اُنہوں نے دلیری دکھائی
منادی کرنے کے لئے دلیری حاصل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ درحقیقت، پولس رسول نے کہا کہ ایک موقع پر اس نے ”بڑی جانفشانی سے“ ایسا کِیا۔ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۲) کیا منادی کرنے کیلئے ”جانفشانی“ بااجر ثابت ہوتی ہے؟ سنسنیخیز تجربات کی تو کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی لیکن خدا کے لوگ اکثروبیشتر دلیری حاصل کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ چند مثالوں پر غور کیجئے۔
تارا نامی ایک آٹھسالہ لڑکی کلاس میں اپنی ٹیچر کی اس بات کو بڑے دھیان سے سن رہی تھی کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران، یہودی مرکزِاسیران میں قیدیوں کو شناخت کیلئے اپنی وردیوں پر زرد رنگ کا داؤد کا ستارہ لگانا پڑتا تھا۔ تارا نے سوچا کہ آیا اسے بات کرنی چاہئے۔ ”مَیں نے کھلی آنکھوں سے دُعا کی،“ وہ یاد کرتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا ہاتھ کھڑا کِیا اور کہا کہ یہوواہ کے گواہ بھی ان کیمپوں میں موجود تھے اور انہیں اپنی وردیوں پر ارغوانی رنگ کی مثلث لگانی پڑتی تھی۔ ٹیچر نے دلچسپی دکھائی اور اسکا شکریہ ادا کِیا۔ تارا کی بات نے ٹیچر کیساتھ مزید گفتگو کی راہ ہموار کی جس نے بعدازاں پوری کلاس کو ایک ویڈیو جیہوواز وٹنسِز سٹینڈ فرم اگینسٹ نازی اسالٹ (یہوواہ کے گواہ نازی حملے کے خلاف ثابتقدم رہتے ہیں) بھی دکھائی۔
گنی، مغربی افریقہ میں، آئرین نامی ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر اپنی خدمتگزاری میں ترقی کرنا چاہتی تھی۔ اُس کیساتھ بائبل مطالعہ کرنے والی مشنری بہن نے اس کی حوصلہافزائی کی کہ سکول میں ساتھی طالبعلموں میں مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالے تقسیم کرے۔ آئرین ہچکچاتی تھی کیونکہ اس کے ہمجماعت کوئی جوابیعمل نہیں دکھاتے تھے۔ تاہم، اس مشنری بہن کی حوصلہافزائی سے تحریک پا کر آئرین نے سب سے پہلے اُس طالبہ کے پاس جانے کا فیصلہ کِیا جو بظاہر زیادہ مخالفت کرتی تھی۔ آئرین حیران رہ گئی کہ اُس لڑکی نے مثبت جوابیعمل دکھایا اور اشتیاق سے رسالے قبول کئے۔ دیگر طالبعلموں نے بھی رسالے لئے۔ آئرین نے اس مہینے اتنے زیادہ رسالے تقسیم کئے کہ اس نے پچھلے پانچ مہینوں میں بھی اتنے تقسیم نہیں کئے تھے۔
ٹرینڈاڈ میں ایک بزرگ کو ایک سکول کی پرنسپل کے پاس جاگو! رسالے کی تعلیمی افادیت ظاہر کرنے کیلئے جانے میں بڑی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی۔ تاہم، اس نے دلیری دکھائی۔ وہ بیان کرتا ہے: ”جب مَیں کمپاؤنڈ میں داخل ہؤا تو مَیں نے دُعا کی۔ مَیں پرنسپل کے غیرمعمولی خوشگوار رویے پر یقین نہ کر پایا۔“ اُس نے ”آجکل کے نوجوانوں کیلئے کیا اُمید ہے؟“ کے موضوع پر جاگو! رسالہ قبول کر لیا اور ٹیچنگ کلاس میں اسے استعمال کرنے پر بھی رضامند ہو گئی۔ تب سے وہ مختلف شماروں پر مشتمل ۴۰ رسالے قبول کر چکی ہے۔
ایک نوجوان وان کو منادی کرنا ہمیشہ مشکل لگتا تھا۔ ”مَیں گھبرا جاتا، میری ہتھیلیوں میں پسینہ آ جاتا اور مَیں تیز تیز بولتا—مَیں آہستہ بول نہیں سکتا تھا۔“ تاہم، وہ کُلوقتی خادم بن گیا۔ پھربھی، اُس کیلئے دوسروں سے گفتگو کرنا ہمیشہ آسان نہیں تھا۔ ایک مرتبہ، نوکری کی تلاش میں ایک بےحوصلہ کر دینے والے دن کے بعد، اس نے ریلگاڑی میں کسی کو گواہی دینا چاہی ”تاکہ کمازکم ایک بُرے دن پر کوئی تو اچھا کام ہو سکے۔“ لیکن اس نے زمیندوز ریلگاڑی میں موجود نامور کاروباری اشخاص کی وجہ سے خود کو خوفزدہ محسوس کِیا۔ آخرکار، اس نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے عمررسیدہ آدمی کیساتھ باتچیت کرنے کیلئے ہمت باندھی۔ ایک لمبی گفتگو ہوئی۔ اُس کاروباری شخص نے کہا، ”آپ ایک نوجوان ہیں مگر آپ نہایت اہم سوالات پر گفتگو کر رہے ہیں،“ پھر اُس نے پوچھا، ”کیا آپ مذہبی عالم ہیں؟“ وان نے جواب دیا، ”جینہیں، مَیں یہوواہ کا ایک گواہ ہوں۔“ ”اوہ،“ وہ آدمی مسکرایا۔ ”اب میری سمجھ میں آیا۔“
یہ تمام—اور دیگر بیشمار—گواہ خوش ہیں کہ انہوں نے منادی کرنے کیلئے دلیری حاصل کی۔ کیا آپ بھی ایسا ہی کریں گے؟
[صفحہ 25 پر تصویر]
تارا
[صفحہ 25 پر تصویر]
وان