مصیبتزدہ مُلک میں حقیقی امن پانا
”فرقہوارانہ تشدد کا دیو اپنے پنجرے سے پوری طرح باہر نکل آیا ہے،“ ۱۹۶۹ میں ایک رپورٹ نے یوں بیان کِیا۔ یہ وہ وقت تھا جب شمالی آئیرلینڈ میں تکالیف یعنی بدامنی کے حالیہ دَور میں اضافہ ہونا شروع ہؤا تھا۔
جب پروٹسٹنٹ اور کیتھولک قاتلوں—سیاسی اور مذہبی جھگڑوں کے باعث ”دونوں طرف کے وحشی آدمیوں“—نے آئیرلینڈ میں تسلط کی خاطر جدوجہد تیز کر دی تو فرقہوارانہ تشدد اور قتلوغارت روزمرّہ کا معمول بن گئے۔ دی آئرئش ٹائمز کے مطابق، اس وقت سے لیکر ”تشدد کے تقریباً ۳۰ سالوں میں ۳،۶۰۰ سے زائد لوگ مارے گئے اور ہزاروں معذور ہو گئے ہیں۔“
بِلاشُبہ، یہ کوئی نئی آویزش نہیں ہے۔ اس نے صدیوں سے آئیرلینڈ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ حالیہ برسوں میں اسکے مُضر اثرات شمالی آئیرلینڈ میں محسوس کئے گئے ہیں لیکن پورے آئیرلینڈ کے لوگوں کی زندگیاں اس سے پیدا ہونے والی تلخی اور نااتفاقی سے تباہحال ہیں۔
اس صورتحال میں، اِس وقت تقریباً ایک سو سال سے زیادہ عرصہ سے، یہوواہ کے گواہ ان مسائل کے حقیقی حل کی نشاندہی کر رہے ہیں جنہوں نے اس مصیبتزدہ مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وہ حل یسوع مسیح کے ہاتھ میں خدا کی بادشاہت ہے۔ (متی ۶:۹، ۱۰) جب ۱۹۶۹ میں مشکلات کا آغاز ہوا تو آئیرلینڈ میں صرف ۸۷۶ یہوواہ کے گواہ تھے۔ اب ۱۰۰ کلیسیاؤں سے زیادہ میں ۴،۵۰۰ سے زائد گواہ ہیں۔ ان اشخاص کے چند تجربات پیشِخدمت ہیں جنہوں نے سیاسی اور پیراملٹری [نیمفوجی] سرگرمیوں سے مُنہ موڑ لیا ہے۔
”جب مَیں بڑا ہونگا تو مَیں آئیآراے میں بھرتی ہونگا!“
مائیکلa نے ایک کیتھولک کے طور پر ریپبلک آف آئیرلینڈ میں پرورش پائی۔ سکول میں اسے آئیرلینڈ کی تاریخ اور برطانیہ کیساتھ اس کی صدیوں پُرانی دشمنی کی تعلیم دی گئی تھی۔ بچپن ہی سے اُسکے دل میں انگریزوں کے لئے نفرت پیدا ہو گئی اور وہ اُنہیں ”آئیرش لوگوں پر ظلم کرنے والے“ خیال کرنے لگا۔ جب وہ دس سال کا تھا تو اس نے اپنی نانی سے کہا کہ ”جب مَیں بڑا ہونگا تو مَیں آئیآراے (آئیرش ریپبلکن آرمی) میں بھرتی ہونگا!“ وہ بیان کرتا ہے کہ ”میرے مُنہ پر ایک تھپڑ لگا جو مجھے آج تک یاد ہے۔“ اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرا نانا پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی فوج میں تھا۔ اس کی نانی کو ایک مرتبہ اس کے نانا کو آئیآراے کے اراکین کی گولیوں سے بچانے کیلئے اس کے سامنے کھڑا ہونا پڑا تھا۔
پھربھی، جب مائیکل بڑا ہؤا تو وہ شمالی آئیرلینڈ میں ساتھی کیتھولکوں کی مدد کیلئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ ”بعضاوقات مجھے محسوس ہوتا تھا،“ وہ کہتا ہے ”کہ صرف آئیآراے کے لوگ ہی شمالی آئیرلینڈ کے کیتھولک لوگوں کی کچھ مدد کر رہے تھے۔“ اُس نے جوکچھ دیکھا اُسی کو درست مان کر وہ بڑے جوشوجذبے کیساتھ آئیآراے کا ممبر بن گیا اور اس نے ہتھیاروں کے استعمال میں تربیت حاصل کی۔ شمالی آئیرلینڈ میں اس کے تین دوستوں کو پروٹسٹنٹ کے پیراملٹری دستوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
پیراملٹری دستوں کی لڑائی کے سلسلے میں آخرکار مائیکل کی آنکھیں کُھل گئیں، مثلاً اسے مختلف پیراملٹری گروہوں کے درمیان ہونے والے سخت فساد سے کوفت ہونے لگی۔ آئیآراے کی سرگرمیوں کی مخالفت کے باعث قید ہونے کے دوران اس نے ابدی امن اور انصاف کی حقیقی راہ کی تلاش کرنے کے سلسلے میں مدد کیلئے خدا سے دُعا کی۔ کچھ عرصہ کے بعد یہوواہ کے گواہ اس کے گھر آئے۔ تاہم، پُرانے تعصّبات نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ وہ گواہ انگریز تھے۔ اس کی شدید نفرت نے اُس کیلئے اُنکی بات سننا مشکل بنا دیا۔ ”مَیں ہمیشہ یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ مجھے اُنہیں دیکھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی،“ وہ بیان کرتا ہے، ”لیکن وہ مستقلمزاجی سے آتے اور مجھ سے باتچیت کرتے رہے اور مَیں نے سیکھ لیا کہ خدا کی بادشاہت اُن تمام سیاسی اور معاشی ناانصافیوں کا قلعقمع کر دیگی جنہیں ختم کرنے کے لئے مَیں لڑ رہا ہوں۔“—زبور ۳۷:۱۰، ۱۱؛ ۷۲:۱۲-۱۴۔
ایک شام تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی جب مائیکل آئیآراے کے اپنے کمانڈننگ آفیسر سے ملا جس نے کہا، ”ہمارے پاس تمہارے لئے ایک کام ہے۔“ ”مَیں نے محسوس کِیا کہ مجھے عین اُسی لمحے فیصلہ کرنا ہوگا“ مائیکل بیان کرتا ہے، ”لہٰذا مَیں نے گہرا سانس لیا اور کہا، ’اب مَیں یہوواہ کا گواہ ہوں،‘ اگرچہ مَیں اس وقت بپتسمہیافتہ نہیں تھا۔ مَیں صرف اتنا جانتا تھا کہ مَیں یہوواہ کا خادم بننا چاہتا ہوں۔“ کمانڈننگ آفیسر کا جواب تھا، ”تمہیں تو دیوار کیساتھ کھڑا کر کے گولی مار دینی چاہئے۔“ خطرے کے باوجود، مائیکل نے آئیآراے کو چھوڑ دیا۔ یہوواہ کے کلام کو اپنے دلودماغ پر اثر کرنے کی اجازت دینے سے اس نے ایسا کرنے کی جرأت حاصل کی۔ ”کچھ دیر بعد، میری بیوی اور بچوں نے بھی یہوواہ کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کیں۔ اب ہمارے دلوں کو حقیقی سکون حاصل تھا۔ سچائی سیکھنے اور مصیبتزدہ مُلک میں پُرامن پیغام پھیلانے میں حصہ لینے کا موقع عطا کرنے کیلئے ہم ہمیشہ یہوواہ کے مشکور رہیں گے۔“—زبور ۳۴:۱۴؛ ۱۱۹:۱۶۵۔
غیرجانبدار رہنا حقیقی تحفظ ہے
”مَیں نے شمالی آئیرلینڈ میں کاؤنٹی ڈیری کے دیہی علاقے میں پرورش پائی،“ پیٹرک بیان کرتا ہے۔ ”ایک بچے کے طور پر مجھے مشکلات کے سوا کچھ علم نہیں تھا۔ اس ماحول نے یقیناً میرے نقطۂنظر اور سوچ پر اثر ڈالا۔“ پیٹرک نے کینہپرور قومپرستی اور برطانیہ کے خلاف شدید تعصّبات سے متاثر ہو کر انتہاپسندانہ نظریات پیدا کر لئے۔ اس نے سیاسی کشمکش میں دونوں طرف مذہبی لوگوں کو بنیادی مسیحی اصولوں اور بنیادی انسانی شائستگی کے اصولوں کی خلافورزی کرتے دیکھا۔ نتیجتاً، وہ مذہب سے منحرف ہو گیا اور انجامکار ایک دہریہ اور مارکسی نظریات کا حامی بن گیا۔—مقابلہ کریں متی ۱۵:۷-۹؛ ۲۳:۲۷، ۲۸۔
پیٹرک بیان کرتا ہے کہ ”شمال میں ریپبلکن قیدیوں کی بھوک ہڑتالوں کی ابتدائی یادیں اب تک میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ ان کا مجھ پر گہرا اثر ہؤا۔ مجھے ابھی تک آئیرش جھنڈے کو لہرانا اور ہر جگہ برطانیہ کے خلاف نعرے لکھنا یاد ہے۔ صرف ۱۵ سال کی عمر میں، بھوک ہڑتال کی وجہ سے قیدخانہ میں مرنے والے ایک شخص کے جنازے پر مَیں ایک محافظ تھا۔“ ہنگامے اور ہلچل میں پکڑے جانے والے بہت سے دیگر لوگوں کی طرح، پیٹرک نے سماجی انصاف اور مساوات کے حصول میں ہنگاموں اور احتجاجی جلوسوں میں حصہ لیا۔ اس نے کئی انتہائی قومپرستوں کیساتھ قریبی دوستی پیدا کر لی جن میں سے بہتیروں کو برطانوی حکام نے قید کِیا ہؤا تھا۔
”اس کے بعد،“ پیٹرک بیان کرتا ہے، ”معاشی وجوہات کی بنا پر مَیں کچھ وقت کیلئے انگلینڈ چلا گیا۔ جب مَیں وہاں تھا تو برطانوی پولیس نے میرے ایک دوست کو گرفتار کر لیا جو بم دھماکہ کرنے والا تھا۔“ اگرچہ پیٹرک ابھی تک قومپرستی کی تحریک کا بہت ہمدرد تھا توبھی اس کا رویہ بدلنا شروع ہو گیا۔ اس نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ انگریزوں کے خلاف اس کے تعصّبات دراصل بےبنیاد ہیں۔ ”مجھے یہ بھی احساس ہونا شروع ہو گیا“ وہ کہتا ہے، ”کہ پیراملٹری سرگرمیاں حقیقت میں نہ ہی مسائل کو کبھی حل کرینگی اور نہ ہی مجھے پریشان کرنے والی ناانصافیاں دُور کرینگی۔ پیراملٹری تنظیموں کو چلانے والوں میں ازحد بدعنوانی اور دوسری خامیاں پائی جاتی تھیں۔“—واعظ ۴:۱؛ یرمیاہ ۱۰:۲۳۔
بالآخر پیٹرک شمالی آئیرلینڈ واپس آ گیا۔ ”جب مَیں واپس آیا تو میرے ایک دوست نے مجھے یہوواہ کے گواہوں سے متعارف کرایا۔“ گواہوں کیساتھ اپنے بائبل مطالعے سے پیٹرک انسانی فسادات اور نااتفاقی کا حقیقی حل کو سمجھنے لگ گیا۔ جب بائبل کے اصولوں نے اس کے دلودماغ پر اثر کِیا تو اس نے تیزی سے روحانی ترقی کی۔ (افسیوں ۴:۲۰-۲۴) ”اس وقت،“ وہ بیان کرتا ہے، ”مَیں موجودہ معاشری اور سیاسی نظام کو اُلٹنے کی سازش کرنے کی بجائے بائبل سے امن کے پیغام کی منادی کرتا ہوں، حتیٰکہ ایسے علاقوں میں بھی جاتا ہوں جہاں برطانوی حکومت کے حامی لوگ رہتے ہیں اور جہاں مَیں نے اس سے پہلے کبھی جانے کا خطرہ مول نہ لیا ہوتا۔ درحقیقت، جب بلفاسٹ میں فرقہوارانہ قتلوغارت اپنے عروج پر تھا تو صرف یہوواہ کے گواہ ہی بکتربند گاڑیوں کے بغیر برطانوی حکومت کے حامی اور مخالف علاقوں میں آزادی کیساتھ آنے جانے کے قابل تھے۔“ اس وقت کے دوران شمالی آئیرلینڈ میں دیگر گواہوں کی مانند اس نے دیکھا کہ ابتدائی مسیحیوں کی طرح غیرجانبدار رہنا ایک حقیقی تحفظ ہے۔ (یوحنا ۱۷:۱۶؛ ۱۸:۳۶) وہ نتیجہ اخذ کرتا ہے: ”یہ دیکھنا کس قدر آزادی بخش احساس ہے کہ یسوع مسیح کے وسیلے سے یہوواہ تمام انسانیت کو ظلموستم سے حقیقی آزادی اور انصاف فراہم کریگا۔“—یسعیاہ ۳۲:۱، ۱۶-۱۸۔
”میری بندوقیں ہی میرا تحفظ تھیں“
”میری پرورش سیاسی اور مذہبی عداوت سے کچھ ہٹ کر ہوئی،“ ولیم بیان کرتا ہے۔ ”پروٹسٹنٹ تعصّبات میرے اندر اتنی سرایت کر چکے تھے اور مجھے ہر کیتھولک چیز سے نفرت تھی۔ مَیں تو اس دُکان میں بھی نہیں جاتا تھا جس کا مالک کیتھولک ہوتا اور مَیں صرف ایک مرتبہ ہی ریپبلک آف آئیرلینڈ گیا تھا۔ مَیں مختلف پروٹسٹنٹ گروپوں اور اورنج آرڈر—پروٹسٹنٹ مذہب اور طرزِزندگی کے تحفظ کے لئے مخصوص تنظیم—جیسے اداروں میں شامل ہو گیا۔“ جب وہ ۲۲ سال کا تھا تو ولیم مقامی باشندوں پر مشتمل برطانوی فوج کے ایک حصے، السٹر ڈیفنس رجمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ اس کے زیادہتر ممبر پروٹسٹنٹ تھے۔ وہ اپنے ورثے کا دفاع کرنے کی خاطر قتلوغارت کیلئے بالکل تیار تھا۔ ”میرے پاس کئی بندوقیں تھیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتا تھا۔ رات کے وقت تو مَیں ایک اپنے سرہانے کے نیچے رکھ کر سوتا تھا۔“
لیکن ایک نقطۂانقلاب آیا۔ ”جب مَیں نے ایک گھر کی مرمت کرتے ہوئے یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے ساتھ کام کِیا تو مجھے احساس ہؤا کہ ان میں کوئی خاص بات ہے۔ اس ساتھی کارندے کا مجھ پر گہرا اثر پڑا۔ جب ہم ملکر ایک گھر کی تعمیر کر رہے تھے تو مَیں نے اس سے بہت سے ایسے سوال پوچھے جنہوں نے مجھے مشکلات، مذہب اور خدا کی بابت پریشان کِیا ہؤا تھا۔ اس کے سادہ اور واضح جوابات نے یہوواہ کے گواہوں کی حقیقت سے واقف ہونے میں میری مدد کی—متحد، غیرمتشدّد اور سیاسی طور پر غیرجانبدار لوگوں کی جماعت جو خدا اور پڑوسی کے لئے محبت کی وجہ سے مشہور ہیں۔“—یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵۔
بائبل مطالعہ شروع ہونے کے چار ماہ کے اندر، ولیم نے ان تمام مذہبی اور سیاسی اداروں سے استعفیٰ دے دیا جن کیساتھ وہ وابستہ تھا۔ ”یہ میرے لئے بہت بڑا قدم تھا“ وہ یاد کرتا ہے، ”کیونکہ مجھے عرصۂدراز سے مقبول روایات چھوڑنا پڑ رہی تھیں۔“ تاہم، اس پر سب سے بڑا امتحان تو ابھی آنا تھا۔ ”شمالی آئیرلینڈ میں صورتحال کی وجہ سے، مَیں نے محسوس کِیا کہ میری بندوقیں ہی میرا تحفظ تھیں۔ آئیآراے کے پیراملٹری دستوں کی نظر میں مَیں اُنکا ’جائز نشانہ‘ تھا۔ لہٰذا، ان ہتھیاروں کو ترک کرنا بہت مشکل تھا۔“ تاہم، یسعیاہ ۲:۲-۴ میں پائی جانے والی بائبل کی مشورت نے رفتہرفتہ، اس کا نقطۂنظر تبدیل کر دیا۔ آخرکار، اس نے سمجھ لیا کہ پہلی صدی کے مسیحیوں کی طرح یہوواہ اس کا حقیقی تحفظ ہے۔ اس کے بعد ولیم نے اپنی بندوقیں ترک کر دیں۔
”ایک بات جس کی بابت مَیں واقعی خوش ہوں،“ ولیم بیان کرتا ہے، ”وہ یہ کہ اب میرا ان لوگوں کے ساتھ گہرا اور مضبوط رشتہ ہے جنہیں مَیں پہلے کبھی جانی دشمن سمجھتا تھا۔ نیز، بائبل اُمید کے پیغام کو ان علاقوں میں لیکر جانے کے قابل ہونا بھی خوشی کا ایک ذریعہ ہے جو میرے لئے پہلے ’ممنوع‘ تھے۔ اس بات پر غور کرنا کہ سچائی نے میرے اور میرے خاندان کیلئے کیا کچھ کِیا ہے مجھے ہمیشہ یہوواہ اور اسکی تنظیم کا احسانمند بناتا ہے۔“
”سب کچھ بےمعنی تھا“
رابرٹ اور ٹریسا کا پسمنظر تو بالکل مختلف ہے۔ ”میرا تعلق تو کٹر پروٹسٹنٹ گھرانے سے ہے،“ رابرٹ بیان کرتا ہے۔ ”میرے بعض رشتہدار پیراملٹری سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ مَیں خود بھی ۱۹ سال کی عمر میں برطانوی فوج کی السٹر ڈیفنس رجمنٹ میں بھرتی ہوا۔ اُس وقت بیشتر وقت ان علاقوں کا گشت کرنے میں صرف ہوتا تھا جہاں ٹریسا رہتی تھی۔ ایک رات مجھے باقاعدہ گشت کرنے سے دوسری ڈیوٹی پر مقرر کر دیا گیا۔ اس رات جس گاڑی میں ہم نے سفر کرنا تھا اسے دھماکے سے اُڑا دیا گیا۔ دو فوجی مارے گئے اور دوسرے دو زخمی ہو گئے۔“
رابرٹ زندگی کے مقصد کی بابت سوچنے لگا۔ ”خدا پر ہمیشہ میرا ایمان تھا، تاہم جب مَیں شمالی آئیرلینڈ پر نگاہ دوڑاتا تو میرے لئے سب کچھ بےمعنی تھا۔ درحقیقت مَیں نے خدا سے دُعا کرنا شروع کر دی تھی۔ مَیں نے خدا سے درخواست کی کہ اگر وہ واقعی وجود رکھتا ہے تو مجھے زندگی گزارنے کی صحیح راہ دکھائے۔ مجھے خدا سے یہ کہنا یاد ہے کہ کہیں نہ کہیں تو کوئی ایک سچا مذہب ہوگا!“ صرف چند دنوں بعد، یہوواہ کے ایک گواہ نے رابرٹ سے ملاقات کی اور کچھ لٹریچر اُس کے پاس چھوڑا۔ جب اس رات وہ گشت سے دیر سے واپس آیا تو رابرٹ نے اسے پڑھنا شروع کِیا اور صبح ۵ بجے ختم کِیا۔ ”مَیں نے فوراً ہی سچائی کو پہچان لیا،“ وہ بیان کرتا ہے، ”اور مَیں دیکھ سکتا تھا کہ ہر بات بائبل کے عین مطابق ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) اس نے بائبل مطالعہ شروع کر دیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں، اس نے اپنی زندگی خدا کے لئے مخصوص کر دی۔
”گواہوں نے ہمیشہ بائبل پر ہماری توجہ دلائی“
اس کے برعکس، ٹریسا کیتھولک پسمنظر سے تعلق رکھتی تھی اور برطانوی حکومت کے مخالفین کی حامی تھی۔ ”ایک نوجوان لڑکی کے طور پر مَیں شنفینb میں شامل ہو گئی۔“ ٹریسا تسلیم کرتی ہے: ”یہ پیراملٹری سرگرمیوں میں اُلجھنے کا سبب بنا۔ مَیں نے فوجی جدوجہد کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے میں مدد دی۔ مَیں آئیآراے کو اپنے علاقے کے حالات کی بابت باقاعدگی سے خبر پہنچاتی رہتی تھی۔ مَیں ہنگاموں میں اور پولیس اور گشت کرنے والی فوج پر پتھراؤ کرنے میں بھی ملوث رہی۔“
جب ٹریسا کے خاندان میں سے بعض نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل مطالعہ شروع کر دیا تو اس کے اندر بھی تجسّس پیدا ہوا۔ خدا کے کلام کی طاقت نے اُسے بڑا متاثر کِیا۔ ”سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے گواہوں نے ہمیشہ بائبل پر ہماری توجہ دلائی،“ وہ بیان کرتی ہے۔ ”دانیایل ۲:۴۴ کے وعدے نے واقعی ہماری آنکھیں کھول دیں۔ مَیں سمجھ گئی کہ مَیں جن ناانصافیوں کے خلاف لڑ رہی ہوں صرف خدا کی بادشاہت ہی انکو ختم کر سکتی ہے۔“ مجھے پیراملٹری دستوں کی سفاکیوں سے نفرت ہونے لگی۔ مثال کے طور پر، ٹریسا یہ نہیں سمجھ پاتی تھی کہ دردمندی اور شائستگی کا احساس رکھنے والا کوئی شخص دہشتگردی کی خبروں پر کیونکر خوش ہو سکتا ہے جس سے فوجی یا دیگر اشخاص مارے جاتے یا معذور ہو جاتے ہیں اور خاندان غم اور پریشانی سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ وہ بائبل میں پائی جانے والی سچائی سے بھی اثرپذیر ہوئی اور خدا کے اصولوں کو اپنی سوچ درست کرنے کا موقع دیا۔ اس نے خدا کے لئے اپنی زندگی مخصوص کر دی اور جلد ہی بپتسمہ لے لیا۔—امثال ۲:۱-۵، ۱۰-۱۴۔
ٹریسا کی ملاقات رابرٹ سے ہوئی جب دونوں شمالی آئیرلینڈ میں یہوواہ کے گواہوں کی ایک کلیسیا میں اجلاس پر حاضر ہوتے تھے۔ وہ بیان کرتی ہے: ”جب مَیں پہلی مرتبہ رابرٹ سے ملی تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مَیں ایک بہت ہی پُرسکون اور پُرامن طریقے سے ایک ایسے شخص سے بات کر رہی ہوں جسے مَیں نے، ابھی کچھ عرصہ پہلے تک، برطانوی فوج کا حصہ سمجھا ہوتا۔ خدا کے کلام نے شدید نفرت اور تعصّبات کو ختم کرنے میں یقیناً میری مدد کی تھی۔“ اس نے اور رابرٹ نے دیکھا کہ مختلف روایات اور ثقافتوں سے اُبھرنے والی نفرتوں اور تعصّبات کے باعث منقسم ہونے کی بجائے، اب ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ ان میں سب سے طاقتور یہوواہ خدا کی محبت تھی۔ انہوں نے شادی کر لی۔ اب وہ اس مصیبتزدہ مُلک میں ہر قسم کے پسمنظر اور اعتقادات رکھنے والے لوگوں کو حقیقی امن کا خدائی پیغام دینے میں ملکر کام کرتے ہیں۔
آئیرلینڈ میں دیگر اشخاص کے پاس بھی ایسے ہی تجربات ہیں۔ خدا کے الہامی کلام کی تعلیمات کو سننے اور قبول کرنے سے، وہ آدمیوں کی ’فیلسوفیوں اور کھوکھلے فریبوں‘ سے بچ گئے ہیں۔ (کلسیوں ۲:۸) اب وہ بائبل میں قلمبند خدا کے وعدوں پر پورا اعتماد رکھتے ہیں۔ وہ سننے پر آمادہ کسی بھی شخص کو اپنی پُرامن مستقبل کی اُمید میں شریک کرکے خوش ہونگے—ایسا مستقبل جو فرقہوارانہ اور دیگر اقسام کے تشدد سے بالکل پاک ہوگا۔—یسعیاہ ۱۱:۶-۹۔
[فٹنوٹ]
a نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔
b عارضی آئیآراے سے وابستہ ایک سیاسی پارٹی۔
[صفحہ 10 پر تصویریں]
پورے شمالی آئیرلینڈ میں دیواروں پر پیراملٹری جدوجہد کی بڑائی کرنے والے نعرے لکھے گئے ہیں