کبھی پیچھے نہ ہٹیں کہ ہلاک ہو جائیں!
”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں۔“—عبرانیوں ۱۰:۳۹۔
۱. کونسے حالات پطرس رسول کیلئے خوفزدہ ہو جانے کا سبب بنے تھے؟
رسول یقیناً اپنے عزیز مالک یسوع کی اِس بات پر چونک گئے ہونگے کہ وہ سب پراگندہ ہو جائیں گے اور اسے چھوڑ دیں گے۔ ایسے نہایت اہم وقت میں ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟ پطرس نے زور دیکر کہا: ”گو سب ٹھوکر کھائیں لیکن مَیں نہ کھاؤنگا۔“ درحقیقت، پطرس ایک دلیر اور نڈر آدمی تھا۔ لیکن جب یسوع کو دھوکے سے گرفتار کر لیا گیا تو پطرس سمیت تمام رسول بھاگ گئے۔ بعدازاں، جب سردار کاہن کائفا کے گھر میں یسوع سے پوچھگچھ ہو رہی تھی تو پطرس فکرمندی سے صحن میں ٹھہرا رہا۔ سرد رات کے ختم ہونے تک، پطرس کو اس بات کا خدشہ ہوا کہ یسوع اور اُسکے کسی بھی ساتھی کو ہلاک کِیا جا سکتا ہے۔ جب پاس کھڑے ہوئے لوگوں میں سے بعض نے پطرس کو یسوع کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک کے طور پر پہچان لیا تو اس پر خوف چھا گیا۔ تین مرتبہ اس نے یسوع کیساتھ اپنے تعلق کی تردید کی۔ پطرس نے تو اُسے جاننے سے بھی انکار کر دیا!—مرقس ۱۴:۲۷-۳۱، ۶۶-۷۲۔
۲. (ا) یسوع کی گرفتاری کی رات پطرس نے خوفزدہ ہوکر جوکچھ کِیا وہ اُسے کیوں ’پیچھے ہٹنے والا‘ نہیں بناتا؟ (ب) ہمارا عزمِمُصمم کیا ہونا چاہئے؟
۲ پطرس کی زندگی میں یہ سب سے بُرا وقت تھا جسکی بابت وہ تاحیات پچھتاتا رہا ہوگا۔ لیکن کیا اس رات پطرس کے اِس فعل نے اسے بزدل بنا دیا تھا؟ کیا اِس سے اُس کا شمار ایسے اشخاص میں ہوا جن کی بابت پولس رسول نے بعدازاں یہ بیان کرتے ہوئے لکھا: ”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں“؟ (عبرانیوں ۱۰:۳۹) ہم میں سے بیشتر اتفاق کریں گے کہ پولس کے الفاظ کا پطرس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ پطرس کا خوف عارضی تھا، غیرمعمولی ایمان اور جرأت سے معمور زندگی میں ایک چھوٹی سی لغزش۔ اسی طرح، ہم میں سے بیشتر ماضی کے ایسے لمحات یاد کرکے کسی حد تک پشیمان ہوتے ہوں گے جب اچانک ہم پر خوف طاری ہو گیا اور ہم سچائی کے لئے حسبِمنشا دلیرانہ مؤقف اختیار نہ کر پائے۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۷:۲۱-۲۳۔) ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ ایسی عارضی لغزش ہمیں ہٹنے والا نہیں بناتی کہ ہم ہلاک ہی ہو جائیں۔ پھربھی، ہمارا عزمِمُصمم ہونا چاہئے کہ ہم کبھی بھی ایسا نہ بنیں۔کیوں؟ نیز ہم کیسے اس قسم کا شخص بننے سے بچ سکتے ہیں؟
پیچھے ہٹنے سے ہلاک ہونے کا کیا مطلب ہے
۳. ایلیاہ اور یوناہ نبی کس طرح خوف کا شکار ہو گئے تھے؟
۳ جب پولس نے ”ہٹنے“ والوں کے متعلق لکھا تو اس کا اشارہ اُن لوگوں کی طرف نہیں تھا جو عارضی طور پر بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ پولس یقیناً پطرس کے تجربے اور دیگر ایسے معاملات سے واقف تھا۔ ایک دلیر اور بےباک نبی، ایلیاہ ایک مرتبہ خوف سے مغلوب ہو گیا اور شریر ملکہ ایزبل کی طرف سے موت کے خطرے کی وجہ سے اپنی زندگی بچانے کیلئے بھاگ گیا۔ (۱-سلاطین ۱۹:۱-۴) یوناہ نبی بھی خوف کے سنگین حملے کا شکار ہو گیا تھا۔ یہوواہ نے اسے نینوہ کے بدنامِزمانہ پُرتشدد اور بدکار شہر جانے کا حکم دیا۔ یوناہ فوراً مخالف سمت میں ۳،۵۰۰ کلومیٹر دُور ترسیس جانے والی ایک کشتی میں سوار ہو گیا۔ (یوناہ ۱:۱-۳) تاہم، اِن وفادار نبیوں اور پطرس رسول کو بجا طور پر پیچھے ہٹنے والا نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں نہیں؟
۴، ۵. (ا) عبرانیوں ۱۰:۳۹ میں ”ہلاک“ ہونے سے پولس کا جو مطلب تھا سیاقوسباق اس کا تعیّن کرنے میں کس طرح ہماری مدد کرتا ہے؟ (ب) پولس کا اس بیان سے کیا مطلب تھا جب اس نے کہا: ”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں“؟
۴ پولس کے اِس مکمل جملے پر غور کریں: ”لیکن ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں۔“ ”ہلاک“ ہونے سے کیا مُراد ہے؟ اُس نے جو یونانی لفظ استعمال کِیا وہ بعضاوقات ابدی ہلاکت کا حوالہ دیتا ہے۔ یہ تعریف سیاقوسباق کے مطابق ہے۔ پولس تھوڑی دیر پہلے خبردار کر چکا تھا: ”کیونکہ حق کی پہچان حاصل کرنے کے بعد اگر ہم جانبوجھ کر گناہ کریں تو گناہوں کی کوئی اَور قربانی باقی نہیں رہی۔ ہاں عدالت کا ایک ہولناک انتظار اور غضبناک آتش باقی ہے جو مخالفوں کو کھا لیگی۔“—عبرانیوں ۱۰:۲۶، ۲۷۔
۵ پس جب پولس نے اپنے ساتھی ایمانداروں کو کہا کہ ”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں“ تو اس کا مطلب تھا کہ وہ اور اس کے وفادار مسیحی قارئین پُرعزم ہیں کہ وہ یہوواہ سے کبھی بھی مُنہ نہیں پھیرینگے اور اُسکی خدمت ترک نہیں کرینگے۔ ایسا کرنا صرف ابدی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔ یہوداہ اسکریوتی ایسی ہلاکت کیلئے پیچھے ہٹنے والوں میں سے تھا نیز، دانستہ طور پر یہوواہ کی پاک روح کے خلاف کام کرنے والے سچائی کے دیگر دشمنوں نے بھی ایسا ہی کِیا۔ (یوحنا ۱۷:۱۲؛ ۲-تھسلنیکیوں ۲:۳) ایسے افراد ان ”بزدلوں“ میں شمار ہوتے ہیں جو آگ کی علامتی جھیل میں ابدی ہلاکت میں ڈالے جاتے ہیں۔ (مکاشفہ ۲۱:۸) ہم کبھی بھی اس طرح کے نہیں بننا چاہتے!
۶. شیطان ابلیس ہمیں کس روش پر چلانا چاہتا ہے؟
۶ شیطان ابلیس چاہتا ہے کہ ہم ہلاک ہونے کیلئے پیچھے ہٹ جائیں۔ مکارانہ ”منصوبوں“ کا ماہر ہونے کی وجہ سے وہ جانتا ہے کہ ایسی تباہکُن روش کا آغاز اکثراوقات معمولی باتوں سے ہوتا ہے۔ (افسیوں ۶:۱۱) اگر براہِراست اذیت اس کے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ پوشیدہ طریقوں سے سچے مسیحیوں کے ایمان کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ یہوواہ کے دلیر، سرگرم گواہوں کو خاموش دیکھنا چاہتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اُس نے عبرانی مسیحیوں کے خلاف کونسے ہتھکنڈے استعمال کئے جن کے نام پولس نے خط تحریر کِیا۔
مسیحیوں پر پیچھے ہٹنے کیلئے کس طرح دباؤ ڈالا گیا
۷. (ا) یروشلیم میں کلیسیا کی تاریخ کیا تھی؟ (ب) پولس کے قارئین میں سے بعض کو کیسے روحانی حالات کا سامنا تھا؟
۷ شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پولس نے عبرانیوں کے نام خط تقریباً ۶۱ س.ع. میں تحریر کِیا۔ یروشلیم کی کلیسیا کی تاریخ بڑی پُرآشوب تھی۔ یسوع کی موت کے بعد، کینہپرور اذیت کی لہر دوڑ گئی جس سے شہر کے بیشتر مسیحیوں کو مجبوراً پراگندہ ہونا پڑا۔ تاہم، اس کے بعد امن کا دَور آیا جس کے باعث مسیحی تعداد میں بڑھنے لگے۔ (اعمال ۸:۴؛ ۹:۳۱) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سی اذیتیں اور مشکلات آئیں اور آکر چلی گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت پولس نے عبرانیوں کے نام خط تحریر کِیا تو کلیسیا ایک مرتبہ پھر امن کے نسبتی دَور سے محظوظ ہو رہی تھی۔ تاہم دباؤ موجود تھے۔ یسوع کو یروشلیم کی تباہی کی پیشینگوئی کئے ہوئے تقریباً تین عشرے گزر چکے تھے۔ غالباً اُس وقت ایسے لوگ تھے جنہوں نے محسوس کِیا کہ خاتمہ نامعقول طور پر تاخیر کر رہا ہے اور شاید انکی زندگیوں میں یہ کبھی نہیں آئے گا۔ اسکے علاوہ بالخصوص ایمان میں نئے اشخاص کی ابھی تک سخت اذیت کی صورت میں آزمائش نہیں ہوئی تھی اسلئے وہ آزمائش کے تحت برداشت کی ضرورت کی بابت بہت کم جانتے تھے۔ (عبرانیوں ۱۲:۴) شیطان نے یقیناً ایسے حالات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ اس نے کونسے مکارانہ ”منصوبوں“ کو استعمال کِیا؟
۸. بہتیرے یہودیوں کا نوخیز مسیحی کلیسیا کیساتھ کیا رویہ تھا؟
۸ یروشلیم اور یہودیہ میں رہنے والے یہودی نوخیز مسیحی کلیسیا کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پولس کے خط کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ متکبر یہودی مذہبی پیشوا اور ان کے پیروکار مسیحیوں کو کیسے کیسے طعنے دیتے تھے۔ شاید انہوں نے عملاً کہا ہو: ’یروشلیم میں ہماری عظیم ہیکل صدیوں سے قائم ہے! ہمارے ہاں عالیقدر سردار کاہن اپنے ماتحت کاہنوں کیساتھ خدمت انجام دیتا ہے۔ ہر روز قربانیاں گذرانی جاتی ہیں۔ ہمارے پاس فرشتوں کی معرفت موسیٰ کو دی جانے والی اور کوہِسینا پر بڑے نشانوں کیساتھ نافذ کی جانے والی شریعت ہے۔ یہودیت سے برگشتہ ہوکر نئے فرقے کو تشکیل دینے والے مسیحیوں کے پاس اِن میں سے کچھ بھی نہیں تھا!‘ کیا اس طنز سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے؟ بعض عبرانی مسیحی بدیہی طور پر ان حملوں کی زد میں آ گئے تھے۔ پولس کا خط ان کی مدد کے لئے بروقت پہنچا۔
انہیں کیوں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے کہ ہلاک ہو جائیں
۹. (ا) عبرانیوں کے نام خط کا بنیادی موضوع کیا ہے؟ (ب) کس مفہوم میں مسیحی یروشلیم کی ہیکل کی نسبت ایک بہتر ہیکل میں خدمت کرتے تھے؟
۹ آئیے ان دو وجوہات کا جائزہ لیں جو پولس نے یہودیہ کے اپنے بہن بھائیوں کو ہلاک ہونے کیلئے پیچھے نہ ہٹنے کے سلسلے میں دیں۔ پہلی—مسیحی نظامِپرستش کی فضیلت—عبرانیوں کے نام خط کا بنیادی موضوع ہے۔ اپنے سارے خط میں پولس نے اسی موضوع پر گفتگو کی ہے۔ یروشلیم کی ہیکل کہیں عظیمتر حقیقت، یہوواہ کی روحانی ہیکل یعنی ایک ایسی عمارت کی محض ایک نقل تھی جو ”ہاتھوں [کی بنی ہوئی] . . . نہیں“ ہے۔ (عبرانیوں ۹:۱۱) ان مسیحیوں کو سچی پرستش کے اس روحانی انتظام میں خدمت کرنے کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے ایک بہتر عہد، عرصۂدراز سے وعدہ کئے ہوئے نئے عہد کے تحت خدمت کی جس کا درمیانی یسوع مسیح، موسیٰ سے کہیں افضل تھا۔—یرمیاہ ۳۱:۳۱-۳۴۔
۱۰، ۱۱. (ا) یسوع کے نسبنامے نے اسے روحانی ہیکل میں سردار کاہن کے طور پر خدمت انجام دینے کے نااہل قرار کیوں نہیں دیا؟ (ب) یسوع بطور سردار کاہن یروشلیم کی ہیکل میں خدمت کرنے والے سردار کاہن سے کن طریقوں سے برتر تھا؟
۱۰ ان مسیحیوں کا سردار کاہن، یسوع مسیح بھی کہیں بہتر تھا۔ وہ ہارون کی اولاد میں سے نہیں تھا۔ اس کے برعکس وہ ”ملکِصدؔق کے طور پر“ ایک سردار کاہن تھا۔ (زبور ۱۱۰:۴) ملکِصدق جس کے شجرہنسب کا ریکارڈ نہیں تھا قدیم سالم کا بادشاہ اور اس کا سردار کاہن تھا۔ یوں وہ موزوں طور پر، یسوع کی نبوّتی مثل تھا جس کی کہانت کا انحصار، کسی ناکامل انسانی آباؤاجداد پر نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہوواہ خدا کی قسم پر تھا۔ یسوع ملکِصدق کی مانند سردار کاہن کے طور پر ہی نہیں بلکہ کبھی نہ مرنے والے بادشاہ کے طور پر بھی خدمت انجام دیتا ہے۔—عبرانیوں ۷:۱۱-۲۱۔
۱۱ مزیدبرآں، یروشلیم کی ہیکل میں سردار کاہن کے برعکس، یسوع کو سالبسال قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی قربانی اس کی اپنی کامل زندگی تھی جو اس نے ایک ہی مرتبہ ہمیشہ کے لئے پیش کر دی۔ (عبرانیوں ۷:۲۷) ہیکل میں پیش کی جانے والی تمام قربانیاں یسوع کی قربانی کا محض عکس یا سایہ تھیں۔ اس کی کامل قربانی تمام ایمان لانے والوں کے لئے گناہوں کی حقیقی معافی مہیا کرتی ہے۔ پولس کی باتیں دل کو گرما دینے والی بھی ہیں کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سردار کاہن وہی لاتبدیل یسوع ہے جس سے یروشلیم کے رہنے والے مسیحی واقف تھے۔ وہ فروتن، مہربان اور ایک ایسا شخص تھا جو ”ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد“ ہو سکتا ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۵؛ ۱۳:۸) ان ممسوح مسیحیوں کو مسیح کے ماتحت کاہنوں کے طور پر خدمت کرنے کا امکان حاصل تھا! وہ بدکار یہودیت کی ”ضعیف اور نِکمّی“ باتوں کی طرف رجوع کرنے کی بابت سوچ بھی کیسے سکتے تھے؟—گلتیوں ۴:۹۔
۱۲، ۱۳. (ا) پولس کبھی پیچھے نہ ہٹنے کی کونسی دوسری وجہ فراہم کرتا ہے کہ ہلاک نہ ہوں؟ (ب) ان کی برداشت کے سابقہ ریکارڈ کو کیوں عبرانی مسیحیوں کی مدد کرنی چاہئے تھی کہ وہ کبھی پیچھے نہ ہٹیں کہ ہلاک ہو جائیں؟
۱۲ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہی وجہ کافی نہیں تھی اسلئے کہ پولس عبرانیوں کو ہلاک ہونے کیلئے کبھی بھی پیچھے نہ ہٹنے کیلئے ایک دوسری وجہ دیتا ہے—انکی برداشت کا ذاتی ریکارڈ۔ اس نے لکھا: ”اُن پہلے دِنوں کو یاد کرو کہ تم نے منور ہونے کے بعد دُکھوں کی بڑی کھکھیڑ اُٹھائی۔“ پولس نے انہیں یاد دلایا کہ لعنطعن اور مصیبتوں کے باعث اُنہیں ”تماشا“ بنایا گیا تھا۔ بعض نے قیدوبند کی تکلیف اُٹھائی تھی؛ دیگر نے قید ہونے والوں کیساتھ ہمدردی اور انکی کفالت کی تھی۔ جیہاں، انہوں نے مثالی ایمان اور استقلال کا مظاہرہ کِیا تھا۔ (عبرانیوں ۱۰:۳۲-۳۴) تاہم، پولس نے انہیں یہ کیوں کہا کہ ایسے دردناک تجربات کو ”یاد کرو“؟ کیا ایسا کرنا اُن کیلئے حوصلہشکنی کا باعث نہیں ہوگا؟
۱۳ اس کے برعکس، ”پہلے دِنوں کو یاد“ کرنا عبرانیوں کو یاد دلائے گا کہ کیسے یہوواہ نے انہیں آزمائش کے تحت سنبھالا تھا۔ اس کی مدد کیساتھ وہ پہلے ہی شیطان کے بیشتر حملوں کا مقابلہ کر چکے تھے۔ پولس نے لکھا: ”خدا بےانصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تم نے اُسکے نام کے واسطے . . . ظاہر کی۔“ (عبرانیوں ۶:۱۰) جیہاں، یہوواہ انکے تمام وفادار کاموں کو یاد رکھتا ہے یعنی اپنی لامحدود یادداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔ ہمیں آسمان پر خزانہ جمع کرنے کے سلسلے میں یسوع کی نصیحت یاد دلائی گئی ہے۔ کوئی چور ان خزانوں کو چرا نہیں سکتا؛ نہ کوئی کیڑا یا زنگ انہیں خراب کر سکتا ہے۔ (متی ۶:۱۹-۲۱) درحقیقت، یہ خزانہ صرف اسی صورت میں تباہ ہو سکتا ہے اگر ایک مسیحی ہلاک ہونے کیلئے پیچھے ہٹتا ہے۔ اس طرح آسمان پر جمع کِیا ہوا اُسکا ہر خزانہ بکھر جائیگا۔ پولس نے عبرانی مسیحیوں کو ایسی روش اختیار نہ کرنے کیلئے کیا ہی پُرزور وجہ پیش کی! وفادارانہ خدمت کے اپنے تمام سالوں کو کیوں ضائع کِیا جائے؟ برداشت کرتے رہنا کہیں بہتر ہوگا۔
ہمیں کیوں کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے کہ ہلاک ہو جائیں
۱۴. ہمیں پہلی صدی کے مسیحیوں کی طرح کن چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے؟
۱۴ آجکل بھی سچے مسیحیوں کے پاس پیچھے نہ ہٹنے کی ایسی ہی زبردست وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہوواہ نے ہمیں پاک پرستش کی صورت میں کتنی بڑی برکت بخشی ہے۔ پہلی صدی کے مسیحیوں کی طرح ہم بھی ایسے ہی وقت میں رہ رہے ہیں جب مقبول مذاہب کے بیشتر اراکین اپنی اثرآفرین مذہبی عمارتوں اور اپنی قدیم روایات کی طرف فخریہ انداز میں اشارہ کرتے ہوئے ہمیں لعنطعن کرتے اور ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں۔ تاہم، یہوواہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ وہ ہماری طرزِعبادت کو پسند کرتا ہے۔ درحقیقت، ہم ان برکات سے استفادہ کرتے ہیں جو پہلی صدی کے مسیحیوں کو حاصل نہ تھیں۔ آپ شاید سوچیں کہ ’ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘ بہرحال، وہ اُس وقت میں رہتے تھے جب روحانی ہیکل عمل میں آئی۔ مسیح ۲۹ س.ع. میں اپنے بپتسمے کے موقع پر اس کا سردار کاہن بنا۔ ان میں سے بعض نے خدا کے بیٹے کے معجزانہ کام دیکھے تھے۔ اس کی موت کے بعد اور بھی زیادہ معجزات واقع ہوئے تھے۔ تاہم، جیسے کہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ ایسی بخشیش انجامکار ختم ہو گئیں۔—۱-کرنتھیوں ۱۳:۸۔
۱۵. سچے مسیحی آجکل کس پیشینگوئی کی تکمیل میں رہ رہے ہیں اور اس کا ہمارے لئے کیا مطلب ہے؟
۱۵ تاہم، ہم حزقیایل ۴۰-۴۸ ابواب کی وسیع ہیکل کی پیشینگوئی کی اہم تکمیل کے وقت میں رہ رہے ہیں۔a پس، ہم نے خالص پرستش کیلئے خدا کے انتظام کی بحالی دیکھ لی ہے۔ اس روحانی ہیکل کو ہر قسم کی مذہبی آلودگی اور بُتپرستی سے صاف کِیا گیا ہے۔ (حزقیایل ۴۳:۹؛ ملاکی ۳:۱-۵) ذرا ان فوائد کی بابت سوچیں جو پاکصاف کرنے کے اس عمل سے ہمیں حاصل ہوئے ہیں۔
۱۶. پہلی صدی کے مسیحیوں نے کونسے حوصلہشکن رُحجان کا سامنا کِیا؟
۱۶ پہلی صدی کے دوران، منظم مسیحی کلیسیا کیلئے مستقبل تاریک دکھائی دیتا تھا۔ یسوع پیشینگوئی کر چکا تھا کہ حالت گویا ایسی ہوگی کہ جیسے کھیت میں حال ہی میں بوئی گئی گیہوں کے ساتھ کڑوے دانے بھی بو دئے گئے ہوں اور کڑوے دانوں سے گیہوں کی شناخت عملاً مشکل ہو گئی ہو۔ (متی ۱۳:۲۴-۳۰) پس، ایسا ہی ہوا۔ پہلی صدی کے آخر تک، جب معمر رسول یوحنا بدعنوانی کے خلاف آخری رُکاوٹ کے طور پر کام کر رہا تھا تو برگشتگی پہلے ہی سے فروغ پا رہی تھی۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۶؛ ۱-یوحنا ۲:۱۸) رسولوں کی موت کے بعد کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ گلّے پر ظلم ڈھانے اور امتیازی پوشاک پہننے والا ایک انوکھا پادری طبقہ منظرِعام پر آ گیا تھا۔ برگشتگی آکلہ کی طرح پھیل گئی۔ وفادار مسیحیوں کے لئے کتنی حوصلہشکنی کی بات تھی! اُنہوں نے سچی پرستش کے لئے نئے قائمکردہ انتظام کو خراب قسم کی پرستش سے مغلوب ہوتے دیکھا۔ یہ بات مسیح کے کلیسیا کی بنیاد رکھنے کے بعد ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں واقع ہوئی۔
۱۷. کس مفہوم میں جدید زمانہ کی مسیحی کلیسیا پہلی صدی کی مماثل کلیسیا سے زیادہ دیر تک قائم رہی ہے؟
۱۷ اب ذرا اسکے برعکس حالت پر غور کریں۔ آجکل، سچی پرستش رسولوں کی وفات تک کے وقت کی نسبت زیادہ عرصہ سے قائم ہے! اس جریدے کی ۱۸۷۹ میں پہلی اشاعت کے وقت سے لیکر، یہوواہ نے ہمیں لگاتار خالص پرستش کی برکت سے نوازا ہے۔ یہوواہ اور مسیح یسوع ۱۹۱۸ میں روحانی ہیکل کو پاکصاف کرنے کے اپنے مقصد کی تعمیل کیلئے اس میں داخل ہوئے تھے۔ (ملاکی ۳:۱-۵) یہوواہ خدا کی پرستش کے انتظام کی ۱۹۱۹ سے لیکر بتدریج صفائی ہوئی ہے۔ بائبل پیشینگوئیوں اور اصولوں کی ہماری سمجھ زیادہ واضح ہو گئی ہے۔ (امثال ۴:۱۸) اس کا سہرا کس کے سر ہے؟ ناکامل انسانوں کے سر نہیں۔ صرف یہوواہ ہی کلیسیا کے سر یعنی اپنے بیٹے کیساتھ ملکر اس بدکار زمانے میں اپنے لوگوں کو بدکاری سے بچا سکتا ہے۔ پس یہوواہ کا شکر بجا لانے میں کبھی کوتاہی نہ کریں کہ اُس نے ہمیں آجکل پاک پرستش میں شریک ہونے کا موقع بخشا ہے۔ نیز، آئیے یہ عزمِمُصمم بھی کریں کہ کبھی پیچھے نہ ہٹیں کہ ہلاک ہو جائیں!
۱۸. ہمارے پاس کبھی پیچھے نہ ہٹنے کی کونسی وجہ ہے کہ ہلاک نہ ہوں؟
۱۸ ان عبرانی مسیحیوں کی طرح ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کی بزدلانہ روش کو مسترد کرنے کی دوسری وجہ—برداشت کا ہمارا ذاتی ریکارڈ ہے۔ خواہ ہم نے حالیہ برسوں میں یہوواہ کی خدمت کرنا شروع کی ہے یا کئی عشروں سے وفاداری کے ساتھ خدمت کر رہے ہیں، ہم نے مسیحی کاموں کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ ہم میں سے بہتیروں نے اذیت، قیدوبند، پابندیوں، استبداد یا املاک کا نقصان برداشت کِیا ہے۔ بہتیروں نے خاندانی مخالفت، طعنہزنی، تمسخر اور بےاعتنائی کا سامنا کِیا ہے۔ ہم میں سے سب نے زندگی کے چیلنجوں اور آزمائشوں کے باوجود یہوواہ کے حضور اپنی وفادارانہ خدمت جاری رکھتے ہوئے برداشت کا مظاہرہ کِیا ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم نے ثابتقدمی کا ریکارڈ قائم کِیا ہے جو آسمان پر محفوظ ہے جسے یہوواہ ہرگز نہیں بھولے گا۔ پس، جس بدکار نظام کو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں اُس کی طرف واپس جانے کا ہمارے پاس واقعی کوئی وقت نہیں ہے! ہم اپنی ساری محنت بےسود کیوں جانے دیں؟ بالخصوص یہ بات آجکل سچ ہے جب خاتمے سے پہلے صرف ”تھوڑی مدت باقی“ رہ گئی ہے۔—عبرانیوں ۱۰:۳۷۔
۱۹. ہمارا اگلا مضمون کس چیز پر بحث کریگا؟
۱۹ جیہاں، آئیے اس بات کا عزم کریں کہ ”ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں“! اس کے برعکس ہمیں چاہئے کہ ”ایمان رکھنے والے [ہوں] کہ جان بچائیں۔“ (عبرانیوں ۱۰:۳۹) ہم کیسے یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم اس بیان پر پورا اُترتے ہیں اور ایسا ہی کرنے کے لئے ہم ساتھی مسیحیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمارا اگلا مضمون اس معاملے پر بحث کرے گا۔
[فٹنوٹ]
a دیکھیں مینارِنگہبانی، مارچ ۱، ۱۹۹۹، صفحات ۸-۲۳۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
◻پیچھے ہٹ کر ہلاک ہونے کا کیا مطلب ہے؟
◻پولس نے جن عبرانی مسیحیوں کے نام خط لکھا وہ کس بوجھ تلے دبے ہوئے تھے؟
◻پولس نے عبرانیوں کو کونسی وجوہات دیں کہ وہ کبھی پیچھے نہ ہٹیں کہ ہلاک ہو جائیں؟
◻ہمارے پاس اس سلسلے میں پُرعزم رہنے کی کونسی وجوہات ہیں کہ کبھی پیچھے نہ ہٹیں کہ ہلاک ہو جائیں؟
[صفحہ 15 پر تصویریں]
خوفزدہ پطرس کی لغزش نے اسے ’پیچھے ہٹنے والا‘ نہیں بنایا تھا کہ ’ہلاک ہو جائے‘