یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏12 ص.‏ 3-‏4
  • مشرق میں کرسمس

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مشرق میں کرسمس
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کرسمس مشرق میں بھی کیوں منایا جاتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • جدید کرسمس کی جڑیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏12 ص.‏ 3-‏4

مشرق میں کرسمس

‏• تقریباً دو سو سال پہلے کوریا کے ایک ممتاز عالم نے پیکنگ، چین کا دورہ کِیا۔ اُس نے ایک کیتھیڈرل کی چھت پر بنی ہوئی ایک تصویر کو دیکھا جس میں مریم نے ننھے یسوع کو اپنے بازوؤں میں اُٹھا رکھا تھا۔ اس عجیب‌وغریب تصویر کی بابت اُس نے کچھ اسطرح سے تبصرہ کِیا:‏

‏”‏ایک خاتون نے اپنی گود میں پانچ یا چھ برس کا ایک کمزور سا بچہ اُٹھایا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ عورت اتنی زیادہ کمزور ہے کہ اُس میں سر اُٹھا کر اپنے بیٹے کو دیکھنے کی بھی طاقت نہیں۔ اِس کے علاوہ اُن کے پس‌منظر میں پروں والے بہت سے فرشتے اور بچے ادھراُدھر اُڑ رہے تھے۔ جب مَیں آنکھیں اُوپر اُٹھائے اُنہیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ کسی بھی لمحے میرے اُوپر گِر پڑینگے۔ اسی حیرت کے عالم میں مَیں نے اُنہیں پکڑنے کے لئے اپنے ہاتھ اُوپر اُٹھائے۔“‏

یہ یورپ میں اصلاحی تحریک کے آغاز، قرونِ‌وسطیٰ کے تاریک دَور سے کافی عرصہ بعد کا واقعہ ہے۔ تاہم بیشتر مشرقی لوگوں کیلئے، اس تصویر کی طرح مسیحیت بھی غیرمعروف تھی۔ یہ حالت بدل کیسے گئی!‏ ہر سال کرسمس کے موقع پر، ننھے یسوع کی تصویریں آویزاں کی جاتی ہیں۔ مشرق ایسے مناظر کا عادی ہو گیا ہے کہ اب یہاں پر بھی گلیوں اور بازاروں کو بالکل یورپ کی طرح سجایا جاتا ہے۔‏

کرسمس سے ایک مہینہ پہلے، نومبر ۲۵، ۱۹۹۸ کی شام کو پیرس میں مشہور خیابان شاں‌زےلیزے، قطاردرقطار اُگے ہوئے ۳۰۰ درختوں پر لگائے گئے ۱،۰۰،۰۰۰ قمقموں کی روشنی سے جگمگاتا ہے۔ اسی کے مماثل، کوریا، سیول کے بازار میں، ایک معروف ڈیپارٹمنٹ سٹور کی جانب سے بہت بڑے کرسمس ٹری کی نمائش کی جاتی ہے اور یوں اُس بڑے شہر کی رات بھی دن کی طرح روشن ہو جاتی ہے۔ بعدازاں اس کے گلی‌کوچے بھی کرسمس کے آرائشی سامان سے سجا دیئے جاتے ہیں۔‏

ٹیلی‌ویژن، ریڈیو اور اخبارات ہر روز کرسمس سے متعلق پروگرام پیش کرتے ہیں۔ کرسمس کے جوش‌وخروش میں پورا ملک سال کے اختتام کا استقبال کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ سیول کے گرجہ‌گھروں کو جلدی جلدی آراستہ کِیا جاتا ہے جنکی تعداد بیشتر مندوبین کو چونکا دیتی ہے۔ پس، نومبر کے آخر میں جس وقت ریاستہائے متحدہ کے لوگ یومِ‌تشکر منانے میں مصروف ہوتے ہیں تقریباً اسی وقت کوریا اور دیگر مشرقی ممالک کرسمس کے جوش سے معمور ہوتے ہیں۔‏

بیشتر مشرقی ممالک دُنیائے‌مسیحیت کا حصہ خیال نہیں کئے جاتے۔ مثال کے طور پر، کوریا کی صرف ۳.‏۲۶ فیصد آبادی مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ہانگ‌کانگ میں ان کی تعداد ۹.‏۷ فیصد، تائیوان میں ۴.‏۷ فیصد اور جاپان میں صرف ۲.‏۱ فیصد ہے۔ واضح طور پر، بیشتر مشرقی ممالک کے لوگ مسیحیت کے پیرو نہیں ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں کرسمس منانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ درحقیقت، مغربی ممالک کے لوگوں کی نسبت وہ اکثر کرسمس کے سلسلے میں زیادہ پُرجوش نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہانگ‌کانگ کرسمس کی رنگارنگ تقریبات کے لئے مشہور ہے حالانکہ اس کے بیشتر باشندے یا تو بدھسٹ ہیں یا پھر تاؤ مذہب کے پیرو ہیں۔ چین میں بھی جہاں صرف ۱.‏۰ فیصد لوگ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کرسمس بڑی تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔‏

مشرق میں کرسمس اسقدر جوش‌وخروش سے کیوں منایا جاتا ہے؟ یسوع کو بطور مسیحا قبول نہ کرنے والے لوگ کرسمس کی تقریبات میں کیوں شریک ہوتے ہیں جو کہ بیشتر اقبالی مسیحیوں کے نزدیک یسوع کا جنم دن ہے؟ کیا سچے مسیحیوں کو کرسمس کی بابت اُن کے نظریے کی نقل کرنی چاہئے؟ جب ہم اس بات پر غور کریں گے کہ ایک قدیم مشرقی ملک کوریا میں کرسمس نے کیسے مقبولیت حاصل کی تو ہمیں اپنے سوالات کے جواب مل جائینگے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں