑے جنسی بداخلاقی کے پھندے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

اگر آپ ڈیٹنگ کر رہے ہیں تو آپ دانشمندی سے نامناسب حالات کے تحت اپنے امکانی ساتھی کیساتھ تنہائی سے گریز کرینگے۔ لہٰذا، ایک گروپ یا عوامی جگہوں پر ایک دوسرے کی رفاقت سے لطف اُٹھانا بہترین ہو سکتا ہے۔ ایک دوسرے کے احساسات اور ضمیر کا احترام کرتے ہوئے اُلفت کے اظہارات کیلئے حدبندیاں قائم کریں۔—‏۱/‏۹، صفحہ ۱۷، ۱۸۔‏

◻سمجھداری کیا ہے؟‏

یہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور اسکے تمام حصوں اور پہلوؤں کے درمیان روابط کو سمجھنے سے اس کی اجزائے‌ترکیبی کو بھانپ کر اسکا مفہوم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔ (‏امثال ۴:‏۱‏)‏—‏۱۵/‏۹، صفحہ ۱۳۔‏

◻یہوواہ آج ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

بنیادی طور پر، یہوواہ ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اُسکے بیٹے کی سنیں اور اُس کے نمونے اور تعلیمات کے مطابق عمل کریں۔ (‏متی ۱۶:‏۲۴؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏)‏—‏۱۵/‏۹، صفحہ ۲۲۔‏

◻صرف کون امن کا تجربہ کر سکتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا ”‏اطمینان کا چشمہ“‏ ہے اسلئے امن صرف خدا سے محبت اور اُسکے راست اُصولوں کا گہرا احترام کرنے والے لوگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۳۳‏)‏—‏۱/‏۱۰، صفحہ ۱۱۔‏

◻یوسف نے فوطیفار کی بیوی کی ہر روز مزاحمت کرنے کیلئے اخلاقی قوت کیسے حاصل کی تھی؟‏

یوسف یہوواہ کیساتھ اپنے رشتے کو وقتی لذتوں سے زیادہ عزیز خیال کرتا تھا۔ علاوہ‌ازیں، اگرچہ وہ الہٰی قانونی ضابطے کے تحت نہیں تھا تو بھی یوسف اخلاقی اُصولوں سے بخوبی واقف تھا۔ (‏پیدایش ۳۹:‏۹‏)‏—‏۱/‏۱۰، صفحہ ۲۹۔‏

◻ہمارا اپنے بھائیوں کو معاف کرنے کیلئے تیار رہنا کتنا اہم ہے؟‏

ہمارے لئے خدا سے مسلسل معافی حاصل کرنے کے امکان کا انحصار بڑی حد تک اسی بات پر ہے کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ (‏متی ۶:‏۱۲،‏ ۱۴؛‏ لوقا ۱۱:‏۴‏)‏—‏۱۵/‏۱۰، صفحہ ۱۷۔‏

◻متی ۱۸:‏۱۵-‏۱۷ کس قسم کے گناہوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور کیا چیز اسکی نشاندہی کرتی ہے؟‏

یسوع جن گناہوں کا ذکر کر رہا تھا اُنکی سنگینی اس حد تک ہو سکتی تھی کہ اس کی وجہ سے خطاکار کو ”‏غیرقوم والے اور محصول لینے والے کے برابر“‏ خیال کِیا جا سکتا تھا۔ یہودی غیرقوم لوگوں سے میل‌جول نہیں رکھتے تھے نیز وہ محصول لینے والوں کے نزدیک بھی نہیں جاتے تھے۔ پس، متی ۱۸:‏۱۵-‏۱۷ میں ذاتی نوعیت کی معمولی خطاؤں یا کوتاہیوں کا نہیں جنہیں آپ معاف کر کے بھول سکتے ہیں بلکہ سنگین گناہوں کا ذکر کِیا گیا ہے۔ (‏متی ۱۸:‏۲۱، ۲۲‏)‏—‏۱۵/‏۱۰، صفحہ ۱۹۔‏

◻خدا کے کلام سے حقیقی محبت رکھنے میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

خدا کے کلام سے محبت ایک شخص کے اس کے تقاضوں کی مطابقت میں زندگی بسر کرنے کا باعث بنتی ہے۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۹۷،‏ ۱۰۱،‏ ۱۰۵‏)‏ یہ ایک شخص سے اپنی سوچ اور طرزِزندگی میں متواتر ردوبدل کرتے رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔—‏۱/‏۱۱، صفحہ ۱۴۔‏

◻یہوواہ کی طرف سے اتنا کچھ حاصل کرنے کے بعد، اس کے بدلے میں ہم عظیم بادشاہ اور مُعطی کو کیا دے سکتے ہیں؟‏

بائبل آشکارا کرتی ہے کہ ”‏حمد کی قربانی“‏ وہ بہترین ہدیہ ہے جو ہم یہوواہ کو پیش کر سکتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۵‏)‏ کیوں؟ اسلئے کہ اس قربانی کا براہِ‌راست تعلق زندگی بچانے سے ہے جوکہ ان آخری ایّام میں یہوواہ کی سب سے بڑی فکر ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۱۸:‏۲۳)‏—‏۱/‏۱۱، صفحہ ۲۱۔‏

◻جب سلیمان نے لکھا کہ ”‏دانشمند کی باتیں پینوں کی مانند ہیں”‏ تو اِس سے اُسکا کیا مطلب تھا؟ (‏واعظ ۱۲:‏۱۱‏)‏

خدائی حکمت رکھنے والوں کی باتیں قارئین یا سامعین کو پڑھی یا سنی ہوئی دانشمندانہ باتوں کے مطابق ترقی کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔—‏۱۵/‏۱۱، صفحہ ۲۱۔‏

◻خدائی فہم کیا ہے؟‏

یہ غلط اور درست میں امتیاز کرنے اور پھر درست روش کا انتخاب کرنے کی صلاحیت ہے۔ خدا کے کلام کا مطالعہ اور اطلاق فہم عطا کرتا ہے۔—‏۱۵/‏۱۱، صفحہ ۲۵۔‏

◻ذمہ‌داریاں قبول کرنے کیلئے آمادگی کو کس چیز سے متوازن کِیا جانا چاہئے؟ (‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏

اسے اچھی بصیرت کیساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی شخص کو اتنی زیادہ تفویضات قبول نہیں کرنی چاہئیں کہ وہ یہوواہ کی خدمت کرنے سے حاصل ہونے والی خوشی کو ہی گنوا بیٹھے۔ آمادگی کے جذبے کی قدر کی جاتی ہے تاہم، آمادگی سے انکساری اور ”‏پرہیزگاری“‏ بھی ظاہر ہونی چاہئے۔ (‏ططس ۲:‏۱۲؛‏ مکاشفہ ۳:‏۱۵، ۱۶‏)‏—‏۱/‏۱۲، صفحہ ۲۸۔‏

◻بچوں کی پرورش کرنے کے چیلنج کا مقابلہ کیسے کِیا جا سکتا ہے؟‏

خدا والدین کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ تقلیدی کردار، رفیق، رابطہ رکھنے والے اور اُستاد بنیں۔ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏—‏۱/‏۱۲، صفحہ ۳۲۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں