یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏12 ص.‏ 4-‏8
  • کرسمس مشرق میں بھی کیوں منایا جاتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کرسمس مشرق میں بھی کیوں منایا جاتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تحائف کا کردار
  • کرسمس کی ابتدا
  • کرسمس کی بابت صحیفائی سمجھ
  • جدید کرسمس کی جڑیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • مشرق میں کرسمس
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏12 ص.‏ 4-‏8

کرسمس مشرق میں بھی کیوں منایا جاتا ہے؟‏

مشرق کا ایک پُرانا عقیدہ کرسمس کے سنٹاکلاز کی روایت کے مماثل ہے۔ یہ چاؤوانگ‌شن نامی شخص کی بابت کوریا کے لوگوں کا عقیدہ ہے اور اسی طرح کی مماثلت چینیوں اور جاپانیوں میں بھی مل سکتی ہے۔‏

چاؤوانگ‌شن کو باورچی‌خانے کا نگران دیوتا اور قدیم کوریا میں آگ کی پرستش کے سلسلے میں آگ کا دیوتا بھی خیال کِیا جاتا تھا۔ (‏پُرانے زمانے میں، کوریا کے لوگ دھکتے کوئلوں کو بڑی احتیاط کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ لیکر جاتے تھے تاکہ یہ کہیں بجھ نہ جائیں۔)‏ عام اعتقاد یہ تھا کہ یہ دیوتا ایک سال تک خاندان کے ارکان کے چال‌چلن پر نظر رکھتا ہے اور پھر باورچی خانے کے چولہے اور چمنی کے راستے آسمان پر چلا جاتا ہے۔‏

مبیّنہ طور پر، چاؤوانگ‌شن دسمبر کے قمری مہینے کی ۲۳ویں تاریخ کو آسمان کے بادشاہ کے حضور حاضر ہوتا تھا۔ سال کے آخر تک چمنی اور چولہے کے راستے اُس کے واپس آنے اور ہر ایک کے چال‌چلن کے مطابق اُس کے لئے تحائف یا سزائیں لانے کی توقع کی جاتی تھی۔ اُسکی واپسی کے دن خاندان کے ارکان باورچی‌خانے اور گھر کے اندر دیگر مقامات پر موم‌بتیاں روشن کرتے تھے۔ باورچی‌خانے کے اس دیوتا کی تصاویر سنٹاکلاز کے ساتھ ایک اَور مماثلت بھی رکھتی ہیں—‏اُس کی سُرخ رنگ میں تصویرکشی کی جاتی تھی!‏ ایک رسم یہ بھی ہوا کرتی تھی کہ گھر کی بہو کوریا کی روایتی جُرابوں کی ایک جوڑی بنا کر سرمائی انقلابِ‌شمسی پر اپنی ساس کو دیا کرتی تھی۔ اس تاریخ کے بعد سے دن لمبے ہو جاتے ہیں اس لئے یہ رسم اُسکی اِس خواہش کی علامت ہوتی تھی کہ ساس لمبی عمر پائے۔‏

کیا آپ کو مذکورہ‌بالا باتوں اور کرسمس کے مابین چند ایک مماثلتیں نظر نہیں آتیں؟ اِن دونوں کی کہانیاں اور روایات ایک ہی جیسی ہیں:‏ چمنی، موم‌بتیاں، تحائف دینا، جُرابیں، سُرخ کپڑوں میں مُلبّس ایک سِن‌رسیدہ شخص اور تاریخ۔ تاہم، صرف ایسی مماثلتیں ہی کوریا میں کرسمس کی مقبولیت کی ضامن نہیں ہیں۔ کوریا میں پہلی مرتبہ کرسمس کے متعارف کروائے جانے تک چاؤوانگ‌شن کا عقیدہ تقریباً معدوم ہو چکا تھا۔ درحقیقت، آجکل کوریا کے بیشتر باشندے تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کبھی کوئی ایسا عقیدہ موجود بھی تھا۔‏

تاہم، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمائی انقلابِ‌شمسی اور سال کے آخر سے وابستہ رسم‌ورواج کیسے مختلف طریقوں سے پوری دُنیا میں پھیل گئے ہیں۔ چوتھی صدی س.‏ع.‏ میں، رومی سلطنت پر اثرورسوخ رکھنے والے چرچ نے جشنِ‌زحل، سورج دیوتا کی پیدائش کے بُت‌پرستانہ رومی تہوار کے نام کو بدل کر کرسمس کا حصہ بنا دیا تھا۔ کرسمس کی تقریبات ایک مختلف نام کیساتھ مقامی رسم‌ورواج کی تجدید پر منتج ہوئیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟‏

تحائف کا کردار

تحائف دینا ایک ایسا رواج ہے جو کبھی ختم نہیں ہوا۔ عرصۂ‌دراز سے کوریا کے لوگ تحائف لینے اور دینے سے بہت زیادہ لطف اُٹھاتے ہیں۔ کوریا میں کرسمس تقریبات کو مقبولیت حاصل ہونے کی ایک وجہ یہی تھی۔‏

دوسری عالمی جنگ کے بعد، کوریا میں تعینات امریکی فوجی سپاہیوں کیلئے گرجہ‌گھر جمع ہونے اور تحائف اور امدادی رسد تقسیم کرنے کے مقامات تھے، اس طریقے سے وہ لوگوں کیساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ کرسمس کے دن پر خصوصاً ایسا ہوتا تھا۔ کئی بچے تجسّس کی وجہ سے گرجہ‌گھر آیا کرتے تھے اور یہیں پر اُنہیں پہلی مرتبہ چاکلیٹ کے تحائف ملتے تھے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے بعد اُن میں سے بیشتر اگلے کرسمس کے منتظر رہتے تھے۔‏

ایسے بچوں کی نظر میں، سنٹاکلاز ایک امریکی سپاہی تھا جس نے سُرخ رنگ کی پھندنے والی مخروطی ٹوپی پہنی ہوتی تھی۔ امثال ۱۹:‏۶ بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہر ایک آدمی انعام دینے والے کا دوست ہے۔“‏ جی‌ہاں، تحائف دینا نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ لیکن جیسا کہ آپ اس آیت سے سمجھ سکتے ہیں، ایسے تحائف دائمی دوستی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ کوریا میں بھی ایسے بہت سے اشخاص ہیں جنکی چرچ کے ساتھ وابستگی، بچپن میں چاکلیٹ سے لطف‌اندوز ہونے کے علاوہ کسی خاطرخواہ نتیجے پر نہیں پہنچی۔ تاہم، کوریا میں کرسمس کو فراموش نہیں کِیا گیا تھا۔ کوریا کی تیز معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ، تجارتی ذہنیت میں بھی اضافہ ہوا اور کرسمس پر تحائف دینا، خریدار کو زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے پر آمادہ کرنے کا ایک آسان طریقہ ثابت ہوا۔ پس کاروباری دُنیا نے منافعوں میں اضافہ کرنے کے لئے کرسمس سے ناجائز فائدہ اُٹھایا۔‏

اس سے آپکو یہ سمجھنے میں مدد ملیگی کہ آجکل مشرق میں کرسمس اتنا مقبول کیوں ہے۔ کرسمس کی خریداری کو مزید دلچسپ بنانے کی غرض سے، نئی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ اشتہارات کیلئے منصوبہ‌سازی موسمِ‌گرما کے وسط میں ہی شروع ہو جاتی ہے۔ کرسمس کے تحائف، کارڈز اور میوزیکل ریکارڈنگز کی تمام‌تر خریداری کی بدولت سال کے آخر پر فروخت کی جانے والی اشیاء کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ جی‌ہاں، اگر متوسط طبقے کا کوئی نوجوان کرسمس کی شام گھر پر ہی رہتا ہے اور اُسے کوئی تحفہ بھی نہیں ملتا تو ایسی اشتہاربازی اُسے بہت زیادہ مایوس کر دیگی!‏

جیسے جیسے کرسمس کا دن قریب آتا ہے، سیول میں سٹورز اور شاپنگ مالز تحائف خریدنے والے لوگوں کی بڑی تعداد سے بھر جاتے ہیں اور دیگر مشرقی ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ٹریفک رُک جاتی ہے۔ ہوٹلوں، کاروباری علاقوں، ریستورانوں اور نائٹ‌کلبوں میں گاہکوں کا ہجوم لگ جاتا ہے۔ ہر طرف جشنِ‌مسرت کی آوازیں اور پُرشور گانے سنائی دیتے ہیں۔ کرسمس کی شام کو نشے میں چُور آدمی اور عورتیں کوڑےکرکٹ سے بھری اِن گلیوں میں گھومتے‌پھرتے نظر آتے ہیں۔‏

تو یہ ہے کرسمس کی اصل حقیقت۔ مشرق میں اب کرسمس ایسا تہوار نہیں ہے جسے صرف اقبالی مسیحی ہی مناتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ دوسری جگہوں کی طرح کوریا میں بھی تجارت دُنیائے‌مسیحیت کے اس تہوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے میں پیش پیش ہے۔ تاہم، کیا محض تجارت ہی اس بات کی قصوروار ہے کہ کرسمس مسیح کے معیاروں سے ذرا بھی میل نہیں کھاتا؟ سچے مسیحیوں کو درپردہ سنگین مسئلے کی بابت گہری چھان‌بین کرنے کی ضرورت ہے۔‏

کرسمس کی ابتدا

ایک جنگلی جانور چڑیاگھر کے پنجرے میں منتقل کر دیئے جانے کے باوجود بھی پھاڑ کھانے والا درندہ ہی رہتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی کہ کچھ عرصہ تک پنجرے میں رہنے اور بظاہر اپنے بچوں کیساتھ کھیلنے سے اب وہ پالتو بن گیا ہے۔ شاید آپ نے چڑیاگھر میں کام کرنے والوں پر جانوروں کے حملہ‌آور ہونے کی رپورٹیں سنی ہوں۔‏

کسی حد تک ہم کرسمس کی تقریبات کی بابت بھی یہی کہہ سکتے ہیں۔ شروع میں یہ مسیحیت سے باہر رہنے والا ایک ”‏درندہ“‏ تھا۔ ذیلی‌عنوان ”‏رومی جشنِ‌زحل کیساتھ تعلق“‏ کے تحت، دی کرسچن انسائیکلوپیڈیا (‏کورین زبان میں)‏a کرسمس کی بابت بیان کرتا ہے:‏

‏”‏بُت‌پرستانہ جشنِ‌زحل اور برومیلیا عام‌پسند رسوم میں اس حد تک سرایت کر چکے تھے کہ اُنہیں مسیحی اثرورسوخ کی مدد سے الگ کرنا بہت مشکل تھا۔ جب شہنشاہ قسطنطین نے اتوار کو (‏فیبس اور متھراس کے دن کے علاوہ خداوند کے دن)‏ کے طور پر منظور کر لیا تو یہ چوتھی صدی کے مسیحیوں کیلئے خدا کے بیٹے کے جنم دن کو طبیعی سورج کے دن کیساتھ جوڑنے کو موزوں خیال کرنے کا باعث بنا۔ یہ بُت‌پرستانہ تہوار اپنی رنگ‌رلیوں اور خوشیوں کی وجہ سے اسقدر مقبول تھا کہ مسیحی ذہنیت یا طریقۂ‌کار میں خفیف سی تبدیلی کیساتھ اسے منانے کا کوئی بھی بہانہ ڈھونڈھنے میں خوش تھے۔“‏

آپ کے خیال میں کیا ایسی تبدیلی بغیر کسی مخالفت کے واقع ہو سکتی تھی؟ وہی انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏جس بے‌حیائی کیساتھ مسیح کا جنم دن منایا جا رہا تھا، مغرب اور مشرقِ‌قریب کے مسیحی مبلغوں نے اُسکے خلاف احتجاج کِیا جبکہ مسوپتامیہ کے مسیحیوں نے اپنی مغربی برادری پر اس بُت‌پرستانہ تہوار کو مسیحیت کا رنگ دیکر قبول کر لینے کی وجہ سے بُت‌پرستی اور سورج کی پرستش کرنے کا الزام لگایا۔“‏ واقعی، شروع ہی سے اس میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور تھی۔ انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏اس کے باوجود اس تہوار نے بڑی تیزی کیساتھ مقبولیت حاصل کی اور انجام‌کار اتنی مضبوطی سے جڑ پکڑ گیا کہ سولہویں صدی کا پروٹسٹنٹ انقلاب بھی اسے کالعدم قرار دینے کے قابل نہیں تھا۔“‏

جی‌ہاں، سورج دیوتا کا تہوار جوکہ سچی مسیحیت کا حصہ نہیں تھا اُسے مُروّجہ چرچ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اسے مختلف نام دے دیا گیا—‏تاہم اسکی بُت‌پرستانہ خصوصیات میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ لہٰذا یہ بُت‌پرستی کو برائے‌نام مسیحی کلیسیاؤں میں شامل کرنے اور انفرادی روحانیت کو خراب کرنے میں معاون ثابت ہوا۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جیسے جیسے مسیحیت نے ترقی کی پُرتشدد لڑائیوں اور اخلاقی تنزلی نے ”‏اپنے دُشمن سے محبت رکھ“‏ کے ابتدائی نقطۂ‌نظر کی جگہ لے لی۔‏

وقت آنے پر یہ واضح ہو گیا کہ اپنے بناوٹی نام کرسمس کے باوجود، اس نے رنگ‌رلیوں، بہت زیادہ شراب‌نوشی، عیش‌ونشاط، ناچ‌رنگ، تحائف دینے اور سدا بہار درختوں کیساتھ گھروں کو سجانے سے اپنی بُت‌پرستانہ اصل کو منعکس کِیا۔ تجارت کے حتمی مقصد یعنی زیادہ سے زیادہ اشیاء فروخت کرنے کے پیشِ‌نظر کرسمس سے ہر ممکن طریقے سے ناجائز فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔ ذرائع‌ابلا‌غ اس کی تعریف کرتے ہیں؛ عوام اس سے دل بہلاتے ہیں۔ سیول کے خریدوفروخت کے مرکز میں، ایک سٹور نے جو خاص طور پر انڈروئیرز کیلئے مشہور ہے اپنی ایک کھڑکی میں کرسمس ٹری کو صرف انڈروئیرز کیساتھ سجا کر ٹیلی‌ویژن پر خبروں میں اسکی نمائش کی۔ کرسمس کا نشان تو صاف نظر آ رہا تھا مگر ”‏مسیح کو دوبارہ خوش‌آمدید کہنے“‏ کے کوئی آثار نہیں تھے۔‏

کرسمس کی بابت صحیفائی سمجھ

ایسے تاریخی پس‌منظر اور تبدیلیوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ اگر ایک قمیض یا بلا‌ؤز کے بٹن شروع ہی سے غلط بند کئے جاتے ہیں تو اُنہیں صحیح کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ انہیں دوبارہ کھول کر بند کِیا جائے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ اس حقیقت سے قطع‌نظر، بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سورج کی پرستش سے وابستہ اس کی بُت‌پرستانہ اصل کے باوجود، دُنیائے‌مسیحیت نے کرسمس کو قبول کر لیا ہے۔ لہٰذا وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسیح کے جنم‌دن کے طور پر اس تہوار کی تقدیس ہو گئی ہے اور اسے ایک نئے مفہوم کیساتھ رائج کِیا گیا ہے۔‏

قدیم یہوداہ میں وقوع‌پذیر ہونے والے ایک تاریخی واقعہ سے ہم قابلِ‌قدر سبق سیکھ سکتے ہیں۔ یہودیہ کے لوگوں نے ۶۱۲ ق.‏س.‏ع.‏ میں، یروشلیم کی ہیکل میں سورج دیوتا کی جھوٹی پرستش کو متعارف کروایا۔ یہوواہ خدا کی پاک پرستش کی جگہ پر عمل میں لائے جانے کی وجہ سے کیا یہ جھوٹی پرستش مُقدس ہو گئی تھی؟ بائبل نویس حزقی‌ایل نے یروشلیم کی ہیکل میں سورج کی پرستش کی بابت لکھا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی ہیکل کے دروازہ پر آستانہ اور مذبح کے درمیان قریباً پچّیس شخص ہیں .‏ .‏ .‏ [‏جنکے]‏ مُنہ مشرق کی طرف ہیں اور مشرق کا رُخ کر کے آفتاب کو سجدہ کر رہے ہیں۔ تب اُس نے مجھے فرمایا اَے آدمزاد کیا تُو نے یہ دیکھا ہے؟ کیا بنی‌یہوداہ کے نزدیک یہ چھوٹی سی بات ہے کہ وہ یہ مکروہ کام کریں جو یہاں کرتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے تو ملک کو ظلم سے بھر دیا اور پھر مجھے غضبناک کِیا اور دیکھ وہ [‏میری]‏ ناک سے ڈالی لگاتے ہیں۔“‏—‏حزقی‌ایل ۸:‏۱۶، ۱۷۔‏

جی‌ہاں، مُقدس کئے جانے کی بجائے، اُس جھوٹی پرستش نے ساری ہیکل کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ایسے کام یہوداہ میں سرایت کر گئے اور ملک میں تشدد اور اخلاقی تنزلی کے پھیل جانے کا باعث بنے۔ دُنیائے‌مسیحیت میں بھی ایسا ہی ہے، جہاں جشنِ‌زحل کی صورت میں سورج کی پرستش کیساتھ شروع ہونے والے کام اب کرسمس کے موقع پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حزقی‌ایل کے یہ رویا حاصل کرنے کے چند سال بعد، یروشلیم کو خدا کی طرف سے سزا کا تجربہ ہوا—‏اُسے بابلیوں کے ہاتھوں تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔—‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۱۵-‏۲۰‏۔‏

پچھلے مضمون میں کوریا کے ایک عالم نے ننھے یسوع کی جس طرح تصویرکشی کی آپ اُس سے واقعی حیران ہوئے ہونگے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اُسکا ردِعمل بالکل درست تھا کیونکہ وہ مسیح کی بابت درست علم نہیں رکھتا تھا۔ یہ بات کرسمس منانے والے لوگوں کو سنجیدگی کیساتھ غوروفکر کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ کرسمس مسیح کی درست نمائندگی کرنے سے قاصر ہے۔ دراصل، یہ اس وقت اُسکے حقیقی مرتبے کو مبہم بنا دیتا ہے۔ یسوع اب چرنی میں پڑا ہوا چھوٹا بچہ نہیں ہے۔‏

بائبل نے بار بار یہ واضح کِیا ہے کہ یسوع اس وقت مسیحا، خدا کی آسمانی بادشاہت کا بااختیار بادشاہ ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏)‏ وہ غربت اور سخت تکلیف کا خاتمہ کرنے والا ہے جسکی بابت بعض لوگ کرسمس کے موسم کے دوران سخاوت کرتے وقت بہت کم سوچتے ہیں۔‏

سچ تو یہ ہے کہ کرسمس نے دُنیائے‌مسیحیت کے ملکوں اور مشرقی ملکوں سمیت دیگر ممالک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔ اِس کے برعکس، اس نے خدا کی بادشاہت اور موجودہ شریر دستوراُلعمل کے خاتمے کی بابت حقیقی مسیحی پیغام سے توجہ کو ہٹا دیا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ ہم آپکو دعوت دیتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں سے معلوم کریں کہ یہ خاتمہ کیسے آئیگا۔ اِس کے علاوہ آپ اُن سے دائمی برکات کی بابت بھی سیکھ سکتے ہیں جو اس کے بعد خدا کی بادشاہت اور حکمران بادشاہ یسوع مسیح کے زیرِہدایت زمین پر نازل ہونگی۔—‏مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دی نیو شیف‌ہرٹسوک انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجیئس نالج پر مبنی۔‏

‏[‏صفحہ 6 پر عبارت]‏

کرسمس بُت‌پرستی کو نام‌نہاد مسیحی کلیسیاؤں میں شامل کرنے کا سبب بنا

‏[‏صفحہ 5 پر تصویر]‏

کئی ایک بچے تجسّس کی وجہ سے گرجہ‌گھروں میں جاتے اور چاکلیٹ کی صورت میں تحائف حاصل کرتے تھے۔ اِسکے بعد وہ اگلے کرسمس کے منتظر رہتے تھے

‏[‏صفحہ 7 پر تصویر]‏

سیول کوریا کے بازار میں کرسمس کی ایک شام

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

مسیح اب کوئی چھوٹا بچہ نہیں بلکہ خد کی بادشاہت کا بااختیار بادشاہ ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں