وہ یہوواہ کی مرضی بجا لائے
سچی پرستش کو فروغ دینے کیلئے رضاکارانہ قربانی
اسرائیلی یہوواہ کی نجاتبخش قوت کے چشمدید گواہ تھے۔ اُنہوں نے بحرِقلزم کے پانیوں کو معجزانہ طور پر تقسیم ہوتے دیکھا تھا، جس کی بدولت وہ خشک زمین پر چل کر پار نکلنے اور مصر کی فوج سے بچنے کے قابل ہوئے تھے۔ دوسرے کنارے سے، اُنہوں نے کافی دور محفوظ فاصلے سے اُسی پانی کو اپنے تعاقب کرنے والوں پر تیزی سے پلٹتے دیکھا۔ یہوواہ اُن کیلئے نجاتبخش ثابت ہو چکا تھا!—خروج ۱۴:۲۱-۳۱۔
تاہم، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُنکے خدا نے اُن کیلئے جوکچھ بھی کِیا بعض اسرائیلیوں نے اُس کی قدر نہ کی۔ جب موسیٰ کوہِسینا پر ہی تھا تو اُنہوں نے اپنے سونے کے زیورات ہارون کو دئے اور اُس سے کہا کہ اُن کیلئے پرستش کرنے کی خاطر ایک دیوتا بنائے۔ واپسی پر، موسیٰ نے باغیوں کی اس جماعت کو کھاتے، پیتے، ناچتے اور سونے کے بچھڑے کو سجدہ کرتے پایا! یہوواہ کی ہدایت پر تقریباً ۳،۰۰۰—غالباً بغاوت پر اُکسانے والوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اُس روز خدا کے لوگوں نے یہ خاص سبق سیکھا کہ اُنہیں بلاشرکتِغیرے یہوواہ کی عبادت کرنی چاہئے۔—خروج ۳۲:۱-۶، ۱۹-۲۹۔
اِس واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد، موسیٰ خدائی حکم کے مطابق خیمۂاجتماع یعنی پرستش کا ایک سفری خیمہ تعمیر کرنے کیلئے تیار تھا۔ اِس تعمیری منصوبے کیلئے قیمتی سامان اور ماہر کارندے درکار تھے۔ یہ کہاں سے آئیں گے؟ نیز ہم بائبل کی اس سرگزشت سے کیا سیکھتے ہیں؟
سامان اور مہارتوں کا ہدیہ
موسیٰ کی معرفت، یہوواہ نے اسرائیلیوں کو حکم دیا: ”[یہوواہ] کے لئے ہدیہ لایا کرو۔ جس کسی کے دل کی خوشی ہو وہ [یہوواہ] کا ہدیہ لائے۔“ کس قسم کا ہدیہ؟ جن چیزوں کا موسیٰ نے ذکر کِیا اُن میں سونا، چاندی، کتان، کپڑا، کھالیں، لکڑی اور قیمتی پتھر شامل تھے۔—خروج ۳۵:۵-۹۔
اسرائیلیوں کے پاس فیاضی کیساتھ دینے کیلئے بہت کچھ تھا۔ یاد ہے کہ جب وہ مصر سے روانہ ہوئے تھے تو وہ اپنے ساتھ سونے اور چاندی کے زیورات کے علاوہ بیشمار کپڑے بھی لائے تھے۔ بِلاشُبہ، ”انہوں نے مصریوں کو لوٹ لیا“ تھا۔a (خروج ۱۲:۳۵، ۳۶) اس سے پہلے، اسرائیلیوں نے جھوٹی پرستش کے لئے ایک دیوتا بنانے کے لئے خوشی خوشی اپنے زیورات پیش کئے تھے۔ کیا وہ اب بھی سچی پرستش کو فروغ دینے کے لئے نذرانہ پیش کرنے کے سلسلے میں اُسی طرح کے اشتیاق کا مظاہرہ کرینگے؟
غور کریں کہ موسیٰ نے کسی مخصوص مقدار کی شرط نہیں رکھی تھی جو ہر ایک پر واجبالادا تھی اور نہ ہی اُس نے اُکسانے کیلئے کسی بھی طرح سے اُنکی تذلیل یا رسوائی کی تھی۔ اسکی بجائے، اُس نے محض ”دل کی خوشی“ سے دینے والوں سے استدعا کی تھی۔ بدیہی طور، پر موسیٰ نے خدا کے لوگوں پر دباؤ ڈالنا ضروری نہ سمجھا۔ اُسے یقین تھا کہ ہر ایک جتنا دے سکتا ہے ضرور دیگا۔—مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۸:۱۰-۱۲۔
تاہم، ایک تعمیراتی پروجیکٹ کیلئے مادی عطیات سے زیادہ کچھ درکار تھا۔ یہوواہ نے اسرائیلیوں کو یہ بھی کہا: ”تمہارے درمیان جو روشن ضمیر ہیں وہ آ کر وہ چیزیں بنائیں جنکا حکم [یہوواہ] نے دیا ہے۔“ جیہاں، اس تعمیراتی پروجیکٹ کیلئے ماہر کاریگروں کی بھی ضرورت تھی۔ بِلاشُبہ، اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے ”ہر طرح کی صنعت میں ماہر“—لکڑی، دھات اور جڑاؤ پتھر کے کام میں ماہر لوگوں کی ضرورت تھی۔ یقیناً یہوواہ کاریگروں کی مہارت پر برکت ڈالیگا اور پروجیکٹ کی کامیابی کی تمام شہرت بجا طور پر اُسی کو ملے گی۔—خروج ۳۵:۱۰، ۳۰-۳۵؛ ۳۶:۱، ۲۔
اسرائیلیوں نے اپنے وسائل اور مہارتیں پیش کرنے کی دعوت کو بڑے جوشوخروش کیساتھ قبول کِیا۔ بائبل سرگزشت بیان کرتی ہے: ”جس جس کا جی چاہا اور جس جس کے دل میں رغبت ہوئی وہ خیمۂاجتماع کے کام اور وہاں کی عبادت اور مُقدس لباس کے لئے [یہوواہ] کا ہدیہ لایا۔ اور کیا مرد کیا عورت جتنوں کا دل چاہا وہ سب . . . لانے لگے۔“—خروج ۳۵:۲۱، ۲۲۔
ہمارے لئے سبق
آجکل خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کا عظیماُلشان کام رضاکارانہ عطیات کی بدولت انجام پاتا ہے۔ اکثر یہ عطیات رقوم کی صورت میں ہوتے ہیں۔ دیگر معاملات میں، مسیحی بہن بھائی اپنے وسیع تجربے کو کنگڈم ہال، اسمبلی ہال اور برانچ سہولیات کی تعمیر میں مدد دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ دُنیا بھر میں ایک سو سے زیادہ بیتایل ہومز میں کام کِیا جاتا ہے جس میں بہت سی مختلف مہارتیں کام میں لائی جاتی ہیں۔ دل کی خوشی سے ایسی قربانیاں پیش کرنے والے تمام لوگ اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اُنکی سخت محنت کو کبھی نہیں بھولیگا!—عبرانیوں ۶:۱۰۔
اسکا اطلاق اُس کام پر بھی ہوتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک مسیحی خدمتگزاری میں انجام دیتا ہے۔ سب کو تحریک دی جاتی ہے کہ مُنادی کے کام میں بھرپور حصہ لیں۔ (متی ۲۴:۱۴؛ افسیوں ۵:۱۵-۱۷) بعض کُل وقتی مبشروں یا پائنیروں کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ حالات کے پیشِنظر، دیگر لوگ پائینروں کی طرح خدمتگزاری میں زیادہ وقت صرف کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ تاہم، اُنہیں بھی یہوواہ کی خوشنودی حاصل ہے۔ جیسے خیمۂاجتماع کیلئے ہدیوں کے سلسلے میں تھا، یہوواہ نے ہر ایک کیلئے کوئی مخصوص مقدار مقرر نہیں کی ہے۔ تاہم، وہ جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے سارے دل، اپنی ساری جان، اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت کیساتھ اُسکی خدمت کرے۔ (مرقس ۱۲:۳۰) اگر ہم یہ کر رہے ہیں تو ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں سچی پرستش کو فروغ دینے کیلئے رضاکارانہ طور پر پیش کی جانے والی قربانیوں کا اجر ضرور دیگا۔—عبرانیوں ۱۱:۶۔
[فٹنوٹ]
a یہ کوئی چوری نہیں تھی۔ اسرائیلیوں نے مصریوں سے ہدیے طلب کئے تھے اور اُنہوں نے خوشی سے اُنہیں یہ چیزیں دیں تھیں۔ علاوہازیں، چونکہ مصریوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اسرائیلیوں سے غلاموں جیسا برتاؤ کریں، لہٰذا وہ خدا کے لوگوں کو اُنکی سخت محنت کے سالوں کی اُجرت ادا کرنے کے مجاز تھے۔